سبطین آباد امام باڑہ

ویکی شیعہ سے
(امام باڑہ سبطین آباد سے رجوع مکرر)
سبطین آباد امام باڑہ
ابتدائی معلومات
بانینواب واجد علی شاہ
تاسیس1847ء
استعمالنماز اور مجالس
محل وقوعلکھنؤ ہندوستان
دیگر اسامیشاہی امام باڑہ
مشخصات
موجودہ حالتفعال
معماری
طرز تعمیراسلامی طرز تعمیر
تعمیر نو1847ء


سبطین آباد امام باڑہ (سبطین آباد کا امام باڑہ) لکھنؤ میں واقع ہندوستان کی شیعہ مذہبی اور قدیمی عمارتوں میں سے ایک ہے سبطین کا امام باڑہ سنہ 1847ء میں اودہ کے نواب واجد علی شاہ (1822-1887) نے امام حسینؑ کی عزاداری قائم کرنے کی غرض سے تعمیر کروایا۔ جب برطانیہ کی فوج نے لکھنؤ پر چڑھائی کی تو اس وقت یہ امام بارگاہ چرچ میں تبدیل کیا گیا۔ 1919ء میں یہ عمارت دوبارہ سے امام بارگاہ بنائی گئی۔ یہ امام باڑہ ہندوستان کی آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے۔ ادوہ کے حاکم امجد علی اور بعض دیگر شخصیات یہی پر دفن ہیں۔

اہمیت

سبطین آباد امام باڑہ ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں واقع ہے۔ یہ عمارت ہندوستان کی شیعہ مذہبی اور سیاحتی عمارتوں میں سے ایک ہے۔[1] اودہ کے دور حکومت میں حکمران عزاداری کو خاص اہمیت دیتے تھے اسی وجہ سے یہ امام بارگاہ تعمیر ہوئی۔[2] بادشاہ اس میں عزاداری قائم کرتا تھا اسی وجہ سے اس کو شاہی امام باڑہ بھی کہا گیا ہے۔[3] اسی مقام پر امام بارگاہ کے بانی نواب واجد علی شاہ کے والد نواب امجد علی شاہ، ان کا بیٹا مرزا جاوید علی اور ان کی والدہ تاج النساء مدفون ہیں۔[4] نواب امجد کے یہی پر دفن ہونے کی وجہ سے اسے «مقبرہ» کا نام بھی دیا گیا ہے۔ [5]

تأسیس

امام باڑہ سبطین آباد ایک مذہبی عمارت ہے جو امام حسینؑ کی عزادری قائم کرنے کی غرض سے نواب واجد علی شاہ نے 1847ء کو لکھنو کا علاقہ حضرت گنج میں بنوایا ہے۔[6] یہ امام بارگاہ مینڈو خان رسالدار چھاؤنی میں واقع ہے۔[7] ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں اس کے اطراف کی دیواریں برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں منہدم ہوگئیں۔[8] انہی ایام میں امام باڑے کو چرچ بنایا گیا۔[9] سنہ 1919ء میں یہ عمارت ہندوستان کی قدیمی آثار میں شمار ہوگئی۔[10]

عمارت

اسلامی معماری کی طرز پر تعمیر ہونے والے امام باڑہ سبطین آباد کے دو میں گیٹ ہیں۔ مسجد کا بڑا صحن اور دروازے کی جانب ایک مسجد واقع ہے۔[11] کہا جاتا ہے کہ اس امام باڑے کی تعمیر کا آغاز اس کے بانی واجد علی شاہ کے والد نے کیا تھا لیکن پایہ تکمیل کو پہنچنے سے پہلے وہ وفات پاگئے۔[12] نواب امجد علی شاہ کی وفات کے بعد نواب واجد علی شاہ نے 1847ء میں امام باڑے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔[13] سنہ 1857ء کو اودہ سلطنت کی برطانیہ کی حکومت کے مقابلے میں شکست کے بعد واجد علی شاہ کلکتہ چلا گیا اور میشا بریج میں سکونت اختیار کی اور وہیں پر وفات پاگیا۔[14] لکھنؤ پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے حملہ کے بعد اس امام باڑے کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا اور وہاں پر ایک ہسپتال بنوایا۔[15] جبکہ 1858ء سے 1860ء تک امام بارگاہ کو کلیسا بنایا گیا۔[16] 13 مارچ 1858ء کو برطانوی فوج نے امام بارگاہ کی دیواروں کو منہدم کیا۔[17]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

مآخذ