رکن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


رکن کسی بھی چیز کی اساس اور بنیاد کو کہتے ہیں ۔اسلامی تعلیمات میں عبادت کے ایسے جزو کو رکن کہا جاتا ہے جس کے عمدی یا سہوی چُھٹ جانے کی وجہ سے وہ عبادت باطل سمجھی جاتی ہے اور اس عبادت کو دوبارہ انجام دینا ضروری ہوتا ہے ۔نماز، حج اور عمرے کے بعض اجزا ارکان شمار ہوتے ہیں۔

رکنِ نماز

نیت ، تکبیرۃ الاحرام،قیام،رکوع او دو سجدے مشہور قول کی بناپر نماز کے ارکان میں سے ہیں۔[1]

تکبیرۃ الاحرام کے وقت اور حالت ِقیام سے رکوع میں جانے کے کے وقت کا قیام رکن نماز میں سے ہے ۔[2]

  • بعض نے اختیاری حالت میں قبلہ رخ ہونے کو بھی ارکان نماز سے گنا ہے[3] ۔ بعض قدیمی فقہا سے قرآت بھی رکن نماز کے طور پر نقل ہوئی ہے۔[4]

زیادہ یا کم ہونا

نماز میں بھول کر یا عمدی طور پر رکن کی کمی ہو جانے کی وجہ سے نماز کا باطل ہونا اتفاقی مسئلہ ہے جبکہ بعض کے نزدیک بھول کر رکن کے زائد ہونا نماز کے باطل ہونے کا سبب نہیں ہے ۔[5][6]

نماز جماعت میں رکوع یا سجدے کا زائد ہونا

امام جماعت سے پہلے بھول کر رکوع یا سجدے سے سر اٹھا لینے کی صورت میں واپس لوٹنا اور امام کی پیروی کرنے کا مشہور فقہا نے فتوا دیا ہے ،اس کے مقابلے میں واپس لوٹنا مستحب کا فتوا ہے نیز یہ رکوع یا سجدے کی زیادتی شمار نہیں ہوتی ہے ۔مذکورہ حکم صرف سہو سے مخصوص ہے یا عمدی صورت بھی اس میں شامل ہے ۔اس کے متعلق اختلاف فتوا موجود ہے ۔[7]

رکن کا بھول جانا

نمازی اگر رکن کو بھول جائے تو اس کا محل گزرنے سے پہلے اگر یاد آجائے تو اس کو انجام دے۔ اس کی نماز صحیح ہے ۔محل گزرنے سے مراد دوسرے رکن میں داخل نہ ہونا ہے ۔تکبیرۃ الاحرام کا محل حمد کی قرأت شروع کرنے سے پہلے ہے ۔[8]

حج اور عمرہ

نیت، احرام، طواف، عرفات میں ٹھہرنا، مشعر الحرام میں ٹھہرنا، صفا اور مروه کے درمیان سعی کرنا ارکان حج میں سے ہیں [9] ۔نیت احرام ،طواف،اور سعی عمرے کے ارکان ہیں۔تلبیہ کے رکن ہونے میں اختلاف ہے ۔[10]

عمدی طور پر رکنِ حج چھٹ جانے سے حج باطل ہو جاتا ہے[11] عرفات اور مشعر الحرام میں ٹھہرنا سہوی ترک ہونے کی صورت میں بھی حج باطل ہو جاتا ہے[12] ۔اسی طرح عمرے کے کسی رکن کا ترک ہونا بھی حج کے بطلان کا سبب ہے ۔البتہ حج اور عمرے میں نیت کے رکن ہونے میں اختلاف ہے ۔[13]

  • کعبے کے چاروں کونوں کو بھی رکن کہا جاتا ہے ۔

حوالہ جات

  1. مختلف الشیعہ، ج۲، ص۱۳۹-۱۴۰.
  2. العروة الوثقی، ج۲، ص۴۷۳.
  3. الوسیلہ، ص۹۳.
  4. المبسوط، ج۱، ص۱۰۵.
  5. الروضہ البہیہ، ج۱، ص۶۴۴.
  6. جواهر الکلام، ج۹، ص۲۳۹-۲۴۱.
  7. مستمسک العروة، ج۷، ص۲۶۹-۲۷۱.
  8. جواہر الکلام، ج۱۲، ص۲۳۸-۲۳۹.
  9. مہذب الأحکام، ج۱، ص۲۰۸.
  10. الحدائق الناضرة، ج۱۵، ص۶۵.
  11. جواهر الکلام، ج۱۸، ص۱۳۶.
  12. الجامع للشرائع، ص۱۸۰-۱۸۱.
  13. کشف اللثام، ج۵، ص۱۹.


بیرونی رابط

مآخذ

  • مختلف الشیعہ فی احکام الشریعہ، حسن بن یوسف العلامہ الحلی (م. ۷۲۶ ق.)، بہ کوشش مرکزالابحاث والدراسات الاسلامیہ، اول، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۲ ق.
  • العروة الوثقی، سید محمد کاظم یزدی (م. ۱۳۳۷ ق.)، پنجم، قم،‌دار التفسیر، اسماعیلیان، ۱۴۱۹ ق.
  • الوسیلہ الی نیل الفضیلہ، محمد بن علی الطوسی ابن حمزه (م. ۵۶۰ ق.)، بہ کوشش محمد الحسون، اول، قم، مکتبہ المرعشی النجفی، ۱۴۰۸ ق.
  • المبسوط فی فقہ الامامیہ، محمد بن الحسن الطوسی (م. ۴۶۰ ق.)، بہ کوشش محمد باقر بہبودی، تہران، مکتبہ المرتضویہ،[بی تا].
  • الروضہ البہیہ فی شرح اللمعہ الدمشقیہ، زین الدین العاملی الشہید الثانی (م. ۹۶۵ ق.)، تہران، انتشارات علمیہ اسلامیہ، [بی تا].
  • جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، محمد حسن نجفی (م. ۱۲۶۶ ق.)، ہفتم، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی.
  • مستند العروة الوثقی، تقریرات آیت الله خوئی (م. ۱۴۱۳ ق.)، مرتضی بروجردی، قم، مدرسہ دار العلم، [بی تا].
  • مستمسک العروة الوثقی، سید محسن حکیم (م. ۱۳۹۰ ق.)، اول، قم، مؤسسہ دار التفسیر، ۱۴۱۶ ق.
  • مہذب الاحکام، سید عبدالاعلی سبزواری، مؤسسپ المنار، قم
  • الحدائق الناضرة فی احکام العترة الطاہره، یوسف بحرانی (م. ۱۱۸۶ ق.)، بہ کوشش علی آخوندی، قم، نشر اسلامی، ۱۳۶۳ ش.
  • کشف اللثام عن قواعد الاحکام، بہاء الدین محمد بن الحسن الاصفہانی، الفاضل الہندی، مؤسسہ النشر الاسلامی، قم، چاپ اول، ۱۴۲۴ق
  • الجامع للشرائع، یحیی بن سعید الحلّی الہذلی، مؤسسہ سید الشہداء(ع) العلمیہ، ۱۴۰۵ق