مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:عید مبعث

ویکی شیعہ سے
عید مبعث
زمان‌27 رجب
مکانعمومی اور مذہبی مقامات
جغرافیائی حدوددنیا کے مختلف ممالک
منشاء تاریخیبعثت پیغمبر خداؐ
ادعیہروزہ، نماز، صلوات، خاص اذکار
اشعارنعتیہ اشعار، منقبت رسولؐ
قومی حیثیتایران، عراق، پاکستان سمیت دنیا کے مختلف مملاک میں سرکاری طور پر چھٹی
اہم مذہبی تہواریں
سینہ‌زنی، زنجیرزنی، اعتکاف، شب بیداری، تشییع جنازہ،
متفرق رسومات


عید مبعث اسلامی عظیم ترین عید ہے اور یہ حضرت محمد مصطفیؐ کی بعثت اور منصب نبوت پر مبعوث ہونے کا دن ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کے بعض طبقات 27 رجب کو یوم مبعث قرار دے کر اس کی تعظیم کرتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت کی اکثریت، بعثت کی تاریخ میں اختلافِ رائے کی وجہ سے اس مناسبت پر کوئی خصوصی تقریب منعقد نہیں کرتی۔

شیعہ روایات میں یومِ مبعث کے لیے متعدد مستحب اعمال، جیسے غسل، روزہ، نماز اور کثرت سے صلوات بھیجنا، بیان کیے گئے ہیں۔

تاریخی پس منظر اور اہمیت

عید مبعث اسلام کے عظیم ترین اعیاد میں سے ایک ہے[1] اور حضرت محمد مصطفیؐ کے منصبِ نبوت پر سرفراز ہونے کا دن ہے۔[2] بعثت پیغمبر خداؐ تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتی ہے۔ بعثت کی دقیق تاریخ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ شیعہ اور بعض اہل سنت کے مشہور قول کے مطابق بعثت 27 رجب کو ہوئی، جبکہ اہل سنت کی اکثریت کے نزدیک یہ واقعہ ماہ رمضان میں پیش آیا۔[3] البتہ رمضان کے کس دن بعثت ہوئی، اس بارے میں بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[4] اسی وجہ سے شیعہ اور بعض اہل سنت 27 رجب کو یومِ مبعث کے طور پر مناتے ہیں اور اس دن کی تعظیم کرتے ہیں۔[5]

جشن کی تقریبات

عیدِ مبعث بہت سے شیعہ معاشروں میں مذہبی جشن کے طور پر منائی جاتی ہے۔[6] ان تقریبات میں عموماً مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات میں اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں خطابات، تلاوت قرآن، نعتیہ محافل، دعائیں، مؤمنین کی ضیافت اور عبادت گاہوں کی سجاوٹ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔[7] ایران[8] اور عراق کے بعض علاقوں[9] میں 27 رجب سرکاری تعطیل کا دن ہے۔

اسی طرح ایشیا، یورپ اور افریقہ کے مختلف ممالک، جہاں شیعہ آبادی یا اسلامی مراکز موجود ہیں، وہاں بھی عیدِ مبعث کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔[10] پاکستان میں 27 رجب کو عام تعطیل ہوتی ہے اور اہل سنت اس دن کو مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت کے ساتھ معراج رسول خداؐ مناتے ہیں، مساجد میں خصوصی اجتماعات اور درود و سلام کی محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے۔[11]

ایران میں سنہ 1995ء میں عید مبعث کی یاد میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا

مبعث کے شب و روز کے مستحب اعمال

کتب ادعیہ میں شبِ مبعث اور یومِ مبعث کے متعدد مستحب اعمال ذکر کیے گئے ہیں۔[12] کتاب زاد المعاد میں امام محمد تقیؑ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ 27 رجب کی شب اور دن میں انجام دی جانے والی عبادات کی فضیلت دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور شیعوں کو ان اعمال کی انجام دہی کی ترغیب دی گئی ہے۔[13] روایات میں 27 رجب کی رات کو «لیلۃُ المَحیا» بھی کہا گیا ہے، جس کے معنی ہیں شبِ اِحیا یا شبِ عبادت و شب بیداری۔[14] 27 رجب کی شب اور روزِ کے مستحب اعمال مندرجہ ذیل ہیں:

27 ویں کی شب
  • غسل
  • اس دعا کی قرائت: اللّٰہُمَّ إِنِّى أَسْأَلُك بِالتَّجَلِّى الْأَعْظَمِ فِى ہٰذِہِ اللَّيْلَةِ مِنَ الشَّہْرِ الْمُعَظَّمِ، وَالْمُرْسَلِ الْمُكَرَّمِ...
  • زیارت امیرالمؤمنینؑ
  • 12 رکعت نمازیں پڑھنا جس کی ہر رکعت میں حمد، فلق اور ناس ایک ایک بار اور سورہ اخلاص 4 مرتبہ پڑھا جائے۔ نماز سے فراغت کے بعد یہ ذکر پڑھا جائے: «لا إلہ إلا اللہ و اللہ أکبر، الحمد للہ و سبحان اللہ و لا حول و لا قوة إلا باللہ العلی العظیم۔[15]
27 ویں کا دن
  • غسل کرنا
  • روزہ رکھنا
  • صلوات پڑھنا
  • زیارت امیرالمؤمنینؑ
  • زیارت رسول خداؐ
  • بارہ رکعت نمازیں پڑھنا جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد اور یس پڑھا جائے۔ نماز کے بعد 4 بار سورہ حمد پڑھا جائے؛ پھر یہ ذکر 4 بار: «لا إلہ إلا اللہ و اللہ أکبر و الحمد للہ و سبحان اللہ و لا حول و لا قوة إلا باللہ العلی العظیم» اور اس کے بعد 4 بار یہ ذکر پڑھے: «اللہ ربی لا أشرک بہ شیئاً»۔[16]

حوالہ جات

  1. اکبری، احکام مناسبت‌ہا، 1388شمسی، ص138۔
  2. راغب اصفہانی، المفردات، 1412ھ، ج1، ص132۔
  3. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، 1369شمسی، ص84۔
  4. طبری، تاریخ الطبری، 1879ء، ج2، ص44۔
  5. «عید مبعث یا معراج مذاہب اسلامی 27 رجب چگونہ جشن می‌گیرند؟»، رضوی خبر رساں ایجنسی۔
  6. «عید مبعث یا معراج مذاہب اسلامی 27 رجب چگونہ جشن می‌گیرند؟»، رضوی خبر رساں ایجنسی۔
  7. «عید مبعث 1403 در جہان اسلام»، ایمنا خبر رساں ایجنسی۔
  8. «لایحہ قانونی تعیین تعطیلات رسمی کشور»، مجلس کے تحقیقاتی ادارے کی ویبسائٹ۔
  9. «النجف تعطّل الدوام الیوم بمناسبة المبعث النبوی، سایت بغداد الیوم۔
  10. «جشن مبعث پیامبر(ص) در کشورہای مختلف جہان برگزار شد.»، حوزہ نیوز ایجنسی۔
  11. «28جنوری کو تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان، نوٹیفکیشن بھی جاری»، dailypakistan.com.pk
  12. مجلسی، زاد المعاد، 1423ھ، ص34۔
  13. مجلسی، زاد المعاد، 1423ھ، ص34۔
  14. انصاری، «رجب»، ص176۔
  15. قمی، مفاتیح الجنان، 1388شمسی، ص248-253۔
  16. قمی، مفاتیح الجنان، 1388شمسی، ص253-255۔

مآخذ