مسودہ:خلیفہ کا قریشی ہونا
خلیفہ کا قریشی ہونا، اہل سنت کے بعض علما کے نزدیک خلافت کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔[1] تاریخِ خلافت میں بھی اس شرط پر خاص توجہ دی گئی ہے؛ چنانچہ خلفائے راشدین اور بنی امیہ اور بنی عباس کے تمام خلفا قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔[2] جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں عبیدی خلفا، یعنی خلفائے فاطمیہ، کو قریشی النسب نہ ہونے کی بنا پر خلفا کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔[3] اسی طرح حدیث اثنا عشرہ خلیفہ میں حضرت محمدؐ اپنے بعد بارہ خلفا اور اس سب کو قریش میں سے قرار دیا ہے۔[4] اہل سنت کے بیشتر متکلمین نے حدیث «الائمۃ من قریش» (ائمہ قریش میں سے ہوں گے) سے استدلال کرتے ہوئے قریشی النسب ہونے کو خلافت کی شرط قرار دیا ہے۔[5]
بعض علما نے اس شرط کی حکمت پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ہونے کی بنا پر متبرک ہونے اور قریش کے سماجی مرتبے اور قبائلی طاقت سے بہرہ مند ہونا قرار دیا ہے، کیونہ عرب قبائل میں قریش کو نمایاں مقام حاصل تھا اور دوسرے قبائل بھی ان کی برتری تسلیم کرتے تھے۔ اس بنا پر اگر خلیفہ غیر قریشی ہوتا تو دوسرے قبائل کی طرف سے اطاعت سے انکار کرنے اور باہمی اختلافات پر قابو پانے میں ناکام ہونے کا خدشہ ہوسکتا تھا۔[6]
ابن خلدون نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں سقیفہ بنی ساعدہ میں صحابہ کے اجماع کو خلیفہ کے قریشی ہونے کی شرط کے لئے بطور دلیل پیش کیا ہے۔[7] شیعہ تاریخ نگار مہدی پیشوائی کے مطابق یہ شرط پہلی مرتبہ سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے میں انصار کو خلافت سے محروم رکھنے کے لئے پیش کی گئی تھی۔[8] ابن خلدون کے مطابق بھی انصار اور ان کے سردار سعد بن عبادہ کو خلافت سے دور رکھنے کے لئے «حدیث الائمۃ من قریش» سے استدلال کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں قریش کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی آنے، عیش و عشرت کے باعث ان کے قبائلی تعصبات ماند پڑنے اور حکومتی معاملات غیر عرب حکمرانوں کے ہاتھوں میں آنے کے بعد اہل سنت کے بعض متکلمین، مثلاً ابوبکر باقلانی نے خلیفہ کے قریشی ہونے کی شرط پر شک و تردید کا اظہار کیا اور رسول اکرمؐ سے منقول بعض احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اس شرط کی نفی کی۔[9] البتہ ابن خلدون کا کہنا ہے کہ اہل سنت کی اکثریت بدستور خلافت کے لئے قریشی ہونے کی شرط کو قبول کرتی ہے۔[10] بعض محققین کے مطابق سقیفہ میں خلیفہ کے قریشی ہونے پر اصرار نے خلافت کے مبانی میں قبائلی ظرز فکر کو شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔[11]
شیعہ علما اسلامی معاشرے کی دینی اور دنیوی قیادت کو پیغمبر اکرمؐ کی نیابت میں ایک الٰہی منصب قرار دیتے ہیں۔[12] ان کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی احادیث میں واضح طور پر شیعہ ائمہؑ کی معرفی کی گئی ہے۔ اگرچہ شیعوں کے تمام ائمہ جنہیں وہ اللہ تعالی کی جانب سے منصوب شدہ اور پیغمبر اکرمؐ کے ذریعے معرفی شدہ قرار دیتے ہیں، سب کے سب قریش سے تعلق رکھتے ہیں،[13] لیکن شیعہ عقیدے کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ قریش کو محض اپنے نسب کی بنا پر خلافت اور امامت میں دوسروں پر برتری حاصل ہو۔[14] چنانچہ نہج البلاغہ میں امام علیؑ سے منقول ہے کہ صرف قریشی ہونا خلافت اور امامت میں قریش کی برتری کی دلیل نہیں ہے۔[15]
بعض مآخذ کے مطابق معتزلہ اور خوارج کی اکثریت بھی خلیفہ کے قریشی ہونے کو ضروری نہیں سمجھتی۔ ان کے نزدیک ہر مسلمان، خواہ عرب ہو یا عجم، قریشی ہو یا غیر قریشی، اگر متقی ہو اور شرعی احکام نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو خلافت کا منصب سنبھال سکتا ہے۔[16]
حوالہ جات
- ↑ بغدادی، اصول الدین، ص277۔
- ↑ پیشوائی، «پیروزی نظریہ حاکمیت قریش»، ص8۔
- ↑ پیشوائی، «پیروزی نظریہ حاکمیت قریش»، ص8؛ ملاحظہ کیجئے: سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص616۔
- ↑ شیخ صدوق، الخصال، ج2، ص469–476؛ شیخ طوسی، کتاب الغیبۃ، ص128–133؛ بخاری، صحیح البخاری، ج9، ص81۔
- ↑ نیشاپوری، صحیح مسلم، ج3، ص1451–1453؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج5، ص244؛ بغدادی، اصول الدین، ص277۔
- ↑ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج1، ص244۔
- ↑ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج1، ص242۔
- ↑ پیشوائی، «پیروزی نظریہ حاکمیت قریش»، ص7–8۔
- ↑ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج1، ص242–243۔
- ↑ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ج1، ص243۔
- ↑ میرابوالقاسمی، «خلافت»، ج15، ص792۔
- ↑ علامہ حلی، باب الحادی عشر، ص39–40؛ امیرخانی، «نصّ»، ص333۔
- ↑ ابن میثم بحرانی، النجاۃ فی القیامۃ، ص69؛ کرمانی، المصابیح فی إثبات الإمامۃ، ص111؛ سبحانی، خدا و امامت، ص22۔
- ↑ پیشوائی، «پیروزی نظریہ حاکمیت قریش»، ص20۔
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 144، ص201۔
- ↑ اشعری، مقالات الاسلامیین، ص461–462؛ بغدادی، الفرق بین الفرق، ص13۔
مآخذ
- نہج البلاغۃ، تصحیح: صبحی صالح، قم، ہجرت، 1414ھ۔
- ابنخلدون، عبدالرحمن بن محمد، تاریخ ابنخلدون، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دار الفکر، 1408ھ/1988ء۔
- ابنمیثم بحرانی، میثم بن علی، النجاۃ فی القیامۃ فی تحقیق أمر الإمامۃ، قم، مجمع الفکر الاسلامی، 1417ھ۔
- اشعری، علی بن اسماعیل، مقالات الإسلامیین و اختلاف المصلین، مصحح: ریتر ہلموت، بیروت، دار النشر فرانز شتاینر، 1400ھ۔
- امیرخانی، علی، «نصّ»، در کتاب (مجموعہ مقالات) معارف کلامی شیعہ؛ کلیات امامت، قم، ادیان و مذاہب یونیورسٹی پبلشرز، تہران، جامعات میں اسلامی علوم کی کتابوں کے مطالعے اور تدوین کا ادارہ (سمت)، 2014ء۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق محمد زہیر بن ناصر الناصر، دار الطوق النجاۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- بغدادی، عبدالقاہر بن طاہر، اصول الدین، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1401ھ۔
- بغدادی، عبدالقاہر بن طاہر، الفرق بین الفرق، بیروت، دارالجیل، 1408ھ۔
- پیشوایی، مہدی، «پیروزی نظریہ حاکمیت قریش»، تاریخ تحقیق کے آئینے میں، شمارہ3، خزاں 2014ء۔
- تفتازانی، مسعود بن عمر، شرح المقاصد، محقق عبدالرحمن عمیرہ، قم، الشریف الرضی، 1412ھ۔
- سبحانی، جعفر، خدا و امامت، قم، دفتر اسلامی تبلیغاتی حوزہ علمیہ قم، 1362ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1362ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، کتاب الغیبۃ، قم، دار المعارف الإسلامیۃ، 1411ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، الباب الحادی عشر، شارح فاضل و ابوالفتح بن مخدوم جرجانی، ابوالفتح بن مخدوم، محقق: مہدی محقق، مشہد، آستان قدس رضوی. 1370ہجری شمسی۔
- کرمانی، أحمد بن عبداللہ، المصابیح فی إثبات الإمامۃ، بیروت، موسسۃ النور للمطبوعات، 1429ھ۔
- میرابوالقاسمی، رقیہ، «خلافت»، دانشنامہ جہان اسلام، ج15، تہران، بنیاد دائرۃالمعارف اسلامی، 1390ہجری شمسی۔
- نیسابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبدالباقی، قاہرہ، مطبعۃ عیسی البابی الحلبی وشرکاہ، 1374ھ۔