مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حسن بن علی وشاء

ویکی شیعہ سے
حسن بن علی وشّاء
ذاتی کوائف
نام:حسن بن علی بن زیاد الوشاء بجلی کوفی
کنیت:ابو محمد
لقب:وشاء، بجلی، خزاز، صیرفی، ابن بنت الیاس
تاریخ پیدائش:دوسری صدی ہجری کے اواسط
محل زندگی:کوفہ، بغداد
وفات:تیسری صدی ہجری
مذہب:امامیہ
حدیثی معلومات
نقل حدیث:امام کاظمؑ، امام رضاؑ، صفوان بن یحیی، ابان بن عثمان، جمیل بن دراج، عبداللہ مسکان، عبداللہ بن سنان
ان کے راوی:احمد بن محمد بن عیسی، سہل بن زیاد، یعقوب بن زید، علی بن حسن بن فضال
موضوعات:تفسیری، فقہی، اخلاقی، تاریخی، اعتقادی
احادیث کی تعداد:580 روایت
تألیفات:کتاب «ثواب الحج»، «المناسک»، «النوارد»، «مسائل الرضاؑ»

حسن بن علی وَشّاء، امام موسیٰ کاظمؑ، امام علی رضاؑ اور امام علی نقیؑ کے اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔ کتبِ رجال میں انہیں ثقہ اور قابلِ اعتماد راوی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ دوسری اور تیسری صدی ہجری کے راویوں میں سے ہیں اور انہوں نے فقہ، اخلاق، تفسیر اور دیگر موضوعات میں روایات نقل کی ہیں۔ صرف کتب اربعہ میں اُن سے 580 سے زیادہ روایات درج ہیں۔ ان کی متعدد تصنیفات بھی ذکر کئے گئے ہیں جن میں ثواب الحج، المناسک اور مسائل الرضاؑ وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے علاوہ ابان بن عثمان، جمیل بن درّاج اور صفوان بن یحیی جیسے معروف راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔ اسی طرح احمد بن محمد بن عیسی، احمد بن محمد بن خالد، سَہل بن زیاد اور یعقوب بن یزید جیسے محدثین نے ان سے روایت نقل کی ہیں۔

امام کاظمؑ کی شہادت کے بعد وہ مختصر مدت کے لئے واقفیہ مذہب کی طرف مائل ہوئے، لیکن امام رضاؑ کی کرامات کا مشاہدہ کرنے کے بعد آپؑ کی امامت پر ایمان لے آئے۔ علامہ مجلسی کے مطابق ان کا عارضی طور پر واقفیہ مذہب کی طرف رجحان پیدا کرنا ان کی وثاقت کو نقصان نہیں پہنچاتا ہے۔

اجمالی تعارف

حسن بن علی بن زیاد وَشّاء، بَجَلی، خَزّاز اور صَیرَفی جیسے القاب سے ملقب تھے۔[1] ان کی کنیت ابو محمد تھی اور وہ کوفہ[2] یا ایک اور قول کی بنا پر بغداد کے رہنے والے تھے۔[3] ان کے مشہور القاب میں سے ایک ابن بنت الیاس بھی ہے۔[4]

شیعہ حدیثی منابع میں ان کی روایات تفسیر،[5] فقہ،[6] اخلاق،[7] عقائد،[8] اور تاریخ[9] جیسے موضوعات میں بکثرت ملتی ہیں اور صرف کتب اربعہ میں ان کی 580 سے زائد روایات موجود ہیں۔[10]

معجم رجال الحدیث میں آیت اللہ خویی کے مطابق حدیثی منابع میں انہیں الحسن بن علی الوشاء، الحسن بن علی الخزاز اور الحسن بن علی ابن بنت الیاس جیسے ناموں کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔[11] شیعہ محدیث نجاشی نے ان کی متعدد تصانیف کا ذکر کیا ہے جن میں ثواب الحج، المناسک، النوادر اور مسائل الرضاؑ جیسی کتابوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔[12]

ان کے نانا الیاس بن عَمرو بَجَلی اور ان کے تین ماموں امام صادقؑ کے راوی اور اصحاب میں سے تھے۔[13]

حسن بن علی الوشاء کی ولادت دوسری صدی ہجری کے وسط میں ہوئی[14] اور وہ سنہ 220ھ تک بقید حیات تھے۔[15] ان کا انتقال تیسری صدی ہجری کے اوائل میں ہوا ہے۔[16]

نقل حدیث میں ان کا مقام

کتبِ رجال کے مطابق وہ امام کاظمؑ،[17] امام رضاؑ اور امام ہادیؑ کے اصحاب میں سے تھے۔[18]

شیعہ محدث اور فقیہ آیت اللہ خویی کے مطابق ان کی امام صادقؑ سے منقول روایات کو مرسلہ قرار دیا گیا ہے،[19] کیونکہ شیخ صدوق نے ایک مقام پر انہیں "غلام" (یعنی نو عمر لڑکا) کی تعبیر سے یاد کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے براہ راست امام صادقؑ کا زمانہ درک نہیں کیا ہے۔[20]

توثیق

شیعہ رجالی اور فقہی منابع میں حسن بن علی الوشاء ثقہ اور معتبر راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔[21] شیعہ رجالی علماء میں سے احمد بن علی نجاشی نے انہیں برجستہ شیعہ محدثین میں شمار کیا ہے، یہاں تک کہ احمد بن محمد بن عیسی اشعری جیسے سخت گیر محدث بھی ان سے نقل حدیث کی اجازت طلب کرتے تھے۔[22] اسی طرح علامہ حلی نے انہیں امام رضاؑ کے بہترین اصحاب میں شمار کیا ہے۔[23]

علم رجال کے محقق ابو الحسن ربانی کے مطابق امام کاظمؑ کی شہادت کے بعد انہیں اپنے زمانے کے امام کی شناخت اور معرفت میں دقت پیش آئی جس کی بنا پر وہ ایک مدت تک واقفیہ مذہب کی طرف مائل ہوئے،[24] مگر امام رضاؑ کی کرامات دیکھنے کے بعد اس عقیدے سے ہاتھ اٹھا کر امام رضاؑ کے خاص اصحاب میں شمار ہونے لگے۔[25] علامہ مجلسی عارضی طور پر ان کی واقفیہ مذہب کی طرف مائل ہونے کو ان کی وثاقت کے منافی نہیں سمجھتے ہیں۔[26]

اساتذہ اور شاگرد

نجاشی کے مطابق حسن بن علی وَشّاء نے امام صادقؑ سے روایت نقل کرنے والے 900 راویوں کو درک کیا ہے۔[27] معجم رجال الحدیث میں آیت اللہ خویی کے مطابق،[28] انہوں نے امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے علاوہ جن راویوں اور اساتذہ سے روایت نقل کی ہے ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

اسی طرح کتاب معجم رجال الحدیث کے مطابق حسن بن علی الوشاء سے روایت نقل کرنے والے ان کے بعض شاگرد اور راویوں میں درج ذیل افراد کا نام شامل ہیں:

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص39۔
  2. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص39۔
  3. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضاؑ، 1378شمسی، ج2، ص229۔
  4. ربانی سبزواری، «ایمان کی بازگشت»، ص147۔
  5. برای نمونہ بنگرید بہ:‌عیاشى، تفسیر العیاشی، 1380ھ، ج2، ص14۔
  6. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج3، ص250۔
  7. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص200۔
  8. نمونہ کے لئے ملاحظہ کری: صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ج1، ص425۔
  9. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضاؑ، 1378شمسی، ج2، ص217۔
  10. سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص191۔
  11. خویی، معجم رجال الحدیث، 1369شمسی، ج5، ص37۔
  12. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص40۔
  13. ربانی سبزواری، «ایمان کی بازگشت»، ص147۔
  14. ربانی سبزواری، «ایمان کی بازگشت»، ص146۔
  15. سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص190۔
  16. ربانی سبزواری، «ایمان کی بازگشت»، ص151۔
  17. برقی، رجال البرقی، 1342شمسی، ص51۔
  18. شیخ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص354 و 385۔
  19. شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج2، ص209۔
  20. خویی، معجم رجال الحدیث، 1369شمسی، ج5، ص73۔
  21. علامہ مجلسی، الوجیزہ فی الرجال، ص57؛ حایری یزدی، مرتضی بن عبدالکریم، شرح العروہ الوثقی، 1426ھ، ج1، ص452۔
  22. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص39۔
  23. علامہ حلی، رجال العلامہ الحلی، 1411ھ، ص41۔
  24. ربانی سبزواری، «ایمان کی بازگشت»، ص148۔
  25. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضاؑ، 1378شمسی، ج2، ص229۔
  26. مجلسی، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول‏(ص)، 1404ھ، ج4، ص102۔
  27. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص40۔
  28. خویی، معجم رجال الحدیث، 1369شمسی، ج5، ص72۔
  29. خویی، معجم رجال الحدیث، 1369شمسی، ج5، ص72۔
  30. خویی، معجم رجال الحدیث، 1369شمسی، ج5، ص72۔

مآخذ

  • برقی، احمد بن محمد بن خالد، رجال البرقی- الطبقات، مصحح: محمد بن حسن طوسی و حسن مصطفوی، تہران، تہران یونیورسٹی پریس، پہلی اشاعت، 1342ہجری شمسی۔
  • حایری یزدی، مرتضی بن عبدالکریم، شرح العروہ الوثقی، قم، جامعۂ مدرسین سے وابستہ اسلامی اشاعت کا دفتر، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
  • خویی، سید أبو القاسم، معجم رجال الحدیث، قم، شیعہ آثار کی اشاعت کا مرکز، 1369ہجری شمسی۔
  • ربانی سبزواری، ابوالحسن، «ایمان کی بازگشت»، فصلنامہ مجلہ فرہنگ کوثر، شمارہ54، تابستان 1382ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، قم، موسسہ امام صادق ؑ، 1418ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضاؑ، مصحح: مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تصحیح: علی اکبر غفاری، قم، جامعۂ مدرسین سے وابستہ اسلامی اشاعت کا دفتر، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن الحسن، تہذیب الأحکام، تحقیق حسن الموسوی خرسان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن الحسن، رجال الطوسی، مصحح: جواد قیومی اصفہانی، قم، جامعۂ مدرسین سے وابستہ اسلامی اشاعت کا دفتر، تیسری اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، مصحح: محسن بن عباسعلی‏ کوچہ باغی، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامہ الحلی، مصحح: محمدصادق بحرالعلوم، نجف اشرف، دار الذخایر، 1411ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، اَلوَجیزہ فی الرجال، مصحح: محمدکاظم رحمان ستایش، تہران، وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
  • علوی عاملی، احمد بن زین العابدین، مناہج الاخیار فی شرح الاستبصار، قم، موسسہ اسماعیلیان، پہلی اشاعت، 1399ھ۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، مصحح، سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول‏(ص)، محقق: سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، جامعۂ مدرسین سے وابستہ اسلامی اشاعت کا دفتر، چھٹی اشاعت، 1365ہجری شمسی۔