مندرجات کا رخ کریں

پیدل زیارت

ویکی شیعہ سے
مقالہ پیدل زیارت جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔
اربعین مارچ میں زائرین "طریق العلماء" نامی راستے سے کربلا کی طرف پیدل جاتے ہوئے

پیدل زیارت کو زیارت کے مستحب اعمال میں شمار کیا گیا ہے اور روایات میں خاص طور پر خانہ خدا اور معصومینؑ کے حرم، خصوصاً امام حسینؑ کی پیدل زیارت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ شیعہ علما ائمہؑ کی سیرت سے استناد کرتے ہوئے کئی کئی بار حج کرتے اور پیدل زیارت کے لیے جاتے تھے اور فقہا اسے ایک مستقل ثواب والا عمل قرار دیتے ہیں۔

زائرین مختلف مذہبی مواقع پر پیدل زیارت کے مراسم انجام دیتے ہیں؛ جیسے کہ اربعین کے موقع پر امام حسینؑ کے حرم کی طرف پیدل چلنا، نیمہ شعبان کے موقع پر مسجد جمکران کی طرف پیدل جانا اور ہر سال امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کی شہادت کے موقع پر، نیز 28 صفر کے دن زائرین پیدل حرم امام علیؑ کی طرف جاتے ہیں۔ امام رضاؑ کی شہادت کی مناسبت سے پیدل زیارت بھی ایک اہم مذہبی رسم ہے جو ہر سال ایران میں منائی جاتی ہے۔

پیدل زیارت کو گاڑی یا دیگر وسائل سے زیارت پر فوقیت دینے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں؛ جن میں یہ امور شامل ہیں: سورۃ توبہ کی آیت 120، امام حسینؑ کی پیدل زیارت کی فضیلت سے متعلق روایات، زیارت کے دوران پا برہنہ ہونے کا استحباب، انبیاء کے ذی طوی سے مکہ تک ننگے پاؤں سفر کرنے کی روایت، پیدل حج کی فضیلت کی روایات اور قاعدہ "أَفْضَلُ الأَعْمَالِ أَحْمَزُہَا" وغیرہ۔

اہمیت اور مقام

پیدل زیارت سے مراد زیارت گاہوں تک پیدل چل کر جانا ہے اور اسے زیارت کے مستحب اعمال میں شمار کیا جاتا ہے۔[1] روایات میں خاص طور پر خانہ خدا[2] اور معصومینؑ کے حرم،[3] خصوصاً پیدل جاکر امام حسینؑ کی زیارت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔[4] بعض شیعہ علما بھی پیدل زیارت کے لیےجاتے تھے۔[5] کچھ علماء پیدل چل کر زیارت کرنے کو مزور (جس کی زیارت کی جاتی ہے) کے سامنے زیادہ عاجزی اور فروتنی کی علامت سمجھتے ہیں۔[6]

شیعہ فقہا ائمہؑ کی عملی سیرت کی بنیاد پر؛ جنہوں نے بارہا سواری موجود ہونے کے باوجود پیدل جاکر حج انجام دیا؛ پیدل زیارت کو ایسا عمل قرار دیتے ہیں جس کے لیے مستقل ثواب مقرر کیا گیا ہے۔[7] تاہم کہا جاتا ہے کہ اصل فضیلت زیارت میں ہے[8] اور بہتر یہ ہے کہ زائر اپنا زیادہ وقت خود زیارت پر صرف کرے۔[9]

مختلف دینی اور مذہبی مناسبتوں میں پیدل چل کر ائمہؑ کے حرم کی زیارت کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، شیعیان ہر سال اربعین حسینی[10] اور نیمہ شعبان[11] کے موقع پر امام حسینؑ کے حرم کی طرف پیدل چل کر جاتے ہیں۔ امام موسی کاظمؑ[12] اور امام رضاؑ کی شہادت کے موقع[13]پر بھی زائرین پیدل ان کے حرم جاتے ہیں۔ اسی طرح 28 صفر جو کہ روز رحلت رسول اکرمؐ اور یومِ زیارت اور آغاز ولایت امام علیؑ[14] کے موقع کے ساتھ منسلک ہے، زائرین پیدل امام علیؑ کے حرم کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔[15]

پیدل زیارت کی حالت سواری پر برتری

سواری کے بجائے پیدل زیارت کو برتر قرار دینے کے لیے متعدد دلائل پیش کیے گئے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:

  • دشوار طلب عمل: پیدل چلنے کی دشواری کی وجہ سے بعض علماء نے سورۃ توبہ کی آیت 120[16] کی بنیاد پر پیدل زیارت کو افضل عمل قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے قاعدہ "أَفْضَلُ الأَعْمَالِ أَحْمَزُہَا" (سب سے بہتر عمل وہ ہے جو سب سے دشوار طلب ہو) کے تحت بھی شامل کیا گیا ہے،[17] جس کا مفہوم متعدد روایات میں بھی بیان ہوا ہے۔[18]
  • روایات میں پیدل زیارت کی فضیلت: ائمہؑ کی زیارت کے لیے پیدل چلنے کی فضیلت کی روایات موجود ہیں،[19] خاص طور پر امام حسینؑ کی زیارت سے متعلق۔[20] ایک روایت میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص قبر امام حسینؑ کی طرف پیدل جائے تو ہر قدم پر اس کے لیے ہزار حسنات لکھے جائیں گے، ہزار گناہ مٹا دیے جائیں گے اور ہزار مرتبے اس کے درجات میں اضافہ ہوگا۔[21]
  • روایات میں پیدل حج کی فضیلت:[22] احادیث نبوی میں پیدل حج گزار کو سوار حج گزار پر برتر قرار دیا گیا ہے اور اسے چودہویں رات کو ستاروں پر فوقیت دینے کی تشبیہ دی گئی ہے۔[23]
  • پابرہنہ ائمہؑ کی زیارت،[24] حرم مکہ میں داخل ہونے اور طواف کے دوران پابرہنہ ہونے کی فضیلت کی روایات۔[25] نیز ذی طوی سے مکہ تک پابرہنہ سفر کرنے والے ستر پیغمبروں کے بارے میں بھی روایت ہے۔[26]
  • پیدل حج کے سلسلے میں ائمہؑ اور علما کی عملی سیرت: امام حسنؑ نے 20 سے 25 بار، امام حسینؑ کئی بار اور بعض اوقات ننگے پیر حج کیا۔[27] نیز منقول ہے کہ امام زین العابدینؑ نے مکہ اور [مدینہ]] کا درمیانی فاصلہ بیس دن میں طے کرتے تھے۔[28] امام جعفر صادقؑ اپنے ان اصحاب کے لیے دعا کیا کرتے تھے جو پیدل مکہ جاتے تھے۔[29] بعض روایات کے مطابق امام مہدیؑ غیبت صغریٰ کے دوران ہر سال پیدل حج کرتے تھے۔[30] تاریخی نقل کے مطابق بعض علما بھی پیدل حج کیا کرتے تھے۔

اربعین حسینی کے موقع پر پیدل چلنے (اربعین واک) کی فضیلت کے دلائل میں شعائر دینی کی تعظیم، امام حسینؑ کے لیے عزاداری اور دین کی تبلیغ شامل ہیں۔[31]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کیجیے: نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج17، ص313؛ شاہرودی، کتاب الحج، 1402ھ، ج1، ص414؛ جمعی از نویسندگان، رسائل الشعائر الحسینیہ، 1441ھ، ج3، ص110؛ سند، الشعائر الحسینیہ، 2014ء، ج3، ص163-164۔
  2. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص218؛ برقی، المحاسن، 1371ھ، ج1، ص70۔
  3. طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج6، ص21؛ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج14، ص380۔
  4. ابن‌قولویہ، کامل الزیارات، 1398ھ، ص132-135؛ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج14، ص439-441۔
  5. امین، مستدرکات اعیان الشیعہ، 1408ھ، ج3، ص68؛ سبحانی، موسوعہ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص84۔
  6. جوادی آملی، جرعہ‌ای از صہبای حج، 1386شمسی، ص43۔
  7. ابن‌فہد حلی، المہذب البارع، 1407ھ، ج2، ص127؛ علامہ حلی، منتہی المطلب، 1412ھ، ج10، ص30-31۔
  8. ملاحظہ کیجیے: زعفرانی، «گونہ‌شناسی و دلالت‌سنجی»، ص32-33۔
  9. «چرا در عصر سرعت ہنوز پای پیادہ بہ سوی سیدالشہدا(ع) می‌رویم؟»، خبرگزاری حوزہ۔
  10. «العتبۃ العباسیۃ المقدسۃ: عدد زائری الأربعین ہذا العام بلغ 21 ملیوناً و280 ألفاً و525 زائراً»، وکالۃ الانباء العراقیۃ۔
  11. «محافظ کربلاء: عدد الزائرین خلال زیارۃ النصف من شعبان بلغ أکثر من 5 ملایین زائر»، الوکالۃ الوطنیۃ العراقیۃ للأنباء۔
  12. «العتبۃ الکاظمیۃ المقدسۃ تعلن مشارکۃ اکثر من 14 ملیون زائر بزیارۃ ذکری استشہاد الامام الکاظم(ع)»، الوکالۃ الوطنیۃ العراقیۃ للأنباء۔
  13. «تاریخچہ زیارت پیادہ حرم امام رضا(ع)؛ از شاہ عباس تا زائران بحرینی»، مہر۔
  14. مجلسی، بحار الانوار، 140ھ، ج100، ص384۔
  15. «العتبۃ العلویۃ المقدسۃ تعلن مشارکۃ نحو 5 ملایین زائر فی إحیاء ذکری وفاۃ الرسول(ص)»، وکالۃ الانباء العراقیۃ۔
  16. عندلیبی، «زیارت اربعین از دیدگاہ فقہ»، فرہنگ زیارت، ص15۔
  17. زعفرانی، «گونہ‌شناسی و دلالت‌سنجی»، ص16۔
  18. نہج البلاغہ، تصحیح عزیزاللہ عطاردی، حکمت 241، ص450۔
  19. طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج6، ص21؛ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج14، ص380۔
  20. ابن‌قولویہ، کامل الزیارات، 1398ھ، ص132-135۔
  21. ابن‌قولویہ، کامل الزیارات، 1398ھ، ص133۔
  22. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص218؛ طوسی، الاستبصار، 1390ھ، ج2، ص141-142۔
  23. فاکہی، اخبار مکہ، 1414ھ، ج1، ص398۔
  24. طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج6، ص54و86۔
  25. برقی، المحاسن، 1371ھ، ج1، ص68؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج4، ص398، 412۔
  26. مرعشلی، تلخیص الجبیر، 1406ھ، ج7، ص275۔
  27. برقی، المحاسن، 1371ھ، ج1، ص70؛ فاکہی، اخبار مکہ، 1414ھ، ج1، ص397؛ طبرانی، المعجم الکبیر، مکتبۃ ابن تیمیہ، ج3، ص115۔
  28. مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص144؛ ابن‌شہرآشوب، المناقب، علامہ، ج4، ص137۔
  29. حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج11، ص408۔
  30. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص332؛ صدوق، کمال‌الدین، 1395ھ، ج2، ص472، 473۔
  31. عندلیبی، «زیارت اربعین از دیدگاہ فقہ»، فرہنگ زیارت، ص24-27۔

مآخذ

  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، المناقب، قم، نشر علامہ، بی‌تا۔
  • ابن‌فہد حلی، احمد بن محمد، المہذب البارع فی شرح المختصر النافع، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1407ھ۔
  • ابن‌قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، نجف، دار المرتضویہ، 1398ھ۔
  • امین، حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1408ھ۔
  • برقی، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن، قم، دار الکتب الاسلامیہ، 1371ھ۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، السنن الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1424ھ۔
  • «پیادہ روی زوار بہ سوی حرم حضرت علی(ع)»، مشرق، تاریخ درج مطلب: 15 اکتوبر 2020ء، تاریخ بازدید: 25 نومبر 2025ء۔
  • «تاریخچہ زیارت پیادہ حرم امام رضا(ع)؛ از شاہ عباس تا زائران بحرینی»، مہر، تاریخ درج مطلب: 4 ستمبر 2024ء، تاریخ بازدید: 25 نومبر 2025ء۔
  • جمعی از نویسندگان، رسائل الشعائر الحسینیہ، (گردآورندہ: محمد حسون)، قم، دلیل ما، 1441ھ۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، جرعہ‌ای از صہبای حج، تہران، مشعر، 1386ہجری شمسی۔
  • «چرا در عصر سرعت ہنوز پای پیادہ بہ سوی سیدالشہدا(ع) می‌رویم؟»، خبرگزاری حوزہ، تاریخ درج مطلب: 9 اگست 2025ء، تاریخ درج مطلب: 24 نومبر 2025ء۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1411ھ۔
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1409ھ۔
  • زعفرانی، ہانی، «روایات زیارت امام حسین(ع) با پای پیادہ؛ گونہ‌شناسی و دلالت‌سنجی»، فصلنامہ دانش‌ہا و آموزہ‌ہای قرآن و حدیث، شمارہ13، تابستان 2021ء۔
  • سبحانی، جعفر، موسوعہ طبقات الفقہاء، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1418ھ۔
  • «سفر زیارتی و پیادہ روی اربعین از سیرہ علماء»، پایگاہ اطلاع‌رسانی حوزہ، تاریخ درج مطلب: 13 اکتوبر 2018ء، تاریخ درج مطلب: 24 نومبر 2025ء۔
  • سند، محمد، الشعائر الحسینیہ، قم، دار الغدیر، 2014ء۔
  • سید رضی، نہج البلاغہ، تصحیح عزیزاللہ عطاردی، قم، مؤسسہ نہج البلاغہ، 1414ھ۔
  • شاہرودی، سید محمود، کتاب الحج، قم، مؤسسہ انصاریان، 1402ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، کمال‌الدین، تہران، اسلامیہ، 1395ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، من لابحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1413ھ۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، قاہرہ، مکتبۃ ابن تیمیہ، بی‌تا۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الاستبصار فیما اختلف من الاخبار، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1390ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • «العتبۃ العباسیۃ المقدسۃ: عدد زائری الأربعین ہذا العام بلغ 21 ملیوناً و280 ألفاً و525 زائراً»، وکالۃ الانباء العراقیۃ، تاریخ درج مطلب: 25 اگست 2024ء، تاریخ درج مطلب: 3 دسمبر 2025ء۔
  • «العتبۃ العلویۃ المقدسۃ تعلن مشارکۃ نحو 5 ملایین زائر فی إحیاء ذکری وفاۃ الرسول(ص)»، وکالۃ الانباء العراقیۃ، تاریخ درج مطلب: 9 فروری 2024ء، تاریخ درج مطلب: 3 دسمبر 2025ء۔
  • «العتبۃ الکاظمیۃ المقدسۃ تعلن مشارکۃ اکثر من 14 ملیون زائر بزیارۃ ذکری استشہاد الامام الکاظم(ع)»، الوکالۃ الوطنیۃ العراقیۃ للأنباء، تاریخ درج مطلب: 26 جنوری 2025ء، تاریخ درج مطلب: 3 دسمبر 2025ء۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، 1412ھ۔
  • عندلیبی، رضا، «زیارت اربعین از منظر فقہ»، فرہنگ زیارت، شمارہ27، تابستان 2016ء۔
  • فاکہی، محمد بن اسحاق، اخبار مکہ فی قدیم الدہر و حدیثہ، بیروت، دار خضر، 1414ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، 1403ھ۔
  • «محافظ کربلاء: عدد الزائرین خلال زیارۃ النصف من شعبان بلغ أکثر من 5 ملایین زائر»، الوکالۃ الوطنیۃ العراقیۃ للأنباء، تاریخ درج مطلب: 14 فروری 2025ء، تاریخ درج مطلب: 3 دسمبر 2025ء۔
  • مرعشلی، یوسف، تلخیص الجبیر، بیروت، دار المعرفہ، 1406ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1404ھ۔