مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:میقات موسی

ویکی شیعہ سے

میقات موسیٰ سے مراد حضرت موسیٰؑ کا چالیس دن کا وہ دورانیہ ہے جس میں انہیں اللہ کے حکم سے مناجات اور تورات کی تختیاں (الواح) حاصل کرنے کے لیے طور سیناء بلایا گیا تھا۔ یہ واقعہ قرآن کے سورہ اعراف میں بیان ہوا ہے۔ موسیٰ نے یہاں جانے سے پہلے حضرت ہارونؑ کو بنی اسرائیل میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ قرآن کے مفسرین نے اس واقعہ کو حدیث منزلت سے ربط دیتے ہوئے اسے پیغمبر اکرمؐ کے بعد حضرت علیؑ کی بلا فصل جانشینی کی دلیل قرار دیا ہے۔

اس میقات میں خدا کا موسیٰ سے بلاواسطہ کلام کرنا، خدا کو دیکھنے کی درخواست اور شریعت کا نزول شامل تھا۔ بنی اسرائیل کا اختلاف اور گوسالہ پرستی کا واقعہ بھی اسی دوران پیش آیا اور موسیٰؑ نے واپس آ کر اپنی قوم کے گمراہ کرنے والوں کو سخت سزا دی۔

کہا جاتا ہے کہ قرآن میں چالیس دن رات کے بجائے چالیس رات کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ رات عبادت اور مناجات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ یہ میقات ذی قعدہ کے آغاز سے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک جاری رہا۔ بعض صوفیاء اور عرفاء نے اسے "چلہ کلیمی" کا نام دیا ہے اور چلہ نشینی کے لیے اسے مستند قرار دیا ہے۔

طور سینا میں چالیس دن

حضرت موسیٰؑ کا میقات اس وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ اللہ کے حکم سے اپنی قوم سے الگ ہوکر عبادت میں مشغول ہوگئے تھے۔ یہ میقات چالیس دنوں پر مشتمل تھا،[1] اور یہ واقعہ بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے اور سمندر پار کرنے کے بعد[2] پیش آیا۔ حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ سے مناجات[3] اور تورات کو اخذ کرنے[4] کے لیے میقات پر بلایا گیا تھا۔[5]

آپ پر وحی کا آغاز مدین سے نکلنے اور مصر میں داخل ہونے سے پہلے ہوا، لیکن تورات کا نزول میقات میں ہوا۔[6] اس میقات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ سے براہ راست[7] اور بلاواسطہ[8] کلام کیا[9]‍ اور ان کے مرتبے کو بلند کیا۔[10] سورہ اعراف کی آیت 144 میں مذکور فرمان "اے موسیٰ میں نے تمہیں اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیے تمام لوگوں سے منتخب کیا ہے" یہ بات اسی میقات میں حضرت موسیٰ سے کہی گئی تھی۔[11]

سورہ اعراف میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کے منتخب ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر میقات میں گئے۔[12] بعض مفسرین اس میقات کو وہی چالیس روزہ میقات قرار دیتے ہیں،[13] جبکہ بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰؑ کا ایک اور میقات گوسالہ پرستی کے واقعے کے بعد ہوا تھا۔[14] دو میقات کا وجود تورات کے مندرجات سے مطابقت رکھتا ہے۔[15]

یہ چالیس روزہ میقات "چلہ کلیمیہ"[16] کے نام سے بھی مشہور ہے[17] اور بعض گروہوں نے اسے چلہ نشینی (چالیس روزہ عبادت) کو جائز ثابت کرنے کے لیے بطور دلیل استعمال کیا ہے۔[18] کہا جاتا ہے کہ چلہ کلیمی صوفیاء کے ہاں سب سے مشہور چلہ نشینی ہے،[19] جسے بعض فقہاء[20] نے قبول کیا اور بعض دیگر فقہاء[21] نے اسے مسترد کیا ہے۔

جانشینی ہارون

موسیٰؑ نے میقات کی جانب جانے سے پہلے اپنے بھائی ہارون کو اپنا جانشین مقرر کیا اور انہیں کچھ ہدایات دیں۔[22] شیعہ اور اہل سنت کے بعض مفسرین نے اس موضوع سے متعلق آیات کی تفسیر میں حدیث منزلت کا ذکر کیا ہے، جسے شیعہ تفاسیر حضرت علیؑ کی خلافت کی دلیل کے طور پر پیش کرتی ہیں۔[23]

موسیٰؑ جب میقات سے واپس آئے اور اپنی قوم کو گوسالہ پرستی میں مبتلا پایا تو بنی اسرائیل اور سامری سے بازپرس کرنے کے علاوہ، غصے میں ہارونؑ کی بھی سرزنش کی، یہاں تک کہ ان کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچا۔ سورہ طہ کی آیت 94 میں ہارون کا استدلال نقل کیا گیا ہے: "مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ تم واپس آ کر یہ نہ کہو کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات پر عمل نہ کیا۔"[24]

میقات کا زمان و مکان

موسیٰ علیہ السلام کے میقات کی مدت سورہ اعراف کی آیت 142 کے مطابق تیس راتیں تھی، جس پر اللہ نے مزید دس راتیں بڑھا دیں۔[25] سورہ بقرہ کی آیت 51 میں صرف چالیس رات کا ذکر آیا ہے۔[26] اسے ذی قعدہ کے آغاز سے ذی الحجہ کی دس تاریخ تک کا عرصہ قرار دیا گیا ہے۔[27]

شیعہ مفسر علامہ طباطبائی کے مطابق، چونکہ اس میقات کا مقصد خدا کا قرب حاصل کرنا اور مناجات تھا اور راتیں عبادت کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہیں، اس لیے قرآن نے "چالیس رات" کا لفظ استعمال کیا ہے۔[28]

بعض مفسرین نے اس میقات کا مقام طور سیناء بتایا ہے۔[29] تورات میں آیا ہے: "صبح کو کوہِ سینا پر چڑھ آؤ اور وہاں اس پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو جاؤ۔"[30]

لفظ "میقات" زمان و مکان دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے حج کے میقات[31] لیکن زیادہ تر وقت کے معنی میں آتا ہے یعنی وہ وقت جو کسی کام کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔[32] بعض نے میقات کو پروردگار کے قرب کے حصول کا وقت سے تعبیر کیا ہے۔[33]

میقات کی مدت میں اضافہ

میقات میں دس دن کے اضافے کے بارے میں علما کے درمیان مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔[34] بعض کا خیال ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے پہلے موسیٰؑ کو تیس راتوں کے لیے بلایا اور پھر اس میں اضافہ کیا تاکہ بنی اسرائیل کے منافقین کھل کر سامنے آجائیں۔[35] امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ موسیٰؑ کے میقات کا دس دن بڑھنا بداء تھا۔[36]

روئیت خدا کی درخواست

بعض محققین نے روئیت خدا کی درخواست کو میقات کا سب سے اہم موضوع قرار دیا ہے۔[37] سورہ اعراف کی آیت 143 میں آیا ہے کہ موسیٰؑ نے خدا سے کہا: "پروردگار! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیری طرف نگاہ کر سکوں۔"[38] بعض مفسرین کا سورہ نساء کی آیت 153 کی بنیاد پر یہ خیال ہے کہ یہ بات درحقیقت بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی زبان سے نکلی تھی جو اصرار کے ساتھ موسیٰؑ سے روئیت خدا کا مطالبہ کر رہے تھے، ورنہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔[39] صاحب تفسیر مجمع البیان نے اس رائے کو مفسرین کے درمیان مضبوط اور مشہور قول قرار دیا ہے۔[40] دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ دعویٰ کہ رویت کا مطالبہ خود موسیٰؑ کی طرف سے نہیں تھا، سورہ اعراف کی آیت 143 میں مذکور موسیٰؑ کی توبہ کے مطابق نہیں ہے۔[41] نیز کہا گیا ہے کہ موسیٰؑ کی طرف سے اس طرح کی درخواست کرنا ایک فطری امر ہے اور یہ ان کے مقام و مرتبے سے کوئی تضاد نہیں۔[42]

اللہ تعالیٰ نے "لَنْ تَرانی" (تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکوگے) کے الفاظ میں جواب دیا[43] اور فرمایا کہ موسیٰؑ میں خدا کو دیکھنے کی طاقت نہیں ہے۔ پھر موسیٰؑ کو حکم ہوا کہ وہ پہاڑ کی طرف دیکھیں۔ اگر پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہا تو وہ خدا کو دیکھ پائیں گے۔ جب اللہ نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰؑ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ ہوش میں آنے کے بعد موسیٰؑ نے ندامت کا اظہار کیا۔[44]

شریعت اور الواح کا نزول

موسیٰؑ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ دشمنوں سے نجات پانے کے بعد وہ ان کے لیے ایک آسمانی کتاب لائیں گے جس میں شریعت ہوگی۔[45] اسی بنا پر انہوں نے خدا سے کتاب کا مطالبہ کیا اور خدا نے انہیں روزہ رکھنے اور میقات پر جانے کا حکم دیا۔[46] میقات کے اختتام پر[47] اللہ نے موسیٰؑ پر اپنے دین کے شرائع اور قوانین نازل کیے[48] اور اعلان کیا کہ اس نے انہیں برگزیدہ کیا ہے۔[49]

قرآن کی آیات کے مطابق، میقات ہی میں موسیٰؑ پر الواح نازل ہوئے۔[50] بعض مفسرین بشمول علامہ طباطبائی نے ان الواح کو تورات کی تختیاں قرار دیا ہے۔[51] بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ الواح تورات کے نزول سے پہلے کے تھے۔[52] رشید رضا نے تفسیر المنار میں کہا ہے کہ یہ الواح شریعت کا ابتدائی حصہ اور ایک طرح سے اجمالی توریت تھے۔[53]

بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی

بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے موسیٰؑ کے میقات کے آخری دس دنوں میں[54] ایک گوسالہ بنا کر اس کی پجاری شروع کر دی۔[55] انہیں میقات کے دس دن بڑھادینے کی اطلاع نہیں تھی اور بعض تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے سمجھ لیا کہ موسیٰؑ وفات پاگئے ہیں۔[56] بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ موسیٰؑ نے جھوٹ بولا اور وہ بھاگ گئے ہیں۔[57] سامری نامی شخص[58] نے لوگوں کے سونے سے ایک گوسالہ بنایا[59] اور اپنے پیروکاروں سمیت[60] لوگوں کو اس کی پوجا کی دعوت دی۔[61]

حضرت موسیٰؑ کو میقات ہی میں اپنی قوم کی گوسالہ پرستی میں مبتلا ہونے کی اطلاع مل گئی۔[62] جب میقات سے واپس آکر انہوں نے یہ منظر دیکھا تو غصے میں آکر وہ تختیاں (الواح) جو ان پر نازل ہوئی تھیں، زمین پر پھینک دیں اور توڑ دیں۔[63] اللہ کے حکم پر بنی اسرائیل نے اپنے گناہ کے کفارے کے لیے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کیا[64] اور یہ قتل عام رشتہ داروں، خاندان والوں اور تمام بنی اسرائیلیوں پر محیط تھا۔[65] بعض کا خیال ہے کہ جن لوگوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی تھی، انہوں نے گوسالہ پرستوں کو قتل کرنا شروع کیا۔[66] کئی ہزار افراد[67] کے قتل کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی اور قاتل اور مقتول دونوں بخش دیے گئے۔[68] یہ واقعہ تورات میں بھی مذکور ہے۔[69]

حوالہ جات

  1. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج‏8، ص235۔
  2. ابیاری، الموسوعۃ القرآنیۃ، 1405ھ، ج9، ص80۔
  3. طبری، جامع البیان، 1412ھ، ج9، ص32۔
  4. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج3، ص391‍۔
  5. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص170۔
  6. رشیدرضا، تفسیر المنار، 1414ھ، ج9، ص119۔
  7. طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008ء، ج3، ص192۔
  8. شبر، تفسیر القرآن الکریم، 1412ھ، ص183۔
  9. القشیری، المعراج، 1384ھ، ص161۔
  10. ملکی میانجی، مناہج البیان، 1417ھ، ج1، ص233۔
  11. طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج5، ص453۔
  12. سورہ اعراف، آیہ155۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص342۔
  14. ملاحویش، بیان‌المعانی، 1382ھ، ج1، ص431۔
  15. ر۔ک: سرشار، «میقات موسی (ع) در قرآن، عہد عتیق و تفاسیر اسلامی»۔
  16. «توصیہ‌ہای یک استاد اخلاق برای چلہ کلیمیہ»، وبگاہ عقیھ۔
  17. منصوری لاریجانی، در محضر حافظ، 1390شمسی، ج2، ص233۔
  18. کاشانی بیدختی، «چلہ‌نشینی»، ص102۔
  19. کاشانی بیدختی، «چلہ‌نشینی»، ص21۔
  20. «آیت اللہ جوادی آملی: اربعین گیری از بہترین راہہای دریافت فیوضات است۔۔۔»، پایگاہ اطلاع‌رسانی حوزہ۔
  21. صافی گلپایگانی، معارف دین، قم، ج3، ص350۔
  22. فضل‌اللہ، من وحی القرآن، 1419ھ، ج10، ص236۔
  23. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص343۔
  24. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج13، ص283۔
  25. طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج5، ص447۔
  26. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج‏8، ص235۔
  27. ملاحظہ کیجیے: قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص239؛ ابیاری، الموسوعۃ القرآنیۃ، 1405ھ، ج9، ص80۔
  28. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج‏8، ص236۔
  29. مراغی، تفسیر المراغی، بیروت، ج9، ص56۔
  30. تورات، خروج، باب 34؛ آیہ2۔
  31. طبرسی، مجمع البیان، 1372، ج4، ص730۔
  32. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص340۔
  33. مدبرپور، «میقات موسی در قرآن»، ص149۔
  34. فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج14، ص352۔
  35. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص340۔
  36. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ھ، ج1، ص44۔
  37. مدبرپور، «میقات موسی در قرآن»، ص167۔
  38. سورہ اعراف، آیہ143۔
  39. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص356۔
  40. طبرسی، مجمع البیان، 1372، ج4، ص730۔
  41. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج3، ص391‍۔
  42. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج3، ص391‍۔
  43. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج2، ص232۔
  44. طیب، اطیب البیان‏، 1369شمسی، ج5، ص449 -450۔
  45. زمخشری، الکشاف، 1407ھ، ج2، ص151۔
  46. سہروردی، عوارف المعارف‏، 1374شمسی، ج1، ص227۔
  47. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص239۔
  48. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص362۔
  49. زمخشری، الکشاف، 1407ھ، ج2، ص157۔
  50. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج‏1، ص239۔
  51. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج8، ص250۔
  52. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 1364شمسی، ج7، ص289۔
  53. رشید رضا، تفسیر المنار، 1414ھ، ج 9، ص۔164۔
  54. میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، 1371شمسی، ج3، ص723۔
  55. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج6، ص371۔
  56. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج3، ص450۔
  57. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج‏1، ص239۔
  58. قرشی، قاموس قرآن، 1371شمسی، ج6، ص315۔
  59. قرشی، قاموس قرآن، 1371شمسی، ج6، ص315۔
  60. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج14، ص192۔
  61. مغنیہ، التفسیر المنیر، بنیاد بعثت، ج16، ص260۔
  62. سورہ طہ، آیہ 85۔
  63. طبری، جامع البیان، 1412ھ، ج2، ص388۔
  64. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص18۔
  65. جوادی آملی، تسنیم،1387شمسی، ج4، ص455۔
  66. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج1، ص132۔
  67. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص47۔
  68. حسینی شیرازی، تبیین القرآن، 1423ھ، ص18۔
  69. تورات، خروج، باب 32، آیات27- 28۔

مآخذ

  • «آیت اللہ جوادی آملی: اربعین گیری از بہترین راہہای دریافت فیوضات است/ ہیچ دشمنی بدتر از ہوس وجود ندارد»(چلہ فیوض و برکات حاصل کرنے کے بہترین راستوں میں سے ایک ہے/ خواہشات نفسانی سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں ہوتا۔)، حوزہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 1 اکتوبر 2011ء، تاریخ مشاہدہ: 8 فروری 2026ء۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران، بنیاد بعثت، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، مرکز نشر اسراء، 1387ہجری شمسی۔
  • حسینی شیرازی، سید محمد، تبیین القرآن، بیروت، دار العلوم، دوسری اشاعت، 1423ھ۔
  • رشیدرضا، محمد، تفسیر المنار، بیروت، دار المعرفۃ، 1414ھ۔
  • ‏زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، دار الکتاب العربی، تیسری اشاعت، 1407ھ۔
  • سرشار، «میقات موسی (ع) در قرآن، عہد عتیق و تفاسیر اسلامی»، مجلہ مطالعات تاریخی قرآن و حدیث، دورہ 18، شمارہ 52، اسفند 1391ہجری شمسی۔
  • سہروردی، عمر بن محمد، عوارف المعارف‏، محقق: توفیق علی وہبہ، احمد عبدالرحیم سایح، مصر، 1374ہجری شمسی۔
  • شبر، سید عبداللہ، تفسیر القرآن الکریم، بیروت، دار البلاغۃ للطباعۃ و النشر، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • ابیاری، ابراہیم، الموسوعۃ القرآنیۃ، قاہرہ، موسسۃ سجل العرب‏، 1405ھ۔
  • صافی گلپایگانی، لطف‌اللہ، معارف دین (ج3)، قم، دفتر تنظیم و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی صافی گلپایگانی، 1391ہجری شمسی۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی‏، پانچویں اشاعت‏، 1417ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر، اردن، دار الکتاب الثقافی، 2008ء۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، دوسری اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، التفسیر، محقق و مصحح: ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • فضل‌اللہ، سید محمدحسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر، دوسری اشاعت، 1419ھ۔
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: حسین اعلمی، تہران، انتشارات الصدر، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
  • قرشی، سید علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چھٹی اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، پہلی اشاعت، 1364ہجری شمسی۔
  • القشیری، عبدالکریم بن ہوازن، المعراج، بیروت، دار و مکتبۃ بیبلیون، 1384ھ۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کاشانی بیدخی، حسینعلی، «چلہ‌نشینی»، دانشنامہ جہان اسلام، ج12، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • مدبرپور، موسی، مہدی مطیع، محمدرضا حاجی اسماعیلی، «میقات موسی در قرآن»، شمارہ 37، مطالعات قرآنی بہار 1398ہجری شمسی۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مراغی، احمد بن مصطفی، تفسیر المراغی، داراحیاء التراث العربی، بیروت، بی‌تا۔
  • مغنیہ، محمدجواد، التفسیر المبین، قم، بنیاد بعثت، بی‌تا۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • ملاحویش آل غازی، عبدالقادر، بیان المعانی، دمشق، مطبعۃ الترقی، پہلی اشاعت، 1382ھ۔
  • ملکی میانجی، محمدباقر، مناہج البیان فی تفسیر القرآن، مصحح: عزیز آل‌طالب، تنظیم: محمد بیابانی اسکویی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی۔ 1417ھ۔
  • منصوری لاریجانی، اسماعیل، در محضر حافظ، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، 1390ہجری شمسی۔
  • رشیدالدین میبدی، احمد بن ابی‌سعد، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، تحقیق: علی‌اصغر حکمت‏، تہران، انتشارات امیر کبیر، پانچویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔