مندرجات کا رخ کریں

رسالہ اہوازیہ

ویکی شیعہ سے
رسالہ اہوازیہ
دیگر اسامیامام جعفر صادقؑ کا نجاشی کے نام خط
صادرہ ازامام جعفر صادقؑ
مخاطبنجاشی
موضوععوام کے ساتھ حکام کے برتاؤ کا طریقہ اور شیعوں کے حقوق کی وضاحت
مناسبتنجاشی کے سوالات کا جواب
سندمعتبر
شیعہ منابعوسائل الشیعہکشف الریبہبحار الانوار
خصوصیاتاہل بیتؑ کی پیروی • بیت المال کو خرچ کرنے میں احتیاط • تجسس سے دوری • امانت دار افراد کا انتخاب • ماتحتوں اور رجوع کرنے والوں کے ساتھ نرمی اور رواداری
ترجمہفارسی
مربوطہعثمان بن حنیف کے نام امام علی کا خطامام علیؑ کا اشعث بن قیس کے نام خطامام علی کا شریح قاضی کے نام خطامام علی کا سہل بن حنیف کے نام خط


رسالہ اہوازیہ یا امام صادقؑ کا نجاشی کے نام خط اُس مکتوب کو کہا جاتا ہے جو امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ہے جسے آپؑ نے اہواز کے حاکم عبد الله بن نجاشی کے نام لکھا تھا۔ اس میں حکومتی عهده داروں کا عوام کے ساتھ برتاؤ، عمال کے انتخاب اور انتظامی امور سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔ اس خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہے۔

اس خط کے مکمل متن کو پہلی مرتبه ابن‌ زُہره (متوفیٰ: 580ھ) اور اس کے بعد شہید ثانی نے نقل کیا ہے اور اسی ذریعے سے یہ دیگر مصادر میں شامل ہوا۔ بعض محققین نے خط کے بعض حصوں کی صحت پر شبه ظاہر کیا ہے، مثلاً شیعوں کے حقوق سے متعلق مطالب، امام حسینؑ کے مکاشفہاور امام علیؑ کا شیطان سے مکالمه۔ اس شبه کے تناظر میں یہ احتمال دیا گیا ہے کہ شاید یہ حصے بعد میں متن میں شامل کیے گئے ہوں۔

اس رسالے پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں اور اس کے قلمی نسخے ایران اور بعض دوسرے ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔

اسی موضوع سے ملتا جلتا ایک مختصر خط "الکافی" اور "تهذیب الاحکام" جیسے مصادر میں بھی نقل ہوا ہے، تاهم ساخت کے اعتبار سے وه رساله اہوازیہ سے مختلف ہے۔

تعارف اور اهمیت

رساله اہوازیہ امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک خط ہے جو اہواز کے حاکم عبد الله بن نجاشی کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔[1] اس خط میں نجاشی کے اُن سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اصول، زکوٰۃ کے مصرف اور حکومتی عُمّال کے انتخاب کے معیار سے متعلق تھے۔ خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق پر مشتمل ہے اور اس میں سوره توبه آیت 34، سوره نور آیت 19، سوره نور آیت 19 اور 13 روایات سے استناد کیا گیا ہے۔[2]

چوتھی صدی هجری کے رجالی عالم احمد بن علی نجاشی کے مطابق عبد الله بن نجاشی ان کے نویں جد تھے۔[3] آقا بزرگ تہرانـی کے بقول، وه ابتدا میں زیدی تھے اور بعد میں امامیہ مذہب کی طرف مائل ہوئے ہیں۔[4]

خط کے مندرجات

امام جعفر صادقؑ کا یہ خط اخلاقی اور انتظامی نکات سے بھرپور ہے، جن میں اہم امور یہ ہیں:

  • اہل بیتؑ سے وابستگی اور اُن کی پیروی
  • گناہوں سے اجتناب، تقویٰ اور حدودِ الٰہی کی پاسداری
  • شیعوں کی ضروریات پوری کرنا
  • ضرورت مندوں اور پڑوسیوں کو کھانا کھلانا اور ان کی مدد کرنا
  • ماتحتوں اور رجوع کرنے والوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا
  • چغل خوروں اور بدگفتار افراد کی صحبت سے پرہیز کرنا
  • اہم عہدوں کے لیے امانت دار اور صالح افراد کا انتخاب
  • بیت المال کے مصرف میں دقت اور احتیاط
  • زہد اختیار کرتے ہوئے زراندوزی سے پرہیز کرنا
  • تجسس اور نکتہ چینی سے اجتناب کرنا
  • ظلم، ستم اور قتل و غارت گری سے دوری اختیار کرنا
  • شیعوں کی تحقیر و اہانت کرنے سے پرہیز کرنا
  • جھگڑے اور مخاصمات سے بچنا
  • شیعوں کی بے حرمتی نہ کرنا
  • شیعوں کو خوش کرنا
  • مشورے کی افادیت۔[5]

مکتوب کے مصادر

شیعہ علمِ رجال کے معروف عالم احمد بن علی نجاشی کو پہلا شخص سمجھا جاتا ہے جس نے اس خط کا ذکر کیا ہے۔[6] بعض محققین کے نزدیک چھٹی صدی ہجری کے شیعہ عالم ابن‌ زہرہ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے اس خط کا مکمل متن اپنی کتاب "الاربعون حدیثاً فی حقوق الاخوان"[7] میں نقل کیا اور ان کے بعد شہید ثانی نے اسے کتاب کشف الریبہ میں درج کیا ہے۔[8] اسی طریقے سے اس خط کا متن بعد کے مصادر، جیسے وسائل الشیعہ[9] اور بحار الانوار[10] میں ذکر ہوا ہے۔[11] ان روایات کے مشترک راویوں میں ابن‌ قولویہ قمی، سعد بن عبد اللہ اشعری، احمد بن محمد بن عیسی اشعری اور محمد بن عیسی اشعری شامل ہیں۔[12]

صفوی دور میں یہ خط رسالہ اہوازیہ کے نام سے معروف تھا اور اسی عنوان کے تحت سید ہاشم بحرانی کی تصانیف حلیۃ الابرار[13] اور مدینۃ المعاجز[14] میں اس کا ذکر ملتا ہے۔[15]

اسی طرح امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک مختصر خط عبد اللہ بن نجاشی کے نام الکافی[16] اور تہذیب الاحکام[17] میں بھی نقل ہوا ہے، جسے بعض محققین رسالہ اہوازیہ کے ہم مضمون قرار دیتے ہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔[18]

خط کے بعض حصوں کی نسبت پر شبہات

شیعہ محقق داداش‌ نژاد کے مطابق خط کے بعض حصوں کی صحت اور انتساب کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں:

  • شیعوں کے حقوق سے متعلق جملہ: اس حصے کی ساخت خط کے دیگر حصوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ احتمال دیا گیا ہے کہ اسے بعد میں متن میں شامل کیا گیا ہو؛ کیونکہ اہواز کے حاکم کے سوالات تمام لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق تھے، نہ کہ صرف شیعوں سے۔[19]
  • مکاشفہ اور گفتگو کے فقرات: وہ حصے جن میں امام حسینؑ کے مکاشفے اور امام علیؑ کے شیطان سے مکالمے کا ذکر ہے، تاریخی مصادر جیسے طبقات ابن‌ سعد، انساب الاشراف بلاذری، تاریخ طبری اور مروج الذہب مسعودی میں نہیں ملتے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ فقرات چھٹی صدی ہجری میں صوفیوں کی طرف سے متن میں شامل کیے گئے ہوں گے۔[20]
  • خوزیوں سے متعلق عبارت: جملہ: "اِنَّ الْاِیْمَانَ لَا یَثْبُتُ فِی قَلْبِ یَهُودِیٍّ وَلَا خُوزِیٍّ اَبَدًا"؛ جسے امام علیؑ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اس میں خوزیوں (خوزستان کے ایک گروہ) کی مذمت کی گئی ہے؛ حالانکہ امام علیؑ کے زمانے میں خوزی اس قدر معروف نہ تھے کہ ان کی مذمت کی جائے۔[21] البتہ بعض محققین نے اس جملے کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہاں خوزیوں سے مراد خوزستان کے تمام باشندے نہیں بلکہ یا تو کافروں کا ایک مخصوص گروہ تھا،[22] یا خوزستان کے معتزلی افراد مراد ہیں۔[23]

شروح، تراجم اور قلمی نسخے

رسالہ اہوازیہ پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں۔ سید نعمت اللہ جزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیۃ[24] میں اس کے بعض فقروں پر گفتگو کی ہے، جبکہ محمود غریفی نے اپنی تصنیف "الرسالۃ البہیۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ" (رسالۃ الإمام الصادق إلى والي الأہواز) میں اس رسالے کے مکمل متن کی شرح پیش کی ہے۔[25] آقا بزرگ تہرانی نے منہج الیقین کو رسالہ اہوازیہ کی شرح قرار دیا ہے، لیکن شیعہ نسخہ شناس علی صدرائی خوئی کے نزدیک "منہج الیقین" دراصل امام جعفر صادقؑ کی شیعوں کے نام وصیت[26] کی شرح ہے، [27] نہ کہ رسالۂ اہوازیہ کی۔

اس خط کے فارسی تراجم بھی موجود ہیں؛[28] جن میں علامہ مجلسی کا ایک رسالہ[29] اور حسن لاہیجی (متوفیٰ: 1121ھ) کی تحریر کردہ "رسائل فارسی" شامل ہیں۔[30]

رسالہ اہوازیہ کے متعدد قلمی نسخے ایران اور بعض دیگر ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں، جن میں سنہ 554ھ اور سنہ 1021ھ کے نسخے بھی شامل ہیں۔[31]

متن اور ترجمه

حوالہ جات

  1. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامه امام صادق(ع) به نجاشی»، ص18۔
  2. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامه امام صادق(ع) به نجاشی»، ص18۔
  3. نجاشی، رجال النجاشی، ص101۔
  4. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ، 1403ھ، ج2، ص485۔
  5. شہید ثانی، کشف الریبۃ، 1390ھ، ص86-96؛ داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص19-20۔
  6. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص13۔
  7. ابن زہرہ حلبی، الاربعون حدیثا فی حقوق الاخوان، 1405ھ، ص46- 56۔
  8. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص15۔
  9. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، چاپ اول، ج17، ص207۔
  10. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج72، ص366۔
  11. احمدی میانجی، مکاتیب الائمۃ(ع)، 1426ھ، ج4، ص151۔
  12. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص16۔
  13. بحرانی، حلیۃالابرار، 1411ھ، ج2، ص197۔
  14. بحرانی، مدینۃ المعاجز، 1413ھ، ج2، ص77۔
  15. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص17۔
  16. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص190۔
  17. طوسی، تہذیب الاحکام، 1407ھ، ج6، ص333۔
  18. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص14۔
  19. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص22-23۔
  20. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص24-25۔
  21. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص23-24۔
  22. جزائری، الانوار النعمانیۃ، 1429ھ، ج3، ص238۔
  23. مقدس غریفی، الرسالۃ البہيۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ، موسسۃ التاریخ العربی، ص46۔
  24. جزائری، الانوار النعمانیۃ، 1429ھ، ج3، ص238۔
  25. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص17۔
  26. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص2۔
  27. صدرایی خویی، «مقدمہ»، منہج الیقین، ص27۔
  28. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص17۔
  29. حافظیان بابلی، «رسالہ اہوازیہ علامہ محمدباقر مجلسی»، ص263۔
  30. لاہیجی، رسائل فارسی، 1375شمسی، ص251۔
  31. درایتی، فہرستگان نسخہ‌ہای خطی ایران، 1392شمسی، ج16، ص461۔
  32. شہید ثانی، کشف الریبة، 1390ھ، ص86-96۔
  33. لاہیجی، رسائل فارسی، 1375شمسی، ص251-258۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دارالاضواء، 1403ھ۔
  • ابن زہرہ حلبی، محمدبن عبداللہ، الاربعون حدیثا فی حقوق الاخوان، قم، مطبعہ مہر، 1405ھ۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الائمۃ(ع)، تصحیح مجتبی فرجی، قم، دارالحدیث، 1426ھ۔
  • بحرانی، سیدہاشم، حلیۃ الابرار، قم، موسسۃ المعارزف الاسلامیۃ، چاپ اول، 1411ھ۔
  • جزائری، نعمت اللہ، الانوار النعمانیۃ، بیروت، دار القاری، 1429ھ۔
  • حافظیان بابلی، ابوالفضل، «رسالہ اہوازیہ علامہ محمدباقر مجلسی»، مجلہ حکومت اسلامی، شمارہ5، 1376ہجری شمسی۔
  • داداش‌نژاد، منصور، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، در مجلہ شیعہ پژوہی، شمارہ7، 1398ہجری شمسی۔
  • درایتی، مصطفی، فہرستگان نسخہ‌ہای خطی ایران، تہران، سازمان اسناد و کتابخانہ ملی جمہوری اسلامی ایران، 1392ہجری شمسی۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، كشف الريبۃ، دارالمرتضوی للنشر، چاپ سوم، 1390ھ۔
  • شیخ حر عاملی، محمدبن حسن، تحقیق موسسہ آل البیت(ع)، قم، موسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1409ھ۔
  • شیخ طوسی، محمدبن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق حسن خرسان، تہران، بی‌نا، چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • صدرایی خویی، علی، «مقدمہ»، منہج الیقین، تألیف علاءالدین محمد گلستانہ، قم، دارالحدیث، 1388ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمدبن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • لاہیجی، حسن بن عبدالرزاق، رسائل فارسی، تہران، قبلہ، 1375ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ۔
  • مقدس غریفی، سیدمحمود، الرسالۃ البہيۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ، بیروت، موسسۃ التاریخ العربی، بی‌تا۔
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، قم، انتشارات اسلامی، 1376ہجری شمسی۔