شرعی مسافت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


مسافت شرعی وہ مسافتی مقدار کہ اس کے طے کرنے سے، شخص شرعی نظر میں مسافر حساب ہوتا ہو اور ضروری ہے کہ نماز قصر پڑھے اور روزہ بھی افطار کرے. اکثر شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق شرعی مسافت ٨ شرعی فرسخ ہے اگرچہ صرف ایک طرف جانا ہو یا جانا اور آنا دونوں طرف ہو.

مسافت اور حدترخص کا فرق

شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق، مسافر کی نماز قصر ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ مسافر ارادہ رکھتا ہو کہ کم از کم ٨ شرعی فرسخ (٤٠ سے ٤٥ کلو میٹر کے درمیان) سفر کرے گا. اور ٨ فرسخ کو، شرعی مسافت کہا جاتا ہے. [1]

مسافر اس وقت اپنی نماز کو قصر پڑھ سکتا ہے یا روزہ افطار کر سکتا ہے جب وہ معین مقدار طے کر لی ہو. اس معین مقدار کو حد ترخص کہتے ہیں (اتنی مسافت کہ جہاں شہر کی اذان سنائی نہ دے یا شہر کے گھروں کی دیواریں نظر نہ آئیں) وطن پر پہنچنے یا ایسی جگہ جہاں دس دن سے زیادہ رکے ہوں اس کے لئے بھی یہی حکم جاری ہو گا. [2]

شرعی مسافت کا محاسبہ

شیخ حرعاملی نے اپنی کتاب وسائل الشیعہ کے باب الصوم میں اس بارے میں ٣٠ سے زیادہ حدیث جمع کی ہیں.[3]آئمہ معصومین(ع) کی احادیث میں شرعی مسافت کے محاسبہ کے لئے چند معیار ذکر ہوئے ہیں.

  1. اتنی مقدار کہ جسے قافلہ والے ایک دن میں طے کرتے ہیں.
  2. آٹھ فرسخ
  3. دو برید (دو منزل کے درمیان کا فاصلہ جو ایک ڈاکیا طے کرتا ہے)
  4. چوبیس میل

حدیث میں دو یا تین معیار اکٹھے ذکر ہوئے ہیں. امام رضا(ع) کی حدیث میں توضیح دی گئی ہے کہ آٹھ فرسخ وہی مقدار ہے جو قافلے والے ایک دن میں طے کرتے ہیں.[4]امام صادق(ع) کی روایت میں بریدن کو ٢٤ میل سے تطبیق دی ہے.[5]

کلو میٹر کا حساب

یہ کہ ہر شرعی فرسخ کتنے کلو میٹر ہے اس بارے میں شیعہ فقہاء کے چند نظریے ہیں، اسی لئے آٹھ فرسخ جو کہ وہی شرعی مسافت ہے اس کے بارے میں بھی نظر مختلف ہے: ٤٠ کلو میٹر [6]، ٤٣ کلو میٹر[7]، ٤٤ کلو میٹر[8]، اور ٤٥ کلو میٹر[9][10]

مسافت یا مسافت کا ارادہ

اکثر شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق ایک شخص پر مسافر کے احکام اس وقت جاری ہوتے ہیں کہ جب وہ ابتداء سے ہی ٨ فرسخ مسافت طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو لیکن اگر وہ بغیر ارادے کے اتنی مقدار مسافت کو طے کرے گا تو اس کی نماز پوری ہو گی اور روزہ بھی صحیح ہو گا. وہ ایسے شخص کی مانند ہے جو اپنی کسی گمشدہ چیز کی تلاش میں نکلا ہے اور ابتداء میں ارادہ نہیں کیا کہ کتنی مقدار میں شرعی مسافت کو طے کرے گا. [11]


حوالہ جات

  1. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۱۴
  2. فرهنگ فقه، ج۳، ص‌۲۴۵.
  3. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۸، ص‌۴۵۱-۴۶۲
  4. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۸، ص۴۵۱
  5. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج۸، ص۴۵۲
  6. آیت الله زنجانی کی نظر کے مطابق
  7. آیت الله ناصر مکارم شیرازی کی نظر کے مطابق
  8. آیات اعظام : خویی، تبریزی، وحید، سیستانی. کی نظر کے مطابق
  9. آیات اعظام : امام خمینی، اراکی، فاضل، گلپایگانی، صافی، بهجت، خامنه‌ای، نوری. کی نظر میں
  10. حکام مسافر، ص۲۳. بنی‌هاشمی، توضیح المسائل مراجع ۱/ ۶۸۳.
  11. یزدی، العروة الوثقی، ج۳، ص۴۲۳


مآخذ

  • بنی‌هاشمی‌، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، دفتر نشر اسلامی، قم.
  • حر عاملی، وسايل الشیعه، موسسه آل البیت، قم.
  • فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل بیت علیهم‌السلام. موسسه دایرة المعارف فقه اسلامی، قم، ۱۳۹۰ش.
  • مرکز ملی پاسخ‌گویی به سوالات دینی، احکام مسافر، انتشارات فراکاما.
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروه الوثقی مع تعلیقات عده من الفقهاء‌ العظام، موسسه النشر الاسلامی، قم، ۱۴۲۰ق.