شرعی فرسخ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


فرسخ فاصلے کی پیمایش کا پرانہ معیار ہے کہ جو کلو میٹر کے حساب سے تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ کلو میٹر ہے. شرعی فرسخ جو کہ مشہور ہے اس کے علاوہ دوسرے فرسخ بھی ہیں جیسے ہندی فرسخ جو ١٢ کلو میٹر، قاجاریہ اور پہلوی دور کے فرسخ جو تقریباً ٦ کلو میٹر تھے. بعض اوقات فرسخ کو فرسنگ سے تعبیر کیا گیا ہے.

فرسخ کا اندازہ

ہر شرعی فرسخ تین میل اور مشہور فقہاء کی نظر میں ہر میل چار ہزار ذراع اور ہر ذراع کا طول ٢٤ انگلیاں یا عام شخص کے دو بالشت ہیں. اس لئے، ذراع کے مطابق فرسخ بارہ ہزار ذراع ہو گا. [1]

کلو میٹر کے حساب سے اس کی مقدار تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ کلو میٹر محاسبہ کی گئی ہے.

فرسخ کا اندازہ مختلف مکان میں مختلف ہو سکتا ہے جیسے کہ ہندی فرسخ جو تقریباً ١٢ کلو میٹر ہے، پہلوی اور قاجاریہ کے زمانے میں جو فرسخ رائج تھا وہ تقریباً چھ کلو میٹر تھا[2] اور خراسانی فرسخ شرعی فرسخ کے دو برابر ہے.[3]

آٹھ فرسخ یا سفر کی شرعی حدود

فرسخ کے کلو میٹر میں تبدیل ہونے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، آٹھ فرسخ جو سفر کی شرعی حدود ہے وہ فقہاء کی نگاہ میں ٤٠ سے ٤٥ کلو میٹر ہے: ٤٠ کلو میٹر[4]، ٤٣ کلو میٹر [5]، ٤٤کلومیٹر [6]، اور ٤٥ کلو میٹر [7] وغیرہ ہے [8][9][10]

شرعی فرسخ کے متعلق احکام

شرعی فرسخ کے متعلق احکام، نماز، حج اور تجارت کے باب میں بیان ہوئے ہیں.

استعمال شدہ موارد: فرسخ مسافت کو معین کرنے والے موارد میں استعمال ہوا ہے کہ جس کے چند نمونوں کی طرف اشارہ ہوا ہے:

  1. سفر کی وجہ سے نماز قصر اور روزہ افطار ہوتا ہے: سفر کا عنوان آٹھ فرسخ پورے ہونے کے بعد محقق ہوتا ہے اور کچھ شرائط کی بناء پر نماز کے :#قصر اور روزے کے افطار ہونے کا باعث بنتا ہے.
  2. دو نماز جمعہ کے درمیان فاصلہ: دو جگہ پر نماز جمعہ پڑھنے کے لئے ان کے درمیان اگر ایک فرسخ سے کم فاصلہ ہو تو نماز جمعہ صحیح نہیں ہے. [11]
  3. نماز جمعہ کا واجب ہونا: فرض کریں جس وقت نماز جمعہ واجب ہو، جیسے امام معصوم(ع) کے زمانے اور آپ(ع) کے پیچھے، جن افراد کی محل اقامت اور نماز جمعہ کی جگہ کے درمیان تک دو فرسخ سے زیادہ فاصلہ ہے ان پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے.[12]



حوالہ جات

  1. منتهی المطلب، ج۶، ص۳۳۵؛ الاوزان و المقادیر، ص۸۶.
  2. دهخدا، ذیل واژه فرسنگ.
  3. فرهنگ فقه فارسی، ج۵، ص۶۸۲.
  4. آیت الله زنجانی کی نظر کے مطابق
  5. آیت الله ناصر مکارم شیرازی کی نظر کے مطابق
  6. آیات اعظام: خویی، تبریزی، وحید، سیستانی. کی نظر کے کطابق
  7. آیات اعظام : امام، اراکی، فاضل، گلپایگانی، صافی، بهجت، خامنہای، نوری. کے نظر کی مطابق
  8. http://www.pasokhgoo.ir/node/63872
  9. احکام مسافر، ص۲۳.
  10. توضیح المسائل مراجع، ج۱، ص۶۸۳.
  11. جواهر الکلام، ج۱۱، ص۲۴۵.
  12. جواهر الکلام، ج۱۱، ص۲۶۵.


مآخذ

  • جواهر الکلام، شیخ محمد حسن نجفی، دار احیاء التراث، بیروت.
  • فرهنگ دهخدا.
  • احکام مسافر، مرکز ملی پاسخگویی به سؤالات دینی، انتشارات فراکاما.
  • توضیح المسائل پانزده مرجع، انتشارات جامعه مدرسین.
  • فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل بیت علیهم‌السلام، انتشارات مؤسسه دایرة المعارف فقه اسلامی.