مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حضرت فاطمہ (س) کا حق مہر

ویکی شیعہ سے

حضرت فاطمہ(س) کا حق مہر، وہ حق مہر ہے جو حضرت علیؑ کے ساتھ حضرت فاطمہ (س) کی شادی کے موقع پر پیغمبر اکرمؐ نے اپنی بیٹی کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ اسلامی مصادر میں اس کی مقدار اور نوعیت کے بارے میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں۔ مشہور رائے کے مطابق آپ(س) کا حق مہر پانچ سو درہم تھا جو بعد میں مہر السنۃ کے نام سے بھی مشہور ہوا ہے، جبکہ بعض منابع میں امام علیؑ کی زرہ کو اصل حق مہر قرار دیا گیا ہے جس کی قیمت سے حضرت فاطمہ کا جہیز تیار کیا گیا۔ اسی طرح بعض روایات میں ایک معنوی حق مہر کا بھی ذکر ملتا ہے جس میں امت کے گناہگاروں کی شفاعت، جنت کا ایک حصہ اور بعض دریا شامل تھے؛ تاہم ان میں سے بعض روایات کی سند کے بارے میں محققین کے درمیان شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

حضرت فاطمہ(س) کا مادی حق مہر

حضرت فاطمہ(س) کے حق مہر کی مقدار کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں۔ مشہور رائے کے مطابق مہرُ السُّنَّہ سے متعلق احادیث کی روشنی میں حضرت فاطمہ (س) کا حق مہر پانچ سو درہم تھا؛[1] امام صادقؑ سے مروی ایک روایت[2] میں حضرت فاطمہ کا حق مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، جس کی مجموعی قیمت پان سو درہم بنتی ہے۔[3]

مآخذ میں حضرت فاطمہ(س) کے حق مہر کے بارے میں دیگر مقداریں بھی نقل کی گئی ہیں؛ جن میں چار سو اسی درہم،[4] چار سو مثقال چاندی،[5] اور ایک زرہ حطمی (قبیلہ حطمہ بن محارب کی بنائی ہوئی[6]) جس کی قیمت تیس درہم تھی۔[7] شیعہ مورخ ہاشم رسولی ایک روایت سے استناد کرتے ہوئے[8] اس اختلاف کو زرہ کی قیمت یا اس سے حاصل ہونے والی رقم کے بارے میں روایات کا مختلف ہونا بتاتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق اصل حق مہر امام علیؑ کی زرہ تھی جو تیس، چار سو یا چار سو اسی درہم کے بدلے فروخت ہوئی تھی۔[9]

حق مہر سے جہیز تیار کرنا

بعض روایات کے مطابق امام علیؑ نے اپنی زرہ جو حضرت فاطمہ کا مہر قرار دیا گیا تھا، کو فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت پیغمبر اکرمؐ کے حوالے کر دی۔[10] پیغمبرؐ نے کچھ درہم بلال حبشی کو دئے تاکہ وہ حضرت فاطمہ(س) کے لئے عطر وغیرہ خریدے۔[11] بعض تاریخی اسناد کے مطابق اس رقم کا دو تہائی حصہ عطر وغیرہ خریدنے پر صرف ہوا[12] اور اس کا دوسرا حصہ کپڑے، گھریلو سامان اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خرچ کیا گیا۔[13] بعض مصادر میں حضرت فاطمہ(س) کے جہیز کے طور پر ان اشیاء کی فہرست درج ہے۔[14]

بعض روایات میں حضرت زہرا کے مہر کو لباس، زیورات اور گھریلو سامان کے ایک مجموعے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں کتان کا ایک لباس، ایک زرہ اور بکری کی کھال یا ایک پرانی چادر شامل تھی۔[15] شیعہ عالم دین ابراہیم امینی کے مطابق مذکورہ اشیاء کو حضرت علیؑ کی زرہ کی قیمت سے خریدا گیا تھا۔[16]

حضرت فاطمہ(س) کا معنوی حق مہر

بعض مآخذ میں حضرت فاطمہ(س) کے لئے ایک روحانی حق مہر کا بھی ذکر ملتا ہے۔ کتاب مناقب آل ابی طالب میں ایک روایت کے مطابق خداوند متعال نے دنیا کا پانچواں حصہ، جنت کا ایک تہائی حصہ، اور دریائے فرات، نیل، نہروان اور بلخ کو حضرت فاطمہ کا مہر قرار دیا۔[17] ایک اور روایت میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہ(س) نے پیغمبر اکرمؐ سے درخواست کی تھی کہ ان کا حق مہر امت کے گناہ گاروں کی شفاعت قرار دیں اور یہ درخواست خدا کی درگاہ میں قبول ہوگئی۔[18] اسی طرح بعض تاریخی اسناد کے مطابق جنت اور جہنم کی تقسیم اور اہل بیت کے دوستداروں اور ان کے دشمنوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق بھی اس معنوی مہر میں شامل تھا۔[19] تاہم، ان روایات کا معتبر ہونا محل بحث ہے اور بعض محققین نے ان کی سند اور مندرجات پر تنقید بھی کی ہیں۔[20]

حوالہ جات

  1. شفق، مہریہ و جہیزیہ در اسلام و ایران، 1388شمسی، ص30۔
  2. مجلسی، بحارالانوار، 1421ھ، ج42، ص226۔
  3. شفق، مہریہ و جہیزیہ در اسلام و ایران، 1388شمسی، ص29۔
  4. امین، سیر الائمہ علیہ السلام، 1400ھ، ج1، ص163۔
  5. قندوزی، ینابیع المودۃ، 1422ھ، ج2، ص62۔
  6. محمدی ری شہری، «مہریہ بانوی بانوان»، دانشنامہ قرآن و حدیث، ج3، پاورقی ص373۔
  7. شیخ حر عاملی، تفصیل وسائل الشیعہ، 1416ھ، ج21، ص250۔
  8. شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج10، ص358؛ متقی، کنزالعمال، 1431ھ، ج13، ص301۔
  9. رسولی، تاریخ اسلام، 1386شمسی، ج2، ص190۔
  10. قندوزی، ینابیع المودۃ، 1422ھ، ج2، ص62۔
  11. شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص40۔
  12. امین، سیر الائمہ علیہ السلام، 1400ھ، ج1، ص163؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8،ص18۔
  13. شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص40؛ رسولی، تاریخ اسلام، 1386شمسی، ج2، ص192۔
  14. مثال کے طور پر دیکھیں: رسولی، تاریخ اسلام، 1386شمسی، ج2، ص193 و 194؛ امین، سیر الائمہ علیہ السلام، 1400ھ، ج1، ص163 و 164؛ جزایری، النور المبین، 1381شمسی، ص717۔
  15. دیکھیں: کلینی، الکافی، 1430ھ، ص711-713؛ امین، سیر الائمہ علیہ السلام، 1400ھ، ج1، ص163۔
  16. امینی، ازدواج، موانع و راہ حل ہا، 1390شمسی، ص91۔
  17. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، 1431ھ، ج8، ص116۔
  18. شوشتری، احقاق الحق، 1409ھ، ج10، ص367۔
  19. شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص668۔
  20. دیکھیں: رفعت، «حضرت فاطمہ زہرا(س) کے معنوی حق مہر سے متعلق احادیث کا تنقیدی جائزہ»، ص75-106۔

مآخذ

  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1410ھ۔
  • ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، المکتبۃ الحیدریۃ، 1431ھ۔
  • امین، محسن، سیر الائمہ علیہ السلام، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1400ھ۔
  • امینی، ابراہیم، ازدواج، موانع و راہ حل ہا، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، 1390ہجری شمسی۔
  • رسولی، ہاشم، تاریخ اسلام، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1386ہجری شمسی۔
  • رفعت، محسن، «حضرت فاطمہ زہرا(س) کے معنوی حق مہر سے متعلق احادیث کا تنقیدی جائزہ»، دوفصلنامہ علمي مطالعات قرآن و حديث، تہران، دانشگاہ امام صادق(ع)، 1399ہجری شمسی۔
  • شفق، غلامرضا، مہریہ و جہیزیہ در اسلام و ایران، قم، دفتر عقل، 1388ہجری شمسی۔
  • شوشتری، نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی، 1409ھ۔
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعہ إلی تحصیل مسائل الشریعۃ، قم، موسسۃ آل البیت لإحیاء التراث، 1416ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، تصحیح مؤسسۃ البعثۃ، قم، دارالثقافہ، 1414ھ۔
  • قندوزی، سلیمان، ینابیع المودۃ لذوی القربی، قم، دار الأسوۃ للطباعۃ و النشر، 1422ھ۔
  • کلینی، محمد، الکافی، قم، سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، 1430ھ۔
  • متقی، علی، کنز العمال فی سنن الأقوال و الأفعال، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1431ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1421ھ۔
  • محمدی ری شہری، «خواتین کی سردار کا حق مہر»، دانشنامہ قرآن و حدیث، قم، سازمان چاپ و نشر دار الحدیث، 1391ہجری شمسی۔