مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 279
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | بقرہ |
| آیت نمبر | 279 |
| پارہ | 3 |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | سود خوری خدا اور پیغمبرؐ کے ساتھ اعلان جنگ |
| مربوط آیات | آیات ربا اور سورہ آلعمران آیت نمبر 130 |
سورۂ بقرہ آیت نمبر 279، ربا اور سود کے بارے میں نازل ہونے والی آیات میں سے ایک اہم آیت ہے، جس میں سود کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔[1] یہ آیت ان آیات کے تسلسل میں نازل ہوئی ہے جو ربا کی حرمت بیان کرتی ہیں۔ پچھلی آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ سودی مطالبات سے دستبردار ہو جائیں جبکہ مذکورہ آیت میں اس حکم کی خلاف ورزی کے نتائج بیان کئے گئے ہیں۔ اس طرح سابقہ آیات کا نصیحت آمیز لہجہ یہاں آکر تنبیہ اور وعید کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔[2]
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴿٢٧٩﴾
"لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر خدا اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر اب بھی تم توبہ کرلو۔ تو تمہارا اصل مال تمہارا ہوگا (جو تمہیں مل جائے گا)۔ نہ تم (زائد لے کر) کسی پر ظلم کروگے اور نہ (اصل مال خوردبرد کرکے) تم پر ظلم کیا جائے گا۔"
سورہ بقرہ آیت نمبر 279
بعض مفسرین کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان ربا ترک نہ کریں تو رسول اکرمؐ انہیں روکنے کے لئے طاقت کے استعمال پر مجبور ہونگے۔[3] کیونکہ اس آیت کے مطابق اسلامی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زبردستی اور طاقت کا استعمال کرکے سود خوری کا سدِّباب کرے۔[4] مفسرین احکامِ الٰہی کے نفاذ کے لئے طاقت کا استعمال جائز ہونے پر قرآن کی دیگر آیات جیسے سورہ حجرات آیت نمبر 9 سے بھی استدلال کرتے ہیں۔[5]
مفسرین نے لفظ «فَأْذَنُوا» کے بارے میں متعدد احتمالات ذکر کئے ہیں منجملہ یہ کہ آیت کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ "جان لو کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔" یا یہ کہ "اعلان کر دو کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ پر اتر آئے ہو۔"[6] اسی طرح لفظ «حَرْبٍ» کا نکرہ (الف لام کے بغیر) استعمال ہونا اس جنگ کی سنگینی اور ربا کے گناہ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔[7]
آیت کے اگلے حصے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر سود خور توبہ کر لیں اور ربا سے دست بردار ہو جائیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں اصل سرمایہ واپس دیا جائے نہ کہ اس پر حاصل ہونے والا سود سمیت اس صورت میں نہ اس نے کسی پر ظلم کیا ہے کیونکہ اس نے سود نہیں لیا ہے اور نہ اس پر ظلم ہوا ہے کیونکہ اصل سرمایہ اسے واپس ملا ہے۔[8]
جملہ «لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ» کو بعض علماء نے ایک جامع اسلامی نعرہ قرار دیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ: "مسلمان نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم برداشت کرتا ہے۔" کہا گیا ہے کہ اگر مظلوم ظلم قبول نہ کرے تو ظالموں کی تعداد اور طاقت خود بخود کم ہو جاتی ہے۔[9] اسی فقرے سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ سود لینا بذاتِ خود ظلم ہے۔[10]
بعض فقہاء نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے ربا کو گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔[11] کہا جاتا ہے کہ یہ آیت معاشرے کے اقتصادی امن کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے سود خور کو محارب (اللہ اور رسول سے جنگ کرنے والا) قرار دینے پر بھی دلالت کرتی ہے۔[12] البتہ بعض دیگر فقہاء کا کہنا ہے کہ یہاں محاربہ حقیقی نہیں بلکہ مجازی معنی میں استعمال ہوا ہے؛ یعنی چونکہ ربا ایک نہایت سنگین گناہ ہے، اس لئے قرآن نے اس کی قباحت اور شدت کو بیان کرنے کے لئے اسے اللہ اور رسولؐ کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا ہے۔[13]
حوالہ جات
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص674؛ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص422۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص375۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص674؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص375۔
- ↑ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص422؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص375۔
- ↑ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص422؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص375۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص673؛ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص422۔
- ↑ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص423؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص376۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص376۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص377۔
- ↑ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج2، ص422۔
- ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج10، ص133-134؛ مؤمن قمی، کلمات سدیدہ، جامعہ مدرسین، ص377۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج1، ص449 و ج3، ص76۔
- ↑ ہاشمی شاہرودی، قراءات فقہیہ معاصرہ، 1423ھ، ج1، ص387۔
مآخذ
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1414ھ۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مركز فرہنگى درسہایى از قرآن، 1383ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- مؤمن قمی، محمد، کلمات سدیدہ فی مسائل جدیدہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، بیتا۔
- ہاشمی شاہرودی، سید محمود، قراءات فقہیہ معاصرہ، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بيت(ع)، 1423ھ۔