مسودہ:رہبر اسلامی جمہوریہ ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر، ایران کی اسلامی حکومت میں اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت اور آئین کے مطابق کابینہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ پر نظارت اور ملک کے اعلی سطحی فیصلوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ مقام فقہ امامیہ میں نظریہ ولایت فقیہ کے عنوان سے متعین ہوتا ہے؛ اس نظریے کے مطابق امام زمانہؑ کی غیبت کے دور میں اسلامی معاشرے کے عمومی نظم و نسق کی ذمہ داری ایک جامع الشرائط فقیہ کے سپرد کی جاتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں دفعہ 5، 107، 110 اور 177 میں رہبریت کے مبانی، شرائط، انتخاب کا طریقہ، وظائف و اختیارات اور اس کے مقام و مرتبے کو متعین کیا گیا ہے۔ رہبر کی شرائط میں اجتہاد، عدالت، تقویٰ، سیاسی و سماجی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور قیادت کے لئے ضروری اہلیت شامل ہیں۔ رہبر کا انتخاب، ان کی کارکردگی پر نگرانی اور ضرورت پڑنے پر رہبر کی معزولی مجلس خبرگان رہبری کی ذمہ داری ہے۔ سنہ 1368 ہجری شمسی کو آئین میں ترمیم کے دوران رہبر کے لئے مرجعیت کی شرط اور شورائے رہبری کا ڈھانچہ ختم کر کے ولایت مطلقہ فقیہ(فقہاء کی عمومی ولایت) کے تصور پر زور دیا گیا ہے۔
آئین کی دفعہ 110 کے مطابق رہبر کے فرائض اور اختیارات میں اسلامی حکومت کی بنیادی پالیسیوں کا تعین، مسلح افواج کی کمان، بعض اعلی عہدے داروں کی تنصیب اور معزولی، کابینہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو رفع کرنا اور نومنتخب صدر کے حکم کی توثیق شامل ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد امام خمینی، سید علی خامنہ ای اور سید مجتبی خامنہ ای بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے رہبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔
مقام و منزلت
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی دفعہ 5 کے مطابق امام زمانہ (عج) کی غیبت کے دوران اسلامی معاشرے کی قیادت اور رہبری جامع الشرائط فقیہ کے سپرد کی جاتی ہے۔[1] رہبر کو ایران کے اسلامی جمہوری نظام میں اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے[2] اور اسلامی حکومت کے تینوں اعلی اداروں انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے۔[3] اس مقام کی اہمیت اس کی ذمہ داریوں اور اختیارات کی وجہ سے ہے، جن میں حکومت کی بنیادی پالیسیوں کا تعین اور حکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا شامل ہیں۔[4]

بعض آئینی منابع میں ولایت فقیہ کو اسلامی جمہوری نظام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اور اس نظام اصل پہچان قرار دیا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق شیعہ اثنا عشری مذہب میں امامت کا تصور سیاسی نظام میں ولایت فقیہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔[5] ملک کے انتظامی امور کی نگرانی کے علاوہ، معاشرے کی معنوی رہنمائی اور حکومتی اداروں کی سرگرمیوں کی اسلامی قوانین سے مطابقت پر نگرانی کی ذمہ داری بھی رہبر کی ذمہ داریوں کے طور پر بیان کی گئی ہے۔[6]
ایران کے قائدین
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے 4 جون 1989ء تک امام خمینی[7] ان کے بعد 28 فروری 2026ء تک سید علی خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر رہے ہیں۔[8] سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، مجلس خبرگان نے 9 مارچ 2026ء کو سید مجتبی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا۔[9]
فقہی اور آئینی دلائل
اسلامی جمہوریہ ایران میں رہبریت نظریہ ولایت فقیہ پر قائم ہے۔[10] اس نظریہ کو فقہ امامیہ میں عقلی اور شرعی دلائل کی بنا پر ثابت کیا گیا ہے۔[11] اس نظریے کے مطابق امام زمانہؑ کی غیبت کے دوران حکومت اور اسلامی معاشرے کی انتظامی امور کی ذمہ داری جامع الشرائط فقیہ یا ولی فقیہ کے سپرد ہے۔[12]
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی دفعہ 177 کے مطابق رہبر کی ولایت اور قیادت کا مسئلہ آئین کے ان اصولوں میں شامل ہے جو ناقابل تغیر ہیں یہاں تک کہ ترمیم اور نظر ثانی کے موقع پر بھی ان میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ہے۔[13] بعض افراد آئینی منابع میں اس نکتہ کی طرف بار بار تاکید کو رہبر کے مقام قیادت و ولایت کی اہمیت کی نشانی سمجھتے ہیں۔[14] نیز دفعہ 57 میں جو تفکیک قوا کے اصول کے نام سے معروف ہے،[15] یہ بھی صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ انتظامیہ، پارلیمنٹ اور عدلیہ تینوں ادارے رہبر کی نگرانی میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں۔[16]
رہبریت کے شرائط
آئین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر میں درج ذیل شرائط کا ہونا ضروری ہے:
- فقہ کے مختلف ابواب میں فتویٰ دینے کے لئے علمی کا توانائی کا مالک ہونا، (اجتہاد)؛
- قیادت و رہبری کے لئے ضروری عدالت اور تقویٰ؛
- صحیح سیاسی اور سماجی بصیرت اور تدبیر، شجاعت اور رہبری کے لئے ضروری انتظامی صلاحیت۔[17]
یہ شرائط آئین کی دفعات 5 اور 107 میں بیان ہوئی ہیں۔[18] آئین میں صدارت کے برعکس، رہبریت کے لئے ایرانی شہریت کی شرط صراحت کے ساتھ بیان نہیں کی گئی ہے؛ البتہ بعض قانونی ماہرین صدارت جیسے عہدوں کے لیے قومی وابستگی کی ضرورت کے پیش نظر، اس شرط کو رہبریت کے لئے بھی بطریق اولیٰ ضروری سمجھتے ہیں۔[19]
آئین میں ترمیم
سنہ 1368 ہجری شمسی کو ایران کے آئین میں ترمیم کی گئی، اس بازنگری میں رہبریت کے حوالے سے دو اہم تبدیلیاں عمل میں آئیں:
- رہبریت کے لئے مرجعیت کی شرط کا خاتمہ: سنہ 1358 ہجری شمسی کے منظور شدہ آئین میں فتوا دینے کی اہلیت اور صلاحیت کے علاوہ مرجعیت بھی رہبریت کی شرائط میں شامل تھی، جسے اس ترمیم میں ختم کر دیا گیا۔[20] ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے بانی امام خمینی نے 9 اردیبہشت 1368ش کو آئینی بازنگری شورا کے سربراہ کو لکھے گئے ایک خط میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہ وہ شروع سے ہی مرجعیت کی شرط کے موافق نہیں تھے، ایک عادل مجتہد کو نظام کی سرپرستی کے لئے کافی قرار دیا۔[21] کہا جاتا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد فقاہت کے درجات میں کمی لانا نہیں بلکہ معاشرے کی انتظامی ضرورت کے پیش نظر، مرجعیت کی ترجیج کو "سیاسی اور انتظامی امور میں اعلمیت" کی طرف منتقل کیا گیا ہے تاکہ رہبر کے انتخاب کا دائرہ صرف مراجع تقلید تک محدود نہ رہے۔[22]
- شورائے رہبری کا خاتمہ اور ولایت مطلقہ فقیہ کا استحکام: مذکورہ بازنگری میں شورائے رہبری کے موضوع کو آئین سے حذف کر دیا گیا اور اس کی جگہ ولایت مطلقہ فقیہ کا عنوان رہبری کے فرائض و اختیارات میں شامل کر دیا گیا۔[23]
فرائض و اختیارات
آئین کی دفعہ 110 کے مطابق رہبر کے فرائض و اختیارات درج ذیل ہیں:
- مجمع تشخیص مصلحت نظام سے مشاورت کے بعد نظام کی بنیادی پالیسیوں کا تعین
- بنیادی پالیسیوں پر صحیح عمل درآمد پر نگرانی
- ریفرنڈم (Referendum) کا حکم
- مسلح افواج کی قیادت
- جنگ و صلح کا اعلان اور افواج کو متحرک کرنا
- شورائے نگہبان کے فقہا، چیف جسٹس، قومی نشریاتی داروں کے سربراہ، مشترکہ اسٹاف کے سربراہ، سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف اور اعلیٰ فوجی و انتظامی افواج کے کمانڈروں کی تقرری، معزولی اور استعفیٰ قبول کرنا
- انتظامیہ، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا حل اور ان کے تعلقات کو منظم کرنا
- مجمع تشخیص نظام کے ذریعے نظام کے مسائل کا حل
- عام انتخابات کے بعد نو منتخب صدر جمہوریہ کے حکم کا نفاذ
- ملک کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے صدر جمہوریہ کی معزولی
- سزا یافتہ افراد کی سزاوں میں تخفیف یا انہیں معاف کرنا[24]
- مجمع تشخیص مصلحت نظام کے اراکین، سیکرٹری اور سربراہ کی تقرری۔[25]
آئین کی دفعہ 57 کے مطابق نظام کے تینوں اداروں کو اپنے فرائض، رہبر کی نگرانی میں انجام دینے ہوں گے۔[26] آئین کی دفعات 5، 107 اور 110 بھی رہبر کی شرائط اور اختیارات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔[27] دفعہ 110 کے مطابق رہبر اپنے بعض فرائض و اختیارات کسی دوسرے شخص کو تفویض کر سکتا ہے۔[28]
انتخاب اور معزولی کا طریقہ
آئین کے مطابق رہبر کا انتخاب، معزولی اور ان پر نگرانی مجلس خبرگان رہبری کی ذمہ داری ہے۔[29]
انتخاب
رہبر کا انتخاب، عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ماہرین اور فقہاء کی کونسل ’’مجلس خبرگان رہبر‘‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔[30] انتخاب کا یہ طریقہ عام لوگوں کے لئے رہبر کی شرائط کی تشخیص کی دشواری کے پیش نظر، بالواسطہ طور پر انجام پاتا ہے۔[31] مجلس خبرگان علمی، سیاسی، سماجی معیارات اور عوامی مقبولیت کی بنیاد پر رہبر کی اہلیت رکھنے والے فقہا کا جائزہ لیتی ہے اور جس شخص کو مذکورہ شرائط کا حامل قرار پائے اسے بطور رہبر منتخب کر لیتی ہے۔[32]
معزولی اور برطرفی
اگر رہبر اپنے فرائض کی انجام دہی سے قاصر ہو جائے یا رہبر کی شرائط میں سے کوئی شرط ختم ہو جانے کی صورت میں اس کی تشخیص اور برطرفی مجلس خبرگان کی ذمہ دار ہے۔ نیز، رہبر کی وفات، استعفیٰ یا معزولی کی صورت میں، مجلس خبرگان نئے رہبر کے تعیین اور معرفی کرنے کی پابند ہے۔[33]
عبوری قیادت کونسل

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی دفعہ 111 کے مطابق رہبر کی وفات، استعفیٰ یا معزولی کی صورت میں عبوری قیادت کونسل جو صدر جمہوریہ، چیف جسٹس اور شورائے نگہبان کے فقہا میں سے ایک رکن (جو مجمع تشخیص مصلحت نظام کے انتخاب کردہ ہو) پر مشتمل ہوتی ہے، یہ کونسل وقتی طور پر رہبریت کے فرائض انجام دیتی ہے۔[34] نیز جب رہبر عارضی طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو اس صورت میں بھی یہ کونسل رہبر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے۔ پہلی بار سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد 9 اسفند 1404ش کو، اس شورا کا جلسہ منعقد ہوا اور 17 اسفند 1404ش کو سید مجتبی خامنہ ای کے بطور رہبر اسلامی جمہوریہ ایران منتخب ہونے تک رہبر کے فرائض انجام دیتی رہی۔ اس شورا کے اراکین میں مسعود پزشکیان (اس وقت کے صدر جمہوریہ)، غلام حسین محسنی اژہای (اس وقت کے چیف جسٹس) اور علی رضا اعرافی (رکن شورائے نگہبان) شامل تھے۔
جانشینی
18 آبان سنہ 1364 ہجری شمسی کو، امام خمینی کی جسمانی حالت کے پیش نظر، مجلس خبرگان رہبری نے حسین علی منتظری کو جانشین کے طور پر رہبر منتخب کیا۔[35] امام خمینی منتظری کے لئے احترام کے قائل ہونے کے باوجود،[36] انہیں رہبر کے منصب کے لئے موزوں نہیں سمجھتے تھے، لیکن انہوں نے مجلس خبرگان کے فیصلے کا احترام کیا اور اس کی مخالفت نہیں کی۔[37] البتہ، نظام کے مختلف معاملات میں منتظری کے موقف اور سید مہدی ہاشمی کے ان کے گھرانے سے تعلقات نے امام خمینی کو پریشان کیا اور انہوں نے اس بارے میں متنبہ کی۔[38] آخر کار امام خمینی نے فروردین 1368ش میں ایک خط کے ذریعے منتظری کی رہبر کے لئے نااہلی اور عدم مشروعیت کا اعلان کیا، اس اعلان کے بعد، منتظری نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا[39] اور اس کے بعد رہبر کی جانشینی کا عہدہ ختم کردیا گیا۔[40]
حوالہ جات
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 5.
- ↑ عمید زنجانی، کلیات حقوق اساسی، 1385شمسی، ص276؛ نوروزی و باقری، «بررسی و تحلیل جایگاہ رہبری در نظام جمہوری اسلامی ایران»، فصلنامہ پژوہشہای انقلاب اسلامی.
- ↑ جوان آراستہ، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1399شمسی، ص90.
- ↑ نوروزی و باقری، «بررسی و تحلیل جایگاہ رہبری در نظام جمہوری اسلامی ایران»، فصلنامہ پژوہشہای انقلاب اسلامی.
- ↑ عمید زنجانی، کلیات حقوق اساسی، 1385شمسی، ص194.
- ↑ نوروزی و باقری، «بررسی و تحلیل جایگاہ رہبری در نظام جمہوری اسلامی ایران»، فصلنامہ پژوہشہای انقلاب اسلامی.
- ↑ «قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران»، 1397شمسی، اصل 107.
- ↑ «روایت یک انتخاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای.
- ↑ «رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رہبری تعیین و معرفی شد»، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری.
- ↑ عمید زنجانی، کلیات حقوق اساسی، 1385شمسی، ص276.
- ↑ عمید زنجانی، کلیات حقوق اساسی، 1385شمسی، 277-280.
- ↑ ملاحظہ کریں: شیخ انصاری، مکاسب، 1415ق، ج3، ص545؛ منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ، 1409ق، ج1، ص11؛ جوادی آملی، ولایت فقیہ ولایت فقاہت و عدالت، 1378شمسی، ص129.
- ↑ جوان آراستہ، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1399شمسی، ص96.
- ↑ جوان آراستہ، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1399شمسی، ص95.
- ↑ جوان آراستہ، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1399شمسی، ص99.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 57.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 109.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 107.
- ↑ ہاشمی، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1385شمسی، ج2، ص35.
- ↑ «قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران»، وبگاہ مرکز پژوہشہای مجلس شواری اسلامی.
- ↑ امام خمینی، صحیفہ نور، 1389شمسی، ج21، ص371.
- ↑ ہاشمی، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1385شمسی، ج2، ص46.
- ↑ «بازنگری قانون اساسی»، پرتال امام خمینی.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 110.
- ↑ متن کامل قانون اساسی، 1388شمسی، ص64، اصل 112؛ مجیدی، آشنایی با قانون اساسی، 1389شمسی، ص278.
- ↑ عمید زنجانی، کلیات حقوق اساسی، 1387شمسی، ص279.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصول 5، 107، 110.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 110.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصول 107و111.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 107.
- ↑ ہاشمی، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1385شمسی، ج2، ص73.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 107.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 111.
- ↑ قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1397شمسی، اصل 111.
- ↑ ہاشمی رفسنجانی، امید و دلواپسی، 1387شمسی، ص318.
- ↑ امامخمینی، صحیفہ نور، 1389شمسی، ج21، ص334.
- ↑ امامخمینی، صحیفہ نور، 1389شمسی، ج21، ص331و334.
- ↑ امامخمینی، صحیفہ نور، 1389شمسی، ج20، ص136-138؛ محمدی ریشہری، خاطرہہا، 1388شمسی، ج4، ص89.
- ↑ امامخمینی، صحیفہ نور، 1389شمسی، ج21، ص333و334.
- ↑ ہاشمی رفسنجانی، امید و دلواپسی، 1387شمسی، ص325.
مآخذ
- امام خمینی، سید روحاللہ، صحیفہ نور، تہران، مؤسسہ حفظ و نشر آثار امام خمینی، 1389ہجری شمسی۔
- «بازنگری قانون اساسی»، پرتال امام خمینی، تاریخ مشاہدہ مطلب: 20 فروری 2026ء۔
- جوادی آملی، عبداللہ، ولایت فقیہ، ولایت فقاہت و عدالت، قم، مرکز نشر اسراء، 1378ہجری شمسی۔
- جوان آراستہ، حسین، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، قم، دارالحدیث، 1399ہجری شمسی۔
- «روایت یک انتخاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای، تاریخ درج مطلب: 5 جون 2009ء، تاریخ مشاہدہ مطلب: 20 فروری 2026ء۔
- شیخ انصاری، مرتضی، مکاسب، قم، کنگرہ شیخ اعظم انصاری، 1415ق.
- عمید زنجانی، عباسعلی، کلیات حقوق اساسی، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1385ہجری شمسی۔
- قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، تہران، پژوہشکدہ شورای نگہبان، 1397ہجری شمسی۔
- محمدی ریشہری، محمد، خاطرات، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1388ہجری شمسی۔
- منتظری، حسینعلی، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیہ، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1408ھ۔
- نوروزی، محمدجواد و باقری، علیاکبر، «اسلامی جمہوری نظام میں رہبر کے مقام پر تحقیق»، فصلنامہ اسلامی انقلاب کی تحقیقات، شمارہ3، زمستان 2012ء۔
- ہاشمی رفسنجانی، اکبر، کارنامہ و خاطرات، سال 1364، امید اور پریشانی، (بہ اہتمام سارا لاہوتی)، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، 1387ہجری شمسی۔
- ہاشمی، سید محمد، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، تہران، نشر میزان، 1385ہجری شمسی۔
- «اسلامی انقلاب کے نئے رہبر مجلس خبرگان رہبری کے توسط سے منتخب اور اس کا اعلان کیا گیا»، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری، تاریخ درج مطلب: 9 مارچ 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 1 اپریل 2026ء۔