اعیان الشیعہ (کتاب)

ویکی شیعہ سے
(اعیان الشیعہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اعیان الشیعہ(کتاب)
کتاب اعیان الشیعة.jpg
مؤلف: سید محسن امین عاملی (متوفی ۱۳۷۷ ھ)
زبان: عربی
موضوع: سوانح نگاری
تعداد مجلد: ۱۱ جلدیں
اشاعت: ۱۴۲۱ ھ
ناشر: دار التعارف بیروت (لبنان)


أعْیانُ الشّیعہ، عربی زبان میں ائمہ اہل بیت (ع) اور شیعہ علماء کے سلسلہ میں تالیف کی گئی شیعہ عالم و سیرت نگار سید محسن امین عاملی (متوفی 1371 ھ) کی کتاب ہے۔ اس کتاب کا کچھ حصہ شیعہ ائمہ کی سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ مصنف کی وفات کے بعد ان کے فرزند سید حسن امین نے مستدرک اعیان الشیعہ کے نام سے اس پر تکملہ لکھا۔ 12 اماموں کی سوانح حیات والا حصہ فارسی میں سیرہ معصومان کے عنوان سے ترجمہ ہو چکا ہے۔

مصنف

سید محسن امین عاملی، جبل عامل لبنان کے رہنے والے شیعہ فقیہ اور سیرت نگار ہیں۔ ان کا شمار عصر حاضر میں شیعہ عقائد کی اصلاح میں پیش قدم افراد میں ہوتا ہے۔ وہ علوم دینی کے علاوہ عربی شعر و ادب میں مہارت رکھتے ہیں اور شعر گوئی کے ساتھ ان پر نقد و تنقید بھی کرتے تھے۔

موضوع کتاب

اعیان الشیعہ ایک انسائکلوپیڈیا (دائرۃ المعارف) ہے جس میں شیعہ ائمہ (ع) اور صدر اسلام سے لیکر مولف کے زمانہ تک تمام شیعہ علماء کی سوانح حیات جن میں صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ماہرین علم و فن شامل ہیں، ذکر ہوئی ہے۔ اس طرح سے کہ اس میں روات، محدثین، قراء، مفسرین، فقہاء، حکماء، متکلمین، واعظین و شعراء اور اسی طرح سے علوم لغت، صرف، نحو، بیان، منطق، ریاضیات، طب و نجوم کے ماہرین علماء اور حتی بادشاہوں اور وزیروں کا بھی ذکر ہوا ہے۔[1]

کتاب کے مقدمہ میں مولف کی تحریر کے مطابق، اعیان الشیعہ میں صدر اسلام سے لیکر آج تک کے تمام شیعہ مذہب بزرگان اور شخصیتوں، جیسے اصحاب پیغمبر (ص)، تابعین، تبع تابعین، علماء، روات، محدثین، قراء، مفسرین، فقہاء، حکماء، متکلمین، منطقیین، ریاضی داں، نحویین، صرفیین، اہل لغت، اہل معانی و بیان، نساب، اطباء، شعراء، ادباء، عرفاء، واعظین، سلاطین، وزراء، مصنفین، قضات اور رئساء، مرد و عورت کی سوانح حیات کا تذکرہ ان کی تاریخ ولادت و وفات کے ساتھ و اخبار و لطائف اور ان کی نثر و نظم کے بعض حصوں کا کیا گیا ہے۔ جیسا کہ مولف نے تصریح کی ہے کہ ان کے اسماء، شخصیتوں کے والد کے اسماء اور ان کے شہروں و ملکوں کے اسماء باریک بینی کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔[2]

مقصد تالیف

سید محسن امین عاملی نے جیسا کہ اس کتاب میں مقدمہ میں انہوں نے خود اس بات کی تصریح کی ہے۔ یہ کتاب مختلف طبقے کے عوام کی طرف سے شیعہ بزرگان کی سوانح حیات کے استقبال کے جواب میں اور اس وقت تک اس طرح کی کوئی جامع کتاب تالیف ہونے کی وجہ سے تصنیف کی ہے۔[3]

طرز تحریر

مولف نے اس کتاب کے اسلوب اور طرز تحقیق و تحریر کے بارے میں اس طرح وضاحت کی ہے: اس کتاب میں معاصرین کی سوانح حیات ذکر نہیں کی گئی ہے۔ مصنفین کے اسماء حروف تہجی کی ترتیب سے لکھے گئے ہیں اور تمام افراد کے سلسلہ میں ان کے اسماء، تاریخ ولادت و وفات، نسب، ان کے سلسلہ میں علماء کے اقوال، ان کی سوانح عمری اور ان کی نثر و نظم کے بعض حصوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بعض جگہ پر موقع و محل کے اعتبار سے بعض امور و قضایا کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کا تجزیہ و تحلیل کی گئی ہے۔[4]

متن و مطالب کتاب

اعیان الشیعہ میں تقریبا 12 ہزار سوانح حیات ذکر ہوئی ہیں۔ اس کا پہلا ایڈیشن رحلی سائز کی 10 جلدوں پر مشتمل تھا۔ پہلی جلد و دوسری جلد کے بعض حصوں میں مقدمہ، پیغمبر اکرم (ص)، فاطمہ زہرا (ع) اور ائمہ (ع) کی سوانح حیات کا تذکرہ کیا گیا ہے اور دوسری جلد کے وسط سے لیکر دسویں جلد تک تمام شیعہ شخصیات کی سوانح ذکر ہوئی ہیں۔[5]

نواقض و اعتراضات

بعض مصنفین و محققین نے اس کتاب میں نواقص و اعتراضات کا تذکرہ کیا ہے جنہیں ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

  • موضوع تحقیق کا وسیع لیکن جامع نہ ہونا۔
  • نقل اقوال میں دقت نہ ہونا۔
  • متن کے ضمن میں اضافات و ضمیمات ذکر ہونا۔
  • ٹائپ کی غلطیاں۔
  • اطلاعات کی تبدیلی میں مطابقت نہ ہونا۔
  • متن میں انسجام نہ ہونا۔
  • بعض مدخل اور شخصیت میں خلط ملط ہونا۔
  • مولف کا مکمل اطلاعات ذکر نہ کرنا۔
  • نقل اقوال کے صدر و ذیل کا دقیق و معین نہ ہونا۔
  • اشعار اور دوسرے ضروری مواقع پر اعراب نہ لگانا۔
  • سید حسن امین کا موارد کو معین کئے بغیر اضافات کرنا۔
  • مداخل کی دقیق گنتی نہ ہونا۔
  • اطلاعات پیش کرنے میں توازن نہ ہونا۔
  • غیر شیعہ رجال کا ذکر۔
  • متن کے ضمن میں حواشی و تعلیقات کا ذکر
  • حوالوں کی اصلاح نہ ہونا۔
  • مداخل کا تکراری ہونا۔
  • حروف تہجی کے اعتبار سے دقیق ترتیب نہ ہونا۔
  • معلومات و اطلاعات کا ناقص ہونا۔
  • مصادر کی تخریج اور متن کا مستند نہ کرنا۔
  • غلط اطلاعات کا ثبت کرنا۔
  • غلط اطلاعات کا ہونا۔
  • اسماء کا دقیق ثبت نہ ہونا۔
  • فارسی متون کا ترجمہ۔
  • سید حسن امین کا بعض اطلاعات کو بغیر اس کی علت ذکر کئے حذف کرنا۔
  • غیر صالح شیعہ رجال کا ذکر۔
  • آیات کا دقیق ثبت نہ ہونا۔[6]

تکملہ اعیان الشیعہ

مولف کے بعد ان کے فرزند سید حسن امین نے اس کتاب کو مکمل کرنے کے سلسلہ میں قدم اٹھایا اور مستدرک اعیان الشیعہ تالیف کی۔ اسی طرح سے انہوں نے اعیان الشیعہ کی فہرست مرتب اور شائع کی۔ جیسا کہ سید حسن امین نے مستدرک اعیان الشیعہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں ان افراد کو شامل کیا ہے جن کا انتقال ان کے والد کی موت کے بعد ہوا ہے اور یا جن کا تذکرہ کسی بھی وجہ سے سید محسن امین نے اپنی کتاب میں نہیں کیا تھا۔[7]

ترجمے

جزئی طور پر کئی بار اس کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے جس میں سے ائمہ (ع) کی سوانح والے حصے کا ترجمہ فارسی میں علی حجتی کرمانی نے سیرہ معصومان کے نام سے کرکے اسے شائع کیا ہے۔

طباعت

اعیان الشیعہ کی اشاعت کا سلسلہ جیسا کہ آقا بزرگ تہرانی نے تحریر کیا ہے، ۱۳۵۴ ھ سے شروع ہوا[8] اور ۱۴۰۳ ھ مطابق ۱۹۸۳ ع میں یہ کتاب پہلی بار دار التعارف بیروت کی طرف سے سید حسن امین کے زیر نظر شائع ہوئی۔[9]

حوالہ جات

  1. مہرداد عباسی، کوشش‌ہای حسن الامین در بہ ثمر رساندن اعیان الشیعہ و تألیف مستدرکات آن، ۱۳۸۱ش.
  2. امین عاملی، اعیان الشیعہ، ۱۴۲۱ ق، مقدمہ کتاب.
  3. امین عاملی، اعیان الشیعہ، ۱۴۲۱ ق، ج۱، ص۱۶. مقدمہ کتاب.
  4. مہرداد عباسی، کوشش‌ہای حسن الامین در بہ ثمر رساندن اعیان الشیعہ و تألیف مستدرکات آن بہ نقل از مقدمہ کتاب، ۱۳۸۱ش.
  5. کتابخانہ دیجیتال نور.
  6. سید رسول علوی، تصحیح اعیان الشیعہ، ۱۳۸۹ش.
  7. امین عاملی، مستدرکات اعیان الشیعة، ۱۴۱۸ ق، ج۱، ص۵.
  8. تہرانی، الذریعہ، ج۲، ص۲۴۸.
  9. سید رسول علوی، تصحیح اعیان الشیعہ، ۱۳۸۹ش.


مآخذ

  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعہ، بیروت، دار الاضواء
  • امین عاملی، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف، ۱۴۲۱ ق
  • امین عاملی، سید حسن، مستدرکات اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف، ۱۴۱۸ ق
  • عباسی، مہرداد، مقالہ کوشش ہای حسن الامین در بہ ثمر رساندن اعیان الشیعہ و تألیف مستدرکات آن.، کتاب ماه دین اسفند ۱۳۸۱ش، شماره ۶۵
  • علوی، سید رسول، پژوہش‌ ہای در دست اجرا: تصحیح اعیان الشیعہ، کتاب شیعہ، پاییز و زمستان ۱۳۸۹ش، شماره ۲
  • کتاب شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور