صارف:Hakimi/تختہ مشق2
آستانِ قُدسِ رضوی ایک بڑا، غیر سرکاری انتظامی اور خدماتی ادارہ ہے جو حرمِ امام رضا علیہ السلام، اس کے املاک و موقوفات اور اس سے وابستہ اداروں و تنظیموں کا انتظام سنبھالتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آستانِ قدس کا ڈھانچہ کم از کم صفویہ دور سے موجود ہے، اور یہی آستانِ قدس کے دیوانی نظام کی توسیع اور استحکام کا زمانہ تھا۔ دورِ قاجار میں آستانِ قدس انتظامی اور مالی اصلاحات سے گزرا، لیکن بعض ادوار میں سیاسی ابتری کے باعث اس کا نظام کمزور بھی ہوا۔ رضا پہلوی اور محمد رضا پہلوی کے دور میں آستان قدس کے انتظامی نظام میں تبدیلی کے لیے کئی کوششیں کی گئیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آستان کی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت اور تیزی آگئی۔
بعض تاریخی منابع کے مطابق آستانِ قدس رضوی کے مختلف ادوار میں مختلف منصب اور اصطلاحات کی تخلیق ہوئی۔ ان عہدوں میں آستان کے متولی، نائب متولی اور خادمین شامل ہیں، جبکہ اصطلاحات میں کام کی شیفٹ اور تشریفات (پروٹوکول) کا ذکر ملتا ہے۔ آستانِ قدس کے ذیلی خدماتی اداروں میں دارالشفا (ہسپتال) اور مہمان سرا (مہمان خانہ) شامل ہیں، جن کی بنیاد صفوی دور میں رکھی گئی ہے۔
آستانِ قدس کا قدیم ترین اور نمایاں ثقافتی حصہ اس کا کتاب خانہ ہے، جو نویں صدی ہجری سے لے کر دورِ قاجاریہ تک ایک خود مختار اور منظم ادارے کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ دورِ پہلوی میں آستان کی مذہبی سرگرمیوں محدود ہوگئیں، لیکن ثقافتی کردار کتاب خانے، عجائب گھر اور تعلیمی و تحقیقی پروگراموں کی توسیع سے مضبوط ہوا۔ دورِ جمہوری اسلامی میں آستان کی ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ ادارے آستان کی ثقافتی سرگرمیوں پر کام کرتے ہیں، جن میں مؤسسۂ کتاب خانہ، عجائب خانۂ ملّی ملک اور بنیادِ پژوهشهای اسلامی (اسلامی تحقیقاتی ادارہ) شامل ہیں۔
کہا گیا ہے کہ آستانِ قدس رضوی اپنا مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے خدمات (سرویسز)، صنعت و معدنیات، زراعت اور عمرانیات کے تین بنیادی شعبوں میں وسیع اقتصادی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ ایک شماریاتی رپورٹ کے مطابق ۸۴ کمپنیاں آستان قدس رضوی کے زیرِ نگرانی کام کر رہی ہیں اور ان کے ماتحت اداروں میں ۱۲ ہزار سے زیادہ افراد ملازم ہیں؛ جن میں شرکتِ نفت و گاز رضوی (رضوی گیس اور تیل کمپنی) اور شرکتِ نان رضوی شامل ہیں۔
تعارف، حیثیت اور مقاصد
آستانِ قدس رضوی ایک بڑا غیر سرکاری انتظامی اور خدماتی ادارہ ہے جو حرمِ امام رضاؑ، اس کے املاک، موقوفات اور وابستہ اداروں کا انتظام سنبھالتا ہے۔ اس ادارے کی ایک قدیم انتظامی ساخت ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا ڈھانچہ، عہدے اور رسومات، ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔
شیعہ محقق عزیزاللہ عطاردی کے مطابق، آستانِ قدس رضوی، تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیشہ خود مختار ادارہ رہا ہے اور حکومتی مداخلت اس میں نہیں ہوتی تھی اور اس کے دفتری، انتظامی اور خدماتی امور آستان کے کارگزاروں کے ذریعے ہی انجام پاتے تھے، اور آستان قدس کے متولی صرف ملک کے حاکم کے سامنے جواب دہ ہوتے تھے اور حکومتی دیگر عہدیداروں کو آستان کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں تھا۔ جیسا کہ سنہ ۱۲۷۴ ہجری کے ایک روسی سیاح کے سفرنامے میں بھی آستانِ قدس کا حکومت سے خود مختار ہونے کا ذکر آیا ہے اور اسے “حکومت کے اندر ایک حکومت” کہا گیا ہے۔
کہا گیا ہے کہ “آستانِ قدسِ رضوی” کی اصطلاح صفوی دور کے ابتدائی سالوں میں رائج ہوئی، اور حرم کے مقامات کے لیے استعمال ہونے لگی ہے؛ لیکن اس کا عام استعمال بعد کے ادوار میں زیادہ رائج ہوا ہے۔ اس سے قبل “روضۂ مقدسۂ رضویہ“، “آستانِ روضۂ منوّره“، “آستانِ مقدس“ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی تھیں۔
ڈھانچہ
آستانِ قدسِ رضوی کے دفتری ڈھانچے کی تاریخی، صفویہ دور سے ملتی ہے، اور صفویہ کے بعد مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کے دور تک یہ ساخت بدلتی اور پھیلتی رہی ہے۔
صفویوں سے پہلے
آستان قدس کے محقق علی مؤتمن کے مطابق، صفوی دور سے قبل حرمِ امام رضاؑ کے اداروں اس کے انتظامی ڈھانچے کے بارے میں قابلِ اعتماد اور مستند معلومات کم یاب ہیں۔ تاہم، شیخ صدوق کی ایک کتاب کی بنیاد پر، حرم کے انتظامی امور کی مدیریت کے لئے ابتدائی ڈھانچہ امام رضاؑ کا مقبرہ ہارونیہ میں دفن کے قریب کا دور بتایا گیا ہے؛ کہا گیا ہے کہ اس دور میں حرم کے لیے خادم موجود تھے جو مقررہ وقت پر رات کو حرم کے دروازے بند اور دن میں کھولتے تھے۔
یہ بھی بیان ہوا ہے کہ تیسری صدی ہجری سے دورِ صفویہ تک آستانِ قدسِ رضوی کا انتظام نقبائے ساداتِ زیدی، موسوی اور رضوی کے زیرِ نظر تھا، اور اگرچہ اس زمانے میں ادارے کا انتظامی ڈھانچہ سادہ تھا، لیکن رفتہ رفتہ، خصوصاً تیموریوں کے دور میں، اس میں وسعت پیدا ہوئی اور اہل سنت دوازدہ امامی ادیب اور فقیہ فضل بن روزبہان خُنْجِی، کے بیان کے مطابق سنہ ۹۱۱ھ میں آستانِ قدس ایک منظم اور مستقل تشکیلات کا حامل ادارہ بن چکا تھا۔
صفویوں سے افشاریوں تک
کہا جاتا ہے کہ آستان قدس رضوی کی تیموری دور کی محدود مگر ترقی پذیر ساختار، دسویں صدی ہجری کے آغاز میں صفوی دور میں داخل ہوئی۔ تشیع ایک رسمی مذہب بننے کے بعد، حکومت کی توجہ آستانِ قدس کی طرف بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں زائرین کی تعداد اور مالی وسائل میں اضافہ ہوا، اور تشکیلات میں وسعت آئی۔
صفوی پہلا شاہ طہماسب کے دور میں، جو ایران کے دیوانی نظام کی مضبوطی کا زمانہ مانا جاتا ہے، آستانِ قدس کے دیوانی معاملات بھی مستحکم ہوئے۔ کہا گیا ہے کہ اسی دور، بالخصوص سنہ ۱۰۱۰ھ سے منظم ڈیوٹی کی تشکیل کے شواہد ملتے ہیں۔ بعد میں صفوی دور کے دیوانی متون دستور الملوک میرزا رفیعا میں آستان کی وسیع خدمات اور مستحکم انتظام کا ذکر ملتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ نادر شاہ افشار کے آخری پانچ برسوں میں آستان کا انتظامی ڈھانچہ کمزور پڑ گیا کیونکہ نادر نے آستان پر ڈیوٹی کی باریوں کی تعداد پانچ سے تین کر دی تھی۔
قاجاریہ
قاجاری شاہانِ اول تا سوم؛ آقا محمد خان، فتح علی شاہ اور محمد شاہ نے آستان کے انتظامی امور کو بہتر کرنے کی کوششیں کیں، لیکن بسا اوقات یہ اقدامات شورشوں کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ سنہ 1264ھ کو ناصرالدین شاہ کی حکومت کے آغاز کے ساتھ خراسان میں امن کافی بہتر ہوا اور آستان میں انتظام و رونق واپس آئی۔
عطاردی کے مطابق، دورِ ناصری میں آستان کے متولی عضد الملک قزوینی نے سنہ ۱۲۷۳ھ تک موقوفات کا مفصل طومار (طومارِ عضدالملک) تیار کیا جس میں خدام کی تعداد چالیس، بیس فراش، پانچ جوتے رکھنے والی جگہے (کفشداری)، تین مؤذن اور ۲۲ دربان کا ذکر ہے۔ تقریباً دس سال بعد (۱۲۸۳ھ)، آستان کے سرکاری و غیر سرکاری خادمین، اشراف اور حکومتی کارگزاروں کی تعداد ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اسی طرح پہلی مرتبہ آستان کا باقاعدہ نظام نامہ اس وقت کے متولی محمد تقی میرزا رکن الدولہ نے تیار کیا۔
کہا جاتا ہے کہ انقلابِ مشروطہ کے بعد سنہ ۱۳۲۵ھ میں، آستان کے امور وزارتِ معارف و اوقاف کے حوالے ہوئے۔ 27 ذوالقعدہ سنہ ۱۳۲۹ھ میں آستان کے امور کی اصلاح کے لئے اس وزارت نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق آستان کے متولی کی تقرری شاہ کی اجازت اور مجلسِ شورای ملی کے ذریعے وزارتِ اوقاف کے ماتحت کی گئی، اور نایِبُ التُّولیَّہ کو داخلی انتظام اور اموال کی حفاظت پر مامور کیا گیا۔
مؤتمن کے مطابق، قاجاری دور کے اواخر میں ایران کی عمومی بدحالی کے اثرات آستان کی انتظامی کمزوری پر بھی پڑے اور بعض املاک دوسرے لوگوں کے قبضے میں چلے گئے۔
پہلوی دور
بعض مآخذ کے مطابق، پہلوی پہلا اور دوسرا بادشاہ کے دور میں آستان کی انتظامی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ حرم کے کارگزار اور محقق محمد احتشام کاویانیان کے مطابق، اس دور میں شاہ کو تولیتِ عُظمیٰ کہا گیا اور متولی باشی کا عہدہ نائب التولیہ عُظمی میں بدل دیا گیا۔
مؤتمن کے مطابق، اس دور کے پہلے نائب التولیہ، محمد ولی اسدی (۱۳۰۴–۱۳۱۴شمسی)، نے اصلاحات کرتے ہوئے خدام کی تعداد کم کی، آستان کا پہلا جدید بجٹ نئے طرز پر بنا دیا، اور پرانی تشکیلات، القاب اور عہدوں کو ختم کرکے نیا نظام نامہ مرتب کیا۔ اس نظام نامهٔ اساسی آستانه کو (۱۶ مرداد ۱۳۰۵ش) نافذ کرتے ہوئے نائب التولیہ کے سپرد کر دیا۔ بعد میں فتح الله پاکروان (فعالیت: ۱۳۱۴–۱۳۲۰شمسی) کے دور میں موروثی خدمت کا طریقہ ختم ہوا، کشیکوں کی طاقت محدود ہوئی اور تشریفات کا ادارہ حرم میں داخلی نظم و ضبط کا ذمہ دار بنا۔
پہلوی بادشاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں ہونے والے چند اہم اصلاحات درج ذیل ہیں:
- سنہ ۱۳۲۱ شمسی میں خدام کی ناراضی پر کشیکوں کا نظام دوبارہ بحال کیا گیا، مگر انضباطی امور تشریفات کے سپرد ہوئے؛
- سنہ ۱۳۲۸ شمسی میں آستان کے لیے نئی ضروریات کے تحت کچھ قوانین تدوین اور تصویب ہوئے جسے آیین نامهٔ سازمان و خدمات آستان نام دیا گیا؛
- سنہ ۱۳۴۱شمسی، عوامی درخواستوں اور شکایتوں کی رسیدگی کے لیے کچھ کمیٹیاں بنائی گئیں؛
- سنہ ۱۳۴۴ تا ۱۳۴۶ شمسی کے دوران، کتاب خانہ، خزانہ، عجائب گھر، تشریفات اور خدام کی نگرانی کے لیے مدیریتِ کل حوزهٔ حرم قائم ہوا؛
- سنہ ۱۳۴۶ اور ۱۳۴۷شمسی میں ایک بار پھر سے آستان قدس کے نظام نامہ کی تدوین اور تحقیق ہوئی؛
- سنہ 1350 شمسی کی دہائی کی ابتدا میں سازمان برنامهٔ کشور (ملکی مدیریت کا ادارہ) نے آستان کے لیے نیا تنظیمی ڈھانچہ وضع کیا؛ جس کے سربراہ نائب التولیہِ عُظمی اور اس کا قائم مقام تھا، اور اس کے تحت چار شعبے تھے جن مدیریت، پلانینگ و تعلیم، فنانس اور ٹیکنیکی امور اور املاک شامل تھے۔
اسلامی انقلاب کے بعد کا دور
کہا جاتا ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آستانِ قدسِ رضوی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ اور تیزی آئی۔ اس دور کی ایک اہم تبدیلی یہ تھی کہ آستان کے امور کی نگرانی کے لیے تولیت کے انتخاب کا نظام قائم ہوا اور نائب التولیہ کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔ اس تبدیلی کو آستان کی انتظامیہ کی مزید خودمختاری اور تولیت کے نمائندے کے عنوان سے اس کا جانشین کی تقویت کا سبب سمجھا گیا ہے۔
بعض رپورٹوں کے مطابق، اس دور میں حرم کی توسیع اور اس دور میں حرم کا 24 گھنٹے کھلا رہنے کی وجہ سے اس میں کشیکوں (خدمات کی باریوں) کی تعداد کو بڑھا کر آٹھ باریاں کر دی گئی، جس سے ہر کشیک کے عملے میں بھی اضافہ ہوا۔
موجودہ منابع کے مطابق، دورِ جمہوری اسلامی میں تولیتِ آستان قدس، ہیئتِ امناء، اور شورائے انقلاب فرهنگی سے مشورے کے بعد آستان کی کلان پالیسیوں اور اعلیٰ مدیران کا تعین کرتا ہے۔ آستان قدس کا مرکزی ادارہ تولیت کے قائم مقام کے زیرِ نظر کام کرتا ہے اور اس کے چھ شعبے ہیں: ۱. معاونتِ توسعهٔ مدیریت و پشتیبانی، ۲. معاونتِ تبلیغات و ارتباطات اسلامی، ۳. معاونتِ امور حقوقی و موقوفات، ۴. معاونتِ املاک و اراضی، ۵. معاونتِ اماکن متبرکه و امور زائران، ٦. معاونتِ فنی و عمران موقوفات۔
اسی بنیاد پر، آستان کا مرکزی ادارہ بھی قائم مقام تولیت کے زیرِ نظر چلتا ہے۔ اس ادارے کے تحت درج ذیل پانچ شعبے کام کرتے ہیں:
- مدیریتِ حسابرسی داخلی و ممیزی،
- مدیریتِ نظارت و بازرسی و رسیدگی به شکایات،
- مدیریتِ دفتر مرکزی تهران،
- مدیریتِ حراست،
- مدیریتِ اراضیِ حریمِ حرم امام رضا(ع).
اسی طرح شورائے توسعهٔ مدیریت و سرمایهٔ انسانی، شورای فناوری اطلاعات و ارتباطات، مشاوران، کمیسیون مشارکتها و عمران موقوفات بھی قائم مقام تولیت کے زیرِ نظر کام کرتے ہیں۔
دیگر شعبوں میں ادارۂ کل روابط عمومی، نذورات کل، دبیرخانهٔ کل، خزانهداری کل اور سلیکشن سنٹرل بورد شامل ہیں۔
مشاغل اور اصطلاحات
بعض مآخذ میں آستانِ قدس کے مختلف ادوار میں رائج مشاغل اور مخصوص اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے۔
تولیت اور نیابتِ تولیت
تولیت سے مراد آستانِ قدسِ رضوی اور اس کی موقوفات کی سربراہی، اور حرمِ امام رضاؑ کے انتظام کی ذمہ داری کسی اہل شخص کے سپرد کرنا ہے۔ بعض منابع کے مطابق، آغاز ہی سے آستان کا متولی موجود تھا اور مختلف ادوار میں حرم کی تولیت بادشاہوں یا حکمرانوں کے اختیار میں رہی ہے، اور وہ کسی شخص کو اپنا نائب (نائب التولیه) مقرر کرتے تھے۔
خادمین
آستان قدس رضوی کے وہ مشاغل جو حرمِ مطہر سے تعلق رکھتے ہیں، مجموعی طور پر انہیں خدمہ یا خادمین کہلاتے ہیں۔ خدمہ، حرم کے وہ خادم ہیں جو مقررہ آداب اور روایات کے مطابق بقعۂ مبارک، رواقوں، صحنوں، کفشداریوں اور دیگر مقامات میں خدمت انجام دیتے ہیں۔
بعض منتشر تاریخی اطلاعات کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ امام رضاؑ کی شہادت کے ابتدائی سالوں سے دسویں صدی ہجری تک حرم میں خادم ہوتے تھے۔ قاجاری دور کی ایک روایت کے مطابق، سنہ ۱۳۰۰ھ میں خدمۂ حرم کی تعداد ۱۲۰۰ تھی۔
انقلابِ اسلامی کے بعد حرم کی توسیع اور زائرین میں اضافے کے ساتھ خادمان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ سنہ ۱۳۹۳ شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، حرم کے خادمین آٹھ شیفٹوں میں، سرکاری، افتخاری اور تشرفی حیثیت سے مقرر ہیں اور یہ سب مدیریتِ امور خدمه کے زیرِ نظر کام کرتے ہیں۔ سنہ ۱۳۹۷ شمسی کے مطابق، خادمین، مکان اور حیثیت کے مطابق مختلف اقسام کے ہیں جن میں خادم، فَرّاش، حافظ (حُفّاظ)، کفشدار، دربان، خادمِ علمی اور خادمِ فرهنگی شامل ہیں۔
دوسرے ملازمین
خدمہ کے علاوہ، ہر تاریخی دَور میں آستان میں مختلف دیگر ملازم بھی رہے ہیں جیسے:
دورِ صفویہ: مستوفی، بیمار دار، حکیم، مهمان دار، سرکار عمارت، صاحب نسق، کتاب دار، سقا، توپچی، علمدار، سفره چی، طباخ، پیش خدمت، قصاب، مُطَهِّر، بنا، بیل دار، باغبان، نجار، چاه خو (مقنی)، سقا، جاروکش۔
دورِ افشاریہ: ناظر کل، مستوفی، هم قلم، دفتر کے محرر، طبیب، تحویل دار، یساول، ضابط نذورات، کشیک نویس، صاحب جمع شمع خانه، مشعلدار، سفره چین باشی، شربت دار، کتابخانہ کا کلید دار، صحاف، مصحح، طباخ، سقاباشی، بخورسوز، بنا، بیلدار، خاکش۔
دورِ قاجاریہ: ناظر کل، ناظم کل، قائم مقام، وزیر اعظم، امین کل، ضابط اسناد، سررشتهدار، براتنویس، محرر اجارات، منجمباشی، ملکالشعراء، معاونالفقراء، کشیکنویس، ایشیکآقاسیباشی، صاحبنسق، مدیر املاک، ضابط املاک، مشیر املاک، ناظم موقوفات، تحویلدار، ساعتساز، روضہخوان، نوابالزیاره، طغرانویس، مذهبباشی، زرگرباشی، کتیبهنویس، کتب خانہ کا ذمہ دار، معینالکتاب، کتابدار، صحاف، خازنالتولیه، خزانهدار، چراغچیباشی، دربان چراغخانه، معمارباشی، نقاشباشی، کحال (آنکھ کا ڈاکٹر)، طبیب و جراحباشی۔
کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ پہلوی اور محمد رضا پہلوی اور دورِ جمہوری اسلامی میں، آستان کے لیے جدید اداری نظام قائم ہونے کے بعد، خدمہ کے سوا دیگر پرانے عہدوں کی جگہ نئے انتظامی عناوین نے لے لی۔ مثال کے طور پر قاجاریہ دور میں چراغچیباشی، جو روشنائی کا ذمہ دار تھا، محمد رضا پہلوی کے دور میں اس کی جگہ شعبہ روشنایی قائم ہوا، اور عطاردی کے مطابق، انقلاب کے بعد یہ یونٹ پھیل کر ادارهٔ روشنایی بنا۔
کشیک
کشیک سے مراد خدمہ (خادم، فراش (فرش بچھانے والے)، دربان، کفش دار، مؤذن) کا وہ مجموعہ ہے جو حرمِ مطہر میں ہفتے میں ایک دن چوبیس گھنٹے خدمت انجام دیتا ہے۔ اس نظام کی ابتدا صفوی دور میں ہوئی۔ یہ نظام وقت کے سیاسی حالات اور زائرین کی تعداد کے مطابق بدلتا بھی رہا ہے۔ مثال کے طور پر احتشام کاویانیان کے مطابق، واقعۂ مسجد گوہر شاد کے بعد، اس وقت کے نائب التولیہ محمد ولی اسدی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات دور کرنے کے لیے کشیک نظام ختم کر دیا اور خدمہ کو فارغ کرکے اس کی جگہ ادارهٔ تشریفات قائم کر دیا۔ یہ تبدیلی پہلویِ اول کے خاتمے تک برقرار رہی، لیکن خادمین کے احتجاج پر کشیک دوبارہ بحال ہوا۔
بعض منابع کے مطابق، کشیک کی تبدیلی کا عمل ہر ۲۴ گھنٹے بعد ایک مخصوص مراسم کے ذریعے ہوتا ہے: روزانہ طلوعِ آفتاب کے ایک گھنٹے بعد، کشیک کے خادمین مقررہ جگہوں پر جمع ہوتے ہیں، اور کشیک کا سربراہ یا ان کا جانشین خطبۂ حمد الہی اور مدحت امام رضاؑ پڑھ کر اور سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے اگلے دن کی چارج دوسرے گروہ کے حوالہ کرتا ہے۔
صفوی دور میں کشیک کے افراد کی درست تعداد معلوم نہیں۔ علی شاهی کے طومار کے مطابق، دورِ افشاریہ میں ایک کشیک کے ارکان ۶۸ تھے، جن میں: سربراہ کشیک، خادمباشی، ۱۷ خادم، ۲۰ فراش، ۵ کفشدار، ۲ مدرس، ۳ بخور سوز، ۱۴ دربان اور ۵ مؤذن شامل تھے۔
عضد الملک کے طومار کے مطابق، دورِ قاجاریہ میں نئے صحن (صحن آزادی) کی تعمیر کے بعد کشیک کی تعداد بڑھ کر ۱۰۱ ہو گئی۔ احتشام کاویانیان کے مطابق، پہلوی درو کے آغاز (۱۳۰۵ شمسی) میں کشیکوں کی تعداد ۱۷۰۰ تھے جسے نائب التولیہ محمد ولی اسدی نے اس تعداد کو کم کر کے نصف کر دی۔
انقلاب اسلامی کے بعد حرم کی توسیع اور اعزازی و افتخاری خادمین کے اضافہ نے مجموعی تعداد بڑھا دی۔ سنہ ۱۳۹۹ش کی ایک رپورٹ کے مطابق، کشیک کے ارکان میں تقریباً ۱۰۰۰ خادم، ۴۲۵ فراش، ۶۰ حافظ، ۱۲۲۰ دربان اور ۱۸۶۰ کفشدار شامل ہیں
تشریفات
تشریفات (پروٹوکول) سے مراد آستانِ قدسِ رضوی میں روایتی اور باوقار طرز پر انجام دی جانے والی وہ خدمات ہیں جو امام رضاؑ کی شان و منزلت میں یا زیارت پر جانے والی خاص شخصیات کے اعزاز میں ادا کی جاتی ہیں۔ بعض گزارشوں کے مطابق، آستان قدس میں تشریفات، صفویوں سے پہلے بھی موجود تھیں، مگر صفوی دور سے حرم کی تولیت، شاہانِ ایران کے لیے ایک شاہی افتخار اور ذمہ داری کی صورت اختیار کر گیا۔ اسی پس منظر میں تشریفاتی و سلطنتی مظاہر آستان کے انتظام میں آہستہ آہستہ بڑھتے گئے۔
احتشام کاویانیان کے مطابق، سنہ ۱۳۱۴ شمسی میں آستان میں «تشریفات» کے نام سے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کیا گیا، جس پر آستان کی مجالس اور مراسم کے انعقاد کی ذمہ داری تھی۔ سنہ ۱۳۷۲ش میں تشریفاتی نظام کا نام بدل کر «معاونتِ اماکن متبرکه و تشریفات آستان قدس رضوی» رکھا گیا، اور سنہ ۱۳۸۲شمسی میں اسے «مدیریتِ انتظامات و تشریفات حوزهٔ اماکن متبرکه» کہا جانے لگا۔
ذیلی خدماتی ادارے
آستانِ قدسِ رضوی کے چند خدماتی ذیلی ادارے درج ذیل ہیں:
دارالشفا
دارالشِفا، آستانِ قدسِ رضوی کا ایک معالجاتی مرکز ہے جس کی تاریخ اوائلِ صفوی دور تک پہنچتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مختلف ادوار میں انتظامی کمزوری کے بعد، قاجاریہ کے اواخر میں ڈاکٹر امیر خان امیر اعلم (صدر مجلسِ حفظ الصحہ) کی کوششوں سے اس کی مرمت اور سہولیات فراہم کی گئی، یہاں تک کہ یہ مشرقی ایران کے جدید ترین اسپتالوں میں شامل ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ کے دور میں امام رضاؑ ہسپتال کی تعمیر کے بعد، دارالشفا کو اس نئے اسپتال میں ضم کر دیا گیا۔
سنہ ۱۳۲۷ شمسی میں، دارالشفا کی سرگرمیاں بستِ بالا (بست شیخ طوسی) میں واقع مهمان سرائے حضرت کی بالائی منزل میں ایک چھوٹے کلینک کی صورت میں جاری رہیں۔ اس عمارت کے انہدام کے بعد، دارالشفا کو صحنِ انقلاب کے جنوبی جانب (مقامِ رواق دارالحکمہ) منتقل کیا گیا، اور سنہ ۱۳۵۹شمسی کے اواخر میں، صحنِ آزادی سے متصل نئی عمارت کا افتتاح ہوا۔ اسی طرح سنہ ۱۳۸۸شمسی میں، دارالشفا کو بستِ خیابان شیرازی کے مشرقی حصے میں واقع ایک جدید عمارت میں منتقل کیا گیا، جہاں عمومی اور تخصصی دونوں طرح کی طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
مهمانسرا
مهمان سرا، آستانِ قدسِ رضوی کا ایک خدماتی شعبہ ہے، جو زائرین، مستحقین، خدام اور آستان کے کارکنوں کی میزبانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تاریخ ۵۰۰ سال سے زیادہ پرانی ہے۔ انتظامی طور پر، یہ ادارہ شعبہ اماکنِ متبرکہ و امورِ زائرین کے ذیلی شعبہ "ادارۂ امور مهمانسرا" کے تحت چلتا ہے۔ تاریخی طور پر اسے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے؛ جن میں مطبخ (صفوی اور افشاری دور)، کارخانهٔ مبارکه (قاجاری دور)، اور مهمانسرای حضرتی / مهمانسرای حضرت (پہلوی دور) جیسے نام شامل ہیں۔
مہمانسرا کے بارے میں قدیم ترین تاریخی شواہد تیموری دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ تاریخی مآخذ کے مطابق سنہ ۱۳۵۳شمسی میں حرم کے مہمان خانہ کے لیے ایک نئی عمارت تعمیر ہوئی جس کی انقلابِ اسلامی کے بعد، از سرِنو تعمیر کی گئی اور صحنِ غدیر کے مغربی حصے میں بھی ایک نئی عمارت کا اضافہ ہوا۔
سنہ ۱۳۹۴شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، موقوفات و نذورات کی مدد سے روزانہ تقریباً ۶ ہزار سے زائد کھانے مهمانسرا میں تیار کیے جاتے ہیں اور آستان قدس کے نمائندوں کے ذریعے زائرین کے مختلف اقامت گاہوں میں روزانہ دعوتنامے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
حرم کا اطلاعاتی ادارہ=
ادارہ آگاہی حرم کے نام سے یہ ادارہ آستانِ قدس کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو حرم کے حفاظتی اور امنیتی امور کو سنبھالتا ہے۔ اس ادارے کا دفتر سنہ 1366 شمسی میں حرمِ مطہر کے اندر زائرین کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے کی غرض سے صحنِ انقلاب اسلامی میں قائم ہوا۔ سنہ ۱۳۸۰شمسی میں حرم کے اندر پیش آنے والے جرائم کی فوری رسیدگی کے لیے عدلیہ نے "دادگاهِ ویژهٔ حرم مطهر" (حرم کا مخصوص کورٹ) تشکیل دیا۔
حرم کی عمارتوں کی بڑھتی ہوئی وسعت کے پیش نظر سنہ ۱۳۸۳ شمسی میں شعبہ آگاهی حرم کو وسعت دے کر باقاعدہ "ادارہ" بنا دیا گیا، جس میں؛ جرائم کا انکشاف، اجتماعی امور اور مشورہ، زائرین کے حقوق کی حفاظت شامل ہیں۔ سنہ ۱۳۹۳ شمسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ادارہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم، فنگر پرنٹ ریکارڈ، CCTV اور داخلی نیٹ ورک کے ذریعے شب و روز خدمات انجام دیتا ہے۔
مؤسسهٔ امداد آستان قدس رضوی
آستان قدس رضوی کا یہ فلاحی ادارہ ۱۳۵۹شمسی میں قائم ہوا جس کا مقصد نادار لوگوں کو سماجی، رفاہی اور ثقافتی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس ادارے کی فعالیت میں مستحقین کو نقدی اور غیر نقدی امداد، یتیم و محروم طلبہ کی سرپرستی، بیوہ اور بےسرپرست خاندانوں کے لیے ماہانہ وظیفہ، مذہبی مناسبتوں پر نیازمندوں کو کھانا کھلانا شامل ہیں۔ اس کے اخراجات آستانِ قدس کے موقوفات اور وابستہ اداروں کی امداد سے پورے کیے جاتے ہیں۔
فرہنگی فعالیتیں
- **دورِ صفوی تا پہلوی**
آستانِ قدس کا سب سے قدیم اور نمایاں ثقافتی ادارہ **کتب خانہ** ہے، جو نویں صدی ہجری سے منظم طریقے سے سرگرم رہا ہے۔ لائبریری میں موجود قدیم ترین وقفشدہ قرآن سنہ ۳۲۷ھ کا ہے، اور بعد کے ادوار میں قیمتی مخطوطات کی تعداد بڑھتی رہی۔
صفوی دور میں شیخ بہائی اور شاہ عباس اوّل کی وقف کردہ نسخوں نے اس لائبریری کی علمی حیثیت بڑھا دی اور یہ علماء و طلبہ کا اہم مرکز بن گئی۔
قاجاری دور میں لائبریری ایک مکمل اداری ڈھانچہ رکھتی تھی اور علمی و ادبی مرکز کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ اس دور میں مخطوطات کی مرمت، کتابت اور تزئین کے لیے ماہرین بھی کام کرتے تھے۔
صفوی کے بعد، دینی و تبلیغی سرگرمیاں — جیسے تلاوتِ قرآن، روضہخوانی اور مذہبی مجالس — خاص موقوفات کے ذریعے مضبوطی سے جاری رہیں۔
- **تعلیم و مدارس**
تاریخی رپورٹس کے مطابق:
- شاہ طہماسب صفوی کے دور میں، آستان میں یتیم بچوں کے لیے مکتب قائم کیا گیا جو بعد میں وسعت اختیار کر گیا۔
- تیموری دور میں مدارسِ بالاسر، پریزاد اور دودر تعمیر ہوئے۔
- صفوی اور قاجار دور میں متعدد مدارس قائم ہوئے جنہوں نے مشہد کے علمی و ثقافتی ماحول کو مضبوط کیا۔
مدارس اور لائبریری کے باہمی تعلق نے آستان کو ایک فعال علمی مرکز بنا دیا تھا۔
---
- **دورِ پہلوی**
پہلوی اول میں ثقافتی و مذہبی سرگرمیوں میں تبدیلیاں لائی گئیں:
- مکتب خانے جدید اسکولوں میں تبدیل ہو کر حکومت کے ماتحت آگئے۔
- مدارسِ علمیہ تعطیل کیے گئے۔
- روحانیت کا اثر کم کیا گیا۔
- حرم میں علومِ دینیہ کی تدریس پر پابندی لگ گئی۔
اس کے مقابلے میں لائبریری اور موزه کو زیادہ اہمیت دی گئی، اور ۱۳۱۶ش میں نئی عمارت تعمیر کی گئی۔
پہلوی دوم میں ثقافتی سرگرمیاں دوبارہ ترقی کرنے لگیں۔ اس دور کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہیں:
- "نامهٔ آستان قدس" نامی مجلہ کا آغاز
- ادیب نیشابوری کو تدریس کی دعوت
- خوشنویس جلالالدین اعتضادی کی درسگاہ
- ۱۳۴۶–۱۳۵۰ میں لائبریری کی تقویت
- "مدیریت کل فرهنگی" اور پھر "سازمان امور فرهنگی" کا قیام
- تحقیقی کتابوں کی اشاعت
- قیمتی کتب خانوں کا وقف
- مجالسِ وعظ و خطابه
- زیارتنامهخوانوں کے لیے کلاسیں
اس دور کی نمایاں ترین پیشرفت **موزه اور کتابخانه کی نئی عمارت** کا قیام تھا، جو جدید طرزِ تعمیر سے مزین تھی۔
---
- **دورِ جمہوری اسلامی**
انقلابِ اسلامی کے بعد، آستانِ قدس کی ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت پیدا ہوئی:
- نئی عظیم لائبریری کی تعمیر
- دانشگاهِ علوم اسلامی رضوی کا قیام
- تحقیقی و نشریاتی سرگرمیوں میں اضافہ
- متعدد ثقافتی و تربیتی مراکز کا آغاز
۱۳۵۹ش میں "ادارۂ امور فرهنگی" قائم ہوا، جس کی اہم ترین سرگرمی کتابوں کی تصنیف و اشاعت تھی۔ ۱۳۶۳ش میں اسے معاونتِ امور فرهنگی کا درجہ دیا گیا، اور ۱۳۷۶ش میں "مدیریت تبلیغات و ارتباطات اسلامی" تشکیل دی گئی، جس کے زیرِمجموعہ تین شعبے تھے:
- روابط بینالملل
- تبلیغات اسلامی
- آموزش علوم قرآنی
۱۳۷۸ش میں "شورای عالی فرهنگی" تشکیل دیا گیا، جس کی ذمہ داری ہے:
- آستان کا ۲۰ سالہ ثقافتی چشمانداز تیار کرنا
- ذیلی ثقافتی اداروں کے اساسنامے کی منظوری
- مختلف اداروں کے درمیان ہمافزائی پیدا کرنا
- زیرمجموعہهای فرهنگی — اردو ترجمہ**
ذیل میں آستانِ قدسِ رضوی کے ثقافتی ذیلی اداروں کا جامع اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
---
- **ثقافتی ذیلی ادارے**
سن ۱۳۹۴ش کی ایک رپورٹ کے مطابق، آستانِ قدسِ رضوی کی ثقافتی سرگرمیاں پندرہ اداروں کے ذریعے انجام پاتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
---
- **۱. سازمان کتابخانهها، موزهها و مرکز اسناد آستان قدس رضوی**
یہ سازمان سن ۱۳۷۷ش میں مرکزی کتابخانه، مرکزِ اسناد اور موزههای آستان کے ادغام سے تشکیل پائی۔ اس کا قدیمترین اور بنیادی حصہ **کتابخانه مرکزی آستان قدس رضوی** ہے۔
اس کے دیگر شعبے یہ ہیں:
- معاونت امور کتابخانههای وابسته
- مدیریت اسناد و مطبوعات
- معاونت امور موزهها
کتابخانه کے شعبے میں یہ سازمان:
- مشہد میں ۱۷ کتابخانوں
- ایران کے دیگر شہروں میں ۲۱ کتابخانوں
- اور ہندوستان میں راجا محمود آباد کی کتابخانه
کو مدیریت کرتی ہے۔
دیگر اہم کتابخانوں میں:
- کتابخانه وزیری و مروج یزد
- کتابخانه هرندی کرمان
- کتابخانه مسجد گوهرشاد
شامل ہیں۔
موزه کے شعبے میں یہ سازمان ۱۲ تخصصی گنجینه جات کی مدیریت کرتی ہے، جن میں: گنجینه قرآن و نفایس، تاریخ حرم رضوی، موزه فرش، تمبر و اسکناس، سکه و مدال، آثار اهدایی به رهبر معظم، آبزیان، نجوم، ساعت، ظروف، هنرهای تجسمی، اور مردمشناسی شامل ہیں۔
---
- **۲. مؤسسه کتابخانه و موزه ملی ملک**
یہ مؤسسه **حسین ملک** کی وقف کردہ کتابخانه و موزه کے انتظام کے لیے قائم کیا گیا۔ کتابخانهٔ ملی ملک ایران کی سب سے بڑی اور قیمتی وقفی کتابخانوں میں شمار ہوتی ہے۔ موزهٔ ملک میں نہایت نفیس مجموعے جیسے:
- نقاشی
- سکہ
- تمبر
- خوشنویسی
- آثار لاکی
اور دیگر تزئینی فنون شامل ہیں۔
---
- **۳. بنیاد پژوهشهای اسلامی**
یہ بنیاد سن ۱۳۶۳ش میں آستانِ قدس نے اسلامی علوم و معارفِ اہلبیتؑ کی نشر و اشاعت کے لیے قائم کی۔ اس کے بنیادی اہداف میں شامل ہیں:
- علوم اسلامی و فقهی کی تحقیق
- اسلامی علمی آثار کی احیا و نشر
- محققین کی تربیت
سن ۱۳۹۴ش تک اس میں **۱۸ تحقیقی گروہ** موجود تھے۔ سن ۱۳۹۰ش تک یہ بنیاد **۱۱۰۰ سے زائد کتابیں** شائع کر چکی تھی۔ آستان کا سالانہ تقویم اور فصلنامه علمی-ترویجی *مشکوة* بھی اسی ادارے کی اشاعت ہے۔
---
- **۴. دانشگاه علوم اسلامی رضوی**
یہ یونیورسٹی سن ۱۳۶۳ش میں حرمِ امام رضاؑ کے جوار میں قائم ہوئی۔ اسے علومِ اسلامی کی تعلیم و تربیت کے معتبر ترین مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابتدا میں اس یونیورسٹی کی تعلیم حوزوی طرز پر تھی، لیکن بعد میں وزارتِ علوم نے ۱۳۷۴ش میں تین رشته جات منظور کیے:
- فلسفه و کلام اسلامی
- علوم قرآنی
- حقوق
۱۳۸۶ش تک اس کے رشته جات کی تعداد ۸ تک پہنچ گئی۔
---
- **۵. مؤسسه آفرینشهای هنری**
یہ مؤسسه سن ۱۳۶۹ش میں فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے قائم ہوا اور ابتدا میں ادب، خط، نقاشی، عکاسی اور فیلم کے شعبے شامل تھے۔ سن ۱۳۷۷ش میں اسے مستقل مؤسسه کا درجہ ملا۔
اس کے مقاصد میں شامل ہیں:
- فنون کے ذریعے معارفِ اہلبیتؑ کی ترویج
- نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں کی تربیت
- آستان کے فنون کی سطح کو بلند کرنا
اس کی سرگرمیوں میں رضوی ادبی انجمن، مکتب هنر رضوان، نگارخانه رضوان، اور مجتمع فرهنگی امام خمینی شامل ہیں۔
---
- **۶. دانشگاه امام رضا(ع)**
یہ غیرانتفاعی یونیورسٹی سن ۱۳۶۶ش میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے قائم ہوئی۔ سن ۱۳۹۳ش کی رپورٹ کے مطابق یہاں تین فیکلٹیاں ہیں:
- علوم انسانی و مدیریت
- مهندسی
- علوم حسابداری
اور یہ بیچلر، ماسٹر اور پیایچڈی میں طلبہ داخلہ لیتی ہے۔
---
- **۷. شرکت بهنشر**
سن ۱۳۶۵ش میں یہ کمپنی آستانِ قدس کے اداروں کی علمی و ثقافتی اشاعت کے لیے قائم کی گئی۔ اس کا مقصد:
- کتاب و محصولاتِ فرهنگی کی اشاعت
- خرید و فروش و توزیع کتاب
- کتاب فروشیاں قائم کرنا
۱۳۸۴ش تک یہ ۱۵۰۰ سے زائد کتابیں شائع کر چکی تھی اور کئی بار **ناشر برگزیده** قرار پائی۔
---
- **۸. معاونت تبلیغات و ارتباطات اسلامی**
سن ۱۳۸۱ش میں زائرین کی معنوی ضروریات اور معارف اسلامی کی ترویج کے لیے قائم ہوئی۔
اس کے شعبے:
1. آموزش علوم قرآنی و حدیث 2. پاسخگویی به سؤالات دینی 3. امور فرهنگی و غنیسازی اوقات فراغت 4. ارتباطات اسلامی و امور زائران غیرایرانی 5. تبلیغات اسلامی و مناسبتهای ویژه 6. امور صوتی-تصویری و خدمات رایانهای
ادارہ تبلیغات اسلامی نمازهای جماعت، زیارتنامهخوانها، هیئتهای مذهبی، دعا و زیارت، سخنرانی، مداحی، اعتکاف، تحویل سال نو وغیرہ کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
اداره صوتی-تصویری مراسم کی تصویری و صوتی کوریج، آرشیو، تکثیر محصولات اور تکنیکی خدمات فراہم کرتی ہے۔
---
- **۹. مؤسسه آستانه حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاه شهید مدرس**
یہ مؤسسه طبس میں **حسین بن موسی بن جعفرؑ** کے آستان اور کاشمر میں **سید حسن مدرس** کے آرامگاہ کی مدیریت کے لیے قائم کیا گیا۔
- سن ۱۳۵۷ش کے طبس زلزلے کے بعد امام خمینیؒ کے حکم سے آستانِ قدس نے آستانہ حسین بن موسیؑ کی بازسازی کی جو ۱۳۶۳ش میں مکمل ہوئی۔
- سید حسن مدرس کے آرامگاہ کی تعمیر ۱۳۶۷ش میں ہوئی۔
- ۱۳۷۳ش میں دونوں مقامات کی مدیریت مقام رهبری کی موافقت سے آستانِ قدس کے سپرد ہوئی۔
- ۱۳۷۶ش میں اسے ایک رسمی مؤسسه کے طور پر ثبت کیا گیا۔
- اردو ترجمہ — دیگر ثقافتی، اداری اور اقتصادی ذیلی ادارے**
نیچے آپ کے فراہم کردہ متن کا جامع اور روان اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
---
- **مؤسسهٔ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی**
مؤسسهٔ چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی سن ۱۳۶۲ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ علمی و دینی آثار کی طباعت و نشر کرے اور آستانِ قدس کے وابسته اداروں سمیت دیگر اداروں کو خدمات فراہم کرے۔ سن ۱۳۷۶ش میں اس کے **انتشارات اور توزیع** کے شعبے کو **شرکت بهنشر** کے سپرد کر دیا گیا اور اس کے بعد اس مؤسسه کی سرگرمیاں صرف **چاپ (پرنٹنگ)** تک محدود رہ گئیں۔
---
- **بنیاد فرهنگی رضوی**
بنیاد فرهنگی رضوی (تأسیس: مهر ۱۳۶۵ش) کا مقصد غیرانتفاعی تعلیمی مراکز قائم کرنا اور انہیں چلانا ہے تاکہ انسانی وسائل کی تربیت کے لیے مناسب تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ سن ۱۳۹۳ش کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس بنیاد نے **۱۲ تعلیمی یونٹ** قائم کیے تھے جو مجموعی **۳۴,۶۲۴ مربع میٹر** کے رقبے پر مشتمل ہیں، اور یہ ادارے **ابتدائی سے لے کر ہائی اسکول** تک تعلیمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
---
- **مؤسسهٔ خدمات مشاورهای، جوانان و پژوهشهای اجتماعی**
یہ مؤسسه سن ۱۳۷۶ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ نوجوانوں کی دینی، سماجی اور سیاسی آگاہی میں اضافہ کرے اور ان کے مسائل کا مطالعہ اور حل فراہم کرے۔ اس کے دیگر اہم فرائض میں **آستان قدس رضوی کی خدمات کے بارے میں عوامی رائے عامہ کا سروے** کرنا بھی شامل ہے۔
---
- **مؤسسهٔ فرهنگی قدس**
یہ مؤسسه **روزنامهٔ قدس** اور **ماهنامهٔ بینالمللی زائر** کی प्रकाशक ہے۔ یہ ادارہ سن ۱۳۶۶ش میں اس مقصد سے قائم ہوا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی میدان میں کام کرے اور عوام کی عقیدتی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی بصیرت کو نشریات کے ذریعے بہتر بنائے۔
- روزنامهٔ قدس کا **پہلا شمارہ ۲۸ آذر ۱۳۶۶** کو صوبۂ خراسان میں شائع ہوا۔
- سن ۱۳۷۵ش میں یہ ایران کے **کثیرالانتشار روزناموں** میں شامل ہو گئی۔
- **ماهنامهٔ زائر** کا آغاز **۱۳۷۳ش** میں ہوا۔
---
- **مؤسسهٔ تربیت بدنی آستان قدس رضوی**
یہ مؤسسه سن ۱۳۷۳ش میں جسمانی و روحانی صحت کے فروغ اور آستان کے کارکنان و عوام کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کی توسیع کے لیے قائم ہوا۔ اس کے اہم فرائض میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ثقافتی-ورزشی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔
سن ۱۳۹۳ش تک اس مؤسسه نے:
- **۲۰ ہزار مربع میٹر** اسپورٹس اسپیس قائم کی
- جدید سہولیات فراہم کیں
- **۲۸ کھیلوں** میں سرگرمی کی سہولت پیدا کی
اس کے اہم منصوبوں میں **ورزشگاه امام رضا(ع)** کی تعمیر شامل ہے۔
---
- **مرکز آموزش ضمنخدمت کارکنان آستان قدس رضوی**
یہ مرکز سن ۱۳۶۵ش میں آستانِ قدس کے کارکنان کی دینی، علمی اور فنی تربیت کے لیے قائم ہوا۔ اس کے اہم کام:
- کاردانی، کارشناسی اور کارشناسی ارشد کے طویل مدتی کورسز
- خادمینِ حرم کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام
- علمی و انتظامی صلاحیتوں کی ترقی
---
- **موقوفاتِ آستان قدس رضوی**
موقوفاتِ حرم امام رضا(ع) وہ اموال منقول و غیرمنقول ہیں جو حرمِ مطهر کے لیے وقف کیے گئے اور آستان قدس کی تولیت کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ آستان قدس رضوی کو **دنیا کے بڑے موقوفاتی اداروں** میں شمار کیا جاتا ہے۔
وقف کی ابتدا یقین سے معلوم نہیں، مگر بعض شواہد اسے **چوتھی صدی قمری** تک لے جاتے ہیں۔ تاریخی منابع میں مختلف ادوار کے موقوفات اور ان کے انتظام کا تذکرہ موجود ہے۔
سن ۱۳۸۳ش سے موقوفات کے انتظام کی ذمہ داری **معاونت امور حقوقی و موقوفات** کے سپرد ہے۔
غیرمنقول موقوفات ایران کے مختلف علاقوں، خراسان بزرگ، پاکستان، ہندوستان اور قفقاز تک پھیلے ہوئے ہیں، جن میں سے بعض زمانے کے ساتھ ختم بھی ہو گئے۔
- بزرگترین موقوفہ:**
- **موقوفات حسین ملک (وفات: ۱۳۵۱ش)**
یہ ۱۳۱۶–۱۳۴۰ش کے درمیان سات مراحل میں کتابخانه، اموال اور املاک وقف کرنے سے تشکیل پائے۔
---
- **اقتصادی سرگرمیاں**
آستان قدس رضوی اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسیع اقتصادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ یہ سرگرمیاں:
- تجارتی و تولیدی سرمایہگذاری
- स्वतंत्र کمپنیوں کی تأسیس
- بیرونی منصوبوں میں مشارکت
کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔
- **سازمان اقتصادی رضوی (تأسیس: ۱۳۷۷ش)**
اس کے مقاصد میں شامل ہیں:
- اقتصادی سرگرمیوں میں نظم و نسق
- موازیکاری کا خاتمہ
- اختیارات کی واگذاری
- وسائل کا بہتر استعمال
- موقوفات کی احیا
سن ۱۳۹۴ش کے مطابق:
- **۸۴ کمپنیاں و مؤسسات** زیر نظر
- ان میں سے **۲۳** میں ۵۰٪ سے زیادہ شیئر
- **۲۱** میں ۵۰٪ سے کم شیئر
- **۱۲ ہزار سے زائد** افراد براہِ راست یا بالواسطہ ملازم
- **اہم اقتصادی ادارے**
1. کارخانه قند آبکوه (۱۳۱۳ش) 2. شرکت نان رضوی (۱۳۴۶ش) 3. شرکت فرآوردههای غذایی رضوی (۱۳۵۱ش) 4. شرکت فرش آستان قدس رضوی (۱۳۶۰ش) 5. شرکت مسکن و عمران قدس رضوی (۱۳۶۲ش) 6. شرکت داروسازی ثامن (۱۳۶۳ش) 7. شرکت مهندسی آب و خاک قدس رضوی (۱۳۷۱ش) 8. سازمان باغات آستان قدس رضوی (۱۳۷۲ش) 9. شرکت مهندسان مشاور معماری و شهرسازی (۱۳۷۳ش) 10. شرکت کشاورزی رضوی (۱۳۷۴ش) 11. منطقه ویژه اقتصادی سرخس (۱۳۷۵ش) 12. شرکت بتن و ماشین قدس رضوی (۱۳۷۶ش) 13. شرکت فناوری اطلاعات و ارتباطات رضوی (۱۳۷۷ش) 14. شرکت پخش رضوی (۱۳۸۴ش) 15. شرکت نفت و گاز رضوی (۱۳۸۶ش)
- اردو ترجمہ — کتابشناسی (Bibliography)**
آستانِ قدسِ رضوی اور اس کے اداری نظام کے بارے میں متعدد اہم کتابیں تحریر کی گئی ہیں جن کا ذکر مختلف منابع میں ملتا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
---
- **1. راہنما یا تاریخ آستان قدس**
مصنف: **علی مؤتمن** چاپ: **۱۳۴۸ش** یہ ایک قیمتی اثر ہے جس میں حرمِ مطہر کے عمومی تاریخی پس منظر، اس کی عمارت اور آستانِ قدس کے اداری ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
---
- **2. پیشنویس فهرست موقوفات آستان قدس**
مصنف: **عبدالحمید مولوی** (دورۂ پهلوی کے کارگزار) یہ مجموعہ **۷ جلدوں** پر مشتمل ہے اور اس میں **۱۰۷۶ موقوفات** کی تفصیلات اسناد اور وقفناموں کی بنیاد پر جمع کی گئی ہیں۔ اسے موقوفات آستان کے حوالے سے ایک باارزش دستاویزی اثر سمجھا جاتا ہے۔
---
- **3. آستان قدس رضوی؛ دیروز و امروز**
چاپ: **۱۳۵۶ش** یہ کتاب آستان قدس کی تاریخی پسمنظر اور پهلوی دور میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں پہلوی دوم کے زمانے میں آستان کی صورتِ حال، نوسازی کے کام، اور اداری، عمرانی، مذہبی، ثقافتی، سماجی، صحتی اور صنعتی خدمات پر تفصیلی مباحث شامل ہیں۔
---
- **4. تاریخ آستان قدس رضوی**
مصنف: **عزیزالله عطاردی** چاپ: **۱۳۷۱ش**
- دو جلدوں** پر مشتمل یہ کتاب وزارتِ فرهنگ و ارشاد اسلامی اور انتشارات عطارد کے تعاون سے شائع ہوئی۔
اس میں موقوفات آستان کے علاوہ اس کی علمی، ثقافتی، اقتصادی، زرعی اور صنعتی سرگرمیوں کا مفصل تجزیہ ملتا ہے۔
---
- **5. انقلاب اسلامی در آستان قدس رضوی**
چاپ: **۱۳۶۴ش** یہ کتاب روابطِ عمومیِ آستان قدس نے انقلابِ اسلامی کے ابتدائی سات برسوں (۱۳۵۷—۱۳۶۴ش) میں آستان کی کارکردگی اور خدمات کی رپورٹ کے طور پر شائع کی۔
---
- **6. دائرةالمعارف آستان قدس رضوی**
تدوین: **بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی**
- دو جلدوں** پر مشتمل یہ علمی دانشنامہ حرم امام رضا(ع) اور آستان قدس سے متعلق مختلف موضوعات پر مبنی مقالات پر مشتمل ہے۔
---
- **7. تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار**
مصنف: **رضا نقدی** چاپ: **۱۳۹۹ش** (بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی) یہ کتاب دورۂ قاجار میں آستان قدس کے تاریخی حالات اور اداری تشکیلات کا تفصیلی مطالعہ پیش کرتی ہے۔
حوالہ جات
مآخذ
- آزاد، اسدالله، «تاریخ آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- آزاد، اسدالله، «آستان قدس رضوی؛ دیروز و امروز، کتاب»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- آژیر، حمیدرضا، «بنیاد پژوهشهای اسلامی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- احتشام کاویانیان، محمد، شمسالشموس یا انیسالنفوس (تاریخ آستان قدس)، مشهد، بینا، ۱۳۵۴ش.
- اخوان مهدوی، علی، «آستانهٔ حسین بن موسی الکاظم(ع) و آرامگاه شهید مدرس، مؤسسه»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- ارشادسرابی، اصغر، «نامهٔ آستان قدس، مجله»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- ایزانلو، رمضانعلی، «آفرینشهای هنری، مؤسسه»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- بنیاد پژوهشهای اسلامی، کتابنامه بنیاد پژوهشهای اسلامی، مشهد: بنياد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۸۶ش.
- پسندیده، محمود، حوزه علمیه خراسان، مشهد، بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۸۵ش.
- پیرنیا، باقر، گذر عمر (خاطرات سیاسی باقر پیرنیا)، تهران، انتشارات کویر، ۱۳۸۲ش.
- جوشقانی، محمدمهدی، «قدس، مؤسسه فرهنگی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- جهانپور، فاطمه، تاریخچهٔ مکتبخانهها و مدارس قدیم آستان قدس رضوی با تکیه بر اسناد (صفویهٔ تا قاجاریه)، مشهد، سازمان کتابخانهها، موزهها و مرکز اسناد آستان قدس رضوی، ۱۳۸۷ش.
- حسنآبادی، ابوالفضل و علی یحیایی، «تولیت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- حسنآبادی، ابوالفضل، «کشیک»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- حسنآبادی، ابوالفضل، «نگاهی کوتاه به تاریخچه تشکیلات اداری اماکن متبرکه»، در نشریه مشکوة، شماره ۹۰، خرداد ۱۳۸۵ش.
- حسینی، سید حسن، «خدمه»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- حکیمالممالک، علینقی، روزنامه سفر خراسان، تهران، انتشارات فرهنگ ایرانزمین، ۱۳۵۶ش.
- خانیکوف، نیکولای ولادیمیروویچ، سفرنامه خانیکوف (گزارش سفر به بخش جنوبی آسیای مرکزی)، ترجمه اقدس یغمایی و ابوالقاسم بیگناه، مشهد، مؤسسه چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی، ۱۳۷۵ش.
- خاوری، یعقوب، «دانشگاه علوم اسلامی رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- خوراکیان، امیر، «تبلیغات و ارتباطات اسلامی، معاونت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- داوطلب، «امداد آستان قدس رضوی، مؤسسه»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- در این قطعه از بهشت (راهنمای خادمان و زائران امام رضا)، مشهد، مؤسسه چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی، ۱۳۹۷ش.
- راهجیری، علی، تذکره خوشنویسان معاصر، تهران، مؤسسه انتشارات امیرکبیر، ۱۳۴۶ش.
- رداد، ایرج، «دانشگاه امام رضا»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- رداد، ایرج، «کتابخانهها، موزهها و مرکز اسناد آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- سپهر، محمدتقی بن محمدعلی، ناسخ التواریخ (سلاطین قاجاریه)، تحقیق محمدباقر بهبودی، قم، مؤسسهٔ مطبوعاتی دینی، ۱۳۵۱ش.
- سوزنچی کاشانی، علی، «مهمانسرا»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- سوهانیان حقیقی، محمد، و اصغر ارشادسرابی، «آشنایی با دائرةالمعارف آستان قدس رضوی بنیاد پژوهشهای اسلامی»، در آینهٔ پژوهش، شمارهٔ ۹۶، بهمن و اسفند ۱۳۸۴ش.
- صدوق، علی بن محمد، عیون اخبار الرضا، تحقیق مهدی لاجوردی، تهران، انتشارات جهان، بیتا.
- طاهر چهارجوی، محمد، «چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- طاهر چهارجوی، محمد، «کتابخانههای وابستهٔ آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- عالمزاده، بزرگ، حرم رضوی به روایت تاریخ، مشهد، بهنشر (انتشارات آستان قدس رضوی)، ۱۳۹۵ش.
- عربزاده، محمد، «بنیاد فرهنگی رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- عربزاده، محمد، «بهنشر، شرکت»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- عربزاده، محمد، «آموزش ضمن خدمت کارکنان آستان قدس رضوی، مرکز»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- عزیزیان، مهدی، «اقتصادی رضوی، سازمان»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- عطاردی، عزیزالله، تاریخ آستان قدس رضوی، تهران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی و انتشارات عطارد، ۱۳۷۱ش.
- علیزاده، حسین، «انقلاب اسلامی در آستان قدس رضوی»، در دانشنامه امام رضا(ع) (ج۲: احمد بن موسی بن سعد-ایوب بن یقطین)، قم، مرکز بین المللی ترجمه و نشر المصطفی، ۱۳۹۶ش.
- غلامی، زینب، «مؤسسهٔ تربیت بدنی آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- فخاری، حسین، «آگاهی حرم مطهر، اداره»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- فضلالله بن روزبهان خنجی، مهمانخانه بخارا (تاریخ پادشاهی محمد شیبانی)، تحقیق محمد ستوده، تهران، بنگاه ترجمه و نشر کتاب، ۱۳۵۵ش.
- فیض، عباس، بدر فروزان (تاریخ آستانه قدس رضوی)، قم، بنگاه چاپ قم، ۱۳۲۴ش.
- قصابیان، محمدرضا، «دارالشفاء»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- کفیلی، حشمت، «موزههای آستان قدس رضوی»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- مؤتمن، علی، راهنما یا تاریخ آستان قدس رضوی، تهران، بینا، ۱۳۴۸ش.
- محمدزادهٔ مقدم، جواد، «خدمات مشاورهای، جوانان و پژوهشهای اجتماعی، مؤسسه»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- مرتضوی، مرضیه، «کتابخانه و موزهٔ ملی ملک»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- مرتضوی، مرضیه، «موقوفات ملک، سازمان»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- «معرفی دارالشفاء امام رضا(ع)»، سایت مؤسسهٔ درمانی آستان قدس رضوی، تاریخ بازدید: ۱۵ شهریور ۱۴۰۴ش.
- میرزا رفیعا، محمدرفیع بن حسن، دستورالملوک میرزا رفیعا، محمداسماعیل مارتسینکووسکی، تهران، مرکز چاپ و انتشارات وزارت امور خارجه، ۱۳۸۵ش.
- نادری، فرجالله، «تشریفات»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- ناصرالدینشاه قاجار، سفرنامه خراسان، به خط میرزا محمدرضا کلهر، تهران، انتشارات بابک، ۱۳۶۱ش.
- نعمتی، بهزاد، «آستان قدس رضوی»، در دانشنامه امام رضا(ع) (ج۱: آب-احمد بن موسی)، قم، مرکز بین المللی ترجمه و نشر المصطفی، ۱۳۹۴ش.
- نقدی، رضا، و صابر ایزدی، «موقوفات»، در دائرة المعارف آستان قدس رضوی (ج۲: ش-ی)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- نقدی، رضا، «آستان قدس رضوی، پیشینه و تشکیلات»، در دائرةالمعارف آستان قدس رضوی (ج۱: آ-س)، مشهد، بنیاد پژوهشهای آستان قدس رضوی، ۱۳۹۳ش.
- نقدی، رضا، تاریخ و تشکیلات آستان قدس رضوی در عصر قاجار، مشهد، بنیاد پژوهشهای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۳۹۹ش.
- هدایت، رضاقلیخان، تاریخ روضة الصفای ناصری، تحقیق جمشید کیانفر، تهران، انتشارات اساطیر، ۱۳۸۰ش.