شاہ نجف امام باڑہ

wikishia سے
شاہ نجف امام باڑہ (لکھنؤ)
Shah-Najaf-Imambara-lucknow (1).jpg
ابتدائی معلومات
بانی: نواب غازی الدین حیدر
تاسیس: 1816ء
استعمال: نماز اور مجالس
محل وقوع: لکھنؤ ہندوستان
مشخصات
معماری

شاہ نجف امام باڑہ ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں واقع شیعہ مذہبی اور ہندوستان کی قدیمی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس امام باڑے کو بادشاہ غازی الدین حیدر نے سنہ1814ء کو نجف میں واقع حضرت علیؑ کے روضہ کے شبیہ کے طور پر بنایا ہے۔ امام باڑے میں بعض نوادرات بھی پائے جاتے ہیں۔ امام باڑہ شاہ نجف میں ایک سال تک انگریزوں کے ساتھ جنگ بھی لڑی گئی۔ 9 محرم کو مختلف جلوس اس امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔

تاریخچہ

شاہ نجف امام باڑہ ہندوستان کے شہر لکھنؤ کے وسط میں گومتی ندی کے ساحل پر واقع ایک امام باڑہ ہے جس کے دائیں جانب سکندر باغ اور بائیں جانب موتی محل اور مقابل میں حضرت گنج واقع ہے۔ شاہ نجف امام باڑہ کو اودھ کے آخری نواب اور پہلے بادشاہ غازی الدین حیدر نے سنہ1814ء میں بنایا۔[1] غازی الدین حیدر نے امام باڑے کو امام علیؑ کی یاد میں نجف میں واقع ان کے روضے کی طرز تعمیر کے مطابق بنایا ہے۔ [2] امام باڑے شیعوں کے تیسرے امام حضرت حسینؑ کی مجالس برپا کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔[3] امام حسینؑ 61 ہجری کو کربلا میں ابن زیاد کی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[4] ہر سال نو محرم کو لکھنؤ کے مختلف امام بارگاہوں سے ماتمی جلوس شاہ نجف امام باڑہ میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ یہ امام باڑہ ہندوستان کے آثار قدیمہ میں شامل ہے۔[5] شاہ نجف امام باڑہ کے بیچ والے کمرے میں حضرت علیؑ کی ضریح، شاہ نشین پر رکھے علم، تعزیہ، جھاڑ فانوس ہاتھی دانت، شیشے کی اشیاء، تصاویر اور حضرت علی اور حضرت امام جعفر صادقؑ سے منسوب بعض خطوط کی نقل بھی موجود ہیں۔[6] اور قدیم زمانے سے جو لوگ نجف اشرف حضرت علیؑ کی زیارت کو نہیں جاسکتے تھے وہ یہاں آکر زیارت کرتے تھے۔[7]

انگریزوں اور آزادی کے مجاہدین کے درمیان 1857ء کو اسی امام باڑے میں مسلسل ایک سال تک خونریز جنگ جاری رہی، جس کے بعد انگریزوں نے یہاں دوبارہ قبضہ کرلیا۔[8] اس امام باڑہ کو کربلا امام باڑہ بھی کہا جاتا ہے۔ [حوالہ درکار]


عمارت

امام باڑہ میں تین دروازوں سے عبور ہوکر پہنچ جاتے ہیں۔ پہلا دروازہ روڑ پر ہے جس کے اوپر دو شیر بنے ہوئے ہیں جو امام علی کا لقب اسداللہ کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرے گیٹ پر لافتی الا علی لاسیف الا ذوالفقار درج ہے اور تیسرے گیٹ جس پر شبیہ روضہ نجف اشرف درج ہے اور اس سے گزرنے کے بعد امام باڑہ پہنچ جاتے ہیں۔[9] امام باڑہ کا گنبد، ہشت پہل ہے اور اس کے نیچے تین قبریں ہیں جہاں امام باڑے کے بانی غازی الدین حیدر اور ان کی تین بیویاں سرفراز محل، مبارک محل اور ممتاز محل دفن ہیں۔[10] امام باڑہ کے مغربی جانب ایک مسجد بھی ہے۔ شاہان اودھ نے جہاں بھی کوئی عمارت بنتی تھی تو ساتھ میں مسجد بھی تعمیر کی جاتی تھی۔ نیز قدم رسول کے نام سے ایک عمارت بھی ہے جہاں پر پیغمبر اکرم سے منسوب ایک نقش پا تھا اور جنگ آزادی کے دوران وہ مٹ گیا ہے۔[11]

نگار خانه

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. Shah Najaf Imambara
  2. حضرت علی کے مقبرے سے مشابہت رکھتا ہے، شاہ نجف امام باڑہ
  3. توسلی، ص۸۲؛ جانب اللہی، ص۱۵ـ۲۰؛ د.اسلام، چاپ دوم، ذیل"Imam-bara"؛ دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ذیل “اِمامْ بارہ”؛ دایرۃالمعارف جہان اسلام آکسفورد، ذیل واژہ؛ تاسی، ۵۳؛ فرہنگ، ص۳۰۸ـ۳۱۸؛ ولی، ص۱۲۵ـ۱۲۶
  4. طبری، تاریخ الأمم و الملوک،1387ق، ج5، ص429-430.
  5. لکھنؤ: شاہ نجف امام باڑہ اور قدم رسول کی چہار دیواری منہدم حوزہ نیوز ایجنسی۔
  6. لکھنؤ: شاہ نجف امام باڑہ میں مرمت کا کام شروعای ٹی وی بھارت۔
  7. لکھنؤ: شاہ نجف امام باڑہ میں مرمت کا کام شروع
  8. حضرت علی کے مقبرے سے مشابہت رکھتا ہے، شاہ نجف امام باڑہ
  9. سید محمد عباس رضوی، نوابین اودھ کی اسلامی خدمتیں اشراق ویب سائٹ۔
  10. Shah Najaf Imambara
  11. حضرت علی کے مقبرے سے مشابہت رکھتا ہے، شاہ نجف امام باڑہ


مآخذ

  1. سید محمد عباس رضوی، نوابین اودھ کی اسلامی خدمتیں اشراق ویب سائٹ۔
  2. حضرت علی کے مقبرے سے مشابہت رکھتا ہے، شاہ نجف امام باڑہ
  3. Shah Najaf Imambara
  4. لکھنؤ: شاہ نجف امام باڑہ میں مرمت کا کام شروع
  5. لکھنؤ: شاہ نجف امام باڑہ اور قدم رسول کی چہار دیواری منہدم حوزہ نیوز ایجنسی۔