بنی قینقاع

ویکی شیعہ سے
بنی قینقاع
مدینہ میں بنی قینقاع کا محل وقوع
مدینہ میں بنی قینقاع کا محل وقوع
عمومی معلومات
عصرصدر اسلام
مذہبیہودی
محل سکونتمدینہ
واقعاتمیثاق مدینہغَزوہ بنی‌ قینقاع
شخصیات
علماءمُخَیْریق


بَنی‌ قَینُقاع مدینہ کا پہلا یہودی قبیلہ تھا جس نے پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ اپنا عہد و پیمان توڑا۔[1] پیغمبر اکرمؐ نے ان پر اپنی حجت تمام کرنے کے بعد[2] 15 شوال دو ہجری کو ان کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا۔[3] بعض تاریخی شواہد کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کسی یہودی نے مسلمان عورت کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اس کے بدن کا کچھ حصہ عریان کیا۔[4] اس وقت ایک مسلمان مرد اس مسلم خاتون کی مدد کے لئے آیا اور اس مذکورہ یہودی کو قتل کر ڈالا۔[5] اس پر دوسرے یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا اس واقعے کے بعد مسلمانوں اور یہدویوں کے ساتھ تصادم ہوا۔[6]

غزوہ بنی‌ قینقاع کے شروع ہوتے ہی یہودی اپنے قلعوں میں چلے گئے۔ پیغمبر اکرم نے پندرہ دن تک انہی قلعوں میں ان کا محاصرہ کیا۔[7] پندرہ دن گذر کے بعد بنی‌ قینقاع کے یہودی پیغمبر اکرمؐ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔[8] پیغمبر اکرمؐ کے حکم پر بنی‌ قینقاع کو شام جلاوطن کیا گیا جنہوں نے وہاں "اِذرَعات" نامی جگہے پر سکونت اختیار کی۔[9] کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کچھ عرصہ بعد بنی‌ قینقاع مکمل طور پر اس دنیا سے منقرض ہو گئے۔[10]

بنی‌ قَینِقاع صدر اسلام میں مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔[11] بعض مورخین ان کے یہودی ہونے میں شک و تردید رکھتے ہیں؛ لیکن محققین ان کے یہودی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رکھتے ہیں۔[12] ایک نقل میں قبیلہ بنی‌ قینقاع کی مدینہ کے پہلے مکین کے طور پر معرفی کی گئی ہے۔[13] اس نقل کے مطابق بنی‌ اسرائیل کا ایک گروہ حضرت موسی کے ساتھ حج کے لئے مکہ گئے تھے، واپسی پر ایک ایسی جگہ سے ان گا گزر ہوا جس کی خصوصیات آخری زمانے میں مبعوث ہونے والے پیغمبر کے محل سکونت کی خصوصیات سے مشابہ پایا۔ اس بنا پر انہوں نے اس منطقے میں سکونت اختیار کی اور رفتہ رفتہ عربوں کا ایک گروہ بھی ان کے ساتھ ملحق ہو گئے۔[14] ان تمام باتوں کے باوجود بعض مورخین عَمالَقہ کو مدینہ کے پہلے مکین کے طور پر پیش کرتے ہیں اور بنی‌ قینقاع کو اس سلسلے میں دوسرا قبیلہ مانتے ہیں۔[15]

بنی‌ قینقاع بنی‌ نَضیر اور بنی‌ قُرَیظہ (مدینہ میں ساکن دو یہودی اقوام) برخلاف قبیلہ خَزرَج کے ساتھ ہم‌ پیمان ہوئے تھے، جبکہ مذکورہ دو قبیلے قبیلہ اُوْس کے ہم پیمان تھے۔[16] تاریخی شواہد کے مطابق بنی‌ قینقاع کا بنی‌ قریظہ اور بنی‌ نضیر کے دشمنی تھی اور کئی بار ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر چکے تھے۔[17] بعض تاریخی منابع کے مطابق مُخَیْریق کا اس قبیلہ کی برجستہ شیخیت کے طور پر (حتی بعض کے مطابق وہ اس قبیلے کا سردار تھا[18]) نام لیا جاتا ہے، جنگ اُحُد میں شہید ہوا۔[19] بازار بنی‌ قینقاع عرب کے مشہور بازاروں میں سے تھا[20] جو سال میں کئی مرتبہ لگتا تھا اور لوگ اسی پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے۔[21] مدینے میں ان کی کوئی زرعی زمین یا نخلستان نہیں تھا اور ان کا پیشہ زرگری[22] اور لوہے کا کام کرتے تھے۔[23] کتاب فروغ اَبَدیّت کے مصنف آیت اللہ جعفر سبحانی اس بات کے معتقد ہیں کہ مدینہ کی اقتصادی طاقت قبیلہ بنی‌ قینقاع کے پاس تھی۔[24]

حوالہ جات

  1. واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص177.
  2. سبحانی، فروغ ابدیت، 1385ہجری شمسی، ج1، ص513.
  3. واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص176؛ مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص206.
  4. واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص176.
  5. واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص177.
  6. ابن‌ہشاء، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفہ، ج2، ص48.
  7. واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص177.
  8. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج2، ص480.
  9. بلاذری، انساب الأشراف، 1959ء، ج1، ص309.
  10. بلاذری، أنساب الأشراف، 1959ء، ج1، ص309؛ ابن‌اثیر، الکامل، 1385ھ، ج2، ص138.
  11. یاقوت حموی، معجم البلدان، 1416ھ، ج4، ص424.
  12. فرہانی منفرد، «بنی‌قینقاع»، ص470.
  13. سمہودی، وفاء الوفاء، 1419ھ، ج1، ص126.
  14. سمہودی، وفاء الوفاء، 1419ھ، ج1، ص126.
  15. سمہودی، وفاء الوفاء، 1419ھ، ج1، ص126.
  16. ابن‌ہشاء، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج1، ص540.
  17. خالد، مجتمع المدینہ قبل الہجرۃ و بعدہا، 1406ھ، ص39.
  18. طبرسی، اعلام الوری، 1390ھ، ص69.
  19. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1990ء، ج1، ص389؛ بلاذری، انساب الاشراف، 1996ء، ج1، ص325.
  20. جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب، 1422ھ، ج14، ص59.
  21. سمہودی، وفاء الوفاء، 1419ھ، ج1، ص95.
  22. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج2، ص481.
  23. بلعمی، تاریخنامہ طبری، 1378ہجری شمسی، ج3، ص151.
  24. سبحانی، فروغ ابدیت، 1385ہجری شمسی، ج1، ص512.

مآخذ

  • ابن‌اثیر، علی بن ابی‌الکرء، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
  • ابن‌سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1410ھ۔
  • ابن‌ہشاء، عبدالملک، السیرۃ النبویہ، بیروت، دار المعرفہ، بی‌تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الأشراف، قاہرہ، دار المعارف، 1959ء۔
  • بلعمی، محمد بن محمد، تاریخنامہ طبری، تہران، انتشارات البرز، 1373ہجری شمسی۔
  • جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلاء، بیروت، دار الساقی، 1422ھ۔
  • خالد، حسن، مجتمع المدینہ قبل الہجرۃ و بعدہا، بیروت، دار النہضۃ العربیہ، 1406ھ۔
  • سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت، قء، بوستان کتاب، 1385ہجری شمسی۔
  • سمہودی، علی بن عبداللہ، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1419ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، 1390ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، بیروت، دار التراث، 1387ھ۔
  • فرہانی منفرد، مہدی، «بنی‌قینقاع»، در جلد 4 دانشنامہ جہان اسلاء، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الاشراف، قاہرہ، دار الصاوی، بی‌تا، چاپ افست قء، مؤسسۃ نشر المنابع الثقافۃ الاسلامیہ.
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، 1409ھ۔
  • یاقوت حموی، ابن‌عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، 1416ھ۔