مسودہ:اختلاف مصحف
اختلافِ مصاحف، علوم قرآن کی ایک اہم بحث ہے اور اس سے مراد صحابہ کرام کے مصاحف اور مصحف عثمانی کے مختلف نسخوں درمیان پائے جانے والے اختلافات ہیں، جن کی وجہ سے مختلف قرأتیں وجود میں آئیں ہیں۔ رسول اللہؐ کی رحلت کے بعد بعض صحابہ نے قرآن کو منتشر تحریروں سے جمع و تدوین کرکے مستقل مصاحف کی شکل دی۔ یہ مصاحف بعض الفاظ کے رسم الخط، بعض کلمات کی موجودگی یا عدم موجودگی اور سورتوں کی ترتیب جیسے امور میں ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
یہ اختلافات رفتہ رفتہ مسلمانوں کے درمیان قرآن کی قرأت میں اختلاف کا باعث بنے۔ اسی وجہ سے عثمان بن عفان نے اپنے دور خلافت میں مصاحف کو یکساں بنانے کی کوشش کی۔ ان کے حکم پر قرآن کے چند معیاری نسخے تیار کئے گئے اور مختلف اسلامی مراکز میں بھیجے گئے، جبکہ دیگر مصاحف کو تلف کر دیا گیا۔ تاہم خود مصحف عثمانی کے مختلف نسخوں کے درمیان بھی بعض اختلافات موجود رہے۔

قرآنی مطالعات میں اختلافات مصاحف کی اہمیت
مصاحف صحابہ اور مصحف عثمان کے نسخوں میں پائے جانے والے اختلافات تاریخ قرآن کے مباحث میں سے ہیں، جن میں قرآن کے جمع اور تدوین کے مراحل نیز ابتدائی مصاحف کے باہمی اختلافات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاریخِ قرآن کی بحثوں میں مصاحف کا اختلاف قرأتوں میں اختلاف کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔[1]
رحلت پیغمبر اکرمؐ کے بعد امام علیؑ، زید بن ثابت، سالم مولی ابی حذیفہ، عبد اللہ بن مسعود، اُبَیّ بن کعب، ابوموسی اشعری، مقداد بن اسود اور معاذ بن جبل جیسے متعدد صحابہ نے قرآن کو مستقل مصاحف کی صورت میں جمع کیا۔[2] ان میں سے ہر مصحف ایک خاص علاقے میں رائج ہوا؛ مثلاً عبد اللہ بن مسعود کا مصحف کوفہ میں، اُبیّ بن کعب کا شام میں، ابوموسی اشعری کا بصرہ میں اور مقداد بن اسود کا دمشق میں معروف تھا۔[3] ان مصاحف میں سورتوں کی ترتیب، بعض الفاظ اور دیگر خصوصیات کے لحاظ سے اختلافات موجود تھے۔[4] یہی اختلافات بعد میں مختلف قرأتوں کے وجود میں آنے کا سبب بنے[5] اور مسلمانوں کے لئے ایک اہم مسئلہ بن گئے۔[6]
عثمان بن عفان نے اپنے دور خلافت میں ان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے مصاحف کی یکسانیت کا منصوبہ شروع کیا۔[7] انہوں نے ایک معیاری مصحف کی متعدد نسخے تیار کرا کے مختلف اسلامی شہروں میں روانہ کئے۔ تاہم یہ اقدام ان اختلافات کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور بعض کاتبوں کی غفلت کے باعث مصحف عثمانی کے بعض نسخوں میں ایک دوسرے سے اختلاف باقی رہ گیا۔[8]
اختلافِ مصاحف کی صورتیں
صحابہ کے مصاحف میں سورتوں کی تعداد اور ترتیب، بعض الفاظ کے رسم الخط، کمی بیشی، تبدیلی اور بعض کلمات کی ترتیب کے اعتبار سے اختلافات موجود تھے۔ البتہ بعض اختلافات، جیسے سورتوں کی تعداد اور ترتیب کا اختلاف مصحف عثمانی کی تدوین کے بعد ختم ہو گئے۔[9]
سورتوں کی تعداد
عبد اللہ بن مسعود کے مصحف میں سورہ فاتحہ، سورہ ناس اور سورہ فلق موجود نہیں تھیں۔[10] اگرچہ وہ سورہ حمد کو قرآن کا حصہ مانتے تھے، لیکن سورہ فلق اور سورہ ناس کو قرآن کا جزو نہیں سمجھتے تھے بلکہ انہیں چشم زخم اور جادو سے حفاظت کی دعائیں قرار دیتے تھے۔[11] اُبَیّ بن کعب کے مصحف میں رائج قرآن کے علاوہ دو مزید سورتیں موجود تھیں جنہیں «سورہ خَلع» اور «سورہ حَفد» کہا جاتا تھا۔ سورہ خلع کا متن یوں تھا: «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اللَّہُمَّ إِنَّا نَسْتَعِینُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُثْنِی عَلَیْکَ وَلَا نُکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ» اور سورہ حفد کا متن یوں تھا: «بِسْمِ اللہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ اللَّہُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَإِلَیْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ نَرْجُو رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَکَ إِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحَقٌ»۔[12] اسی طرح ان کے مصحف میں سورہ قریش کو سورہ فیل کے ساتھ ایک سورہ قرار دیا گیا تھا۔[13]
الفاظ کا اضافہ
بعض مصاحف میں قرآن کے معروف متن سے زائد الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں سورہ مائدہ آیت نمبر 89 میں «صِیَامُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ» کے بعد لفظ «مُتَتَابِعات» درج تھا۔[14] نیز سورہ توبہ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» سے شروع ہوتی تھی۔[15] اسی طرح اُبیّ بن کعب کے مصحف میں سورہ زمر کا آغاز «حم» سے ہوتا تھا[16] اور «وَشُرَکَاءَکُم»[17] کی جگہ «وَادْعُوا شُرَکَاءَکُم» درج تھا۔[18] علوم قران کے ماہرآیت اللہ معرفت کے مطابق ان میں سے بعض اضافے دراصل کاتبوں کی تفسیری توضیحات تھیں اور قرآن کے اصل متن کا حصہ نہیں تھے۔[19]
الفاظ کی کمی
بعض مصاحف میں ایسے الفاظ یا عبارات موجود نہیں تھیں جو دوسرے مصاحف میں موجود تھیں۔ مثال کے طور پر سورہ نساء آیت نمبر 101 میں «إِنْ خِفْتُمْ» کا فقرہ اُبیّ بن کعب کے مصحف میں موجود نہیں تھا۔ اسی طرح عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں «وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنْثَىٰ»[20] کی جگہ صرف «وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَى» درج تھا۔[21]
الفاظ کی تبدیلی
بعض مصاحف میں بعض الفاظ کی جگہ مترادف یا دیگر الفاظ درج تھے۔[22] مثال کے طور پر ابوموسی اشعری کے مصحف میں «مَنْ قَبْلَہُ»[23] کی جگہ «مِنْ تِلْقَائِہِ» درج تھا،[24] جبکہ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں «وَإِنَّ إِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِینَ»[25] کے بجائے «وَإِنَّ إِدْرِیسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِینَ» درج تھا۔[26] اسی طرح اُبیّ بن کعب کے مصحف میں «ثُمَّ عَرَضَہُمْ»[27] کی جگہ «ثُمَّ عَرَضَہَا»[28] اور «إِنْ کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ»[29] کی جگہ «إِنْ کَانَ ذَا عُسْرَۃٍ» درج تھا۔[30]
بعض الفاظ کی تقدیم و تاخیر
بعض مصاحف میں بعض الفاظ کی ترتیب مختلف تھی۔ مثال کے طور پر عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں «یَطْبَعُ اللَّہُ عَلَىٰ کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ»[31] کے بجائے «یَطْبَعُ اللَّہُ عَلَىٰ قَلْبِ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ» درج تھا۔[32]
سورتوں کی ترتیب
امام علیؑ کے مصحف میں سورتوں کی ترتیب ترتیب نزول کے مطابق تھی؛ چنانچہ اس کا آغاز سورہ علق سے ہوتا تھا اور اس کے بعد دیگر مکی سورتیں اور پھر مدنی سورتیں درج تھیں۔[33]
عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں سورتوں کو چھ گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے سبع طوال (سات طویل سورتیں)، پھر مِئین (وہ سورتیں جن کی آیات سو یا اس سے زیادہ ہوں)، اس کے بعد مَثانی (سو سے کم آیات والی سورتیں)، پھر حوامیم (وہ سات سورتیں جو «حم» سے شروع ہوتی ہیں)، اس کے بعد ممتحنات اور آخر میں مفصلات (مختصر سورتیں) درج تھیں۔
دیگر صحابہ کے مصاحف اور مصحف عثمانی کا عمومی ڈھانچہ بھی اسی ترتیب کے مطابق تھا، اگرچہ بعض سورتوں کی تقدیم و تاخیر میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا۔[34] مثال کے طور پر عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں سورہ انعام سورہ اعراف کے بعد تھی، جبکہ اُبیّ بن کعب کے مصحف میں اس سے پہلے درج تھی۔[35]
اختلافِ مصاحف کے اسباب
محققین کے مطابق مصحف عثمانی کے مختلف نسخوں میں پائے جانے والے اختلافات کے علل و اسباب، مصاحف صحابہ کے اختلافات سے مختلف تھے۔ مصحف عثمانی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مختلف شہروں کے لئے متعدد نسخے تیار کرنے کے بعد ان کے باہمی تقابل اور تصحیح میں مطلوبہ دقت سے کام نہیں لیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں بعض اختلافات پیدا ہو گئے۔ کہا گیا ہے کہ عثمان بن عفان ان میں سے بعض اختلافات سے آگاہ تھے، لیکن انہیں امید تھی کہ عرب لوگ ان الفاظ کو درست طریقے سے پڑھ لیں گے۔[36]
اس کے برعکس صحابہ کے مصاحف کے اختلافات کو ان کی قرآنی تحریر، کتابت اور ضبط کے مہارت میں تفاوت[37] نیز پیغمبر اسلامؐ سے منقول بعض مطالب کے بارے میں ان کے مختلف اجتہادی نقطۂ نظر کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر عبد اللہ بن مسعود سورہ فلق اور سورہ ناس کو قرآن کا حصہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ انہیں تعویذ نما دعائیں قرار دیتے تھے جو چشم زخم یا سحر سے حفاظت کے لئے پڑھی جاتی ہیں۔[38]
حوالہ جات
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج2، ص9 و 10۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص292 و 308۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص331۔
- ↑ سیوطی، الإتقان، 1394ھ، ج1، ص209 تا 211۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص331۔
- ↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ھ، ج3، ص112؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بے تا، ج2، ص170۔
- ↑ ابن ابی داود، المصاحف، 1423ھ، ج1، ص88۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص331 و 332 و 336 و 337 و 342-346 و 397-401۔
- ↑ زرقانی، مناہل العرفان، بے تا، ج1، ص353۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص314؛ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص416۔
- ↑ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص416۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص322 و 323؛ سیوطی، الإتقان، 1394ھ، ج1، ص226۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص322۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج4، ص14۔
- ↑ سیوطی، الإتقان، 1394ھ، ج1، ص225۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص323۔
- ↑ سورہ یونس، آیہ 71۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج5، ص409۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص319 و 320۔
- ↑ سورہ لیل، آیہ 3۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص322۔
- ↑ ان اختلافات کی مثالوں کے لئے ملاحظہ ہو: ابن قتیبہ، تأویل مشکل القرآن، بے تا، ص24؛ طبری، جامع البیان، 1412ھ، ج1، ص419 و ج15، ص109 و ج25، ص78؛ طوسی، التبیان، بے تا، ج3، ص291 و 311 و ص516 و ج5، ص318؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص669؛ سیوطی، الإتقان، 1394ھ، ج1، ص168۔
- ↑ سورہ حاقہ، آیہ 9۔
- ↑ فراء، معانی القرآن، بے تا، ج3، ص180۔
- ↑ سورہ صافات، آیہ 123۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج8، ص523 و 524۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ 31۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج1، ص141۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ 280۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج2، ص369۔
- ↑ سورہ غافر، آیہ 35۔
- ↑ طوسی، التبیان، بے تا، ج9، ص74۔
- ↑ سیوطی، الإتقان، 1394ھ، ج1، ص216۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص312 و 313۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص325۔
- ↑ ابن ابی داود، المصاحف، 1423ھ، ج1، ص88 و 93؛ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص336 و 337 و 342-345۔
- ↑ معرفت، التمہید، 1388شمسی، ج1، ص331 و 332۔
- ↑ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص416۔
مآخذ
- قرآن
- ابن أبی داود الأزدی السجستانی، عبداللہ بن سلیمان بن الأشعث، المصاحف، القاہرۃ، الفاروق الحدیثۃ، 1423ھ۔
- ابن ثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
- ابن قتیبہ الدینوری، عبداللہ بن مسلم، تأویل مشکل القرآن، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، بے تا۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن أبی بکر، الإتقان فی علوم القرآن، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، 1394ھ۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن أبی بکر، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃاللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفۃ، 1412ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بے تا۔
- یعقوبی، أحمد بن إسحاق، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بے تا.
- زرقانی، محمد عبدالعظیم، مناہل العرفان فی علوم القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بے تا۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
- فراء، یحیی بن زیاد، معانی القرآن، مصر، دار المصریۃ للتألیف والترجمۃ، بے تا۔
- معرفت، محمدہادی، التمہید فی علوم القرآن، قم، مؤسسہ فرہنگی انتشاراتی التمہید، 1388ہجری شمسی۔