مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حزب الدعوۃ الاسلامیۃ

ویکی شیعہ سے
حزب الدعوۃ الاسلامیہ
سیکرٹری جنرلنوری المالکی، سن 2007ء سے
بانیسید محمدباقر صدر اور دیگران
اہدافاسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت کا قیام
بنیاد12 اکتوبر 1957ء
اخبارالبیان • الدعوہ • قبضۃ الہدی
ویب سائٹحزب الدعوۃ الاسلامیۃ
ملک عراق


حزب الدعوۃ الاسلامیہ، (اسلامی دعوت پارٹی) عراق کی اہم اور مؤثر سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے، جو اسلامی احکام کو معاشرے میں نافذ کرنے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لئے سنہ 1957ء میں قائم ہوئی۔ اس کے بانیوں میں سید محمد باقر صدر، جو اس کے روحانی پیشوا سمجھے جاتے تھے، سید مرتضی عسکری اور سید محمد باقر حکیم شامل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جماعت کی تشکیل میں وقت کے شیعہ مرجع تقلید سید ابو القاسم خویی کی حمایت حاصل تھی۔

حزب الدعوۃ نے امام خمینی اور ایرانی عوام کی طرف سے پہلوی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی حمایت کی، اور سنہ 1357ء کی اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے سیاسی و عسکری معاونت حاصل کی۔ سنہ 2003ء میں صدام حسین کے سقوط کے بعد حزب الدعوۃ نے عراق میں انتقالی حکومت کے قیام اور بعد میں حکومت اور پارلیمنٹ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور ان دو اداروں میں اہم عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

اس جماعت کے اراکین میں موجود فکری اور نظریاتی اختلاف اور تنوع کی وجہ سے یہ جماعت اپنی تاریخ میں مختلف اعتقادی اور سیاسی رجحانات نیز متعدد شاخوں میں تقسیم ہوتی رہی۔ اس کے سابق اراکین بعد میں پانچ مختلف جماعتوں میں منقسم ہوگئے۔ یہ جماعت مختلف ادوار میں مختلف شخصیات کے افکار و نظریات کے تحت سرگرم رہی جن میں سید محمد باقر صدر، سید مرتضی عسکری، عبد الصاحب دخیل، محمد ہادی سبیتی، محمد مہدی آصفی، ابراہیم جعفری، اور نوری المالکی شامل ہیں۔

اس پارٹی کی قیادت میں پیدا ہونے والے اہم اختلافات میں سے ایک، اس تنظیم کی فعالیتوں پر فقہاء کا موثر نظارتی کردار تھا، بعض افراد اس کے حامی اور بعض اس کے مخالف تھے۔

اس جماعت کا اہم ذرائع ابلاغ سنہ 2004ء تک "صوت الدعوۃ" (دعوت کی آواز) نامی نشریہ تھا۔ اس کے علاوہ، آفاق نیٹ ورک چینل، آفاق ریڈیو اور بنت الہدی ریڈیو بھی اس جماعت سے وابستہ ذرائع ابلاغ میں شمار ہوتے ہیں۔

دعوت اسلامی پارٹی کے بارے میں بعض کتابیں بھی تصنیف کی گئی ہیں، جن میں حسن شبر کی کتاب قابل ذکر ہے جو اس جماعت کے ابتدائی اراکین میں سے تھے۔

تعارف اور قیام کا پس منظر

حزب الدعوۃ الاسلامیہ عراق کی شیعہ سیاسی جماعتوں میں سب سے اہم[1] اور قدیمی سیاسی جماعت مانی جاتی ہے۔[2] یہ حزب عراق میں کمیونزم اور قوم پرستی کے نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں قائم ہوئی۔[3]

یہ جماعت شورائی قیادت کے ذریعے کام کرتی ہے[4] اور اس کا بنیادی مقصد اسلامی تعلیمات کو مسلمانوں کی زندگی میں عملی جامہ پہنانا، اسلامی سر زمینوں میں دین اسلام کو نافذ کرنا، اور ایک اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔[5]

حسن شبر کے مطابق اس جماعت کی تشکیل نجف اشرف میں وقت کے شیعہ مرجع تقلید، سید ابو القاسم خویی کی تائید سے ہوئی۔[6] سید محمد باقر حکیم کے مطابق اس جماعت کے اہداف اور منصوبے مصر کے اخوان المسلمین کے بعض اہداف سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے اسے شیعہ اخوان المسلمین بھی کہا جاتا تھا۔[7]

اس جماعت کی تاسیس کب ہوئی اس بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔[8] عراقی محقق علی مؤمن کے مطابق سنہ 1957ء[9] کو نجف میں سید محمد باقر صدر کے گھر پر منعقد ہونے والے ایک جلسے میں اس جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔[10] اس جلسے میں شرکت کرنے والوں میں سید مرتضی عسکری، محمد صالح ادیب، سید محمد باقر حکیم، حسن شبر، اور جابر عطا شامل تھے۔[11]

سنہ 1958ء میں عراق میں ہونے والے کودتا کے بعد، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوا اور الحادی نظریات رائج ہونے لگے، جس کے مقابلے میں اس جماعت نے اپنی خفیہ سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر شروع کیا۔[12] اس جماعت کی خفیہ سرگرمیوں کی سب سے بڑی وجہ حسین حلی (1270–1353ھ) جیسے نجف کے بعض علما کا اسلامی حکومت قائم کرنا حرام ہونے کا نظریہ تھا۔[13]

حزب الدعوۃ نے اپنے نظریات اور اغراض و مقاصد کو ترویج دینے کے لئے مبلغین کی تربیت کی۔[14] حسن شبر کے مطابق، غیر عراقی طلاب اس جماعت کے نظریات اور اغراض و مقاصد کو قبول کرنے میں سب سے آگے تھے۔[15] اس جماعت کے نظریات اور اصولوں کو سید محمد باقر صدر نے 13 ابواب میں مرتب کیا، جن میں اسلامی سرزمین، اسلامی حکومت اور شورائی قیادت قابل ذکر ہیں، ان اصولوں کو بعد میں نصابی شکل میں اس جماعت کے اراکین کو پڑھائے جاتے تھے۔[16]

مقاصد، ڈھانچہ اور ارتقا

دعوت اسلامیہ پارٹی کا نصب العین معاشرے کو مکمل طور پر اسلامی ماحول میں تبدیل کرنا تھا، تاکہ ہر شعبے میں لوگ اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کریں۔[17] اس جماعت کے آئین کے مطابق معاشرے میں ایک وسیع اسلامی حکومت کے قیام کے لئے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح، روحانی و اخلاقی تربیت، اسلامی تعلیمات کی اصل روح کی طرف واپسی اور مغربی افکار و نظریات کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔[18]

کہا جاتا ہے کہ یہ جماعت اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے اسلامی سرزمینوں کو استعمار سے آزاد کرکے انہیں اسلامی ریاست میں شامل کرنا، دنیا کے گوشہ و کنار میں لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف دعوت دینا[19] اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فروغ[20] کو اپنا وظیفہ سمجھتی ہے۔ حزب الدعوۃ ایک انقلابی جماعت کی حیثیت سے اپنے اغراض و مقاصد کو چار مراحل میں حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے:

  1. تبدیلی کا مرحلہ: اس مرحلے میں اراکین اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لاتے ہیں تاکہ لوگوں کی رہنمائی کر سکیں۔
  2. سیاست کا مرحلہ: حزب الدعوۃ سیاسی اور مسلحانہ دونوں طریقوں سے بعثی حکومت کے خلاف مقابلہ کے لئے تیاری کرتی ہے۔
  3. انقلاب کا مرحلہ: اس مرحلے کا اصل مقصد بعثی حکومت کا خاتمہ اور اسلامی حکومت کا قیام ہے۔
  4. حکمرانی کا مرحلہ: اس مرحلے میں اسلامی نظام کے ستونوں کو قائم کرنا، شریعت کے احکام کو نافذ کرنا اور ان پر نظر رکھنا اس جماعت کا فریضہ ہے۔ اس جماعت کے آئین کے مطابق اس مرحلے کے بعد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ملک کا آئین مرتب کیا جائے گا۔[21]

حزب الدعوۃ کا سب سے اعلیٰ ادارہ مرکزی قیادت ہے، جو ابتدائی طور پر 7 ارکان پر مشتمل تھی، بعد میں یہ تعداد 11 ارکان تک پہنچ گئی۔ یہ ادارہ جماعت کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔[22] حلقہ، اس جماعت کی سب سے چھوٹی یونٹ ہے۔ اس کے بعد مقامی کمیٹی پھر علاقائی کمیٹی آتی ہے۔[23] علاقائی قیادت اس تنظیم کی دوسری اکائی ہے جو متعلقہ علاقے میں اس تنظیم کی سرگرمیوں پر نگرانی کرے گی جو مرکزی قیادت کے تابع ہوگی۔[24] فکری کمیٹی، سیاسی دفتر، تنظیمی کمیٹی اور مالی کمیٹی اس تنظیم کے دوسرے اہم شعبے ہیں۔[25]

تنظیم کی قیادت یا مؤثر رہنماؤں کی تبدیلی کے ساتھ جماعت کی فقہی، اعتقادی، سیاسی اور تنظیمی رجحانات بھی تبدیل ہوتے رہے۔ اس بنا پر اس جماعت کی ارتقائی تاریخ کو درج ذیل ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

  • سید محمد باقر صدر (1313–1359ھ) کا دور: اس مرحلے میں پارٹی کی فعالیت شروع ہو گئی اور شورائے قیادت کے فقہی اور اعتقادی اصولوں کی بنیاد رکھی گئی۔
  • سید مرتضی عسکری (1293–1386ھ) کا دور: اس مرحلے میں اس جماعت کی قیادت علماء اور دیگر افراد کے درمیان رد و بدل ہوتی رہی۔
  • عبد الصاحب دخیل (1930–1973ء) اور محمد ہادی سبیتی (1930–1988ء) کا دور
  • محمد ہادی سبیتی کا دور: اس مرحلے میں مذہبی حساسیت میں کمی دیکھی گئی۔
  • محمد مہدی آصفی (1317–1394ھ) کا دور: اس مرحلے میں نظریہ ولایت فقیہ اور ولی فقیہ کی بیعت کو قبول کیا گیا۔
  • ابراہیم جعفری (1947ء) کا دور: اس مرحلے میں جماعت میں فکری انتشار پیدا ہوا۔
  • نوری المالکی (1950ء) کا دور: اس دوران حزب الدعوۃ حکمرانی میں داخل ہوئی اور عراق میں اہم سیاسی عہدے حاصل کی۔[26]

ایران کے اسلامی انقلاب کے ساتھ رابطہ

حزب الدعوۃ نے سنہ 1963ء میں ایران میں پندرہ خرداد کے قیام کے آغاز کے ساتھ ہی انقلاب اسلامی ایران کی حمایت شروع کر دی۔[27] جب امام خمینی کو عراق جلاوطن کیا گیا تو اس جماعت کے کئی رہنماؤں نے عراق کے شہر کاظمین میں امام خمینی سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا اعلان کیا۔[28] اسی طرح، اکتوبر 1978ء میں اس جماعت نے ایک بیان جاری کر کے ایران کی اسلامی انقلابی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔[29]

عراق میں صدام حسین کے اقتدار میں آنے کے بعد (1358ھ)، حزب الدعوۃ کے اراکین کو گرفتار کیا گیا اور اس کے سینکڑوں افراد کو پھانسی دی گئی۔[30] اس کے بعد حزب الدعوۃ نے اپنی مرکزی سرگرمیوں کو ایران منتقل کر دیا اور جماعت کی قیادت کے ڈھانچے کو فردی سے شورائی نظام میں منتقل کر دیا۔ اس کے نتیجے میں محمد ہادی سبیتی، علی کورانی، محمد مہدی آصفی، سید مرتضی عسکری اور سید کاظم حائری کو شورائے قیادت کے اراکین کے طور پر مقرر کیا گیا۔[31]

ایران-عراق جنگ (1359–1367ھ) کے دوران حزب الدعوۃ نے ایک پیغام جاری کر کے صدام حسین کے ایران پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ عراق کا نیا بادشاہ ہے جسے ایران کے بادشاہ کے جیسا انجام ملے گا۔[32] ایران میں اہواز کے قریب ایک عسکری کیمپ، جسے کیمپ شہید صدر کہا جاتا تھا، حزب الدعوۃ کے لیے مختص کیا گیا۔ یہ کیمپ حزب الدعوۃ کا اہم تربیتی مرکز تھا، جہاں تقریباً 7 ہزار افراد کو فوجی تربیت دی جاتی تھی۔ یہ فوج ایران-عراق جنگ میں ایرانی فوج کے ساتھ مل کر صدام حکومت کے خلاف لڑتی رہی۔[33]

عراق حکومت کے ساتھ تصادم اور عسکری شاخ کی تشکیل

عراق میں بعث پارٹی کے اقتدار (1347ھ/1968ء) میں آنے کے بعد متعدد سیاسی کارکنان کو گرفتار کو حراست میں لیا گیا۔[34] سنہ 1971ء کو حزب الدعوۃ کے نائب رہنما عبد الصاحب دخیل کو گرفتار کر کے شکنجہ دے کر قتل کیا گیا۔[35] اس کے بعد شیخ عارف بصری کو جماعت کا رہنما منتخب کیا گیا، لیکن ان کو بھی 17 جولائی سن 1974ء کو گرفتار کرے پھانسی دی گئی، اور تنظیم کے کئی دیگر اعضا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔[36]

12 جون سن 1979ء کو حزب الدعوۃ نے عراق میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کئے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ اس واقعے کو انتفاضہ 17 رجب کہا جاتا ہے۔ عراقی بعثی حکومت نے اس واقعے میں گرفتار ہونے والے 1200 افراد کے خلاف مقدمہ چلایا، جن میں سے 86 افراد کو پھانسی دی گئی۔[37] اس تحریک کی ناکامی کے بعد حزب الدعوۃ نے مسلحانہ جد و جہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی عسکری شاخ قائم کی۔[38]

سید محمد باقر صدر، جو سنہ 1962ء کو عراق کے شیعہ مرجع تقلید سید محسن حکیم کی درخواست پر حزب الدعوۃ سے علیحدہ ہو گئے تھے،[39] لیکن اس کے باوجود بھی انہیں اس جماعت کا روحانی پیشوا شمار کیا جاتا تھا،[40] بعث پارٹی کی طرف سے گرفتار کئے جانے کے بعد 8 اپریل سن 1980ء کو شہید کر دئے گئے۔[41]

9 مئی سن 1981ء کو اس جماعت کے سابق رہنما محمد ہادی سبیتی، جو اردن میں پناہ گزین تھے، کو بھی گرفتار کرکے عراقی حکومت کے سپرد کئے جانے کے بعد پھانسی دی گئی۔[42] جولائی 1982ء میں اس پارٹی کی عسکری شاخ، جو دجیل شہر میں صدام حسین پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد کشف ہوئی، کے 117 اراکین کو پھانسی یا عمر قید کی سزا دی گئی۔[43]

انشقاق

حزب الدعوۃ اپنی تاریخ میں متعدد نشیب و فراز سے دچار ہوئی، جس کے درج ذیل علل و اسباب بیان کئے جاتے ہیں: شورائی نظام کی فطرت اور تنظیمی ڈھانچے کی نوعیت، اراکین پر تربیتی افکار کا اثر، اراکین کی شخصیت سازی اور قیادت کے لیے تربیت، اراکین میں احساس مسئولیت اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا۔[44] ان کے علاوہ تنظیم میں پیدا ہونے والے اختلافات کو حل کرنے والی اعلیٰ قیادت کا فقدان[45] اور خارجی عوامل کی حیثیت سے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی من جملہ ان نشیب و فراز کے علل و اسباب میں شمار کئے جاتے ہیں۔[46]

حزب الدعوۃ میں انشقاق کے بعد اس کے اراکین پانچ جماعتوں میں تقسیم ہو گئے:

  • حزب الدعوۃ الاسلامیہ: اس جماعت کے سیکرٹری جنرل نوری المالکی ہیں اور سب سے بڑی اور اہم جماعت کے طور پر مرکزیت حاصل ہے۔
  • حزب الدعوۃ الاسلامیہ: عراقی تنظیم: یہ جماعت سید ہاشم موسوی کی قیادت میں سب سے بڑی جماعت ہے، جو مرکزی جماعت کے بعد آتی ہے۔
  • حزب الدعوۃ الاسلامیہ: ملکی تنظیم: اس کی قیادت عبدالکریم العنزی کر رہے ہیں، جو عراق کے سابق وزیر برائے قومی سلامتی ہیں۔
  • تیار الإصلاح الوطني (قومی اصلاح): اس جماعت کے سیکرٹری جنرل ابراہیم جعفری، عراق کے سابق وزیراعظم ہیں، اور اس کے ایک رہنما فالح الفیاض ہیں، جو عراق کے سابق صدر کے سکیورٹی مشیر رہ چکے ہیں۔
  • حركۃ الدعوۃ الاسلامیہ: اس جماعت کے سیکرٹری جنرل عزالدین سلیم تھے، جنہیں سنہ 2004ء میں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہ جماعت حزب الدعوۃ سے منسلک سب سے کمزور تنظیم بن گئی۔[47]

حزب الدعوۃ میں ایک اور انشقاق بھی وجود میں آیا، جس کے نتیجے میں بننے والی جماعت بعد میں منحل ہو گئی، جسے حزب الدعوۃ: "فقہی مجلس" کہا جاتا تھا۔ یہ جماعت سن 1988ء کو اس جماعت سے فقہی شورا کو ختم کرنے پر بطور احتجاج وجود میں آئی تھی۔[48]

پارٹی میں فقہاء کے کردار پر اختلاف

سنہ 1376ھ میں تنظیمی فعالیتوں پر فقہاء کی نظارت کے حوالے سے حزب میں پیدا ہونے والے اختلافات کے نتیجے میں اس تنظیم کے اندر کئی دھڑے وجود میں آئے:

  • محمد مہدی آصفی اور ان کے ہم خیال ساتھیوں کا گروہ: اس بات کے حامی تھے کہ فقہاء کی ایک کمیٹی جماعت کی فعالیتوں پر نگرانی کرے گی۔
  • خضیر موسی جعفر الخزاعی کا گروہ: انہوں نے جماعت کو خیرباد کہہ کر دعوت اسلامیہ: تنظیم عراق کی بنیاد رکھی۔
  • حزب کا سب سے طاقتور گروہ: اس میں حسن شبر، محسن ادیب، اور مہدی العطار شامل تھے، جس کی قیادت عبد الحلیم الزہیری کر رہے تھے، یہ گروہ فقہاء کی مداخلت کے مخالف تھے۔
  • عزالدین سلیم (ابویاسین) کی قیادت میں بصرہ کا گروہ: اس گروہ نے باقاعدہ طور پر جماعت سے الگ ہوکر تحریک دعوت اسلامیہ کے نام سے ایک اور دھڑے کی بنیاد رکھی۔[49]

عراق کی حکومت میں مشارکت

کتاب حزب‌ الدعوۃ الاسلامیہ

صدام حسین کی حکومت کے زوال کے بعد (2003ء)، دعوت اسلامیہ نے عراق میں سیاسی مذاکرات اور انتخابات میں فعال کردار ادا کیا۔[50] کہا جاتا ہے کہ اس جماعت کے اراکین کی عراق کی عبوری حکومت میں شرکت نے انہیں یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ انہیں آئندہ نگری اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔[51] اس جماعت کے لندن میں مقیم اعضاء نے ایران میں مقیم نظام ولایت فقیہ کے حامی اراکین کو پسِ پشت ڈال کر جماعت پر قبضہ جما لیا۔[52] اور آخرکار عراق کی متحدہ اتحادی جماعت کے نام سے متعدد بار وزارت عظمی کے منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔[53] تاہم سن 2018ء اور 2021ء کے انتخابات میں اس جماعت کا اثر و رسوخ کم ہوا اور 2021ء میں مقتدا صدر کی حامی جماعت نے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لی۔[54]

میڈیا

دعوت اسلامیہ پارٹی کا مرکزی ذرائع ابلاغ دعوت کی آواز (صوت الدعوۃ) نامی نشریہ تھا، جو تأسیس سے 2004ء تک شائع ہوتا رہا۔[55] جماعت سے منسلک سیٹلائٹ ٹی وی چینل آفاق سنہ 2006ء میں قائم ہوا۔[56] اسی طرح ریڈیو آفاق اور ریڈیو بنت الہدی،[57] نیز اخبار البیان و الدعوۃ اور رسالہ قبضۃ الہدی بھی حزب الدعوۃ سے وابستہ ذرائع ابلاغ ہیں۔[58]

مونوگرافی

  • کتاب دعوت اسلامیہ پارٹی: امت میں رواں دواں تابناک تاریخ: یہ کتاب حسن شبر کی تصنیف ہے، جو اس جماعت کے ابتدائی ارکان میں سے تھے، یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے۔[59]
  • کتاب حزب الدعوۃ؛ دراسۃ فی الفکر والتجربہ: تصنیف حسین برکہ شامی، عربی میں۔[60]
  • کتاب حزب الدعوۃ اسلامی عراق: تاریخی اور سیاسی فکر کی تاریخ: تصنیف عادل ادیب و سید حسین موسوی، فارسی زبان میں، جسے علمی اور اسٹریٹیجک تحقیقاتی مرکز برائے مشرق وسطیٰ نے شائع کیا۔[61]

حوالہ جات

  1. «حزب الدعوۃ الإسلاميۃ.. من النشاط السري إلى حكم العراق»، وبگاہ شبکہ خبری الجزیرہ۔
  2. حکیم، «افق حزب‌الدعوہ در آیندہ سیاسی عراق پس از سال 2020»، ص54۔
  3. «حزب الدعوۃ الاسلامی من المعارضۃ الی الحکم»، وبگاہ الساعہ۔
  4. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص157-158۔
  5. مؤمن، سنوات الجمر، 2020م، ص47۔
  6. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص138۔
  7. حکیم، «افق حزب‌الدعوہ در آیندہ سیاسی عراق پس از سال 2020»، ص55۔
  8. السہر، «السبیتی والدعوۃ (2): فکرۃ التأسیس، سنۃ التأسیسی، المؤسسون»، وبگاہ صحیفۃ المثقف۔
  9. مؤمن، سنوات الجمر، 2020م، ص37۔
  10. مؤمن، سنوات الجمر، 2020م، ص39؛ مؤمن، «ستون عاما علی تأسیس حزب الدعوۃ الاسلامیہ»، وبگاہ کتابت۔
  11. مؤمن، سنوات الجمر، 2020م، ص40-41۔
  12. مؤمن، سنوات الجمر، 2020م، ص46۔
  13. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص115۔
  14. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص159۔
  15. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص125۔
  16. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص136-137۔
  17. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص151۔
  18. خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیۃ، 1419ھ، ص541-542۔
  19. خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیۃ، 1419ھ، ص541-542۔
  20. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص152-153۔
  21. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص168-174؛ افشون،‌ «حزب‌الدعوہ و آمریکا؛ تعامل یا تقابل»،‌ ص77-78۔
  22. «حزب الدعوۃ العراقی.. النسخۃ الشيعيۃ لجماعۃ الإخوان المسلمين»، وبگاہ بوابۃ الحرکات الاسلامیہ۔
  23. «حزب الدعوۃ العراقی.. النسخۃ الشيعيۃ لجماعۃ الإخوان المسلمين»، وبگاہ بوابۃ الحرکات الاسلامیہ۔
  24. «حزب الدعوۃ العراقی.. النسخۃ الشيعيۃ لجماعۃ الإخوان المسلمين»، وبگاہ بوابۃ الحرکات الاسلامیہ۔
  25. «حزب الدعوۃ العراقی.. النسخۃ الشيعيۃ لجماعۃ الإخوان المسلمين»، وبگاہ بوابۃ الحرکات الاسلامیہ۔
  26. مؤمن، «من الشروق الی السطوع؛ حزب‌الدعوہ و اشکالیات التأسیس و الانتشار و السلطہ»، وبگاہ منتدیات یاحسین۔
  27. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص283-284۔
  28. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص284-285۔
  29. مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص184؛ خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص257۔
  30. خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص309–311؛ مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص228-229، 237-239؛ عجلی، الخریطۃ السیاسیۃ للمعارضۃ العراقیہ، 2000م، ص136۔
  31. خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص367-369؛ مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص293-294۔
  32. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج2، ص226-227۔
  33. عجلی، الخریطۃ السیاسیۃ للمعارضۃ العراقیہ، 2000م، ص146؛ شامی، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1427ھ، ص176-177؛ خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص316-317، 342-345۔
  34. مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص78-87؛ عجلی، الخریطۃ السیاسیۃ للمعارضۃ العراقیہ، 2000م، ص116-117۔
  35. رؤوف، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1999م، ص25؛ خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص177-179؛ مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص139-142۔
  36. مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص143–150؛ شامی، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1427ھ، ص150۔
  37. مؤمن، سنوات الجمر، 2004، ص223-224۔
  38. مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص219-220؛ خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص339-340۔
  39. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ج1، ص257-258۔
  40. حکیم، «افق حزب‌الدعوہ در آیندہ سیاسی عراق پس از سال 2020»، ص58۔
  41. عجلی، الخریطۃ السیاسیۃ للمعارضۃ العراقیہ، 2000م، ص139-140؛ طحّان، الحرکات الاسلامیۃ بین الفتنۃ والجہاد، 1428ھ، ص369۔
  42. مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص304؛ رؤوف، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1999م، ص36۔
  43. طحّان، الحرکات الإسلامیۃ بین الفتنۃ والجہاد، 1428ھ، ص362، 369؛ مؤمن، سنوات الجمر، 2004م، ص451-453۔
  44. مؤمن، «من الشروق الی السطوع؛ حزب الدعوۃ وإشکالیات التأسیس والإنتشار والسلطہ»، وبگاہ منتدیات یاحسین۔
  45. مؤمن، «ظاہرۃ الانشقاقات فی حزب‌الدعوۃ الاسلامیہ»، وبگاہ صحیفۃ المثقف۔
  46. مؤمن، «من الشروق الی السطوع؛ حزب الدعوۃ وإشکالیات التأسیس والإنتشار والسلطہ»، وبگاہ منتدیات یاحسین۔
  47. مؤمن، «ظاہرۃ الانشقاقات فی حزب‌الدعوۃ الاسلامیہ»، وبگاہ صحیفۃ المثقف۔
  48. مؤمن، «الانشقاق الکامل فی حزب الدعوہ»، وبگاہ صحیفۃ المثقف۔
  49. خرسان، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1419ھ، ص422-423۔
  50. «حزب الدعوۃ الاسلامی من المعارضہ الی الحکم»، وبگاہ الساعہ۔
  51. لطیف، «ماضی حزب الدعوۃ الحافل ومستقبلہ الملتبس»، وبگاہ صدی۔
  52. لطیف، «ماضی حزب الدعوۃ الحافل ومستقبلہ الملتبس»، وبگاہ صدی۔
  53. لطیف، «ماضی حزب الدعوۃ الحافل ومستقبلہ الملتبس»، وبگاہ صدی۔
  54. «حزب الدعوۃ الاسلامی من المعارضہ الی الحکم»، وبگاہ الساعہ۔
  55. شبر، حزب الدعوۃ الاسلامیہ، 1430ھ، ص146۔
  56. «قناۃ آفاق الفضائیۃ وما خفی اعظم»، خبرگزاری براثا۔
  57. «قناۃ آفاق الفضائیۃ وما خفی اعظم»، خبرگزاری براثا۔
  58. «قناۃ آفاق الفضائیۃ وما خفی اعظم»، خبرگزاری براثا۔
  59. «حزب الدعوۃ الاسلامیہ»، کتابخانہ دیجیتال نور۔
  60. «حزب الدعوہ الاسلامیہ: دراسہ فی الفکر و التجربہ»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔
  61. «حزب الدعوہ اسلامی عراق (پیشینہ تاریخی و اندیشہ سیاسی)»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔

مآخذ