مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:وطن کا دفاع

ویکی شیعہ سے

وطن کا دفاع یعنی بیرونی خطرات اور حملوں سے وطن کی حفاظت کرنا۔ شیعہ فقہ کے مطابق وطن کا دفاع، چاہے وہ وطن غیر اسلامی ہی کیوں نہ ہو، تمام قدرتمند افراد پر واجب کفائی ہے اور جب سرحدوں اور ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں تو یہ واجب ہو جاتا ہے۔

اگرچہ فقہا نے اسلامی وطن (دار الاسلام) کے دفاع کی بحث کو دفاعی جہاد کے باب میں کتاب جہاد کے تحت بیان کیا ہے، لیکن بعض نے وطن کے دفاع (دینی متون سے ہٹ کر) کے وجوب ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل بھی پیش کیے ہیں۔

وطن کا دفاع شرع، عقل اور وجدان کی رو سے ایک ضروری امر ہے۔ دینی متون میں ایسی آیات اور روایات پائی جاتی ہیں جو وطن کے دفاع پر زور دیتی ہیں۔ سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 8 اور 9، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 246، مشہور جملہ حب الوطن من الایمان (وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے)، عقلاء کی سیرت اور دفاع مشروع کا قاعدہ، وطن کے دفاع کے دلائل میں سے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب وطن کا دفاع دین کے دفاع کی شکل میں ہو تو اس کی اہمیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے۔

ایران میں جو لوگ وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید شمار ہوتے ہیں اور فقہا کے فتوی کے مطابق، غسل اور کفن میں ان پر شہید کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ عراق کا ایران کے ساتھ جنگ، لبنان اور غزہ کی جنگیں، یمن کی اپنے ملک پر حملے کے خلاف مزاحمت، اور روس، انگلستان، اسرائیل اور داعش کے خلاف فقہا کے جہاد کے فتوے وغیرہ شیعوں کی طرف سے وطن کے دفاع کی مثالیں ہیں جو تیرھویں سے پندرہویں صدی ہجری میں رونما ہوئی ہیں۔ بعض اوقات تو فقہا نے خود اس نوعیت کی مزاحمتی جنگوں میں شرکت کی ہے۔ شعراء نے مبارزاتی اشعار کے ذریعے لوگوں کو مزاحمت اور سرزمین کی حفاظت کی طرف ترغیب دلائی ہے۔

اہمیت

وطن کا دفاع اسلامی فقہ[1] اور بین الاقوامی قانون[2] میں زیر بحث مسائل میں سے ہے۔ (دار الاسلام کا) یہ مسئلہ فقہی کتابوں کے باب دفاعی جہاد میں ذکر ہوا ہے۔[3] پندرہویں صدی ہجری کے بعض فقہا نے وطن کے دفاع کو دینی متون سے ہٹ کر مستقل طور پر زیر بحث لایا ہےاور اس کے وجوب کے لیے دلائل پیش کیے ہیں۔[4]

بعض روایات میں بھی سرحدوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔[5] جمہوری اسلامی ایران میں جو لوگ وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، وہ شہید کہلاتے ہیں[6] اور فقہا کے فتویٰ کے مطابق، غسل اور کفن میں ان پر شہید کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔[7] وطن، خواہ اسلامی ہو یا نہ ہو، اسلام کی نظر میں محترم ہے۔[8] شیعہ مفسر قرآن جوادی آملی تاکید کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو اپنے وطن کا دفاع نہ کرے وہ حیوان سے بھی گیا گزرا ہے۔[9]

بین الاقوامی قانون میں اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ایک مسلّم حق اور دفاعِ مشروع سمجھا جاتا ہے۔

وطن کے دفاع اور دفاعی جہاد کا باہمی تعلق

دفاعی جہاد اس دشمن کے خلاف مزاحمت کا نام ہے جو دین اسلام کو تباہ کرنے یا اسلامی سرزمینوں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔[10] اس کا مقصد اسلام کا تحفظ اور مسلمانوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے۔[11] فقہا کے مطابق، دفاعی جہاد واجب کفائی ہے؛[12] اس کا وجوب اسلامی وطن (دار الاسلام) کے دفاع پر مبنی ہے۔[13] غیر اسلامی وطن کا دفاع بھی شرع اور عقل کے مطابق واجب قرار دیا گیا ہے[14] اور یہاں تک کہ بعض نے اس کے لازمی ہونے کو فطری بتایا ہے۔[15]

محمد تقی مصباح یزدی کے مطابق، وطنوں کے دفاع کی شرعی حیثیت ایک جیسی نہیں ہے؛ اگر وطن کا دفاع دین کے دفاع اور اسلام اور اسلامی حکومت کے بقا کا مقدمہ ہو، تو اس کی قدر غیر اسلامی وطن کے دفاع سے زیادہ ہے۔[16] اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ جب وطن کے دفاع اور دفاعی جہاد میں تعارض ہو تو دین کا دفاع مقدم ہوگا۔[17]

دفاع وطن کے وجوب کے دلائل

دفاع وطن کے وجوب کو ثابت کرنے کے لیے قرآن، روایات اور عقلی دلیل سے استناد کیا گیا ہے:[18]

  • سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 8 اور 9 نیز سورہ بقرہ کی آیت نمبر 246؛[19]
  • بعض علما نے دفاع وطن کے وجوب کے لیے روایات سے بھی استناد کیا ہے؛ جن میں:[20] وہ روایات جو میں رسول خداؐ کی اپنے وطن (مکہ) سے محبت کے بارے میں ہیں[21] یا جن میں وطن سے محبت کرنے پر زور دیا گیا ہے؛[22] ان لوگوں کی مذمت جو اپنی سرزمین کا دفاع نہیں کرتے؛[23] جیسے نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر 29 جس میں امام علیؑ نے کوفیوں کو ان کے وطن کا دفاع نہ کرنے پر ملامت کی ہے؛[24] اور وہ روایات جن میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ بغیر امن کے وطن کی کوئی قدر نہیں۔[25]
  • رسول اکرمؐ کی طرف منسوب یہ جملہ: «حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِیمَانِ»[26] یعنی وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔[27]
  • قانونی اور جائز دفاع کے فقہی[28] اورقانونی[29] دلائل، جو جان، مال، ناموس اور وطن کے دفاع جیسے سب موضوعات کو شامل ہیں۔[30]
  • عقلی دلیل: وطن کے دفاع کا مطلب ہے وطن کو لاحق کسی خطرے یا نقصان کو دور کرنا؛ (اور عقل نقصان کو دور کرنے کا حکم دیتی ہے)۔[31]
  • عقلاء کی سیرت؛ حملہ آور دشمن کا مقابلہ کرنا مظلوموں کا جائز حق ہے اور قرآن (سورہ حج آیت نمبر 22) کے مطابق بھی یہ جائز ہے۔[32]

شیعہ مکتب میں دفاع وطن کی مثالیں

شیعہ فقہا نے متعدد مواقع پر وطن کے دفاع کا حکم دیا ہے؛ جن میں سے ایک ایران و عراق جنگ کےموقع پر ہے جسے «دفاعِ مقدس» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[33] اس جنگ میں ایرانیوں نے بحیثیت ولی فقہ امام خمینی کے حکم پر صدام کے حملے کے مقابلے میں دفاع کیا۔[34] سید علی حسینی خامنہ ای نے اس جنگ میں مجاہدین کی جنگ میں شرکت کی محرکات میں سے ایک «دشمن کا مقابلہ کرنے کا جذبہ» بتایا ہے۔[35]


نیز جون 2025ء میں اسرائیل کے ایران پر حملے کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 3،[36] امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں(جنگ رمضان) کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 4، سنہ 2006ء میں لبنان کی 33 روزہ جنگ، غزہ کے عوام کا اسرائیل کے حملے کے خلاف دفاع،[37] یمنی عوام کا اپنے ملک پر نام نہاد اتحادی افواج کے حملے کے خلاف دفاع[38] یہ سب وطن کے دفاع کے مصادیق شمار ہوتے ہیں۔

فقہا نے بعض مواقع پر دشمنوں کے ممالک پر حملے کے خلاف جہاد کا فتوی صادر کرتے ہوئے وطن کے دفاع کا حکم دیا ہے اور بعض صورتوں میں خود فقہاء بھی ان میں شریک ہوئے ہیں۔[39] ان میں سے ایک سنہ 1241 تا 1243 ھ کا دور ہے جب شیعہ علماء جیسے جعفر کاشف الغطاء، سید علی طباطبائی، میرزائے قمی، ملا احمد نراقی اور سید محمد طباطبائی مجاہد نے ایران کے دفاع کے لیے روسی افواج کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔[40] عراق میں بھی محمد تقی شیرازی کے فتوائے جہاد (سنہ 1337ھ) کے نتیجے میں خاص پر شیعہ نشین علاقوں میں استعمار اور انگریز افواج کے خلاف ثورۃ العشرین (بیسویں کا انقلاب) جیسی تحریک وجود میں آئی۔[41] شیعہ فقیہ عبد الکریم زنجانی نے سنہ 1948ء میں اسرائیل کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری جاری کیا[42] اور سنہ 2014ء میں سید علی حسینی سیستانی نے عراق میں داعشیوں کی جارحیت کے خلاف اور ملک کے دفاع کے لیے جہاد کا فتویٰ صادر کیا۔[43] البتہ کہا گیا ہے کہ مذکورہ مواقع میں وطن کا دفاع درحقیقت دین کے دفاع کے مقدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔[حوالہ درکار]

وطن کا دفاع ثقافت اور ادب میں

وطن کے دفاع کے سلسلے میں شعراء نے بھی اشعار کہے ہیں۔ فارسی شاعر ملک الشعرائے بہار کی نظم «وطن در خطر است(وطن خطرے میں ہے)» انہی اشعار میں سے ہے جس کے ایک حصے میں آیا ہے:

در رہ حفظ وطن تازید اللہ اللہ
بیش از این فتنہ میاندازید اللہ اللہ
خصم را خانہ براندازید اللہ اللہ
ای خلایق مددی سازید، اللہ اللہ
کہ وطن باز وطن باز وطن در خطر است
ای وطن‌خواہان زنہار وطن در خطر است[44]


ترجمہ: وطن کی حفاظت کی راہ میں لگے رہو، اللہ اللہ / اس سے زیادہ فتنہ نہ ڈالو، اللہ اللہ / دشمن کا گھر اُکھاڑ پھینکو، اللہ اللہ / اے لوگو! مدد کرو، اللہ اللہ / ہاں وطن خطرے میں ہے / اے وطن سے محبت رکھنے والو! خبردار، وطن خطرے میں ہے۔

فلسطینی شاعر عبد الرحیم محمود نے بھی اپنے وطن کے دفاع میں یہ اشعار کہے ہیں:

بقلبی سأرمی وجوہ العداۃ
فقلبي حديدٌ وناری لظى
وأحمی حياضی بحدّ الحسام
فيعرف قومي أنّی الفتى[45]


ترجمہ: میں اپنے دل سے دشمنوں کے چہروں کو نشانہ بناؤں گا / کیونکہ میرا دل لوہا ہے اور میری آگ بھڑکتی ہوئی / اور میں اپنی حفاظت تلوار کی دھار سے کروں گا / تاکہ میری قوم جان لے کہ میں جوانمرد ہوں۔

ایران عراق جنگ کے ایام میں بھی شعراء نے مبارزاتی اشعار کے ذریعے لوگوں کو دفاع وطن کی طرف ترغیب دی ہے۔[46]

حوالہ جات

  1. نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص15؛ خویی، صراط النجاۃ، 1416ھ، ج1، 328۔
  2. نادری، دفاع مشروع موضوع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد، 1351شمسی، ص33۔
  3. ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص246؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص8؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص15۔
  4. حسینی شیرازی، الفقہ، السلم و السلام، 1426ھ، ص270؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی» (وطن سے محبت آیت اللہ مکارم کی نظر میں)، اطلاعاتی مرکز دفتر آیت‌ اللہ مکارم شیرازی۔
  5. شیخ صدوق، کتاب من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص284؛ صحیفہ سجادیہ، دعای 27۔
  6. «آیین‌نامہ تعیین و احراز مصادیق شہید و ایثارگر ابلاغ شد»(شہید اور ایثارگر کے مصادیق کے تعین اور احراز کے قواعد و ضوابط جاری کر دیے گئے)»، نیوز ایجنسی ایسنا۔
  7. امام خمینی، استفتاءات، 1422ھ، ج1، ص78-89؛ سیستانی، «ہمہ كسانی كہ در دفاع از وطن كشتہ می‌شوند، شہید محسوب می‌شوند»(تمام وہ افراد جو وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، شہید شمار ہوتے ہیں)، نیوز ایجنسی ایرنا۔
  8. «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن سے محبت آیت اللہ مکارم کی نظر میں)، اطلاعاتی مرکز دفتر آیت‌اللہ مکارم شیرازی۔
  9. جوادی آملی، «درس اخلاق آیت اللہ جوادی آملی دربارہ دفاع از وطن»(وطن کے دفاع کے موضوع پر آیت اللہ جوادی آملی کا درس اخلاق)۔
  10. نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص15۔
  11. ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقہ، 1403ھ، ص246؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص8؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص4۔
  12. شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص8۔
  13. شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج2، ص379؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص4۔
  14. غضنفری، رہ رستگاری، 1382شمسی، ج2، ص104۔
  15. مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»(دین کا دفاع؛ سب سے قیمتی دفاع)، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویبسائٹ۔
  16. مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»(دین کا دفاع؛ سب سے قیمتی دفاع)، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویبسائٹ۔
  17. مصباح یزدی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»(دین کا دفاع؛ سب سے قیمتی دفاع)، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویبسائٹ۔
  18. غضنفری، رہ رستگاری، 1382شمسی، ج2، ص104؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن کی محبت آیت اللہ مکارم شیرازی کی نظر میں)، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاعاتی مرکز۔
  19. غضنفری، رہ رستگاری، 1382شمسی، ج2، ص104-105؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن کی محبت آیت اللہ مکارم شیرازی کی نظر میں)، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاعاتی مرکز۔
  20. غضنفری، رہ رستگاری، 1382شمسی، ج2، ص104-105؛ «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن کی محبت آیت اللہ مکارم شیرازی کی نظر میں)، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاعاتی مرکز۔
  21. مکارم، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج‏16، ص184-185؛ مکارم، پیام امام امیر المومنین(ع)، 1386شمسی، ج‏2، ص221۔
  22. ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1404ھ، ص207۔
  23. صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج2، ص28۔
  24. نہج البلاغہ، صبحی صالح، ص69، خطبہ27۔
  25. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص370؛ لیثی، عیون الحکم، 1376شمسی، ص295۔
  26. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1408ھ، ج17، ص299؛ کراجکی، کنز الفوائد، 1410ھ،‌ ج1، ص94۔
  27. غضنفری، رہ رستگاری، 1382شمسی، ج2، ص104۔
  28. نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج41، ص650۔
  29. نادری، دفاع مشروع موضوع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد، 1351شمسی، ص33۔
  30. امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص463؛ عودہ، التشریع الجنایی، دار الکتب العربی، ج1، ص473؛ عطار، دفاع مشروع و تجاوز از حدود آن، 1370شمسی، ص27۔
  31. فاضل ہندی، کشف اللثام، 1416ھ، ج10، ص649۔
  32. ورعی، «مبانى فقہى دفاع از سرزمین‌‏ہاى اسلامى»(اسلامی سرزمینوں کے دفاع کی فقہی بنادیں)، حکومت اسلامی۔
  33. «چرا جنگ تحمیلی ایران با عراق را دفاع مقدس می‌نامند؟»(عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو کیوں دفاع مقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟)، شبستان۔
  34. امام خمینی، صحیفہ امام، 1389شمسی، ج13، ص221-226؛ مرندی، جنگ و دفاع در اندیشہ امام خمینی، 1387شمسی، ص57۔
  35. «بیانات در دیدار دست‌اندرکاران کنگرہ شہدای استان البرز»(استان البرز کے شہداء کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں کی گئی رہبر کی گفتگو سے ماخوذ)، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای۔
  36. «دستاورد‌ہای دفاع مقدس 12 روزہ ایران در برابر رژیم صہیونی»(ایران کے 12 روزہ دفاع مقدس کے دوران صہیونی رژیم کے خلاف حاصل کردہ کارنامے)، دفاع مقدس نیوز ایجنسی۔
  37. «مردم فلسطین در حال دفاع از خود در برابر اشغالگران ہستند»(فلسطینی عوام قبضہ کاروں کے خلاف حالت دفاع میں ہیں۔)، مہر نیوز ایجنسی۔
  38. «ثمرہ 10 سال مقاومت یمن و کابوس بی‌پایان آمریکا و اسرائیل»(یمن کی دس سالہ مزاحمت کا ثمرہ اور امریکہ و اسرائیل کا نہ ختم ہونے والا خواب)، تسنیم نیوز ایجنسی۔
  39. آقازادہ، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»(ایران اور روس کی جنگوں کے دوسرے دور میں شیعہ علما کے کردار کا تجزیاتی مطالعہ)، شیعہ شناسی فصلی جریدہ۔
  40. زرگری‌نژاد، «بررسی احکام الجہاد و اسباب الرشاد (نخستین اثر در ادبیات تکوین ادبیات جہادی تاریخ معاصر ایران)» (کتاب احکام الجہاد و اسباب الرشاد کا تحقیقی جائزہ (معاصر ایران کی جہادی ادبیات کی تشکیل کے اولین ادبیاتی کارنامے)، ص383؛ آقازادہ، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»(ایران اور روس کی جنگوں کے دوسرے دور میں شیعہ علما کے کردار کا تجزیاتی مطالعہ)، شیعہ‌ شناسی فصلی جریدہ۔
  41. آقابزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعۃ، 1430ھ، ج13، ص263۔
  42. سرحدی، «علمایی کہ نسبت بہ مسئلہ فلسطین واکنش نشان دادند»(وہ علماء جنہوں نے فلسطین کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کیا)، معاصر تاریخ ریسرچ سینٹر۔
  43. حطاب، «توظیف الحشد الشعبی فی المدرک السیاسی العراقی»، ص107-108۔
  44. «وطن در خطر است»، گنجور۔
  45. «أشہر القصائد التی كتبہا الشعراء عن فلسطين»، عربی بوست۔
  46. شریف‌پور و ترابی، «وطن‌گرایی در شعر دفاع مقدس»، نشریہ ادبیات پایداری۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، طبقات أعلام الشیعۃ و ہو نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1430ھ۔
  • آقازادہ، جعفر، «تحلیلی بر نقش روحانیون شیعہ در دورہ دوم جنگ‌ہای ایران و روس»، فصلنامہ شیعہ‌شناسی، شمارہ 47، 2015ء۔
  • «آیین‌نامہ تعیین و احراز مصادیق شہید و ایثارگر ابلاغ شد»(شہید اور ایثارگر کے مصادیق کے تعین اور احراز کے قواعد و ضوابط جاری کر دیے گئے)، ایسنا، تاریخ درج مطلب: 7 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 19 دسمبر 2025ء۔
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1404ھ۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1408ھ۔
  • «أشہر القصائد التی كتبہا الشعراء عن فلسطين»، عربی بوست، تاریخ درج مطلب: 20 مئی 2021ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، استفتاءات، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‌، 1422ھ۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى(رہ)، 1392ہجری شمسی۔
  • امام‌ خمینی، سید روح‌اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌ خمینی، 1389ہجری شمسی۔
  • «بیانات در دیدار پیشکسوتان و فعالان دفاع مقدس و مقاومت»(دفاع مقدس اور مقاومت کے پیشرو اور فعالین سے ملاقات میں کی گئی رہبر کی گفتگو سے ماخوذ)، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: 25 ستمبر 2024ء)، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • «بیانات در دیدار دست‌اندرکاران کنگرہ شہدای استان البرز»(استان البرز کے شہداء کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں کی گئی رہبر کی گفتگو سے ماخوذ)، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: 14 دسمبر 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسامبر 2025ء۔
  • «ثمرہ 10 سال مقاومت یمن و کابوس بی‌پایان آمریکا و اسرائیل»(یمن کی دس سالہ مزاحمت کا ثمرہ اور امریکہ و اسرائیل کا نہ ختم ہونے والا خواب)، تسنیم نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 مارچ 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، «درس اخلاق آیت اللہ جوادی آملی دربارہ دفاع از وطن»، ندای تہذیب، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • «چرا جنگ تحمیلی ایران با عراق را دفاع مقدس می‌نامند؟»(عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو کیوں دفاع مقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟)، شبستان، تاریخ درج مطلب: 26 ستمبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • حسینی شیرازی، سید محمد، الفقہ، السلم و السلام، بیروت، دار العلوم للتحقيق و الطباعۃ و النشر و التوزيع‌، 1426ھ۔
  • حطاب، جواد کاظم، «توظیف الحشد الشعبی فی المدرک السیاسی العراقی»، مجلۃ حمورابی، ساتواں سال، شمارہ 29، سرما 2019ء۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، صراط النجاۃ (المحشی)، قم، مکتب النشر المنتخب، 1416ھ۔
  • «دستاورد‌ہای دفاع مقدس 12 روزہ ایران در برابر رژیم صہیونی»(ایران کے 12 روزہ دفاع مقدس کے دوران صہیونی رژیم کے خلاف حاصل کردہ کارنامے)، دفاع مقدس نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 14 جولای 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • زرگری‌نژاد، غلامحسین، «بررسی احکام الجہاد و اسباب الرشاد (نخستین اثر در ادبیات تکوین ادبیات جہادی تاریخ معاصر ایران)»(کتاب احکام الجہاد و اسباب الرشاد کا تحقیقی جائزہ (معاصر ایران کی جہادی ادبیات کی تشکیل کے اولین ادبیاتی کارنامے)، دانشکدہ ادبیات و علوم انسانی کے جریدے میں، شمارہ 155، سال 1379ہجری شمسی۔
  • سرحدی، رضا، «علمایی کہ نسبت بہ مسئلہ فلسطین واکنش نشان دادند»(وہ علماء جنہوں نے فلسطین کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کیا)، معاصر تاریخ ریسرچ سینٹر، تاریخ درج مطلب: 3 جنوری 2022ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔
  • سیستانی، سید علی، «ہمہ كسانی كہ در دفاع از وطن كشتہ می‌شوند، شہید محسوب می‌شوند»(تمام وہ افراد جو وطن کے دفاع میں مارے جاتے ہیں، شہید شمار ہوتے ہیں)، نیوز ایجنسی ایرنا، تاریخ درج مطلب: 23 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 19 دسمبر 2025ء۔
  • شریف‌پور، عنایت‌اللہ و ترابی، علی حسن، «وطن‌گرایی در شعر دفاع مقدس»(دفاع مقدس کے بارے میں اشعار میں وطن پسندی)، نشریہ ادبیات پایداری، شمارہ 13، خزاں و سرما 1394ہجری شمسی۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، تحقیق: سید محمد کلانتر، قم، کتاب‌فروشی داوری، 1410ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1413ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا(ع)، تہران، نشر جہان، 1378ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‌، 1413ھ۔
  • عطار، داود، دفاع مشروع و تجاوز از حدود آن، ترجمہ: اکبر غفوری، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، 1370ہجری شمسی۔
  • عودہ، عبدالقادر، التشریع الجنایی الاسلامی، مقارنا بالقانون الوضعی، بیروت، دار الکتب العربی، بی‌تا۔
  • غضنفری، علی، رہ رستگاری، قم، نشر لاہیجی، 1382ہجری شمسی۔
  • فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام عن قواعد الأحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1416ھ۔
  • کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، قم، دارالذخائر، 1410ھ۔
  • لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، 1376ہجری شمسی۔
  • «مردم فلسطین در حال دفاع از خود در برابر اشغالگران ہستند»(فلسطینی عوام قبضہ کاروں کے خلاف حالت دفاع میں ہیں)، مہر نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 6 نومبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 17 دسمبر 2025ء۔
  • مرندی، مہدی، جنگ و دفاع در اندیشہ امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌ خمینی، 1387ہجری شمسی۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، «دفاع از دین؛ ارزشمندترین دفاع»(دین کا دفاع؛ سب سے قیمتی دفاع)، آثار آیت‌اللہ مصباح یزدی کی اطلاعاتی ویبسائٹ، تاریخ درج مطلب: 6 مئی 2010ء، تاریخ مشاہدہ: 21 دسمبر 2025ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیر المومنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • نادری، محمدتقی، دفاع مشروع موضوع مادہ 51 منشور ملل متحد(اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا موضوع: جائز حق دفاع)، تہران، دانشگاہ تہران، 1351ہجری شمسی۔
  • نجفی،‌ محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: محمد قوچانی، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی۔
  • ورعی، سید جواد، «مبانى فقہى دفاع از سرزمین‏‌ہاى اسلامى»(اسلامی سرزمینوں کے دفاع کی فقہی بنیادیں)، جریدہ حکومت اسلامی، شمارہ 28، 1382ہجری شمسی۔
  • «وطن دوستی از منظر آیت‌اللہ العظمی مکارم شیرازی»(وطن کی محبت آیت اللہ مکارم شیرازی کی نظر میں)، آیت‌ اللہ مکارم شیرازی کا اطلاعاتی مرکز، تاریخ درج مطلب: 26 نومبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 15 دسمبر 2025ء۔