مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:استسقائے بنی اسرائیل

ویکی شیعہ سے

استسقائے بنی اسرائیل سے مراد حضرت موسی کی جانب سے بنی اسرائیل کے لئے خداوندِ متعال سے پانی طلب کرنا ہے جس کے نتیجے میں ایک پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوئے تھے۔ "قرآن" نے اس واقعے کو ان نعمتوں میں شمار کیا ہے جو خداوندِ متعال نے بنی اسرائیل کو عطا کیں۔ بعض تفسیری روایات کے مطابق اس واقعے میں حضرت موسی کی جانب سے پیغمبر اسلامؐ اور اہلِ بیتؑ کا واسطہ دینے کے بعد پتھر سے پانی جاری ہوا تھا۔ اسی طرح ایک روایت میں ایک ایسے پتھر کا ذکر ملتا ہے جو امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت آپؑ کے ہمراہ ہوگا اور اس سے پانی جاری ہوگا۔

تعارف

تفسیری روایات کے مطابق ایک دفعہ بنی اسرائیل نے حضرت موسی کے سامنے اپنی اور اپنے مویشیوں کی پیاس کی شکایت کی۔[1] بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکالے جانے پر حضرت موسی کی ملامت کی، کیونکہ ان کے خیال میں اس اقدام سے ان کی اولاد، مویشیوں اور ان کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔[2]

"قرآن" کے بیان کے مطابق حضرت موسی نے بنی اسرائیل کے لئے خداوندِ متعال سے پانی طلب کیا۔[3] خداوندِ متعال نے حضرت موسی پر وحی نازل کی[4] اور فرمایا اپنے عصا کو ایک پتھر پر ماریں۔ جب حضرت موسی نے ایسا کیا تو اس پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے،[5] تاکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلہ پانی پینے کی اپنی مخصوص جگہ کو پہچان سکے[6] اور ان کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہو۔[7] "قرآن" نے اس واقعے کو بنی اسرائیل پر خداوندِ متعال کی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔[8] یہ واقعہ سورہ بقرہ آیت نمبر 60 اور سورہ اعراف آیت نمبر 160 میں الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ بیان ہوا ہے۔[9]

حضرت موسی کے پانی طلب کرنے کو ایک قسم کی دعا اور مناجات قرار دیا گیا ہے، جس میں اسلامی شریعت میں بارش طلب کرنے کے لئے پڑھی جانے والی نمازِ استسقا کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔[10] اسی طرح بنی اسرائیل کے لئے پانی طلب کرنے کے واقعے کو حضرت موسی کے معجزات میں بھی شمار کیا گیا ہے،[11] جب کہ بعض مفسرین نے بارہ چشموں کے جاری ہونے کو اس واقعے کا دوسرا معجزہ قرار دیا ہے۔[12]

بعض عرب مصنفین نے "قرآن" میں مذکور ان چشموں کا مصداق عیونِ موسیٰ کے چشموں کو قرار دیا ہے، جو نہرِ سویز کے مشرق میں، شہر سویز سے تقریباً دس کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں۔[13]

اہلِ بیتؑ کا واسطہ دینا

ایک تفسیری روایت میں آیا ہے کہ حضرت موسی نے پانی طلب کرتے وقت خداوندِ متعال کو پیغمبر اسلامؐ، امام علیؑ، حضرت فاطمہ زہراؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور ان کی اولاد، یعنی ائمۂ اہل بیتؑ کا واسطہ دیا تو خداوندِ متعال نے آپؑ کی دعا قبول فرمائی۔[14]

پتھر اور عصا

جس پر حضرت موسیٰؑ نے اپنا عصا مارا تھا، اس پتھر کی ماہیت کے بارے میں مختلف آرا بیان کی گئی ہیں۔[15] بعض مفسرین نے اسے بہشتی پتھر قرار دیا ہے جسے حضرت آدم نے بہشت سے لایا تھا، جب کہ بعض دوسرے مفسرین کے نزدیک یہ ایک عام پتھر تھا۔[16]

شیعہ مصادر کی ایک روایت کے مطابق یہ پتھر امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت آپؑ کے ہمراہ ہوگا اور جب امام مہدیؑ مکہ میں ظہور فرمائیں گے اور کوفہ کی جانب روانہ ہوں گے تو آپؑ کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ پانی لے جانے سے منع کریں گے، کیونکہ وہ پتھر جس کے ذریعے حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو سیراب کیا تھا، امام مہدیؑ کے ہمراہ ہوگا اور وہ اس سے جاری ہونے والے پانی سے اپنی پیاس بجھائیں گے۔[17] بعض مفسرین نے اس روایت سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بنی اسرائیل بھی اس پتھر کو اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے۔[18]

ایک ہی پتھر سے بارہ چشموں کے جاری ہونے اور بنی اسرائیل کی بڑی تعداد کے سیراب ہونے کی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض مصادر میں اس واقعے کو معجزانہ واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے خداوندِ متعال کی مشیت سے تحقق پانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[19] اسی طرح کہا گیا ہے کہ حضرت موسی نے اس واقعے میں وہی عصا استعمال کیا تھا جس کے ذریعے آپؑ نے دیگر معجزات بھی دکھائے تھے۔[20]

معجزے کا تکرار

پتھر سے پانی جاری ہونے کے واقعے کی تعداد کے بارے میں مفسرین کے درمیان مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا تھا۔[21] اس کے برعکس، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ متعدد مرتبہ پیش آیا تھا۔[22] اس نظرئے کے مطابق بنی اسرائیل اس پتھر کو اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے اور جب بھی انہیں پانی کی ضرورت ہوتی، حضرت موسیٰ اس پر اپنا عصا مارتے تو اس سے پانی جاری ہوجاتا تھا۔[23] اس نظرئے کی تائید میں بعض روایات بھی نقل ہوئی ہیں۔[24]

بعض شیعہ[25] اور اہلِ سنت کے مفسرین[26] کے مطابق یہ واقعہ اس بیابان میں پیش آیا تھا جہاں بنی اسرائیل کی سرگردانی کے زمانے میں وہ اس مقام پر قیام پذیر تھے۔[27]

تورات

توریت کی کتابِ خروج میں بھی بنی اسرائیل کی پیاس اور حضرت موسی سے پانی طلب کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔[28] اس بیان کے مطابق بنی اسرائیل نے مصر سے نکال لانے پر حضرت موسی کی ملامت کی۔[29] حضرت موسی نے خداوندِ متعال کے حضور شکایت کی اور کہا کہ بنی اسرائیل انہیں سنگسار کرنے والے ہیں۔[30] اس کے بعد خداوندِ متعال نے حضرت موسی کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے سرداروں کی موجودگی میں اپنی لاٹھی ایک چٹان پر ماریں۔ چنانچہ جب حضرت موسی نے ایسا کیا تو چٹان سے پانی جاری ہوگیا۔[31]

اس واقعے کے بارے میں "توریت" اور "قرآن" کے بیان میں مختصر فرق پایا جاتا ہے، "توریت" میں ان چشموں کی تعداد 12 ہونے اور بنی اسرائیل کے ہر قبیلے اور گروہ کے لئے الگ الگ چشمہ مختص ہونے کا ذکر نہیں ملتا ہے۔[32]

حوالہ جات

  1. ↑ حسینی ہمدانی، "انوار درخشان"، ج1، ص184۔
  2. ↑ نجفی خمینی، "تفسیر آسان"، ج1، ص145۔
  3. ↑ مکارم شیرازی، "تفسیر نمونہ"، ج1، ص272۔
  4. ↑ حسینی ہمدانی، "انوار درخشان"، ج1، ص184۔
  5. ↑ مکارم شیرازی، "تفسیر نمونہ"، ج1، ص272۔
  6. ↑ یوسف، "اسرائیل البدایۃ والنہایۃ"، ج1، ص67۔
  7. ↑ فضل اللہ، "تفسیر من وحی القرآن"، ج2، ص59۔
  8. ↑ فخر رازی، "مفاتیح الغیب"، ج3، ص527۔
  9. ↑ قرشی، "تفسیر احسن الحدیث"، ج1، ص144۔
  10. ↑ محققیان، "ارتباط انوار ثقلین در تفسیر قرآن"، ج3، ص243۔
  11. ↑ طباطبائی، "المیزان"، ج8، ص285۔
  12. ↑ قرائتی، "تفسیر نور"، ج3، ص195۔
  13. ↑ عوض اللہ، "حیاۃ و أخلاق الأنبیاء(ص)"، ج1، ص201؛ یوسف، "اسرائیل البدایۃ والنہایۃ"، ج1، ص67۔
  14. ↑ بحرانی، "البرہان"، ج1، ص226۔
  15. ↑ مکارم شیرازی، "تفسیر نمونہ"، ج1، ص272۔
  16. ↑ حسینی شاہ عبدالعظیمی، "تفسیر اثنا عشری"، ج1، ص158۔
  17. ↑ صفار، "بصائر الدرجات"، ج1، ص188؛ نعمانی، "الغیبۃ"، ص238۔
  18. ↑ نجفی خمینی، "تفسیر آسان"، ج1، ص146۔
  19. ↑ نجفی خمینی، "تفسیر آسان"، ج1، ص145۔
  20. ↑ طیب، "اطیب البیان"، ج2، ص43۔
  21. ↑ طالقانی، "پرتوئی از قرآن"، ج1، ص17۔
  22. ↑ حسینی شاہ عبدالعظیمی، "تفسیر اثنا عشری"، ج1، ص158۔
  23. ↑ نجفی خمینی، "تفسیر آسان"، ج1، ص145۔
  24. ↑ قمی، "تفسیر القمی"، ج1، ص48۔
  25. ↑ صادقی تہرانی، "البلاغ"، ص9۔
  26. ↑ فخر رازی، "مفاتیح الغیب"، ج3، ص528۔
  27. ↑ مقدسی، "البدء والتاریخ"، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج3، ص87۔
  28. ↑ "سفرِ خروج"، باب 17، آیت 3۔
  29. ↑ "سفرِ خروج"، باب 17، آیت 3۔
  30. ↑ "سفرِ خروج"، باب 17، آیت 4۔
  31. ↑ "سفرِ خروج"، باب 17، آیت 6۔
  32. ↑ قرشی، "تفسیر احسن الحدیث"، ج1، ص144۔

مآخذ

  • بحرانی، سید ہاشم، "البرہان فی تفسیر القرآن"، تہران، بنیاد بعثت، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
  • حسینی شاہ‌عبدالعظیمی، حسین بن احمد، "تفسیر اثناعشری"، تہران، میقات، پہلی اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
  • حسینی ہمدانی، سید محمدحسین، "انوار درخشان"، تحقیق: محمدباقر بہبودی، تہران، کتابفروشی لطفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، "البلاغ فی تفسیر القرآن بالقرآن"، قم، مؤلف، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • صفار، محمد بن حسن، "بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد صلی اللہ علیہم"، تحقیق و تصحیح: محسن بن عباسعلی کوچہ باغی، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • طالقانی، سید محمود، "پرتوی از قرآن"، تہران، شرکت سہامی انتشار، چوتھی اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین، "المیزان فی تفسیر القرآن"، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
  • طیب، سید عبدالحسین، "اطیب البیان فی تفسیر القرآن"، تہران، انتشارات اسلام، دوسری اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • عوض‌اللہ، احمد صباحی، "حیاۃ و أخلاق الأنبیاء(ص)"، مقدمہ: سید سابق، محمد فحام، بیروت، دار إقرأ، 1993ء۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، "مفاتیح الغیب"، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • فضل‌اللہ، سید محمدحسین، "تفسیر من وحی القرآن"، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر، دوسری اشاعت، 1419ھ۔
  • قرائتی، محسن، "تفسیر نور"، تہران، قرآنی دروس کا ثقافتی مرکز، گیارہویں اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
  • قرشی، سید علی‌اکبر، "تفسیر احسن الحدیث"، تہران، بنیاد بعثت، تیسری اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، "تفسیر القمی"، تحقیق: طیب موسوی جزایری، قم، دارالکتاب، 1363ہجری شمسی۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، "البدء و التاریخ"، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، بور سعید، بے تاریخ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، "تفسیر نمونہ"، تہران، دار الکتب الاسلامیہ تہران، 1374ہجری شمسی۔
  • نجفی خمینی، محمد جواد، "تفسیر آسان"، تہران، انتشارات اسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1398ھ۔
  • نعمانی، محمد بن ابراہیم، "الغیبۃ"، تحقیق و تصحیح: علی‌اکبر غفاری، تہران، نشر صدوق، پہلی اشاعت، 1397ھ۔
  • یوسف، محمود یوسف، "إسرائیل البدایۃ و النہایۃ"، محل نشر اور ناشر نامعلوم، 1994ء۔