مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:قیامت کے دن گواہی

ویکی شیعہ سے
مقالہ قیامت کے دن گواہی جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔

قیامت کے دن گواہی قیامت کے مواقف و مراحل میں سے ایک مرحلہ ہے، جس سے مراد روز قیامت میں انسان کے اعمال پر اس طرح گواہی دینا ہے جو مشاہدہ اور پیشگی آگاہی پر مبنی ہو۔ قرآن کریم اور دیگر دینی متون میں جابجا طور پر اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔ انسانی اعمال پر گواہ بننے والوں میں خود اللہ تعالیٰ، پیغمبران الہی، اولیائے الٰہی، فرشتے، خود انسان کے اعضائے بدن اور زمین جیسے عناصر بھی شامل ہیں۔گواہان کی کثرت انسان کے اندرونی طور پر مراقبہ (خود احتسابی) کو مضبوط کرنے اور اعمال کے درست حساب و کتاب کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔

اس نوعیت کی شہادت و گواہی کی ادائیگی کے مخصوص مراحل ہیں: سب سے پہلے انسان کا نامہ اعمال پیش کیا جاتا ہے، پھر اگر انسان اس کا انکار کرے تو فرشتوں اور اعضائے بدن کی گواہی لی جاتی ہے اور آخر میں بطور آخری گواہ خدا کی گواہی ہوتی ہے۔ گواہی کے وقت اعمال کے ظاہر و باطن ملاک قرار پاتا ہے جس میں نیت اور اخلاص عمل وغیرہ شامل ہیں اور گواہی کا مقام و مرتبہ صرف اولیائے الٰہی کو حاصل ہوتا ہے۔

قیامت کے دن زمین اور انسانی اعضائے بدن کے بولنے اور گواہی دینے کی کیفیت کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض مفسرین نے ان آیات کی علامتی اور مجازی تفسیر کی ہے، جبکہ بعض نے زمین اور اعضائے بدن کے حقیقی طور پر بولنے کو تسلیم کیا ہے۔ بعض مفسرین نے امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن قرآن انسانی شکل اختیار کرے گا اور اسے بولنے کی قدرت حاصل ہوگی، اسی طرح نماز کی بھی ایک گویا اور بولنے والی صورت ہوگی۔ قرآن مجید کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مجرمین اپنے ہی اعضائے بدن کی گواہی دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے اور غصے میں آ جائیں گے۔ اس وقت وہ حسرت و افسوس سے کہیں گے کہ کاش! ہم خاک ہوتے۔

اہمیت

قیامت کے دن کی گواہی کے معنی روز قیامت انسان کے اعمال کی گواہی ہیں[1] اور یہ قیامت کے مواقف و مراحل میں سے ایک ہے۔[2] اس قسم کی گواہی کے وقوع پذیر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ گواہان دنیا میں تحمل شہادت کے مرحلے سے گزر گئے ہوں؛[3] یعنی عمل کو دیکھا ہو اور فاعل (عمل کو انجام والے) کو پہچانتے ہوں،[4] پھر قیامت میں اللہ کے اذن[5] اور علم وآگاہی کی بنیاد پر[6] گواہی دیں۔[7]

انسانی اعمال پر گواہی کا ذکر قرآن کی کل28 آیات میں[8] آیا ہے، جن میں سورہ حج کی آیت 17، سورہ نحل کی آیت 89 اور سورہ فصلت کی آیت 20 شامل ہیں۔[9] کلامی کتب [10] میں بھی اس موضوع پر بحث کی گئی ہے اور اخلاقی کتب میں بھی اسے اللہ کی یاد اور مراقبہ کی یاددہانی کے طور پر اس کا ذکر ملتا ہے۔[11]

علی رضا اعرافی نے اپنی ’’اعمال کے گواہان‘‘ نامی کتاب میں گواہوں کے وجود پر ایمان کو تمام آسمانی ادیان کے مشترکات میں سے شمار کیا ہے۔[12] علامہ طباطبائی کے مطابق، اعمال پر گواہی کا مقام و مرتبہ عام لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا اور یہ صرف اولیائے الہی کے ساتھ مخصوص ہے۔[13] انہوں نے انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کو اس مقام کے حاملین میں سے شمار کیا ہے۔[14]

دینی مصادر کے مطابق، انسانی اعمال کے گواہان رفتار انسانی کے ظاہر و باطن، عمل کی کیفیت اور اخلاص کی مقدار سے آگاہ ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں بتا دیتے ہیں۔[15] نیز علامہ محمد باقر مجلسی نے نبی اکرمؐ سے جو روایت نقل کی ہے، اس کے مطابق گواہان کی گواہی نیک اور برے اعمال دونوں پرہوتی ہے۔[16]

یہ موضوع اخلاقی کتب میں محاسبہ و مراقبہ نفس کے عامل کے طور پر زیرِ بحث آیا ہے[17] اور بعض دعاؤں جیسے مناجات شعبانیہ اور دعائے کمیل میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔[18] نیز معاد سے متعلق روایات کے تحت اور حیاء جیسے مباحث میں بھی اس پر گفتگو کی گئی ہے۔[19] عبد اللہ جوادی آملی،[20] جعفر سبحانی،[21] ناصر مکارم شیرازی جیسے علماء کی تصنیفات نیز سید محمد حسین تہرانی کی تصنیف ’’معاد شناسی‘‘ میں بھی اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔[22]

اعمال کے گواہان

ناصر مکارم شیرازی نے قرآن کی آیات کی موضوعاتی درجہ بندی کرتے ہوئے خدا، پیغمبران، فرشتوں، اعضائے بدن (ہاتھ، پاؤں، کان، آنکھیں، جلد) اور زمین کو قیامت کے دن گواہی دینے والوں میں شمار کیا ہے۔[23] بعض مفسرین نے نامہ اعمال[24] اور تجسم اعمال[25] کو بھی گواہان میں ذکر کیا ہے۔[26]

کثرت گواہان کی حکمت

گواہان کی کثرت انسان کے مراقبہ نفس کو مضبوط کرتے ہوئے گناہ سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔[27] قیامت کے دن گواہی حجت تمام کرنے اور اعمال کی حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ گواہی محض ظاہر پر نہیں بلکہ اعمال کے مکمل مشاہدے پر مبنی ہو تاکہ درست طریقے سے حساب و کتاب انجام پاسکے۔[28] شیعہ محدث طبرسی نے امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ باوجود اس کے کہ اللہ پوشیدہ چیزوں کا علم رکھتا ہے، پھر بھی فرشتوں کو انسانوں کے اعمال پر گواہ بنایا تاکہ لوگ اللہ کی مکمل اطاعت کریں اور گناہ سے دور رہیں۔[29]

گواہوں کے درمیان فرق

اعمال کے گواہوں میں فرق ہے۔ بعض گواہوں کا تعلق خود انسان کے باطن سے ہے جیسے اس کے اعضاء و جوارح اور بعض باہر سے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ اور پیغمبران۔[30] فرشتوں کا کام انسانوں کے اعمال کو ثبت و ضبط کرنا ہے، جبکہ یہ پیغمبروں اور ائمہؑ کا کام نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے معنوی مراتب و مقامات کے ذریعے اعمال کی گواہی کے مقام تک پہنچ پاتے ہیں۔[31] اعضاء و جوارح، زمین اور زمان کی گواہی ان پر اعمال کے قدرتی آثار مترتب ہونے کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔[32]

گواہی کے مراحل

روایات کے مطابق انسانی اعمال کی گواہی کی ادائیگی ایک خاص ترتیب سے انجام پاتی ہے۔ انبیاء اور ائمہؑ کی گواہی کے مراحل کے بارے میں کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ہے[33] تاہم تفسیر القمی میں گواہی کی ترتیب یوں بیان کی گئی ہے: انسان کا نامہ اعمال پیش کرنے کے بعد اگر وہ اس کا انکار کرے تو فرشتوں کو گواہی کے لیے بلایا جاتا ہے۔ اگر فرشتوں کی گواہی کو بھی جھٹلا دے اور انسان قسم کھائے کہ اس نے یہ اعمال انجام نہیں دیے ہیں تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کے اعضاء و جوارح گواہ کے طور پر اس کے اعمال پر گواہی دیتے ہیں۔ پھر اس کی زبان کھولی جاتی ہے اور وہ اپنی جلد کو اس کی گواہی پر ملامت کرتی ہے۔[34] بعض مصادر میں اللہ تعالیٰ کو قیامت کا آخری گواہ بتایا گیا ہے، جس کے بعد کوئی اور گواہ نہیں ہوگا۔[35]

گواہان کی گواہی کے مختلف طریقے

قیامت کے دن زمین، زمان، قرآن اور اعضائے بدن کے بولنے کے طریقوں کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔[36]

بعض مفسرین زمین کے تکلم کو اس پر انسان کے اعمال کے آثار کے ظاہر ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔[37] بعض دیگر اعضائے بدن کے بولنے کو حقیقی سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا اور آخرت کے نظام کےمابین فرق کی وجہ سے اس تکلم کی کیفیت انسان کے لیے مکمل طور پر قابلِ فہم نہیں ہے۔[38] ایک اور تفسیر میں ہاتھ کی گواہی کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ ہاتھ وہی عمل کرتا دکھائی دے گا جو دنیا میں اس سے سرزد ہوا تھا۔[39]

سید محمد حسین تہرانی نے اپنی کتاب معادشناسی میں امام محمد باقر کی ایک روایت[40] سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیامت میں قرآن جب گواہی دینے کے لیے آتا ہے تو ایک خوبصورت انسان کی صورت میں ظاہر ہوکر تکلم کرتا ہے۔[41] اسی روایت میں نماز کے لیے بھی ایک ایسی صورت بتائی گئی ہے جو بولنے، حکم دینے اور منع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔[42]

اعضائے بدن کی گواہی پر انسان کا ردِ عمل

جب مجرمین کے اعضائے بدن اُن کے خلاف گواہی دیتے ہیں تووہ حیرت زدہ اور وحشت کا شکار ہوکر[43] اعتراض کرتے ہوئے اپنی جلد کو اس کی گواہی پر ملامت کرتے ہیں۔[44] شہادت کے بعد وہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش وہ مٹی ہوجاتے تاکہ برے اعمال کی وجہ سے رسوا نہ ہوتے۔[45]

حوالہ جات

  1. ↑ طباطبایی، المیزان، ج12، ص321۔
  2. ↑ نوری، گواہان روز قیامت، ص18۔
  3. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص72۔
  4. ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، ص418۔
  5. ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، ج7، ص97۔
  6. ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، ج7، ص99۔
  7. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص72۔
  8. ↑ سبحانی، منشور جاوید، ج5، ص473 - 476۔
  9. ↑ صابونی، صفوۃ التفاسیر، ج2، ص260؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج11، ص359 و ج3، ص392، طباطبایی، المیزان، ج17، ص378۔
  10. ↑ رضایی، منازل آخرت، ص36۔
  11. ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص457۔
  12. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص15۔
  13. ↑ طباطبایی، المیزان، ج1، ص321۔
  14. ↑ طباطبایی، المیزان، ج1، ص321۔
  15. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص76۔
  16. ↑ علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج7، ص315۔
  17. ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، ص457۔
  18. ↑ كفعمى، المصباح للکفعمی، ص559؛ ابن‌طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج3، ص297۔
  19. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص16۔
  20. ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، ص411-421۔
  21. ↑ سبحانی، منشور جاوید، ج5، ص472- 498۔
  22. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص16۔
  23. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج20، ص256۔
  24. ↑ سبحانی، منشور جاوید، ج5، ص492۔
  25. ↑ حسینی تہرانی، معادشناسی، ص155۔
  26. ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج6، ص584؛ جوادی آملی، معاد در قرآن، ص416۔
  27. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص65۔
  28. ↑ طباطبایی، المیزان، ج12، ص322 و 323۔
  29. ↑ طبرسی، الاحتجاج، ج2، ص348۔
  30. ↑ اعرافی، گواہان اعمال ص63۔
  31. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص66 و 67۔
  32. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص66 و 67۔
  33. ↑ اعرافی، گواہان اعمال، ص70۔
  34. ↑ قمی، تفسیر القمی، ج2، ص264۔
  35. ↑ صالحی حاجی‌آبادی، انسان و شاہدان صادق، ص29۔
  36. ↑ صالحی حاجی‌آبادی، انسان و شاہدان صادق، ص116-117۔
  37. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج27، ص225؛ حسینی طہرانی، معادشناسی، ج7، ص267 و 268۔
  38. ↑ جعفری، تفسیر کوثر، ج10، ص118۔
  39. ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، ج7، ص187 - 192۔
  40. ↑ کلینی، الکافی، ج2، ص596۔
  41. ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، ج7، ص275۔
  42. ↑ کلینی، الکافی، ج2، ص598۔
  43. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج18، ص431۔
  44. ↑ طباطبایی، المیزان، ج17، ص379۔
  45. ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج4، ص138۔

مآخذ

  • ابن‌طاووس، على بن موسی، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، محقق: جواد قيومى اصفہانى، قم، دفتر تبليغات اسلامی، پہلی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • اعرافی، علیرضا، گواہان اعمال، قم، موسسہ فرہنگی ہنری اشراق و عرفان، 1397ہجری شمسی۔
  • جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، ہجرت، 1398ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، معاد در قرآن، قم، اسراء، گیارہویں اشاعت، 1395ہجری شمسی۔
  • حسینی طہرانی، محمدحسین، معادشناسی، مشہد، نور ملکوت قرآن، 1427ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، تفسیر و علوم قرآن تحقیقاتی مرکز، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
  • رضایی، غلام‌رضا، دانشنامہ کلام اسلامی، قم، موسسہ امام صادق(ع)، 1387ہجری شمسی۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، منشور جاوید، قم، موسسہ امام صادق(ع)، 1390ہجری شمسی۔
  • صابونی، محمدعلی، صفوۃ التفاسیر، بیروت، دار الفکر، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
  • صالحی حاجی‌آبادی، نعمت‌اللہ، انسان و شاہدان صادق، قم، گلہای بہشت، 1387ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الإحتجاج على اہل اللجاج، مصحح: محمد باقر خرسان، مشہد، نشر مرتضی، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، 1370ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضل‌اللہ یزدی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق: سید طیب موسوی جزایری، قم، دارالکتاب، 1363ہجری شمسی۔
  • كفعمى، ابراہیم بن علی، المصباح للکفعمی (جنۃ الأمان الواقیۃ)، قم، دار الرضی (زاہدی)، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بِحارُ الاَنوارِ الجامعۃُ لِدُرَرِ اَخبارِ الاَئمۃِ الاَطهار، محقق، گروہ محققین‏، بیروت‏، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران‏، دار الكتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • نوری، حسین، «گواهان روز قیامت»(روز قیامت کے گواہان)، پاسداران اسلام جریدہ، شمارہ 113، مئی 1991ء۔