اماکن تخییر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


اماکن تخییر یا اماکن اربعہ سے مراد وہ اماکن ہیں جہاں پر مسافر کیلئے چار رکعتی نمازوں کو پوری پڑھنے یا قصر پڑھنے میں اختیار ہے۔ شیعہ مشہور فقہاء کے مطابق وہ اماکن مندرجہ ذیل ہیں: مکہ، مدینہ، مسجد کوفہ اور حرم امام حسینؑ۔ البتہ بعض فقہاء کا کہنا ہے کہ تخییر کا حکم پورا مکہ اور مدینہ کو شامل نہیں بلکہ صرف مسجد نبوی اور مسجد الحرام شامل ہیں۔ بعض فقہا نے کہا ہے کہ یہ حکم ان مساجد کے قدیمی حصے تک مخصوص ہے۔

نامگذاری

اماکن تخییر ان مقامات کو کہا جاتا ہے جہاں مسافر کیلئے چار رکعتی نمازوں کو پوری پڑھنے یا قصر پڑھنے میں اختیار ہے۔ چونکہ ان اماکن میں نمازی کو چار رکعتی نمازوں کر کے قصر پڑھنے یا پوری پڑھنے کا اختیار ہے اسی بنا پر ان مقامات کو اماکن تخییر اور اماکن کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اماکن اربعہ بھی کہا گیا ہے۔[1]

مصادیق

مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق اماکن تخییر میں مکہ، مدینہ[2]، مسجد کوفہ اور حرم امام حسینؑ شامل ہیں۔[3] شیخ طوسی کہتے ہیں کہ بعض احادیث کے مطابق تخییر کے حکم میں شہر کوفہ[4] اور نجف[5] بھی شامل ہیں۔ بعض دیگر فقہا بھی شہر کوفہ کو اماکن تخییر میں شمار کرتے ہیں۔[6] جبکہ بعض ان اماکن کو مکہ اور مدینہ میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی تک منحصر کرتے ہیں۔[7]

سید مرتضی اور ابن جنید کی طرف نسبت دی جاتی ہے کہ یہ دونوں ہستیاں مسافر کے لیے چار رکعتی نمازوں کے پوری یا قصر پڑھنے میں تخییر کے حکم کو تمام ائمہ معصومین کے مزارات پر جاری سمجھتے تھے۔[8]جبکہ صاحب جواہر کہتے ہیں کہ ان کے اس ادعا پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔[9]

فقہی احکام

شیعہ فقہاء نماز[10] اور نماز اجارہ کے احکام میں[11] اماکن تخییر سے بحث کرتے ہیں۔[12] مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق اماکن تخییر میں چار رکعتی نمازوں میں مسافر قصر اور اتمام میں مخیّر ہے لیکن اس کے باوجود اتمام مستحب ہے۔[13]

اماکن تخییر کے بعض دوسرے احکام مندرجہ ذیل ہیں:

  • تخییر کا حکم نماز سے مختص ہے اور روزہ کو شامل نہیں کرتا ہے۔[14]
  • اکثر فقہاء کا کہنا ہے کہ تخییر والے مقامات پر قضا ہونے والی نمازوں کو احتیاط کے طور پر قصر پڑھنا چاہیے۔ اگر چہ بعض فقہاء اس صورت میں بھی تخییر کا احتمال دیتے ہیں۔[15]
  • بعض فقہا کے مطابق مذکورہ اماکن میں تخییر کا حکم استمراری ہے(یعنی نماز پڑھنے والا دوران نماز جب چاہے قصر سے اتمام یا بالعکس کی نیت کر سکتا ہے۔[16] البتہ بعض فقہاء اس صورت میں نماز کے اعادے کو احتیاط کے موافق قرار دیتے ہیں۔[17]
  • بعض فقہا کے فتاوے کے مطابق، تخییر کا حکم صرف ان مقامات کے پرانے حدود کو شامل ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۲۴۔
  2. حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، داراحیاء التراث العربی، ج۳، قسم۱، ص۴۹۱۔
  3. طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۱۲۴؛ علامہ حلی، منتہی المطلب، ۱۴۱۲ق، ج۶، ص۳۶۶۔
  4. طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۱۲۴۔
  5. طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۱۴۱۔
  6. سیستانی، منہاج الصالحین، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۰۵۔
  7. ابن ادریس، السرائر، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۳۰۳-۳۰۲؛ علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۱۳۸۔
  8. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۴، ص۳۳۹۔
  9. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۱۴، ص۳۳۹۔
  10. ملاحظہ کریں: شهید اول، البیان، ۱۴۱۲ق، ص۱۵۳.
  11. انصاری، المکاسب، ۱۴۱۰ھ، ج۵، ص۳۴۔
  12. شہید اول، البیان، ۱۴۱۲ق، ص۱۵۳۔
  13. طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۱۲۴۔
  14. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی (المحشّٰی)، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۱۸، ۶۲۴۔
  15. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۶۲-۶۳؛ حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، داراحیاء التراث العربی، ج۳، قسم۱، ص۳۹۸۔
  16. سیستانی، منہاج الصالحین، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۰۶؛ یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۱۸۔
  17. یزدی طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۱۸۔
  18. محمودی، مناسک عمره مفرده، ۱۴۲۹ق، ص۲۴۶.


مآخذ

  • ابن‌ادریس حلی، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۰ھ۔
  • انصاری، مرتضی بن محمدامین، المکاسب، قم، مؤسسہ مطبوعاتی دارالکتاب، ۱۴۱۰ھ۔
  • حسینی عاملی، سیدجواد بن محمد، مفتاح‌الکرامہ فی شرح قواعد العلامہ، تصحیح محمدباقر حسینی شہیدی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • سیستانی، سیدعلی، منہاج‌الصالحین، قم، دفتر حضرت آیۃ‌اللہ سیستانی، ۱۴۱۷ھ۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، البیان، تحقیق محمد حسون، قم، ۱۴۱۲ھ۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، مؤسسہ آل‌البیت علیہم‌السلام، ۱۴۱۹ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تصحیح سید محمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویہ لاحیاء الآثار الجعفریہ، ۱۳۸۷ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، النہایہ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دارالکتب العربی، ۱۴۰۰ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف‌الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علیمہ قم، ۱۴۱۳ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منتہی‌المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع‌البحوث الاسلامیہ، ۱۴۱۲ھ۔
  • محمودی، محمدرضا، مناسک عمرہ مفردہ، قم، نشر معشر، چاپ اول، ۱۴۲۹ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، ۱۴۰۴ھ۔
  • ہمدانی، آقارضا بن محمدہادی، مصباح‌الفقیہ، تصحیح محمد باقری، محمد میرزایی و سیدنورالدین جعفریان، قم، مؤسسۃ الجعفریہ لاحیاء التراث، ۱۴۱۶ھ۔
  • یزدی طباطبایی، سید محمدکاظم، العروۃالوثقی فیما تعم بہ البلوی، تصحیح احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۹ھ۔