رسالہ اہوازیہ یا امام صادقؑ کا نجاشی کے نام خط اُس مکتوب کو کہا جاتا ہے جو امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ہے جسے آپؑ نے اہواز کے حاکم عبد الله بن نجاشی کے نام لکھا تھا۔ اس میں حکومتی عهده داروں کا عوام کے ساتھ برتاؤ، عمال کے انتخاب اور انتظامی امور سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔ اس خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہے۔
اس خط کے مکمل متن کو پہلی مرتبه ابن زُہره (متوفیٰ: 580ھ) اور اس کے بعد شہید ثانی نے نقل کیا ہے اور اسی ذریعے سے یہ دیگر مصادر میں شامل ہوا۔ بعض محققین نے خط کے بعض حصوں کی صحت پر شبه ظاہر کیا ہے، مثلاً شیعوں کے حقوق سے متعلق مطالب، امام حسینؑ کے مکاشفہاور امام علیؑ کا شیطان سے مکالمه۔ اس شبه کے تناظر میں یہ احتمال دیا گیا ہے کہ شاید یہ حصے بعد میں متن میں شامل کیے گئے ہوں۔
اس رسالے پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں اور اس کے قلمی نسخے ایران اور بعض دوسرے ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔
اسی موضوع سے ملتا جلتا ایک مختصر خط "الکافی" اور "تهذیب الاحکام" جیسے مصادر میں بھی نقل ہوا ہے، تاهم ساخت کے اعتبار سے وه رساله اہوازیہ سے مختلف ہے۔
تعارف اور اهمیت
رساله اہوازیہ امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک خط ہے جو اہواز کے حاکم عبد الله بن نجاشی کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔[1] اس خط میں نجاشی کے اُن سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اصول، زکوٰۃ کے مصرف اور حکومتی عُمّال کے انتخاب کے معیار سے متعلق تھے۔ خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق پر مشتمل ہے اور اس میں سوره توبه آیت 34، سوره نور آیت 19، سوره نور آیت 19 اور 13 روایات سے استناد کیا گیا ہے۔[2]
صفوی دور میں یہ خط رسالہ اہوازیہ کے نام سے معروف تھا اور اسی عنوان کے تحت سید ہاشم بحرانی کی تصانیف حلیۃ الابرار[13] اور مدینۃ المعاجز[14] میں اس کا ذکر ملتا ہے۔[15]
اسی طرح امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک مختصر خط عبد اللہ بن نجاشی کے نام الکافی[16] اور تہذیب الاحکام[17] میں بھی نقل ہوا ہے، جسے بعض محققین رسالہ اہوازیہ کے ہم مضمون قرار دیتے ہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔[18]
خط کے بعض حصوں کی نسبت پر شبہات
شیعہ محقق داداش نژاد کے مطابق خط کے بعض حصوں کی صحت اور انتساب کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں:
شیعوں کے حقوق سے متعلق جملہ: اس حصے کی ساخت خط کے دیگر حصوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ احتمال دیا گیا ہے کہ اسے بعد میں متن میں شامل کیا گیا ہو؛ کیونکہ اہواز کے حاکم کے سوالات تمام لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق تھے، نہ کہ صرف شیعوں سے۔[19]
خوزیوں سے متعلق عبارت: جملہ: "اِنَّ الْاِیْمَانَ لَا یَثْبُتُ فِی قَلْبِ یَهُودِیٍّ وَلَا خُوزِیٍّ اَبَدًا"؛ جسے امام علیؑ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اس میں خوزیوں (خوزستان کے ایک گروہ) کی مذمت کی گئی ہے؛ حالانکہ امام علیؑ کے زمانے میں خوزی اس قدر معروف نہ تھے کہ ان کی مذمت کی جائے۔[21] البتہ بعض محققین نے اس جملے کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہاں خوزیوں سے مراد خوزستان کے تمام باشندے نہیں بلکہ یا تو کافروں کا ایک مخصوص گروہ تھا،[22] یا خوزستان کے معتزلی افراد مراد ہیں۔[23]
شروح، تراجم اور قلمی نسخے
رسالہ اہوازیہ پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں۔ سید نعمت اللہ جزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیۃ[24] میں اس کے بعض فقروں پر گفتگو کی ہے، جبکہ محمود غریفی نے اپنی تصنیف "الرسالۃ البہیۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ" (رسالۃ الإمام الصادق إلى والي الأہواز) میں اس رسالے کے مکمل متن کی شرح پیش کی ہے۔[25]آقا بزرگ تہرانی نے منہج الیقین کو رسالہ اہوازیہ کی شرح قرار دیا ہے، لیکن شیعہ نسخہ شناس علی صدرائی خوئی کے نزدیک "منہج الیقین" دراصل امام جعفر صادقؑ کی شیعوں کے نام وصیت[26] کی شرح ہے، [27] نہ کہ رسالۂ اہوازیہ کی۔
اس خط کے فارسی تراجم بھی موجود ہیں؛[28] جن میں علامہ مجلسی کا ایک رسالہ[29] اور حسن لاہیجی (متوفیٰ: 1121ھ) کی تحریر کردہ "رسائل فارسی" شامل ہیں۔[30]
رسالہ اہوازیہ کے متعدد قلمی نسخے ایران اور بعض دیگر ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں، جن میں سنہ 554ھ اور سنہ 1021ھ کے نسخے بھی شامل ہیں۔[31]
عبد الله سلیمان سے روایت ہے کہ ایک دن هم حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر تھے۔ عبد الله نجاشی کے غلام نے ایک کتاب لا کر حضرت کی خدمت میں پیش کی۔ آپؑ نے اس کتاب کو کھولا اور مطالعه فرمایا۔ اس میں یوں لکھا تھا:
بسم الله الرحمٰن الرحیم۔ الله میرے آقا کی عمر دراز کرے، مجھے تمام برائیوں سے ان پر قربان کر دے، اور کوئی ناگوار چیز ان تک نہ پہنچنے دے، بے شک الله ہی اس کا ولی اور اس پر قادر ہے۔ اے میرے سردار اور مولا! مجھے اہواز کی حکومت میں مبتلا کیا گیا ہے(یعنی مسند حکومت پر فائز ہوں)۔ اگر میرے آقا مناسب سمجھیں تو میرے لیے کوئی ضابطه و اصول مقرر فرما دیں اور کوئی ایسا دستور العمل عطا کریں جس پر میں عمل کروں اور جو میرے لیے الله اور اس کے رسول کے قرب کا وسیله بنے۔ مختصر طور پر وه سب بیان فرما دیں جو آپ مناسب سمجھتے ہیں کہ میں اس پر عمل کروں؛ کس کو دوں، کس سے لوں، اپنی زکوٰۃ کہاں خرچ کروں، کس سے میل جول رکھوں، کس پر اعتماد کروں، کس کو امین سمجھوں اور اپنے رازوں میں کس کی پناه لوں؟ اگر آپ یہ عنایت فرمائیں تو امید ہے کہ الله آپ کی هدایت و رهنمائی کے ذریعے مجھے نجات عطا فرمائے گا، کیونکہ آپ الله کی مخلوق پر اس کی حجت اور اس کے شہروں میں اس کے امین ہیں۔ الله کی نعمتیں آپ پر همیشه قائم رہیں۔
اس کے بعد حضرتؑ نے جواب تحریر فرمایا: بسم الله الرحمٰن الرحیم؛ الله تم پر اپنا احسان کرے، اپنے لطف سے تم پر مہربانی فرمائے اور اپنی حفاظت میں رکھے، بے شک وه اس پر قادر ہے۔ اما بعد! تمهارا قاصد میرے پاس تمهارا خط لایا، میں نے اسے پڑھا اور تمهاری تمام باتوں کو سمجھ لیا۔ تم نے لکھا تھا کہ تمہیں اہواز کی ولایت سونپی گئی ہے۔ اس خبر نے مجھے خوش بھی کیا اور غمگین بھی۔ ان شاء الله میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خوشی کس بات کی ہوئی اور غم کس وجه سے ہوا ان شاء الله۔
مجھے خوشی اس بات پر ہوئی کہ شاید الله تمهارے ذریعے آلِ محمدؐ کے مظلوم دوستوں کی مدد کرے، ان کے ذلیلوں کو عزیز کردے، ان کے ننگوں کو لباس پہنائے، ان کے کمزوروں کو طاقت بخشے اور ان کے دشمنوں کی آگ کو بجھا دے۔
اور میری پریشانی اس وجه سے ہے کہ مجھے سب سے کم جس بات کا تمهارے بارے میں خوف ہے وه یہ ہے کہ کہیں تم همارے کسی دوست کے ساتھ ناانصافی یا لغزش نہ کر بیٹھو اور (اس کے نتیجے میں) جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکو۔
میں تمهارے تمام سوالات کا خلاصه بیان کرتا ہوں۔ اگر تم اس پر عمل کرو اور اس سے تجاوز نہ کرو تو مجھے امید ہے کہ تم راهِ راست سے نہ هٹو گے اور سلامت رہو گے، ان شاء الله۔
میرے آباؤ اجداد سے مجھے روایت پہنچی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص اپنے مومن بھائی سے مشوره کرے اور وه اس کی خیرخواہی نہ کرے تو الله اس کی عقل چھین لیتا ہے۔ چونکہ تم نے مجھ سے مشوره کیا ہے، اس لیے میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو میری رائے ہے۔ اگر اس پر عمل کرو گے تو اس چیز سے نجات پا جاؤ گے جس سے تم ڈرتے ہو۔
جان لو کہ تمهاری نجات اس میں ہے کہ تم قتل و غارت سے بچو، الله کے دوستوں کو اذیت نہ دو، رعایا کے ساتھ نرمی، بردباری اور خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔ ان کے ساتھ اس حدت تک نرمی سے پیش نہ آنا کہ وه تم پر حاوی ہو جائیں اور نہ اتنے سخت بنو کہ ان پر ظلم ہونے لگے۔ بادشاه اور اس کے نمائندوں کے ساتھ مدارات سے پیش آؤ، مگر رعایا کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے بیت المال کے دروازے کھول نہ دو۔ بلکہ انہیں خیر اور حق سے آگاه کرو اور عدل کی طرف رهنمائی کرو، ان شاء الله۔
بدگفتار اور چغل خور لوگوں سے بچو۔ ان میں سے کسی کو بھی اپنے قریب نہ آنے دو۔ کوئی دن یا رات ایسی نہ ہو کہ الله تمہیں اس حال میں دیکھے کہ تم نے ان میں سے کسی کی بات قبول کی ہو یا کوئی ایسی بات سنی ہو جو الله کے غضب کا باعث بنے اور تمهارے کام کا پرده چاک ہوجائے۔
خوزستان کے لوگوں کے مکر سے بھی ڈرو، کیونکہ میرے آباؤ اجداد نے امیرالمؤمنینؑ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: یہود اور خوزیوں کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا۔
کاموں میں انس اور اعتماد اسی شخص پر کرو جسے تم نے آزما لیا ہو، جو امانت دار ہو اور دین و مذہب میں تمهارے ساتھ هم خیال ہو۔ خاص اور عام میں فرق رکھو اور سب کو آزمائش میں ڈالو۔ جس میں بھلائی اور رشد دیکھو، اسے اپنے قریب رکھو۔
اس سے بچو کہ الله کے سوا کسی اور کے لیے کسی شاعر، مسخرے باز یا مضحکہ خیز باتیں بنانے والے کو درهم، خلعت یا سواری دو، مگر یہ کہ اسی کے برابر الله کی راه میں بھی دو۔ عطیات، خلعتیں اور انعامات سرداروں، بهادروں، قاصدوں، لشکریوں اور ایلچیوں کو دو۔ زکوٰۃ، سخاوت، صدقه، حج، کھانے پینے، نماز کے لباس، دوستوں کو تحفے اور الله اور اس کے رسولوں کے لیے نذرانے؛ یہ سب خالص حلال مال سے ہونے چاہئیں۔
اے عبد الله! کوشش کرو کہ سونا اور چاندی جمع نہ کرو، ورنہ تم اس آیت کے مصداق بن جاؤ گے جس میں الله تعالیٰ فرماتا ہے: وه لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور الله کی راه میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ (سوره توبه: آیت34)
میٹھی چیزوں اور کھانے میں جو اضافه بچ جائے، اس میں سے کچھ بھوکے لوگوں تک پہنچاؤ، کیونکہ اس سے الله تعالیٰ کا غضب ٹھنڈا ہوتا ہے اور جان لو کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے اور انہوں نے امیرالمؤمنینؑ سے روایت کی کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص الله اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وه خود پیٹ بھر کر نہ سوئے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
اور میں تمہیں سلف صالح اور ان کے پیروکاروں کے سامنے دنیا کی بے قدری بے اعتباری سے آگاه کروں گا۔ میرے والد نے بیان کیا کہ جب امام حسینؑ سفر کوفه کے لئے تیار ہوئے تو ابن عباس آئے اور خدا اور ان کے رشته داروں کی قسم کھائی کہ میں آپؑ ہی مقتول کربلا ہیں۔ امامؑ نے فرمایا: تم سے میری قرابت کی وجه سے مجھے دنیا سے جدائی کے سوا کوئی تمنا یا امید نہیں۔ میں تمہیں امیر المومنینؑ کی دنیا کے ساتھ گفتگو بتانا چاہتا ہوں۔ [ابن عباس] نے کہا: هاں، میری جان کی قسم، میں اس کا مشتاق ہوں۔
میرے والد نے فرمایا: میں نے امیر المومنینؑ سے سنا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ایک دن میں فدک کے باغات میں سے ایک باغ میں کام کر رها تھا، جب وه فاطمه (س) کی ملکیت میں منتقل ہو چکا تھا، کہ اچانک میں نے ایک عورت کو آتے دیکھا اور میں اس کی طرف مائل ہوا۔ وه بثینہ بنت عامر سے مشابهت رکھتی تھی، جو قریش کی سب سے خوبصورت عورت تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کیا آپؑ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ تاکہ میں آپؑ اس کام سے فارغ کر دوں جو آپؑ کر رہے ہیں اور آپؑ کو زمین کے تمام خزانے دوں تاکہ آپؑ گھر اور آپؑ کی اولاد میں همیشه بادشاہی ہو۔ میں نے کہا: تم کون ہو؟ کہ میں تمهارے والی سے شادی سی درخواست کروں؟
پھر وه اس دنیا سے رخصت ہوگیا اور کسی کا حق ان کے گردن پر نہیں تھا، بلکہ وه تعریف شده اور ہر قسم کی مذمتوں سے محفوظ رها. اور اسی طرح [ان کے بعد] دوسرے ائمه جو کہ آپ تک پہنچے، ان کی پیروی کی اور دنیا کی کسی چیز سے آلوده نہیں ہوئے، علیہم السلام اجمعین و أحْسَن مثواهم۔ درحقیقت میں نے الله کے سچے رسول کی جانب سے آمده دنیا و آخرت کی تمام نیکیاں تحریری طور پر تمہیں ارسال کی ہیں۔ پس اگر تو نے ان پر عمل کیا اور پہاڑوں کے وزن اور سمندر کی موجوں جتنی غلطیاں کی ہیں تو مجھے امید ہے کہ الله تعالیٰ اپنی قدرت سے ان سب کو معاف کر دے گا۔
اے عبد الله! خبردار، کسی مومن کو خوف زده نہ کرنا، کیونکہ میرے والد محمد بن علیؑ نے اپنے والد اور انہوں نے امیرالمؤمنین علیؑ سے روایت کی ہے کہ: جو شخص کسی مومن کو خوفزده کرے، الله قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کرے گا، اس دن جب اس کے سوا کوئی پناه نہ ہوگی اور اسے (اعضاء و جوارح اور گوشت کے لحاظ سے) چیونٹی کی شکل میں محشور کرے گا یہاں تک کہ اس کا حساب مکمل ہو جائے۔
اور میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے، امیرالمؤمنینؑ نے رسولِ خداؐ سے روایت کی ہے کہ: جو شخص کسی بے بس اور محتاج مومن کی مدد کرے، الله اس دن اس کا سهارا بنے گا جس دن اس کے سوا کوئی پناه نہ ہوگی اور اسے فزعِ اکبر (عظیم خوف و ہراس) اور برے انجام سے محفوظ رکھے گا۔
اور جو شخص کسی مومن کی حاجت پوری کرے، الله اس کی بهت سی حاجتیں پوری کرے گا، جن میں سے ایک جنت ہوگی اور جو شخص کسی برهنہ مومن کو لباس پہنائے، الله اسے جنت کے زربفت اور ریشمی لباس پہنائے گا اور جب تک اس لباس کا ایک دھاگا بھی اس کے بدن پر ہوگا، وه الله کی رضا میں غرق رہے گا اور جو شخص کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے، الله اسے جنت کی پاکیزه نعمتوں سے کھلائے گا اور جو کسی پیاسے مومن کو پانی پلائے، الله اسے رحیقِ مختوم (مہر بند پاکیزه شراب) سے سیراب کرے گا اور جو کسی مومن کی خدمت کرے، الله اسے جنت کے خادم عطا فرمائے گا اور اسے اپنے پاکیزه اولیا کے ساتھ جنت میں بسائے گا اور جو کسی مومن کے لیے ایسی عورت سے شادی کا بندوبست کرے جو اس کی هم دم، مددگار اور غم گسار ہو، الله اسے جنت کی حوروں میں سے زوجه عطا فرمائے گا اور جو کسی مومن کو ظالم بادشاه کے ظلم سے بچانے میں مدد دے، الله پلِ صراط سے گزرتے وقت اس کی مدد کرے گا، اس وقت جب قدم لڑکھڑا رہے ہوں گے اور جو شخص کسی مومن کی زیارت کے لیے، بلا کسی غرض یا کام کے، اس کے گھر جائے، الله اسے اپنے زائرین میں شمار فرمائے گا اور الله پر لازم ہے کہ وه اپنے زائرین کا اکرام اور ان پر مہربانی کرے۔
اور میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے، امیرالمؤمنینؑ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خداؐ کو اپنے اصحاب سے فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! وه شخص مومن نہیں، اور اس کا دل ایمان نہیں لایا، جو زبان سے کہے کہ میں مومن ہوں، مگر مومنوں کی لغزشوں کی ٹوه میں لگا رہے۔ جو شخص کسی مومن کی لغزشوں کے پیچھے پڑے، الله اس کی لغزشوں کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا، بلکہ دنیا ہی میں اسے رسوا کر دے گا، اگرچہ وه اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔
اور میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے، حضرت علیؑ سے روایت فرمائی ہے کہ: الله نے مومن سے یہ عهد لے رکھا ہے کہ جب وه بات کرے تو اس کی تصدیق نہ کی جائے، وه اپنے دشمن سے بدله نہ لے سکے اور اپنے غصے کو دبائے رکھے، یہاں تک کہ اس کی تسکین بھی اس کی اپنی رسوائی کے ذریعے ہو اور یہ اس لیے ہے کہ مومن زمانۂ ظلم میں منہ میں لگام ڈالے رکھتا ہے، چند دن دنیا میں مشقت اٹھاتا ہے، تاکہ اس کے بدلے میں طویل اور دائمی راحت پائے۔ الله نے مومن سے کئی باتوں کا عهد لیا ہے، جن میں سب سے ہلکی یہ ہے کہ ایک مومن جو اس کی ہی بات کا قائل ہے، اس سے حسد کرے، شیطان اس کی تاک میں رہے اور کافر اس کے ایمان کو دیکھ کر اس کے قتل کو دَین سمجھے اور اس کی بے حرمتی کو غنیمت جانے۔ تو ایسی حالت میں مومن کی زندگی آخر کیا ره جاتی ہے؟
اے عبد الله! میرے والد نے اپنے آباؤ اجداد سے، حضرت علیؑ سے، نبی مکرمؐ سے روایت کی ہے کہ جبرئیلؑ آئے اور کہا: اے محمدؐ! الله آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: میں نے مومن کا نام اپنے ناموں میں سے نکالا ہے، پس مومن مجھ سے ہے اور میں مومن سے ہوں۔ جو شخص کسی مومن کو ذلیل کرے، گویا اس نے میرے ساتھ جنگ کی۔
اے عبد الله! میرے والد نے اپنے آباؤ و اجداد سے، حضرت علیؑ سے، نبی خداؐ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اے علیؑ! کسی سے مناظره نہ کرو جب تک اس کے باطن کو نہ پرکھ لو۔ اگر اس کا باطن اچھا ہوگا تو الله اپنے دوست کو ضائع نہیں کرتا اور اگر اس کا باطن برا ہوگا تو تم چاہو بھی تو اسے اس سے زیاده نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا وه خود الله کی نافرمانیوں سے کرچکا ہے۔
اے عبد الله! میرے والد نے اپنے آباؤ و اجداد سے، امیرالمؤمنینؑ سے روایت کی ہے کہ: جو شخص کسی مومن کے بارے میں ایسی بات بیان کرے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے سنی ہو، مگر وه اس کی عیب جوئی پر مشتمل ہو، وه ان لوگوں میں شمار ہوگا جن کے بارے میں الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چاہتے ہیں کہ فحاشی اور برائی اہلِ ایمان میں پھیل جائے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اے عبد الله! میرے والد نے اپنے آباؤ و اجداد سے روایت کی ہے کہ: جو شخص کسی مومن کے بارے میں ایسی بات نقل کرے جس کا مقصد اس کی عزت و وقار کو مجروح کرتا ہو، الله اسے عذاب میں مبتلا کرے گا، یہاں تک کہ وه اپنے فعل کا کوئی معقول عذر پیش کرے؛ اور وه ہرگز ایسا نہ کرسکے گا اور جو شخص کسی مومن کو خوشی پہنچائے، اس نے رسولِ خداؐ کو خوش کیا اور جس نے رسولؐ کو خوش کیا اس نے الله کو خوش کیا اور جو الله کو خوش کرے وه اس کا مستحق ہے کہ الله اسے جنت میں داخل کرے۔
اور میں تمہیں تقوائے الہی اور اس کی اطاعت کی وصیت کرتا ہوں اور اس بات کی کہ تم اهل بیتِ نبوتؑ کی مضبوط رسی کو تھامے رکھو، کیونکہ جو ان کی اطاعت کرے گا وه الله کے سیدھے راستے پر ہوگا۔ پس الله سے ڈرو اور کسی کی خوشنودی کو الله کی خوشنودی پر مقدم نہ رکھو، کیونکہ یہی وه وصیت ہے جس کے لیے الله نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وه اس کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور اس کے نزدیک اس کے علاوه کسی چیز کی کوئی قدر نہیں۔
اور جان لو کہ لوگوں کو تقویٰ سے بڑھ کر کسی چیز کا حکم نہیں دیا گیا اور تقویٰ ہی هم اهلِ بیتؑ کی وصیت ہے۔ پس اگر تم سے ہوسکے تو دنیا میں کوئی ایسی چیز اپنے پاس نہ رکھو جس کے بارے میں کل تم سے سوال کیا جائے گا۔
جب یہ واجب التعظیم خط عبد الله بن نجاشی کو پہنچا تو اس نے خط کو دیکھا اور کہا: خدا کی قسم! میرے مولا نے سچ فرمایا۔ جو کوئی اس خط میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کرے گا وه ضرور نجات پائے گا اور عبد الله بن نجاشی نے اپنی پوری زندگی اس خط کے مطابق عمل کیا۔[33]
حوالہ جات
↑داداشنژاد، «بررسی منابع و محتوای نامه امام صادق(ع) به نجاشی»، ص18۔
↑داداشنژاد، «بررسی منابع و محتوای نامه امام صادق(ع) به نجاشی»، ص18۔