مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:پیراہن عثمان

ویکی شیعہ سے

پیراہنِ عثمان، سے مراد عثمان بن عفان کا وہ خون آلود قمیص ہے جو 35ھ میں ان کے قتل کے بعد ان کے قصاص کی علامت اور معاویہ بن ابی سفیان کی جانب سے عثمان کے قتل[1] کو اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔[2]

تاریخی منابع کے مطابق عثمان کے قتل کے بعد عمرو بن عاص نے معاویہ کو مشورہ دیا کہ وہ اس واقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے آمادہ کریں اور عثمان کے قتل کی ذمہ داری علی بن ابی طالبؑ پر عائد کریں،[3] تاکہ شام والوں کو علیؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار آمادہ کر سکے۔[4] مورخین کے مطابق نعمان بن بشیر عثمان کا خون آلود پیراہن اور ان کی زوجہ نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں—جو عثمان کا دفاع کرتے ہوئے کٹ گئی تھیں—لے کر شام پہنچ گیا۔ معاویہ نے ان دونوں کو منبر پر آویزاں کر دیا۔[5] کہا جاتا ہے کہ عثمان کا پیراہن تقریباً ایک سال تک منبر پر آویزاں رہا۔ روایات کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں اہلِ شام میں سوگ کی فضا پیدا ہوگئی، عثمان کے قصاص کا نعرہ عام ہوا اور عوامی جذبات کو بڑے پیمانے پر ابھارا گیا۔[6] اہل سنت مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ معاویہ اور صحابہ و تابعین کے ایک گروہ نے اسی واقعے کو بنیاد بنا کر لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دی۔[7]

مورخین کے مطابق معاویہ ان افراد کے جواب میں جو اسے امام علیؑ کی بیعت کی دعوت دیتے تھے، یہ دعویٰ کرتا تھا کہ علیؑ عثمان کے قتل سے بری الذمہ نہیں ہیں اور اگر وہ اپنے آپ کو بے قصور سمجھتے ہیں تو پہلے عثمان کے قاتلوں کو اس کے حوالے کریں، اس کے بعد خلافت کے مسئلے پر بات چیت کی جائے گی۔[8] اس کے مقابلے میں امام علیؑ نے معاویہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: عثمان کے خون کا مطالبہ معاویہ کا حقیقی مقصد نہیں بلکہ یہ اقتدار اور دنیاوی مفادات کے حصول کا محض ایک بہانہ ہے۔[9]

پیراہن عثمان کا واقعہ بعض جزوی اختلافات کے ساتھ تاریخ الرسل والملوک،[10] تاریخ مدینۃ دمشق[11] اور البدایۃ والنہایۃ[12] سمیت متعدد تاریخی مصادر میں نقل ہوا ہے۔ ان روایات کے مطابق عثمان کے قصاص کے عنوان سے معاویہ کی تشہیری مہم نے لشکر شام کو امام علیؑ کے مقابلے میں صف آرائی اور آخرکار سنہ 37ھ میں جنگ صفین کے وقوع پذیر ہونے میں نمایاں کردار ادا کیا۔[13]

فارسی ادب میں پیراہن عثمان یا پیراہن عثمان کردن ایک معروف ضرب المثل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مراد کسی حق، مظلومیت یا واقعے کو سیاسی، سماجی یا ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بطور جواز یا ہتھیار استعمال کرنا ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج3، ص22؛ طبری، تاریخ الطبری، 1879ء، ج3، ص561۔
  2. شعراوی، تفسیر الشعراوی، 1991ء، ج11، ص6889۔
  3. دیکھیے: ابن مزاحم، وقعۃ صفین، 1370شمسی، ص60؛ دینوری، اخبار الطوال، 1371شمسی، ص194-198۔
  4. ابن طقطقی، الفخری فی الآداب السلطانیۃ والدول الإسلامیۃ، دار صادر، ص90۔
  5. طبری، تاریخ الطبری، 1879ء، ج3، ص561۔
  6. طبری، تاریخ الطبری، 1879ء، ج3، ص561۔
  7. ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 1407ھ، ج7، ص227۔
  8. ابن مزاحم، وقعۃ صفین، 1370شمسی، ص271۔
  9. دینوری، اخبار الطوال، 1373شمسی، ص163۔
  10. طبری، تاریخ الطبری، 1879ء، ج3، ص561۔
  11. ابن عساکر، تاریخ دمشق، 1415ھ، ج39، ص379۔
  12. ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 1407ھ، ج7، ص227۔
  13. ابن طقطقی، الفخری فی الآداب السلطانیۃ والدول الإسلامیۃ، دار صادر، ص90۔
  14. دہخدا، امثال و حکم، 1363شمسی، ج1، ص19، ذیلِ مادہ: «پیراہن عثمان کردن»۔

مآخذ

  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
  • ابن طقطقی، محمد بن علی، الفخری فی الآداب السلطانیۃ و الدول الإسلامیۃ، بیروت، دار صادر، بے تا۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینۃ دمشق و ذکر فضلہا و تسمیۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحیہا من واردیہا و أہلہا، بیروت، دار الفکر، 1415ھ۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایہ والنہایہ، بیروت، دارالفکر، 1407ھ/1986ء۔
  • ابن مزاحم، نصر، وقعۃ الصفین، ترجمہ پرویز اتابکی، تہران، انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، دوسری اشاعت، 1370ہجری شمسی۔
  • دہخدا، علی اکبر، امثال و حکم، تہران، امیرکبیر، 1363ہجری شمسی۔
  • دینوری، احمد بن داود، اخبار الطوال، تحقیق: عامر، محمد عبدالمنعم، شیال، جمال الدین، قم، منشورات الشریف الرضی، پہلی اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • شعراوی، محمد متولی، تفسیر الشعراوی، بیروت، اخبار الیوم ادارہ الکتب و المکتبات، 1991ء۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، تاریخ الامم و الملوک، لیدن، 1789ء۔