عمل ام داؤد

ویکی شیعہ سے
(عمل ام داود سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمل اُمّ داؤد مستحب عبادتوں اور معروف دعاؤں میں سے ایک ہے جسے ماہ رجب کے ایام البیض میں انجام دینے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس دعا کو جس کا اصلی نام دعائے استفتاح ہے، امام صادقؑ کی رضاعی ماں ام داؤد نے آپؑ سے نقل کی ہیں اسی وجہ سے اسے دعائے ام داؤد کہا گیا ہے۔ شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں اس عمل کو نیمہ ماہ رجب کے اعمال میں ذکر کیا ہے۔ حالیہ دور میں جہاں ان ایام میں اعتکاف کو رونق ملی ہے وہاں ماہ رحب کی پندرہویں تاریخ کو اس مستحب عمل کو بھی بڑے اہتمام سے انجام دیا جاتا ہے۔

ام داؤد

اصل مضمون: ام داؤد

ام داؤد، حسن مثنی کی زوجہ اور امام صادقؑ کی رضاعی ماں ہیں۔ آپ کی کنیت آپ کے بیٹے داؤد بن حسن کی وجہ سے ام داؤد مشہور ہوئی۔ آپ کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض نے آپ کا نام حبیبہ جبکہ بعض نے فاطمہ کہا ہے۔ آپ کی حالات زندگی کا تذکرہ کرنے والے تمام مورخین نے ایک واقعے کو ذکر کیا ہے جس میں ام داؤد اپنے بیٹے کو منصور دوانیقی کے جیل سے آزاد کرانے کیلئے امام صادقؑ سے مدد مانگتی ہیں اس موقع پر امامؑ انہیں ایک مخصوص عمل انجام دینے کا حکم دیتے ہیں جو بعد میں عمل ام داؤد سے مشہور ہو جاتا ہے۔

کیفیت

شیخ عباس قمی نیمہ رجب کے اعمال کے آخر میں اس عمل کو پانچویں عمل کے عنوان سے ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس دن کے عمدہ اعمال میں سے ایک یہی عمل ہے جسے حاجت روائی، رفع مشکلات اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ رہنے کیلئے مؤثر ہے۔ اس کی کیفیت شیخ طوسی کی کتاب مصباح المتہجد کے مطابق یوں ہے: اگر اس عمل کو انجام دینے کا قصد ہو تو ماہ رجب کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھا جائے۔ اس کے بعد پندرہویں تاریخ کو ظہر کے وقت غسل کیا جائے پھر نماز ظہر اور نماز عصر کو خضوع و خشوع کے ساتھ ادا کی جائے اس کے بعد کسی خلوت جگہ پر جہاں کوئی اور چیز اسے مشغول نہ کرے اور کسی اور انسان سے کوئی بات چیت بھی نہ کی جائے، ایسی جگہ پر قبلہ کی طرف رخ کر کے یوں انجام دیا جائے:

اعتکاف اور عمل ام داؤد

حالیہ برسوں میں غالبا چونکہ اعتکاف ماہ رجب کے ایام بیض میں انجام دیا جاتا ہے، عمل ام داؤد اعتکاف کے آخری اعمال میں شمار ہوتا ہے۔

دعا اور اس کا ترجمہ

سورہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

حوالہ جات

  1. قمی، مفاتیح الجنان، ص۱۴۴.


منابع

قمی، عباس، مفاتیح الجنان، اسوہ، قم. بی‌تا.