مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:وطن کا دفاع

ویکی شیعہ سے
مقالہ وطن کا دفاع جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔

وطن کا دفاع یعنی بیرونی خطرات اور حملوں سے وطن کی حفاظت کرنا۔ شیعہ فقہ کے مطابق وطن کا دفاع، چاہے وہ وطن غیر اسلامی ہی کیوں نہ ہو، تمام قدرتمند افراد پر واجب کفائی ہے اور جب سرحدوں اور ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں تو یہ واجب ہو جاتا ہے۔

اگرچہ فقہا نے اسلامی وطن (دارالاسلام) کے دفاع کی بحث کو دفاعی جہاد کے باب میں کتاب جہاد کے تحت بیان کیا ہے، لیکن بعض نے وطن کے دفاع (دینی متون سے ہٹ کر) کا وجوب ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل بھی پیش کیے ہیں۔

وطن کا دفاع شرع، عقل اور وجدان کی رو سے ایک ضروری امر ہے۔ دینی متون میں ایسی آیات اور روایات پائی جاتی ہیں جو وطن کے دفاع پر زور دیتی ہیں۔ سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 8 اور 9، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 246، مشہور جملہ حب الوطن من الایمان (وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے)، عقلاء کی سیرت اور قاعدہ دفاع مشروع ، وطن کے دفاع کے دلائل میں سے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب وطن کا دفاع دین کے دفاع کی شکل میں ہو تو اس کی اہمیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے۔

ایران میں جو لوگ وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید شمار ہوتے ہیں اور فقہا کے فتوی کے مطابق، غسل اور کفن میں ان پر شہید کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ عراق ۔ ایران جنگ، لبنان اور غزہ کی جنگیں، یمن کی اپنے ملک پر حملے کے خلاف مزاحمت، اور روس، انگلستان، اسرائیل اور داعش کے خلاف فقہاء فتوائے جہاد وغیرہ شیعوں کی طرف سے وطن کے دفاع کی مثالیں ہیں جو تیرھویں سے پندرہویں صدی ہجری میں رونما ہوئی ہیں۔ بعض اوقات تو فقہا نے خود اس نوعیت کی مزاحمتی جنگوں میں شرکت کی ہے۔ شعراء نے اپنے مبارزاتی اشعار کے ذریعے لوگوں کو دشمنوں کے مقابلے میں مزاحمت کرنے اور سرزمین کی حفاظت کی طرف ترغیب دلائی ہے۔

اہمیت

وطن کا دفاع اسلامی فقہ[1] اور بین الاقوامی قانون[2] میں زیر بحث مسائل میں سے ہے۔ یہ (دارالاسلام ) کا مسئلہ فقہی کتابوں کے دفاعی جہاد کے باب میں ذکر ہوا ہے۔[3] پندرہویں صدی ہجری کے بعض فقہاء وطن کے دفاع کے مسئلے کومستقل طور پر زیر بحث لائے ہیں اور اس کے وجوب کے لیے دلائل پیش کیے ہیں۔[4]

بعض روایات میں بھی سرحدوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔[5] جمہوری اسلامی ایران میں جو لوگ وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید کہلاتے ہیں[6] اور فقہا کے فتویٰ کے مطابق، غسل اور کفن جیسےمسائل میں ان پر شہید کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔[7] وطن، خواہ اسلامی ہو یا نہ ہو، اسلام کی نظر میں قابل احترام ہے۔[8] شیعہ مفسر قرآن جوادی آملی تاکید کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو اپنے وطن کا دفاع نہ کرے وہ حیوان سے بھی گیا گزرا ہے۔[9]

بین الاقوامی قانون میں اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ایک مسلّم حق اور دفاعِ مشروع سمجھا جاتا ہے۔

وطن کے دفاع اور دفاعی جہاد کا باہمی تعلق

دفاعی جہاد اس دشمن کے خلاف مزاحمت کا نام ہے جو دین اسلام کو تباہ کرنے یا اسلامی سرزمینوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔[10] اس کا مقصد اسلام کا تحفظ اور مسلمانوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے۔[11] فقہا کے مطابق، دفاعی جہاد واجب کفائی ہے؛[12] اس کا وجوب اسلامی وطن (دار الاسلام) کے دفاع پر مبنی ہے۔[13] غیر اسلامی وطن کا دفاع بھی شرع اور عقل کے مطابق واجب قرار دیا گیا ہے[14] اور یہاں تک کہ بعض نےاسے فطری ہونے کے لحاظ سے لازم قرار دیا ہے۔[15]

محمد تقی مصباح یزدی کے مطابق، وطنوں کے دفاع کی شرعی حیثیت ایک جیسی نہیں ہے؛ اگر وطن کا دفاع دین کے دفاع اور اسلام اور اسلامی حکومت کے بقا کا مقدمہ ہو تو اس کی اہمیت غیر اسلامی وطن کے دفاع سے زیادہ ہے۔[16] اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ جب وطن کے دفاع اور دفاعی جہاد میں تعارض ہو تو دین کا دفاع مقدم ہوگا۔[17]

دفاع وطن کے وجوب کے دلائل

دفاع وطن کے وجوب کو ثابت کرنے کے لیے قرآن، روایات اور عقلی دلیل سے استناد کیا گیا ہے:[18]

شیعہ مکتب میں دفاع وطن کی مثالیں

شیعہ فقہا نے متعدد مواقع پر وطن کے دفاع کا حکم دیا ہے؛ جن میں سے ایک ایران و عراق جنگ کےموقع پر ہے جسے "دفاعِ مقدس" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[33] اس جنگ میں ایرانیوں نے بحیثیت ولی فقیہ امام خمینی کے حکم پر صدام کے حملے کے مقابلے میں دفاع کیا۔[34] سید علی حسینی خامنہ ای نے اس جنگ میں مجاہدین کی جنگ میں شرکت کی محرکات میں سے ایک "دشمن کا مقابلہ کرنے کا جذبہ" بتایا ہے۔[35]

نیز جون 2025ء میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 3،[36] امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں(جنگ رمضان) کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 4، سنہ 2006ء میں لبنان کی 33 روزہ جنگ، غزہ کے عوام کا اسرائیل کے حملے کے خلاف دفاع،[37] یمنی عوام کا اپنے ملک پر نام نہاد اتحادی افواج کے حملے کے خلاف دفاع[38] کو وطن کے دفاع کے مصادیق میں شمار کیا ہے۔

فقہا نے بعض مواقع پر دشمنوں کے ممالک پر حملے کے خلاف جہاد کا فتوی صادر کرتے ہوئے وطن کے دفاع کا حکم دیا ہے اور بعض صورتوں میں خود فقہاء بھی ان میں شریک ہوئے ہیں۔[39] ان میں سے ایک سنہ 1241 تا 1243ھ کا دور ہے جب شیعہ علماء جیسے جعفر کاشف الغطاء، سید علی طباطبائی، میرزائے قمی، ملا احمد نراقی اور سید محمد طباطبائی مجاہد نے ایران کے دفاع کے لیے روسی افواج کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔[40] عراق میں بھی محمد تقی شیرازی کے فتوائے جہاد (سنہ 1337ھ) کے نتیجے میں خاص پر شیعہ نشین علاقوں میں استعمار اور انگریز افواج کے خلاف ثورۃ العشرین (بیسویں کا انقلاب) جیسی تحریک وجود میں آئی۔[41] شیعہ فقیہ عبد الکریم زنجانی نے سنہ 1948ء میں اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا[42] اور سنہ 2014ء میں سید علی حسینی سیستانی نے عراق میں داعشیوں کی جارحیت کے خلاف اور ملک کے دفاع کے لیے جہاد کا فتویٰ صادر کیا۔[43] البتہ کہا گیا ہے کہ مذکورہ مواقع میں وطن کا دفاع درحقیقت دین کے دفاع کے مقدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔[حوالہ درکار]


دفاع وطن اور اردو ادب

اردو ادب میں حب الوطنی کے سلسلے میں بکثرت اشعار ملتے ہیں۔ قدیم شعراء سے لے کر جدید شعراء تک وطن کا دفاع ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں برصغیر پاک و ہند کے کہنہ مشق شاعر اور فلسفی علامہ محمد اقبال کے اشعار میں حب الوطنی کے جذبے کا اظہار خوبصورت اور موثر انداز میں ہوا ہے۔ علامہ اقبال کا کلام آج بھی انسانیت اور حب الوطنی کے مقدس جذبے کا درس دیتا ہے اورجذبہ حب وطن کو تحریک دیتا ہے۔[44]

ہو مرے دَم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھُول سے ہوتی ہے چمن کی زینت[45]


حوالہ جات

  1. ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج21، ص15؛ خویی، صراط النجاۃ، ج1، 328۔
  2. ↑ نادری، دفاع مشروع موضوع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد، ص33۔
  3. ↑ ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، ص246؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، ج3، ص8؛ نجفی، جواہر الکلام، ج21، ص15۔
  4. ↑ حسینی شیرازی، الفقہ، السلم و السلام، ص270؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»، اطلاع رسانی مرکز دفتر آیت‌ اللہ مکارم شیرازی۔
  5. ↑ شیخ صدوق، کتاب من لایحضرہ الفقیہ، ج2، ص284؛ صحیفہ سجادیہ، دعای 27۔
  6. ↑ «آیین‌نامہ تعیین و احراز مصادیق شہید و ایثارگر ابلاغ شد»، نیوز ایجنسی ایسنا۔
  7. ↑ امام خمینی، استفتاءات، ج1، ص78-89؛ سیستانی، «ہمہ كسانی كہ در دفاع از وطن كشتہ می‌شوند، شہید محسوب می‌شوند»، نیوز ایجنسی ایرنا۔
  8. ↑ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»، اطلاع رسانی مرکز دفتر آیت‌اللہ مکارم شیرازی۔
  9. ↑ جوادی آملی، «درس اخلاق آیت اللہ جوادی آملی دربارہ دفاع از وطن»۔
  10. ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج21، ص15۔
  11. ↑ ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، ص246؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، ج3، ص8؛ نجفی، جواہر الکلام، ج21، ص4۔
  12. ↑ شہید ثانی، مسالک الافہام، ج3، ص8۔
  13. ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ج2، ص379؛ نجفی، جواہر الکلام، ج21، ص4۔
  14. ↑ غضنفری، رہ رستگاری، ج2، ص104۔
  15. ↑ مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویب سائٹ۔
  16. ↑ مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویب سائٹ۔
  17. ↑ مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویب سائٹ۔
  18. ↑ غضنفری، رہ رستگاری، ج2، ص104؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاعر رسانی مرکز۔
  19. ↑ غضنفری، رہ رستگاری، ج2، ص104-105؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاع رسانی مرکز۔
  20. ↑ غضنفری، رہ رستگاری، ج2، ص104-105؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاع رسانی مرکز۔
  21. ↑ مکارم، تفسیر نمونہ، ج‏16، ص184-185؛ مکارم، پیام امام امیر المومنین(ع)، ج‏2، ص221۔
  22. ↑ ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ص207۔
  23. ↑ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ج2، ص28۔
  24. ↑ نہج البلاغہ، صبحی صالح، ص69، خطبہ27۔
  25. ↑ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج4، ص370؛ لیثی، عیون الحکم، ص295۔
  26. ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ج17، ص299؛ کراجکی، کنز الفوائد، ج1، ص94۔
  27. ↑ غضنفری، رہ رستگاری، ج2، ص104۔
  28. ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج41، ص650۔
  29. ↑ نادری، دفاع مشروع موضوع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد، 1351شمسی، ص33۔
  30. ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، ج1، ص463؛ عودہ، التشریع الجنایی، دار الکتب العربی، ج1، ص473؛ عطار، دفاع مشروع و تجاوز از حدود آن، ص27۔
  31. ↑ فاضل ہندی، کشف اللثام، ج10، ص649۔
  32. ↑ ورعی، «مبانى فقہى دفاع از سرزمین‌‏ہاى اسلامى»، حکومت اسلامی۔
  33. ↑ «چرا جنگ تحمیلی ایران با عراق را دفاع مقدس می‌نامند؟»، شبستان۔
  34. ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، ج13، ص221-226؛ مرندی، جنگ و دفاع در اندیشہ امام خمینی، ص57۔
  35. ↑ «بیانات در دیدار دست‌اندرکاران کنگرہ شہدای استان البرز»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای۔
  36. ↑ «دستاورد‌ہای دفاع مقدس 12 روزہ ایران در برابر رژیم صہیونی»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی۔
  37. ↑ «مردم فلسطین در حال دفاع از خود در برابر اشغالگران ہستند»، مہر نیوز ایجنسی۔
  38. ↑ «ثمرہ 10 سال مقاومت یمن و کابوس بی‌پایان آمریکا و اسرائیل»، تسنیم نیوز ایجنسی۔
  39. ↑ آقازادہ، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»، شیعہ شناسی سہ ماہہ جریدہ۔
  40. ↑ زرگری‌نژاد، «بررسی احکام الجہاد و اسباب الرشاد (نخستین اثر در ادبیات تکوین ادبیات جہادی تاریخ معاصر ایران)»، ص383؛ آقازادہ، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»، شیعہ‌ شناسی سہ ماہہ جریدہ۔
  41. ↑ آقابزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعۃ، 1430ھ، ج13، ص263۔
  42. ↑ سرحدی، «علمایی کہ نسبت بہ مسئلہ فلسطین واکنش نشان دادند»(وہ علماء جنہوں نے فلسطین کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کیا)، معاصر تاریخ ریسرچ سینٹر۔
  43. ↑ حطاب، «توظیف الحشد الشعبی فی المدرک السیاسی العراقی»، ص107-108۔
  44. ↑ علامہ اقبال اور حب الوطنی، مضامین.com۔
  45. ↑ دیوان اقبال، بانگ درا، بچوں کی دعا۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، طبقات أعلام الشیعۃ و ہو نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1430ھ۔
  • آقازادہ، جعفر، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»(ایران اور روس کے درمیان دوسری جنگوں کے دور میں شیعہ علماء کے کردار کا تجزیہ)، شیعہ‌شناسی سہ ماہہ جریدہ، شمارہ 47، 2015ء۔
  • «آیین‌نامہ تعیین و احراز مصادیق شہید و ایثارگر ابلاغ شد»(شہید اور ایثارگر کے مصادیق کے تعین اور احراز کے قواعد و ضوابط جاری کر دیے گئے)، ایسنا، تاریخ درج مطلب: 7 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 19 دسمبر 2025ء۔
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1404ھ۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1408ھ۔
  • «أشہر القصائد التی كتبہا الشعراء عن فلسطين»، عربی پوسٹ، تاریخ درج مطلب: 20 مئی 2021ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، استفتاءات، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‌، 1422ھ۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى(رہ)، 1392ہجری شمسی۔
  • امام‌ خمینی، سید روح‌اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌ خمینی، 1389ہجری شمسی۔
  • «بیانات در دیدار پیشکسوتان و فعالان دفاع مقدس و مقاومت»(دفاع مقدس اور مقاومت کے پیشرو اور فعالین سے ملاقات میں کی گئی رہبر کی گفتگو سے ماخوذ)، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: 25 ستمبر 2024ء)، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • «بیانات در دیدار دست‌اندرکاران کنگرہ شہدای استان البرز»(استان البرز کے شہداء کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں کی گئی رہبر کی گفتگو سے ماخوذ)، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: 14 دسمبر 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسامبر 2025ء۔
  • «ثمرہ 10 سال مقاومت یمن و کابوس بی‌پایان آمریکا و اسرائیل»(یمن کی دس سالہ مزاحمت کا ثمرہ اور امریکہ و اسرائیل کا نہ ختم ہونے والا خواب)، تسنیم نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 مارچ 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، «درس اخلاق آیت اللہ جوادی آملی دربارہ دفاع از وطن»(دفاع وطن کے موضوع پر آیت اللہ جوادی آملی کا درس اخلاق)، ندائے تہذیب، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • «چرا جنگ تحمیلی ایران با عراق را دفاع مقدس می‌نامند؟»(عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو کیوں دفاع مقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟)، شبستان، تاریخ درج مطلب: 26 ستمبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • حسینی شیرازی، سید محمد، الفقہ، السلم و السلام، بیروت، دار العلوم للتحقيق و الطباعۃ و النشر و التوزيع‌، 1426ھ۔
  • حطاب، جواد کاظم، «توظیف الحشد الشعبی فی المدرک السیاسی العراقی»، مجلۃ حمورابی، ساتواں سال، شمارہ 29، سرما 2019ء۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، صراط النجاۃ (المحشی)، قم، مکتب النشر المنتخب، 1416ھ۔
  • «دستاورد‌ہای دفاع مقدس 12 روزہ ایران در برابر رژیم صہیونی»(ایران کے 12 روزہ دفاع مقدس کے دوران صہیونی رژیم کے خلاف حاصل کردہ کارنامے)، دفاع مقدس نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 14 جولای 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • دیوان اقبال، مرتبہ: حامد حسن سید، ناشر: فکشن ہاؤس لاہور، پاکستان، 2012ء۔
  • زرگری‌نژاد، غلامحسین، «بررسی احکام الجہاد و اسباب الرشاد (نخستین اثر در ادبیات تکوین ادبیات جہادی تاریخ معاصر ایران)»(کتاب احکام الجہاد و اسباب الرشاد کا تحقیقی جائزہ (معاصر ایران کی جہادی ادبیات کی تشکیل کے اولین ادبیاتی کارنامے)، دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی کے جریدے میں، شمارہ 155، سال 1379ہجری شمسی۔
  • سرحدی، رضا، «علمایی کہ نسبت بہ مسئلہ فلسطین واکنش نشان دادند»(وہ علماء جنہوں نے فلسطین کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کیا)، معاصر تاریخ ریسرچ سینٹر، تاریخ درج مطلب: 3 جنوری 2022ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • سیستانی، سید علی، «ہمہ كسانی كہ در دفاع از وطن كشتہ می‌شوند، شہید محسوب می‌شوند»(تمام وہ افراد جو وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، شہید شمار ہوتے ہیں)، نیوز ایجنسی ایرنا، تاریخ درج مطلب: 23 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 19 دسمبر 2025ء۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، تحقیق: سید محمد کلانتر، قم، کتاب‌فروشی داوری، 1410ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1413ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا(ع)، تہران، نشر جہان، 1378ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‌، 1413ھ۔
  • علامہ اقبال اور حب الوطنی، تاریخِ درج مطلب: 27 جون 2021ء، تاریخِ مشاہدہ: 11 ستمبر 2026ء۔
  • عطار، داود، دفاع مشروع و تجاوز از حدود آن، ترجمہ: اکبر غفوری، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1370ہجری شمسی۔
  • عودہ، عبدالقادر، التشریع الجنایی الاسلامی، مقارنا بالقانون الوضعی، بیروت، دار الکتب العربی، بے تا۔
  • غضنفری، علی، رہ رستگاری، قم، نشر لاہیجی، 1382ہجری شمسی۔
  • فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام عن قواعد الأحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1416ھ۔
  • کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، قم، دارالذخائر، 1410ھ۔
  • لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، 1376ہجری شمسی۔
  • «مردم فلسطین در حال دفاع از خود در برابر اشغالگران ہستند»(فلسطینی عوام قبضہ کاروں کے خلاف حالت دفاع میں ہیں)، مہر نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 6 نومبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • مرندی، مہدی، جنگ و دفاع در اندیشہ امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌ خمینی، 1387ہجری شمسی۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»(دین کا دفاع؛ سب سے قیمتی دفاع)، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 6 مئی 2010ء، تاریخ مشاہدہ: 21 دسمبر 2025ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیر المومنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • نادری، محمدتقی، دفاع مشروع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد(اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا موضوع: جائز حق دفاع)، تہران، دانشگاہ تہران، 1351ہجری شمسی۔
  • نجفی،‌ محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: محمد قوچانی، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی۔
  • ورعی، سید جواد، «مبانى فقہى دفاع از سرزمین‏‌ہاى اسلامى»(اسلامی سرزمینوں کے دفاع کی فقہی بنیادیں)، جریدہ حکومت اسلامی، شمارہ 28، 1382ہجری شمسی۔
  • «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن کی محبت آیت اللہ مکارم شیرازی کی نظر میں)، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاع رسانی مرکز، تاریخ درج مطلب: 26 نومبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔