مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حکم بن ابی العاص

ویکی شیعہ سے
حکم بن ابی العاص
پیغمبر اکرمؐ کے دشمنوں میں سے
کوائف
نامحکم بن ابی العاص بن امیہ
نسببنی امیہ
مشہور اقاربمروان بن حکم (بیٹا) • عثمان بن عفان (بھتیجا)
جائے پیدائشمکہ
سکونتمکہ • مدینہ • طائف
وفاتسنہ 31ھ یا 32ھ، مدینہ
علمی معلومات
دیگر معلومات
فعالیتپیغمبر اکرمؐ کو آزار و اذیت پہنچانا

حَکم بن ابی العاص بن اُمَیہ بنی امیہ کے سرکردہ افراد، عثمان بن عَفّان کا چچا اور مروان بن حکم کا والد تھا۔[1] انہیں پیغمبر اکرمؐ کو اذیت و آزار پہنچانے کی وجہ سے اسے مدینہ سے طائف جلاوطن کیا گیا تھا؛ اسی بنا پر وہ طرید رسول اللہ (رسول اللہؐ کا جلاوطن کردہ) کے لقب سے مشہور ہوا۔[2]

وہ اپنے رشتہ داروں کے اسلام قبول کرنے کی مخالفت کرتا تھا جن میں عثمان بھی شامل تھے۔[3] اسی طرح بعض تاریخی روایات میں حَکم کو دار الندوہ میں پیغمبر اکرمؐ کے قتل کی سازش میں شریک اور آپؐ کے گھر کے محاصرے میں موجود افراد میں شمار کیا گیا ہے۔[4]

بعض مؤرخین کے مطابق حکم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور اس کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی۔ بعض منابع میں اس کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان شکوک و شبہات کا ذکر بھی ملتا ہے۔[5] اسی طرح اسے طلقاء (مکہ کے وہ باشندے جنہیں فتح مکہ کے بعد پیغمبر اکرمؐ نے معاف کر دیا تھا) میں بھی شمار کیا گیا ہے۔[6]

تاریخی روایات کے مطابق حَکم مدینہ میں بھی پیغمبر اکرمؐ کو اذیت پہنچاتا تھا؛ مثلا آپؐ کی حرکات و سکنات کی نقل اتارتا اور آپ کا مذاق اڑاتا تھا۔[7] بعض روایات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی بدعا کے نتیجے میں[8] حَکم پر رعشہ طاری ہوتا تھا اور وہ ذہنی اختلال میں بھی مبتلا ہوا تھا۔[9] یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ پیغمبر اکرمؐ کی گفتگو اور آپؐ کے راز مخالفین تک پہنچاتا تھا۔[10] اسی طرح وہ آپؐ کے گھر کے پیچھے کھڑے ہو کر آپ کی باتیں سنتا اور دروازے کی درز سے گھر کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا تھا۔[11] پیغمبر کرمؐ نے اس کی ان حرکتوں کی بنا پر اسے طائف جلاوطن کر دیا اور اسے مدینہ میں سکونت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔[12] بعض منابع میں اس کے کچھ بیٹوں کو بھی جلاوطن کئے جانے کا ذکر ملتا ہے۔[13]

حَکم کو سورہ احزاب آیت نمبر 57 کا مصداق قرار دیا گیا ہے، جس میں اللہ تعالی اور اس کے رسولؐ کو اذیت پہنچانے والوں کو لعنت اور عذاب کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ تاریخی منابع کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے حَکم اور اس کی نسل پر لعنت فرمائی، البتہ ان میں سے صاحبان ایمان کو اس سے مستثنا قرار دیا ہے۔[14]

پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد خلافت عثمان تک حکم اور اس کے بیٹے جلاوطنی کی حالت میں رہے۔[15] عثمان نے ابوبکر اور عمر کی مخالفت کے باوجود[16] حَکم اور اس کے خاندان کو مدینہ واپس بلا لیا اور اسے ایک لاکھ درہم بخش دیا۔[17] حکم عمر کے آخری حصے میں نابینا ہو گیا[18] اور سنہ 31 یا 32 ہجری[19] کو مدینہ میں وفات پا گیا۔[20] عثمان کے حکم پر بقیع میں اس کی قبر پر ایک خیمہ لگایا گیا۔[21]


حوالہ جات

  1. ↑ ابن حجر عسقلانی، "الاصابۃ"، ج2، ص104۔
  2. ↑ برای نمونہ ملاحظہ کیجئے: ابن عبدربّہ، "الاستیعاب"، ج4، ص267؛ مسعودی، "مروج الذہب"، ج3، ص78۔
  3. ↑ ابن سعد، "الطبقات الکبری"، ج3، ص55۔
  4. ↑ ابن سعد، "الطبقات الکبری"، ج1، ص228۔
  5. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص125۔
  6. ↑ مالکی، "الصحبۃ و الصحابۃ"، ص192-193۔
  7. ↑ ابن حجر عسقلانی، "الاصابۃ"، ج2، ص105۔
  8. ↑ طبری، "تاریخ الأمم و الملوک"، ج10، ص58۔
  9. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص125۔
  10. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص125۔
  11. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص125۔
  12. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص125۔
  13. ↑ ابن اثیر، "اسد الغابۃ"، ج2، ص37۔
  14. ↑ بلاذری، "انساب الاشراف"، ج5، ص126؛ ابن عبدالبرّ، "الاستیعاب"، ج1، ص360۔
  15. ↑ ابن عبدالبرّ، "الاستیعاب"، ج2، ص194 و ج4، ص286۔
  16. ↑ ابن اثیر، "اسد الغابۃ"، ج2، ص38۔
  17. ↑ صفدی، "کتاب الوافی"، ج13، ص112۔
  18. ↑ صفدی، "نکت الہمیان"، ص147۔
  19. ↑ ابن حجر عسقلانی، "الاصابۃ"، ج2، ص106۔
  20. ↑ ابن عبدالبرّ، "الاستیعاب"، ج1، ص359۔
  21. ↑ ابن سعد، "الطبقات الکبری"، ج8، ص113۔

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، "أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ"، بیروت، دارالفکر، 1409ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، "الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ"، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمد علی بیضون، 1415ھ۔
  • ابن سعد، محمد بن سعد، "الطبقات الکبری"، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمد علی بیضون، 1410ھ۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، "الإستیعاب فی معرفۃ الأصحاب"، بیروت، دار الجیل، 1412ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، "انساب الاشراف"، اورشلیم، چاپ گویتین، 1863ء۔
  • زبیری، مصعب بن عبداللہ، "کتاب نسب قریش"، قاہرہ، دار المعارف، 1953ء۔
  • صفدی، خلیل بن ایبک، "کتاب الوافی بالوفیات"، ویسبادن، 1962ء۔
  • صفدی، خلیل بن ایبک، "نکت الہمیان فی نکت العُمیان"، مصر، احمد زکی بک پریس، مصر1329ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر بن یزید، "تاریخ الأمم و الملوک"، بیروت، دار التراث، دوسری اشاعت، 1387ھ۔
  • مالکی، حسن بن فرحان، "الصحبۃ و الصحابۃ بین الاطلاق اللغوی و التخصیص الشرعی"، عمان، مرکز الدراسات التاریخیہ، 1422ھ/2002ء۔
  • مسعودی، علی بن حسین، "مروج الذہب" قم، مؤسسہ دار الہجرۃ، 1409ھ۔