"قرآنی تمثیلات" کے نسخوں کے درمیان فرق
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
سطر 1: | سطر 1: | ||
[[File:سوره حشر آیه 21.jpg|thumb|سورہ حشر آیت نمبر 21 کی عکاسی جس میں پہاڑوں پر قرآن کی تجلی سے پہاڑوں کی نابودی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [https://bazendehroud.ir/product/نرم-افزار-امثال امثال سافٹ ویر] سے مأخوذ]] | [[File:سوره حشر آیه 21.jpg|thumb|سورہ حشر آیت نمبر 21 کی عکاسی جس میں پہاڑوں پر قرآن کی تجلی سے پہاڑوں کی نابودی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [https://bazendehroud.ir/product/نرم-افزار-امثال امثال سافٹ ویر] سے مأخوذ]] | ||
'''قرآنی تمثیلات'''، [[قرآن کریم|قرآن مجید]] میں استعمال ہونے والی مثالوں کو کہا جاتا ہے۔ قرآنی تماثیل | '''قرآنی تمثیلات'''، [[قرآن کریم|قرآن مجید]] میں استعمال ہونے والی مثالوں کو کہا جاتا ہے۔ قرآنی تماثیل [[قرآن کا اعجاز بیان|قرآن کے اعجاز بیان]] شمار ہوتی ہیں۔ [[شیعہ]] [[احادیث]] میں قرآنی تماثیل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ [[تفسیر قرآن|مفسرین]] کے مطابق قرآنی تمثیلات کا مقصد قرآن کے اعلی مفاہیم کو ساده الفاظ میں لوگوں تک پہنچانا ہے کیونکہ قرآن تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔ | ||
[[قرآن]] میں لفظ "مثل" کے متعدد معانی ذکر ہوئے ہیں، تاہم قرآنی | [[قرآن]] میں لفظ "مثل" کے متعدد معانی ذکر ہوئے ہیں، تاہم قرآنی تمثیلات کا تجزیہ عموما دو طریقوں سے کیا جاتا ہے؛ کبھی انہیں صرف تشبیہ اور مجاز گوئی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اوقات انہیں مختلف حقائق کی عکاسی اور اشیاء کی اصل حقیقت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔ | ||
مفسرین کے مطابق قرآنی مثالین «صراحت بیان»، | مفسرین کے مطابق قرآنی مثالین «صراحت بیان»، «تشبیہ کے موارد» اور «وجہ تشبیہ و تمثیل» کے اعتبار سے مختلف اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔ قرآنی تمثیلات کی مختلف خصوصیات بھی ذکر کی گئ ہیں جن میں جامع، آسان اور قابل فہم ہونا ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قرآنی تماثیل کو تربیتی اہداف کی خاطر استعمال کیا گیا ہے، اخلاقی اور معنوی اقدار کی طرف متوجہ کرانا اور عملی زندگی میں اسوہ حسنہ پیش کرنا منجملہ انہی اہداف و مقاصد میں سے ہیں۔ | ||
==اظہار بیان کا ایک طریقہ== | ==تمثیلات، اظہار بیان کا ایک طریقہ== | ||
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|پیغمبر اکرمؐ]] سے منقول ایک حدیث کے مطابق قرآنی تمثیلات قرآن کے اظہار بیان کے طریقوں میں سے ایک ہے۔<ref>طوسی، الامالی، 1414ھ، ص357۔</ref> محققین کے مطابق تمثیلات قرآنی مختلف علمی، اخلاقی، تربیتی اور سماجی پہلوں کی عکاسی کر سکتی ہے۔<ref>محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص50۔</ref> بعض قرآنی محققین کے مطابق قرآنی تمثیلات [[قرآن کے اعجاز بیان]] میں شمار ہوتی ہیں۔<ref>البیانونی، ضرب الامثال فی القرآن، بیتا، ص39؛ سیوطی، معترک الأقران فی إعجاز القرآن، بیتا، ج1، ص464۔</ref> | [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|پیغمبر اکرمؐ]] سے منقول ایک حدیث کے مطابق قرآنی تمثیلات قرآن کے اظہار بیان کے طریقوں میں سے ایک ہے۔<ref>طوسی، الامالی، 1414ھ، ص357۔</ref> محققین کے مطابق تمثیلات قرآنی مختلف علمی، اخلاقی، تربیتی اور سماجی پہلوں کی عکاسی کر سکتی ہے۔<ref>محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص50۔</ref> بعض قرآنی محققین کے مطابق قرآنی تمثیلات [[قرآن کے اعجاز بیان]] میں شمار ہوتی ہیں۔<ref>البیانونی، ضرب الامثال فی القرآن، بیتا، ص39؛ سیوطی، معترک الأقران فی إعجاز القرآن، بیتا، ج1، ص464۔</ref> | ||
{{جعبہ نقل قول | {{جعبہ نقل قول |
نسخہ بمطابق 11:12، 26 جولائی 2024ء

قرآنی تمثیلات، قرآن مجید میں استعمال ہونے والی مثالوں کو کہا جاتا ہے۔ قرآنی تماثیل قرآن کے اعجاز بیان شمار ہوتی ہیں۔ شیعہ احادیث میں قرآنی تماثیل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ان کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ مفسرین کے مطابق قرآنی تمثیلات کا مقصد قرآن کے اعلی مفاہیم کو ساده الفاظ میں لوگوں تک پہنچانا ہے کیونکہ قرآن تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔
قرآن میں لفظ "مثل" کے متعدد معانی ذکر ہوئے ہیں، تاہم قرآنی تمثیلات کا تجزیہ عموما دو طریقوں سے کیا جاتا ہے؛ کبھی انہیں صرف تشبیہ اور مجاز گوئی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اوقات انہیں مختلف حقائق کی عکاسی اور اشیاء کی اصل حقیقت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔
مفسرین کے مطابق قرآنی مثالین «صراحت بیان»، «تشبیہ کے موارد» اور «وجہ تشبیہ و تمثیل» کے اعتبار سے مختلف اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔ قرآنی تمثیلات کی مختلف خصوصیات بھی ذکر کی گئ ہیں جن میں جامع، آسان اور قابل فہم ہونا ان کی نمایاں خصوصیات میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قرآنی تماثیل کو تربیتی اہداف کی خاطر استعمال کیا گیا ہے، اخلاقی اور معنوی اقدار کی طرف متوجہ کرانا اور عملی زندگی میں اسوہ حسنہ پیش کرنا منجملہ انہی اہداف و مقاصد میں سے ہیں۔
تمثیلات، اظہار بیان کا ایک طریقہ
پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث کے مطابق قرآنی تمثیلات قرآن کے اظہار بیان کے طریقوں میں سے ایک ہے۔[1] محققین کے مطابق تمثیلات قرآنی مختلف علمی، اخلاقی، تربیتی اور سماجی پہلوں کی عکاسی کر سکتی ہے۔[2] بعض قرآنی محققین کے مطابق قرآنی تمثیلات قرآن کے اعجاز بیان میں شمار ہوتی ہیں۔[3]
«خدایا محمد اور ان کی آل پر درود و سلام بھیج اور قرآن کو رات کی تاریکیوں میں ہمارے لئے مونس و غمخوار قرار دے۔۔۔ تاکہ ہمارے دل قرآن کے عجائب کو صحیح درک کر سکیں اور اس کے مثالوں کی حیرت انگیزیاں جسے سخت پہاڑ بھی تحمل کرنے سے عاجز آگئے ہیں ہمارے دلوں میں بیٹھ سکیں۔»
الصحیفۃ السجادیۃ، 1376ہجری شمسی، ص178۔
شیعہ احادیث میں قرآنی تمثیلات پر خاص توجہ دی گئی ہے؛ مثال کے طور پر امام علیؑ سے منقول ایک حدیث میں قرآنی تمثیلات کا ایک فائدہ عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت کا سامان قرار دیتے ہیں۔[4] ایک اور جگہے پر قرآنی میں پیش کی گئی مثالوں کو قرآن کی دوسری خصوصیات جیسے قرآن کا ہادی ہونا اور دین کو آشکارا لوگوں تک پہنچانا وغیرہ کی طرح قرار کیا گیا ہے۔[5] امام باقرؑ سے منقول ایک حدیث کے مطابق قرآن چار طریقوں پر نازل ہوا جن میں سے ایک قرآنی سُنتیں اور مثالیں ہیں۔[6] امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث میں آیا ہے کہ قرآنی مثالوں کے مختلف فوائد ہیں؛ پس ان میں غور و فکر کے ذریعے ان کے باطن تک پہنچنے کی کوشش کریں اور ان سے سرسری طور پر نہ گزر جائیں۔[7]
قرآن کو سمجھنے میں قرآنی تماثیل کا کردار
شیعہ مفسر قرآن آیت اللہ جوادی آملی لکھتے ہیں کہ قرآن کا عالمی مشن ہر ممکن طریقے سے قیامت تک اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ اس بنا پر برہان، جدال احسن اور موعظہ کے ساتھ ساتھ تماثیل بھی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ضروری ہے۔[8]علامہ طباطبائی کے مطابق اعلی قرآنی معارف اور تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے قرآن میں تماثیل اور مثالوں کا ذکر کرنا ضرروی ہے کیونکہ عامۃ الناس محسوسات سے ماورای درک کرنے سے قاصر ہیں۔[9]
آیت اللہ جوادی آملی آیت «وَ تِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا یَعْقِلُہَا إِلَّا الْعَالِمُونَ؛ اور لوگوں کے لئے یہ مثالیں پیش کرتے ہیں لیکن سوائے دانشورں کے انہیں کوئی درک نہیں کرتا»،[10] سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں مثالیں پل کی مانند ہیں تاکہ انسان کو محسوسات سے عقل تک پھر عقل سے قلبی علم شہودی تک لے جا سکیں۔[11]
تمثیل کا مطلب
علامہ طباطبائی مثال کو ایک حقیقی یا فرضی داستان قرار دیتے ہیں کہ متکلم اس داستان اور اپنے کلام میں موجود شباہت کے پیش نظر اسے استعمال کرتا ہے تاکہ سننے والے تک اپنا کلام بطور احسن منتقل کیا جا سکے۔[12] آیت اللہ جوادی آملی مثال کی خوبی یہ قرار دیتے ہیں کہ یہ معقولات و سنگین معارف کو محسوسات کی سطح تک لے آکر آسان بنا دیتی ہے تاکہ ہر ایک کی سمجھ فہم و ادراک کی سطح تک پہنچ جائے۔[13] ان کے مطابق تمثیل کوئی منطقی روش یا طریقہ نہیں ہے بلکہ صرف مطالب کو آسان کر کے سننے والے کی ذہنی سطح تک لانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔[14]
قرآنی تماثیل کے بارے میں دو نقطہ نگاہ
قرآنی تماثیل کے مصادیق کا تجزیہ و تحلیل دو نقطہ نگا سے کرتے ہیں:[15]
- قرآن میں ذکر ہونے والی مثالیں صرف اور صرف تشبیہ اور مخاطب کے ذہن کو مطلوبہ کلام تک نزدیک لانے کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔
- قرآنی تماثیل میں کسی قسم کی تشبیہ اور مجاز گویی نہیں ہوتی بلکہ یہ مثالیں اشیا کی حقیقت اور ان کے مثالی وجود کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔[یادداشت 1]
بعض شیعہ مفسرین جیسے علامہ طباطبائی[16] اور آیت اللہ جوادی آملی[17] اور بعض اہل سنت مفسرین جیسے محمد عبدہ[18] اس بات کے قائل ہیں کہ معاد اور مبدأ سے مربوط آیات جیسے آیات خلقت انسان، ملائکہ کا آدم کے لئے سجدہ، ابلیس کی نافرمانی وغیرہ اگرچہ ظاہرا استعارہ اور مجاذا استعمال کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ سب مثالین ان میں پوشیدہ حقیقت اور تکوینیات کو بیان کرتی ہیں۔ اس نظریہ کو «تمثیل تکوینی» کہا جا سکتا ہے۔[19]
خصوصیات
قرآنی تمثیلات کی خصوصیات میں منجملہ «جامعیّت و گستردگی»، «آسان اور قابل فہم ہونا»، «مفاہیم کی عکاسی اور الفاظ کو حیات عطا کرنا» اور «فطری مظاہر کا استعمال» بیان کئے گئے ہیں[20]
مثلا «آسان اور قابل فہم ہونے» کو کافروں کا بہشت میں داخل ہونے کو «اونٹ (یا ضخیم رسی) کا سوئی سے گزرنے» سے[21] غیبت کرنے کو «مردہ بھائی کا گوشت کھانے» سے[22] اور «اپنے علم پر عمل نہ کرنے والوں کو «کتابوں سے لدے گدھے» سے دی گئی تشبیہ۔[23] کی مثال دے سکتیں ہیں۔[24]
اہداف اور تربیتی آثار
قرآنی تمثیلات کے مختلف اہداف اور تربیتی آثار ہیں جو یہ ہیں؛ غیر مستقیم طور پر «اخلاقی مکارم اور معنوی اقدار کی طرف متوجہ کرانا»، «غیبی حقایق کو محسوسات ور ملموسات کے سانچنے میں ڈالنا»، «نمونہ عمل پیش کرنا» اور «انسان میں غور و فکر» کا مادہ پیدا کرنا۔[25] اخلاقی اور معنوی اقدار کی طرف توجہ دلانے کے لئے خدا نے سورہ بقرہ کی آیت 261 میں انفاق کرنے والے کو اس دانے سے تشبیہ دیا ہے جس سے سو بالیاں نکلتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں منت چڑاتے ہوئے دینے والے صدقے کو سورہ بقرہ آیت 164 میں اس پتھر سے تشبیہ دیتے ہیں جس پر تھوڑی مٹی پڑی ہو کہ بارش کے قطرات اسے بہا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔[26] علامہ طباطبائی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں سورہ فرقان آیت 39 «وَكُلًّا ضَرَبْنا لَہُ الْأَمْثالَ؛ ہم نے ان طوائف میں سے ہر ایک کے لئے مثال دی ہیں (ہدایت اور اتمام حجت کی نصیت)» میں بیان ہونے والی قرآنی تمثیلات کا مقصد یادآوری ، موعظہ اور خبرار کرانا قرار دیتے ہیں۔[27]

کتابیات
قرآنی تمثیلات کے بارے میں متعدد کتابیں تألیف کی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
- روضة الامثال (فی الامثال القرآن الکریم)، تحریر: احمد بن عبداللہ الکوزکنانی النجفی، چاپ 1325ھ۔[28](مقالہ نقد و بررسی کتاب تفسیری «روضة الأمثال»، میں محمدعلی رضایی کرمانی کے توسط سے اس کتاب کی بررسی کی گئی ہے۔[29]
- امثال قرآن، تألیف: علیاصغر حکمت (اس کتاب کو بنیاد قرآن نے تہران سے شایع کیا ہے)۔
- امثال القرآن، تألیف اسماعیل اسماعیلی (اس کتاب کی پہلی اشاعت سنہ 1369 ہجری شمسی کو انتشارات اسوہ نے منتشر کی ہے، اور «امثال قرآن» کی حکمت اور ان کی توضیحات سیوطی کی کتاب «اتقان» کے مطابق تحریر کی گئی هے)۔
- تمثیلات قرآن، ویژگیہا، اہداف و آثار تربیتی آن، تألیف حمید محمد قاسمی (اس کتاب کی خصوصیات یہ ہے کہ سنہ 1382 ہجری شمسی کو یہ کتاب شایع ہوئی، قرآنی تمثیلات کو تربیتی مسائل کے تناظر میں دیکھا گیا ہے)۔
حوالہ جات
- ↑ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص357۔
- ↑ محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص50۔
- ↑ البیانونی، ضرب الامثال فی القرآن، بیتا، ص39؛ سیوطی، معترک الأقران فی إعجاز القرآن، بیتا، ج1، ص464۔
- ↑ تمیمی آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، 1410ھ، ص572۔
- ↑ عیاشی، تفسیر عیاشی، 1380ق، ص 7۔
- ↑ عیاشی، تفسیر العیّاشی، 1380ق، ج1، ص9۔
- ↑ محمدی ریشہری، شناخت نامہ قرآن، 1391ہجری شمسی، ج4، ص397۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1387ہجری شمسی، ج2، ص510۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج3، ص62۔
- ↑ سورہ عنکبوت، آیہ 43۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1378ہجری شمسی، ج2، ص329۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج2، ص386۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1378ہجری شمسی، ج2، ص327۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1378ہجری شمسی، ج8، ص582۔
- ↑ ملاحظہ کریں: جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1378ہجری شمسی، ج2، ص332۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج1، ص132–133۔
- ↑ جوادیآملی، قرآن حکیم از منظر امام رضا، 1382ہجری شمسی، ج5، ص397
- ↑ رشیدرضا، تفسیر القرآن الحکیم، 1366ھ، ج2، ص190۔
- ↑ ملاحظہ کریں: محمدی پارسا، «تأمّلی بر رویکرد تمثیلِ تکوینی در تبیین آیات خلقت انسان»۔
- ↑ ملاحظہ کریں: محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص57–97۔
- ↑ ملاحظہ کریس: سورہ اعراف، آیہ 40۔
- ↑ سورہ حجرات، آیہ 12۔
- ↑ سورہ جمعہ، آیہ 5۔
- ↑ محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص62۔
- ↑ محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص104–244۔
- ↑ ملاحظہ کریں: محمدقاسمی، تمثیلات قرآن، 1382ہجری شمسی، ص127–128۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعيليان، ج15، ص218۔
- ↑ طہرانی، الذریعة الی تصانیف الشیعہ، 1408ھ، ج11، ص288؛ «روضہ الامثال»، سایت کتاب بدیا۔
- ↑ ملاحظہ کریں: رضایی کرمانی، نقد و بررسی کتاب تفسیری «روضة الأمثال»۔
نوت
- ↑ ان دو نقطہ نگاہ کا فرق وہاں ظاہر ہوتا ہے کہ مثال کے طور پر قرآن میں بعض انسانوں کو «گدھے» یا «کتے» سے تشبیہ دئے گئے ہیں؛ اس صورت میں پہلے نقطہ نگاہ کے مطابق مذکورہ انسانوں میں ان حیوانات کی صفات پائے جاتے ہیں، لیکن دوسرے نقطہ نگاہ کے مطابق یہ مثالیں حقیقت میں ان انسانوں کے وجودی حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ قیامت کے دن یہ انسان بعینہ انہی حیوانوں کی شکل مں محشور ہونگے۔ (جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1378ہجری شمسی، ج2، ص332۔)
مآخذ
- البیانونی، عبدالمجید، ضرب الأمثال فی القرآن، دمشق و بیروت، دار القلم و دارالشامیہ، 1411ھ۔
- المیدانی، عبدالرحمن حسن حنبکہ، امثال القرآن و صور من ادبہ الرفیع، دمشھ، دارالقلم، 1412ھ۔
- تمیمی آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، تصحیح مہدی رجائی، قم، دار الکتاب الاسلامی، چ2، 1410ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، نشر اسراء، 1378ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، دینشناسی، قم، نشر اسراء، 1390ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، قرآن از منظر امام رضا(ع)، قم، نشر اسراء، 1382ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، ہدایت در قرآن، قم، نشر اسراء، 1388ہجری شمسی۔
- جہانبخہجری شمسی، ثواقب، تشبیہات و تمثیلات قرآن، تہران، نشر قو، 1376ہجری شمسی۔
- رشیدرضا، محمد، تفسیر القرآن الحکیم (مشہور بہ تفسیر المنار)، بیجا، بینا، 1366ھ۔
- رضایی کرمانی، محمدعلی، نقد و بررسی کتاب تفسیری «روضة الأمثال»، نشریہ مطالعات تفسیری، دورہ9، ش34، 1397ہجری شمسی۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، الاتقان فی علوم القرآن، ترجمہ سیّد مہدی حائری قزوینی، تہران، مؤسسہ انتشارات امیرکبیر، 1363ہجری شمسی۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، معترک الاقران فی اعجاز القرآن، بیروت، دار الفکر العربی، بیتا۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان، چاپ پنجم، قم، مکتبة النشر الاسلامی، 1417ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان، ناشر منشورات اسماعیلیان، بیتا، بیجا۔
- طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافة، 1414ھ۔
- طہرانی، آقا بزرگ، الذریعة الی تصانیف الشیعہ، قم و تہران، کتابفروشی اسلامیہ و اسماعيليان، 1408ھ۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیّاشی، سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعة العلمیة، 1380ھ۔
- محمدقاسمی، حمید، تمثیلات قرآن، قم، نشر اسوہ، 1382ہجری شمسی۔
- محمدی پارسا، عبداللہ، «تأمّلی بر رویکرد تمثیلِ تکوینی در تبیین آیات خلقت انسان»، دورہ 15، ش3، مہر 1394ہجری شمسی۔
- محمدی ریشہری، محمد، شناختنامہ قرآن بر پایہ قرآن و حدیث، قم، دارالحدیث، 1391ہجری شمسی۔
- معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، قم، مؤسسہ فرہنگی انتشاراتی التمہید، 1387ہجری شمسی۔