مندرجات کا رخ کریں

"خاصف النعل (لقب)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
Mohsin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
«{{کے بارے میں|لقب خاصف النعل|خاصف النعل سے متعلق حدیث سے آشنائی کے لیے مقالہ|حدیث خاصف النعل}} {{امام علی}} '''خاصِفُ‌ النَّعْل،''' (جوتی گانٹھنے والا، کفش دوز) شیعوں کے پہلے امام حضرت علیؑ کے القاب میں سے ایک لقب ہے۔<ref>سبط بن جوزی، تذکرةالخوا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
Mohsin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 5: سطر 5:
خصف کا مطلب ہے چیزوں کو جمع کرنا اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا<ref>ابن‌ منظور، لسان‌ العرب، بیروت، ج۹، ص۷۱.</ref> اور جو شخص پھٹے جوتوں کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے اسے اپنی پہلی والی شکل دے دے اسے خاصف النعل (جوتے کو گانٹھنےوالا) کہتے ہیں۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۸، ص۳۵.</ref> امام علیؑ کا پیغمبر اسلام(ص) کے جوتوں کی مرمت کرنے کو آپؑ کی عاجزی<ref>عطیه، علی علیه‌السلام خاصف نعل النبی صلی‌الله‌علیه‌ وآله، ۱۴۳۶ھ، ص۱۳.</ref>  اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔<ref>مکارم شیرازی، پیام امام امیر المومنین(ع)، ۱۳۸۵شمسی، ج۲، ص۳۰۳.</ref>
خصف کا مطلب ہے چیزوں کو جمع کرنا اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا<ref>ابن‌ منظور، لسان‌ العرب، بیروت، ج۹، ص۷۱.</ref> اور جو شخص پھٹے جوتوں کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے اسے اپنی پہلی والی شکل دے دے اسے خاصف النعل (جوتے کو گانٹھنےوالا) کہتے ہیں۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۸، ص۳۵.</ref> امام علیؑ کا پیغمبر اسلام(ص) کے جوتوں کی مرمت کرنے کو آپؑ کی عاجزی<ref>عطیه، علی علیه‌السلام خاصف نعل النبی صلی‌الله‌علیه‌ وآله، ۱۴۳۶ھ، ص۱۳.</ref>  اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔<ref>مکارم شیرازی، پیام امام امیر المومنین(ع)، ۱۳۸۵شمسی، ج۲، ص۳۰۳.</ref>


وہ روایات جن میں پیغمبر خدا(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے عنوان سے یاد کیا ہے، ان میں سے ہر ایک امامؑ کے ایک یا ایک سے زیادہ فضائل بیان کرتی ہے؛ مذکورہ فضائل میں سے امام علیؑ کی [[امامت]] و [[خلافت]] اور [[مشرکوں]] اور ظالموں سے ان کی جنگ بھی ہے۔<ref>بحرانی، غایة المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۶، ص۲۸۵؛ اربلی، کشف‌ الغمة، ۱۳۸۱ھ، ج۱، ص۳۳۵؛ علامه حلی، نهج‌ الحق، ۱۹۸۲ء، ص۲۲۰؛ ابن‌ شهرآشوب مازندرانی، مناقب آل ابی‌ طالب(ع)، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۴۴.</ref> یہ روایات شیعہ قدیمی کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں، جیسے [[کتب اربعہ]]<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۱۱-۱۲؛ شیخ طوسی، تهذیب الأحکام، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۱۱۶.</ref> اسی طرح اہل سنت کی [[صحاح ستہ|صحاح]]،<ref>ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲.</ref> مسانید<ref>ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱.</ref> اور سنن<ref>نسائی، سنن‌النسائی، ۱۴۱۱ھ، ج۵، ص۱۲۷-۱۲۸.</ref> میں اس مضمون کی حامل کی روایات آئی ہیں۔ شیعہ اور [[سنی]] محدثین میں سے بعض ان روایات کو صحیح و معتبر مانتے ہیں۔<ref>ملاحظہ کیجیے: ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲؛ مقدس اردبیلی، حدیقة الشیعة، ۱۳۸۳شمسی، ج۱، ص۲۳۲.</ref> [[سید عبد الحسین شرف‌الدین]] اور [[جعفر کاشف‌ الغطاء]] جیسے شیعہ علماء ان احادیث کو [[متواتر]] مانتے ہیں۔<ref>شرف‌الدین، المراجعات، ۱۴۲۶ھ، ص۳۱۹؛ کاشف‌الغطاء، کشف‌الغطاء، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۳۷.</ref>
وہ روایات جن میں پیغمبر خدا(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے عنوان سے یاد کیا ہے، ان میں سے ہرایک امامؑ کے ایک یا ایک سے زیادہ فضائل کو بیان کرتی ہے؛ مذکورہ فضائل میں سے امام علیؑ کی [[امامت]] و [[خلافت]] اور [[مشرکوں]] اور ظالموں سے ان کی جنگ بھی ہے۔<ref>بحرانی، غایة المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۶، ص۲۸۵؛ اربلی، کشف‌ الغمة، ۱۳۸۱ھ، ج۱، ص۳۳۵؛ علامه حلی، نهج‌ الحق، ۱۹۸۲ء، ص۲۲۰؛ ابن‌ شهرآشوب مازندرانی، مناقب آل ابی‌ طالب(ع)، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۴۴.</ref> یہ روایات شیعہ قدیمی کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں، جیسے [[کتب اربعہ]]<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۱۱-۱۲؛ شیخ طوسی، تهذیب الأحکام، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۱۱۶.</ref> اسی طرح اہل سنت کی [[صحاح ستہ|صحاح]]،<ref>ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲.</ref> مسانید<ref>ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱.</ref> اور سنن<ref>نسائی، سنن‌النسائی، ۱۴۱۱ھ، ج۵، ص۱۲۷-۱۲۸.</ref> میں اس مضمون کی حامل کی روایات آئی ہیں۔ شیعہ اور [[سنی]] محدثین میں سے بعض ان روایات کو صحیح و معتبر مانتے ہیں۔<ref>ملاحظہ کیجیے: ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲؛ مقدس اردبیلی، حدیقة الشیعة، ۱۳۸۳شمسی، ج۱، ص۲۳۲.</ref> [[سید عبد الحسین شرف‌الدین]] اور [[جعفر کاشف‌ الغطاء]] جیسے شیعہ علماء ان احادیث کو [[متواتر]] مانتے ہیں۔<ref>شرف‌الدین، المراجعات، ۱۴۲۶ھ، ص۳۱۹؛ کاشف‌الغطاء، کشف‌الغطاء، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۳۷.</ref>
 
   
یکی از روایاتی که در منابع حدیثی شیعه و سنی آمده و در آن، پیامبر با لقب خاصف‌النعل، از امام علی یاد کرده چنین است: پیامبر در جمع یارانش گفت: «إِنَّ مِنْکمْ مَنْ یقَاتِلُ عَلَی تَأْوِیلِ هَذَا الْقُرْآنِ کمَا قَاتَلْتُ عَلَی تَنْزِیله؛‌ از شما کسی است که بعد از من برای تأویل قرآن خواهد جنگید؛ همان‌طور که من برای تنزیل قرآن به مبارزه پرداختم.» برخی از حاضران پرسیدند که آیا آن‌ها همان شخص هستند؟ پیامبر ضمن پاسخ منفی به آنان، او را شخصی دانست که مشغول پینه‌زدن کفش است. در آن زمان امام علی(ع) در حال وصله‌کردن کفش پیامبر بود.<ref>ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ق، ج۱۷، ص۳۹۱، ج۱۸، ص۲۹۶. با کمی اختلاف در: شیخ مفید، الإفصاح فی الإمامة، ۱۴۱۳ق، ص۱۳۵؛ طبری، المسترشد فی امامة علی بن ابی طالب(ع)، ۱۴۱۵ق، ص۳۵۷؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۷۰.</ref>  
شیعہ اور سنی احادیث کے منابع مآخذ میں جو روایتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک روایت جس میں پیغمبر(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے لقب سے یاد کیا ہے، یہ ہے: ایک دفعہ پیغمبر خدا(ص) نے اپنے [[اصحاب]] کے اجتماع میں فرمایا: «إِنَّ مِنْکمْ مَنْ یقَاتِلُ عَلَی تَأْوِیلِ هَذَا الْقُرْآنِ کمَا قَاتَلْتُ عَلَی تَنْزِیله؛‌ تم میں سے کوئی ہے جو میرے بعد [[قرآن]] کی تاویل کے لیے جنگ کرے، جس طرح میں نے قرآن کے نزول کے وقت جہاد کیا تھا۔» حاضرین میں سے کچھ نے پوچھا کہ کیا وہ وہی اشخاص ہیں؟ پیغمبر خدا(ص) ان کو نفی میں جواب دیتے ہوئے ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کیا جو جوتوں کو گانٹحھ رہے تھے۔ اس وقت امام علیؑ پیغمبر اسلام کے جوتوں کو گانٹھ رہے تھے۔<ref>ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱، ج۱۸، ص۲۹۶. با کمی اختلاف در: شیخ مفید، الإفصاح فی الإمامة، ۱۴۱۳ھ، ص۱۳۵؛ طبری، المسترشد فی امامة علی بن ابی طالب(ع)، ۱۴۱۵ھ، ص۳۵۷؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ھ، ج۱، ص۷۰.</ref>  
شیعہ اور سنی احادیث کے منابع مآخذ میں جو روایتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک روایت جس میں پیغمبر(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے لقب سے یاد کیا ہے، یہ ہے: ایک دفعہ پیغمبر خدا(ص) نے اپنے [[اصحاب]] کے اجتماع میں فرمایا: «إِنَّ مِنْکمْ مَنْ یقَاتِلُ عَلَی تَأْوِیلِ هَذَا الْقُرْآنِ کمَا قَاتَلْتُ عَلَی تَنْزِیله؛‌ تم میں سے کوئی ہے جو میرے بعد [[قرآن]] کی تاویل کے لیے جنگ کرے، جس طرح میں نے قرآن کے نزول کے وقت جہاد کیا تھا۔» حاضرین میں سے کچھ نے پوچھا کہ کیا وہ وہی اشخاص ہیں؟ پیغمبر خدا(ص) ان کو نفی میں جواب دیتے ہوئے ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کیا جو جوتوں کو گانٹحھ رہے تھے۔ اس وقت امام علیؑ پیغمبر اسلام کے جوتوں کو گانٹھ رہے تھے۔<ref>ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱، ج۱۸، ص۲۹۶. با کمی اختلاف در: شیخ مفید، الإفصاح فی الإمامة، ۱۴۱۳ھ، ص۱۳۵؛ طبری، المسترشد فی امامة علی بن ابی طالب(ع)، ۱۴۱۵ھ، ص۳۵۷؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ھ، ج۱، ص۷۰.</ref>  
==حوالہ جات==
==حوالہ جات==

نسخہ بمطابق 15:36، 14 نومبر 2024ء

شیعوں کے پہلے امام
امام علی علیہ السلام
حیات طیبہ
یوم‌ الدارشعب ابی‌ طالبلیلۃ المبیتواقعہ غدیرمختصر زندگی نامہ
علمی میراث
نہج‌البلاغہغرر الحکمخطبہ شقشقیہبغیر الف کا خطبہبغیر نقطہ کا خطبہحرم
فضائل
آیہ ولایتآیہ اہل‌الذکرآیہ شراءآیہ اولی‌الامرآیہ تطہیرآیہ مباہلہآیہ مودتآیہ صادقینحدیث مدینہ‌العلمحدیث رایتحدیث سفینہحدیث کساءخطبہ غدیرحدیث منزلتحدیث یوم‌الدارحدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایتصالح المؤمنینحدیث تہنیتبت شکنی کا واقعہ
اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترسلمان فارسیابوذر غفاریمقدادعبید اللہ بن ابی رافعحجر بن عدیمزید


خاصِفُ‌ النَّعْل، (جوتی گانٹھنے والا، کفش دوز) شیعوں کے پہلے امام حضرت علیؑ کے القاب میں سے ایک لقب ہے۔[1] یہ لقب حدیث خاصف النعل سے ماخوذ ہے جس میں پیغمبر خدا (ص) نے امام علی کو اس لقب سے یاد کیا ہے؛ کیونکہ اس وقت امام علیؑ رسول خدا(ص) کا جوتا گانٹھ رہے تھے۔[2]

خصف کا مطلب ہے چیزوں کو جمع کرنا اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑنا[3] اور جو شخص پھٹے جوتوں کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے اسے اپنی پہلی والی شکل دے دے اسے خاصف النعل (جوتے کو گانٹھنےوالا) کہتے ہیں۔[4] امام علیؑ کا پیغمبر اسلام(ص) کے جوتوں کی مرمت کرنے کو آپؑ کی عاجزی[5] اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[6]

وہ روایات جن میں پیغمبر خدا(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے عنوان سے یاد کیا ہے، ان میں سے ہرایک امامؑ کے ایک یا ایک سے زیادہ فضائل کو بیان کرتی ہے؛ مذکورہ فضائل میں سے امام علیؑ کی امامت و خلافت اور مشرکوں اور ظالموں سے ان کی جنگ بھی ہے۔[7] یہ روایات شیعہ قدیمی کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں، جیسے کتب اربعہ[8] اسی طرح اہل سنت کی صحاح،[9] مسانید[10] اور سنن[11] میں اس مضمون کی حامل کی روایات آئی ہیں۔ شیعہ اور سنی محدثین میں سے بعض ان روایات کو صحیح و معتبر مانتے ہیں۔[12] سید عبد الحسین شرف‌الدین اور جعفر کاشف‌ الغطاء جیسے شیعہ علماء ان احادیث کو متواتر مانتے ہیں۔[13]

شیعہ اور سنی احادیث کے منابع مآخذ میں جو روایتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک روایت جس میں پیغمبر(ص) نے امام علیؑ کو خاصف النعل کے لقب سے یاد کیا ہے، یہ ہے: ایک دفعہ پیغمبر خدا(ص) نے اپنے اصحاب کے اجتماع میں فرمایا: «إِنَّ مِنْکمْ مَنْ یقَاتِلُ عَلَی تَأْوِیلِ هَذَا الْقُرْآنِ کمَا قَاتَلْتُ عَلَی تَنْزِیله؛‌ تم میں سے کوئی ہے جو میرے بعد قرآن کی تاویل کے لیے جنگ کرے، جس طرح میں نے قرآن کے نزول کے وقت جہاد کیا تھا۔» حاضرین میں سے کچھ نے پوچھا کہ کیا وہ وہی اشخاص ہیں؟ پیغمبر خدا(ص) ان کو نفی میں جواب دیتے ہوئے ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کیا جو جوتوں کو گانٹحھ رہے تھے۔ اس وقت امام علیؑ پیغمبر اسلام کے جوتوں کو گانٹھ رہے تھے۔[14]

حوالہ جات

  1. سبط بن جوزی، تذکرةالخواص، ۱۴۱۸ھ، ص۱۶؛ مقدس اردبیلی، حدیقة الشیعة، ۱۳۸۳شمسی، ج۱، ص۱۶؛ شیعی سبزواری، راحة الارواح، ۱۳۷۸شمسی، ص۸۶.
  2. بحرانی، غایة المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۶، ص۲۸۵؛ اربلی، کشف‌ الغمة، ۱۳۸۱ھ، ج۱، ص۳۳۵؛ علامه حلی، نهج‌ الحق، ۱۹۸۲ء، ص۲۲۰، ابن‌ شهرآشوب مازندرانی، مناقب آل ابی‌ طالب(ع)، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۴۴.
  3. ابن‌ منظور، لسان‌ العرب، بیروت، ج۹، ص۷۱.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۸، ص۳۵.
  5. عطیه، علی علیه‌السلام خاصف نعل النبی صلی‌الله‌علیه‌ وآله، ۱۴۳۶ھ، ص۱۳.
  6. مکارم شیرازی، پیام امام امیر المومنین(ع)، ۱۳۸۵شمسی، ج۲، ص۳۰۳.
  7. بحرانی، غایة المرام، ۱۴۲۲ھ، ج۶، ص۲۸۵؛ اربلی، کشف‌ الغمة، ۱۳۸۱ھ، ج۱، ص۳۳۵؛ علامه حلی، نهج‌ الحق، ۱۹۸۲ء، ص۲۲۰؛ ابن‌ شهرآشوب مازندرانی، مناقب آل ابی‌ طالب(ع)، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۴۴.
  8. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۵، ص۱۱-۱۲؛ شیخ طوسی، تهذیب الأحکام، ۱۴۰۷ھ، ج۴، ص۱۱۶.
  9. ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲.
  10. ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱.
  11. نسائی، سنن‌النسائی، ۱۴۱۱ھ، ج۵، ص۱۲۷-۱۲۸.
  12. ملاحظہ کیجیے: ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۱۹، ج۵، ص۴۵۲؛ مقدس اردبیلی، حدیقة الشیعة، ۱۳۸۳شمسی، ج۱، ص۲۳۲.
  13. شرف‌الدین، المراجعات، ۱۴۲۶ھ، ص۳۱۹؛ کاشف‌الغطاء، کشف‌الغطاء، ۱۴۲۲ھ، ج۱، ص۳۷.
  14. ابن‌حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۱۶ھ، ج۱۷، ص۳۹۱، ج۱۸، ص۲۹۶. با کمی اختلاف در: شیخ مفید، الإفصاح فی الإمامة، ۱۴۱۳ھ، ص۱۳۵؛ طبری، المسترشد فی امامة علی بن ابی طالب(ع)، ۱۴۱۵ھ، ص۳۵۷؛ سید بن طاووس، الطرائف، ۱۴۰۰ھ، ج۱، ص۷۰.

مآخذ

  • ابن‌حنبل، احمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، بیروت، مؤسسة الرسالة، ۱۴۱۶ق.
  • ابن‌شهرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب علیهم السلام، قم، علامه، ۱۳۷۹ق.
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دارصادر، چاپ سوم، بی‌تا.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، تبریز، بنی‌هاشمی، ۱۳۸۱ق.
  • بحرانی، سید هاشم غایة المرام و حجة الخصام فی تعیین الإمام من طریق الخاص و العام، بیروت، مؤسسة التأریخ العربی، ۱۴۲۲ق.
  • ترمذی، محمد بن عیسی، الجامع الصحیح و هو سنن الترمذی، قاهره، دارالحدیث، ۱۴۱۹ق.
  • سبط بن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرة الخواص من الأمة فی ذکر خصائص الأئمة، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۸ق.
  • سید بن طاووس حسنی، علی بن موسی، الطرائف فی معرفة مذاهب الطوائف فی معرفة مذاهب الطوائف، قم، خیام، ۱۴۰۰ق.
  • شرف الدین، سید عبدالحسین، المراجعات، قم، المجمع العالمی لأهل البیت، چاپ دوم، ۱۴۲۶ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن الحسن، تهذیب الأحکام، تحقیق خرسان، تهران، ‌دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإفصاح فی الإمامة، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ق.
  • شیعی سبزواری، ابو سعید، راحة الأرواح، تهران، میراث مکتوب، چاپ دوم، ۱۳۷۸ش.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، تفسیر المیزان، قم، جامعه مدرسین، ۱۴۱۷ق.
  • طبری، محمد بن جریر بن رستم، المسترشد فی إمامة أمیر المؤمنین(ع)، قم، مؤسسة الواصف، ۱۴۱۵ق.
  • عطیه، ماجد بن احمد، علی علیه‌السلام خاصف نعل النبی صلی‌الله‌علیه‌وآله، کربلا، العتبة الحسینیة المقدسة، ۱۴۳۶ق،
  • علامه حلی، حسن بن یوسف، نهج الحق و کشف الصدق، بیروت، دارالکتاب اللبنانی، ۱۹۸۲م.
  • کاشف الغطاء، شیخ جعفر، کشف الغطاء عن مبهمات الشریعة الغراء، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم، ۱۴۲۲ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی، تهران، ‌ دارالکتب الإسلامیة، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق.
  • مقدس اردبیلی، احمد بن محمد، حدیقة الشیعة، قم، انتشارات انصاریان، چاپ سوم، ۱۳۸۳ش.
  • مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین(ع)، تهران، دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۸۵ش.
  • نسائی، احمد بن علی، السنن الکبری، بیروت، دارالکتب العلمیة، منشورات محمد علی بیضون، ۱۴۱۱ق.