علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل

مدرسہ حجتیہ (قم)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مدرسہ حجتیہ
مدرسه حجتیه.jpg
ابتدائی معلومات
بانی: آیت اللہ سید محمد حجت کوہ کمرہ ای
تأسیس: سنہ 1321 شمسی
استعمال: تعلیمی ادارہ
محل وقوع: قم، ایران
مشخصات
رقبہ: 15000 مربع میٹر
موجودہ حالت: فعال دینی مدرسہ
معماری
دوسری خصوصیات مسجد و کتب خانہ


مدرسہ حجتیہ (تاسیس: 1324 ش)، قم کے بڑے دینی مدارس میں سے ہے۔ سید محمد حجت کوہ کمرہ ای اس کے موسس ہیں۔ یہ مدرسہ حرم حضرت معصومہ کے نزدیک واقع ہے۔ اس میں طلاب کی رہایش کے لئے ۱۰۰ سے زائد کمرے ہیں۔ اسی طرح اس میں مسجد اور کتب خانہ بھی ہے۔ اس کے کتب خانہ میں ۹۰ ہزار مطبوعہ کتابیں اور ایک ہزار سے زائد خطی نسخے موجود ہیں۔

مدرسہ حجتیہ سید محمد کاظم شریعت مداری و سید محمد حسین طباطبائی جیسے حوزہ علمیہ کے بعض اساتذہ کے محل تدریس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اس میں سید علی خامنہ ای، عبد اللہ جوادی آملی و محمد تقی مصباح یزدی جیسے علماء زمانہ طالب علمی میں قیام کر چکے ہیں۔

مدرسہ حجتیہ سنہ ۱۳۵۸ ش سے غیر ایرانی طلاب کے لئے مختص کیا جا چکا ہے اور اس وقت یہ جامعۃ المصطفی العالمیۃ کے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔

تاسیس

مدرسہ حجتیہ کے افتتاحیہ پروگرام کا ایک منظر

مدرسہ حجتیہ سنہ 1364 ش سے پہلے تک ناصر الدین شاہ قاجار کے بیٹے کامران میرزا کی ذاتی ملکیت تھا۔ جسے سید محمد حجت کوہ کمرہ ای نے خرید کر 20 جمادی الثانی میں حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی ولادت کے موقع پر منعقد ایک جشن میں حوزہ علمیہ قم کے طلاب کے اختیار میں دے دیا۔[1]

آیت اللہ حجت نے مدرسہ کے اطراف کی زمینوں کو خریدنے کے بعد سنہ 1366 ش میں دو منزلہ 6 عمارتوں کی تاسیس کا آغاز کیا۔ جن میں مجموعی طور پر 126 کمرے تعمیر کئے گئے۔[2] ان کے علاوہ مزید دوسری عمارتیں آیت اللہ حجت کے انتقال کے بعد تعمیر کی گئیں۔[3] اس وقت مدرسہ حجتیہ کا مجموعی رقبہ 15 ہزار مربع میٹر ہے۔[4]

یہ مدرسہ اس کے موسس (آیت اللہ سید محمد حجت) کے نام سے مدرسہ حجتیہ مشہور ہو چکا ہے۔[5] سید محمد حجت اسی مدرسہ میں مدفون ہیں۔[6] مدرسہ حجتیہ تعمیر کے وقت سے لیکر ایک مدت تک قم کا سب سے بڑا مدرسہ تھا۔ اس کے بعد دوسرے بڑے مدارس تعمیر ہو جانے کے باجود اب بھی اس کا شمار قم کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے۔[7] یہ مدرسہ شہر قم کے مرکز میں روضہ حضرت معصومہؑ کے قریب واقع ہے۔ سنہ 1386 ش میں اسے آثار ملی ایران میں ثبت کیا جا چکا ہے۔[8]

تاریخ قم کے مولف محمد حسین ناصر الشریعہ کے مطابق سنہ 1320 میں شاہی حکومت کا خاتمہ اور اس کے نتیجہ میں حوزہ علمیہ قم میں رونق پیدا ہونے اور اسی طرح سے آیت اللہ بروجردی کے حوزہ علمیہ قم میں وارد ہونا سبب بنا کہ قم کے مدارس میں طلاب کے کئے جگہ کی کم پڑ گئی۔ لہذا بزرگان حوزہ میں سے ایک سید محمد حجت نے زمین خرید کر اور اس میں توسیع دے کر طلاب کی سکونت کئے مدرسہ تعمیر کرایا۔[9] ایران و عراق کے درمیان رابطے کے محدود ہو جانے کو بھی قم میں طلاب دینی کی تعداد میں اضافہ کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[10]

کتب خانہ

مدرسہ حجتیہ کتب خانے کے خطی نسخوں کی فہرست پر مشتمل کتاب۔

مدرسہ حجتیہ کے کتب خانے نے سنہ 1331 ش میں مدرسہ میں اپنی فعالیت کا آغاز کیا۔[11] اس کتب خانہ میں سب سے پہلے ہدیہ کی جانے والی کتابیں خود اس کے ادارہ کی طرف سے تھیں، اس کے بعد آیت اللہ بروجردی نے کچھ کتابیں اس کتب خانے میں ہدیہ کی۔[12]

رضا استادی کی فہرست نویسی کے مطابق سنہ 1353 ش میں مدرسہ حجتیہ کی لائبریری میں 720 خطی نسخے موجود تھے۔[13] اس کتب خانے سے متعلق اطلاعات کے مطابق سنہ 1396 ش میں اس میں 90 ہزار مطبوعہ کتابیں، 3500 سنگی مطبوعہ اور 1040 نسخہ خطی موجود ہیں۔[14] مدرسہ حجتیہ کے کتب خانے میں موجود خطی نسخوں کی فہرست پر مشتمل کتاب دو جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔[15]

واقعات

19 دی 1356 ش میں امام خمینی کے خلاف اطلاعات نامی اخبار میں شائع ہوئے مقالے[16] کے خلاف مظاہروں میں مدرسہ حجتیہ حوزہ علمیہ قم کے طلاب اور شاہی افواج کے درمیان تصادم کا مرکز تھا۔ گزارشات کے مطابق پولیس، شاہی افواج و طلاب کے درمیان سب سے زیادہ تصادم مدرسہ حجتیہ و مدرسہ خان کے اطراف میں پیش آیا جس میں طلاب قتل اور زخمی بھی ہوئے۔[17]

مدرسہ حجتیہ میں کی مسجد میں سید محمد کاظم شریعتمداری[18] کے درس ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح سے سید محمد حسین طباطبائی کا درس تفسیر بھی اسی مسجد میں ہوا کرتا تھا۔[19]

حوزہ کی بعض شخصیات جن کی رہائش مدرسہ حجتیہ میں تھی۔ یہاں ان میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے: سید علی خامنہ ای، عبد اللہ جوادی آملی، محمد رضا مہدوی کنی، اکبر ہاشمی رفسنجانی، سید ہادی خسرو شاہی،[20] محمد تقی مصباح یزدی[21] و سید محمد حسینی بہشتی۔[22]

غیر ایرانی طلاب سے مخصوص

مدرسہ حجتیہ کو سنہ 1358 ش میں غیر ایرانی طلاب کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔[23] یہ مدرسہ اس وقت جامعۃ المصطفی العالمیۃ کے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے اور سنہ 1388 ش سے مجمتع آموزش عالی فقہ کے نام سے مشہور ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۱.
  2. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۲.
  3. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۲-۴۱۳.
  4. محمودی، منبع شناخت، ۱۳۹۶ش، ج۲، ص۶۹۹.
  5. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۱.
  6. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۲.
  7. موحد ابطحی، آشنایی با حوزہ‌ہای علمیہ شیعہ در طول تاریخ، ۱۳۶۵ش، ص۳۳۳.
  8. «مدرسہ حجتیہ قم تعیین حریم شد»، سایت میراث آریا.
  9. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۱۱.
  10. «حجرہ‌ہای طلبگی»، ص۲۲.
  11. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، ۱۳۵۲ش، ج۱، ص۲۱۰.
  12. ناصر الشریعہ، تاریخ قم، ۱۳۸۳ش، ص۴۲۳.
  13. طالعی، «فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ مدرسہ حجتیہ قم...»، ص۸۳.
  14. طالعی، «فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ مدرسہ حجتیہ قم...»، ص۸۳-۸۴.
  15. طالعی، «فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ مدرسہ حجتیہ قم...»، ص۸۳-۸۴.
  16. شیرخانی، «جایگاہ قیام ۱۹ دی در روند پیروزی انقلاب اسلامی»، ص۱۶۱.
  17. شیرخانی، «جایگاہ قیام ۱۹ دی در روند پیروزی انقلاب اسلامی»، ص۱۷۹.
  18. «آیت اللہ موسوی اردبیلی: امام می‌ گفت نہضت آزادی آدم‌ہای مسلمان خوبی ہستند...»، سایت تاریخ ایرانی.
  19. خسرو شاہی، «چہ باید کرد؟ دخالتی در معقولات»، ص۶.
  20. خسرو شاہی، «چہ باید کرد؟ دخالتی در معقولات»، ص۶.
  21. شیروانی، برنامہ سلوک در نامہ ہای سالکان، ۱۳۸۶ش، ص۳۹۵.
  22. نوائیان رودسری، «الگوی تحزب و مدارا»، ص۱۰.
  23. محمودی، منبع شناخت، ۱۳۹۶ش، ج۲، ص۶۹۹.
  24. محمودی، منبع شناخت، ۱۳۹۶ش، ج۲، ص۶۹۹-۷۰۱.


مآخذ

  • «آیت‌ اللہ موسوی اردبیلی: امام می‌ گفت نہضت آزادی آدم‌ ہای مسلمان خوبی ہستند/امام بہ ادعای ملاقات با امام زمان اعتنایی نداشت»،

بہ کوشش محمد سروش محلاتی، در سایت تاریخ ایرانی، تاریخ درج مطلب: ۱۱ خرداد ۱۳۹۰ش، تاریخ بازدید: ۱۵ اردیبہشت ۱۳۹۸شمسی ہجری۔

  • امینی گلستانی، محمد، نوادر و متفرقات،
  • «حجرہ‌ہای طلبگی»، در مجلہ شہر قانون، ش۳، پاییز ۱۳۹۱شمسی ہجری۔
  • خسرو شاہی، سید ہادی، «چہ باید کرد؟ دخالتی در معقولات!»، در روزنامہ اطلاعات، ۸ خرداد ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • شریف رازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، تہران، کتاب فروشی اسلامیہ، ۱۳۵۲شمسی ہجری۔
  • شیر خانی، علی، «جایگاہ قیام ۱۹ دی در روند پیروزی انقلاب اسلامی»، در مجلہ پژوہش نامہ انقلاب اسلامی، دانشگاہ اصفہان، پیش‌ شمارہ ۳، پاییز ۱۳۷۸شمسی ہجری۔
  • شیروانی، علی، برنامہ سلوک در نامہ ہای سالکان، قم، دار الفکر، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • طالعی، عبد الحسین، «فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ مدرسہ حجتیہ قم در آستانہ ہفتاد سالگی آن»، در مجلہ میراث، ش۹و۱۰، بہار و تابستان ۱۳۹۵شمسی ہجری۔
  • عقیقی بخشایشی، عبد الرحیم، مدارس حوزہ علمیہ قم یا مہد پرورش شخصیت‌ ہای بزرگ، درس‌ ہایی از مکتب اسلام، تیر۱۳۶۰.
  • محمودی، اکبر، منبع شناخت نقش شیعہ در پیدایش و گسترش علوم اسلامی، ج۲، قم، کنگرہ بین‌ المللی نقش شیعہ در پیدایش و گسترش علوم اسلامی، بہار ۱۳۹۶شمسی ہجری۔
  • «مدرسہ حجتیہ قم تعیین حریم شد»، سایت میراث آریا، تاریخ درج مطلب: ۱ تیر ۱۳۹۶ش، تاریخ بازدید: ۱۶ اردیبہشت ۱۳۹۸شمسی ہجری۔
  • موحد ابطحی، سید حجت، آشنایی با حوزہ‌ہای علمیہ شیعہ در طول تاریخ، اصفہان، حوزہ علمیہ اصفہان، ۱۳۶۵شمسی ہجری۔
  • ناصر الشریعہ، محمد حسین، تاریخ قم: یا حرم مطہر بانوی عالی قدر اہلبیت عصمت و طہارت حضرت فاطمہ معصومہ، تصحیح علی دوانی، تہران، انتشارات رہنمون، ۱۳۸۳شمسی ہجری۔
  • نوائیان رودسری، جواد، «الگوی تحزب و مدارا»، روزنامہ خراسان، ۷ تیر ۱۳۹۷شمسی، ش۱۹۸۵۲.