مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ مائدہ آیت نمبر 24

ویکی شیعہ سے
سورہ مائدہ آیت نمبر 24
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ مائدہ
آیت نمبر24
پارہ7
محل نزولمدینہ
مضموندشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے حوالے سے بنی اسرائیل کی حضرت موسی کے حکم کی نافرمانی
مربوط آیاتسورہ مائدہ آیت نمبر 21، سورہ مائدہ آیت نمبر 22، سورہ مائدہ آیت نمبر 23


سورہ مائدہ آیت نمبر 24، میں بنی اسرائیل کے اس جواب کا ذکر ہے جو انہوں نے حضرت موسیٰ کے حکم کے مقابلے میں دیا تھا۔[1] گزشتہ آیات کے مطابق حضرت موسیٰؑ نے انہیں خدا کے دشمنوں سے جنگ کرنے اور سرزمین مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا،[2] مگر انہوں نے اس حکم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مفسرین نے اس آیت کو بنی اسرائیل کی اپنے نبی کی نافرمانی، ان کے مقابل گستاخی اور حکمِ الٰہی سے روگردانی کی علامت قرار دیا ہے۔[3]

بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت بنی اسرائیل کے شرک، کفر اور عقیدۂ تشبیہ پر بھی دلالت کرتی ہے۔[4]

قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيہَا ۖ فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ ‎﴿٢٤﴾‏‏
انہوں نے کہا اے موسیٰ! ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک وہ اس میں ہیں۔ لہٰذا آپ اور آپ کا خدا دونوں چلے جائیں اور جا کر لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔



سورہ مائدہ آیت نمبر 24

آیت میں مذکور عبارت «لَنْ نَدْخُلَہَا» سے مراد بنی اسرائیل کا سرزمین مقدس میں داخل ہونے سے انکار ہے، جس کا ذکر سورہ مائدہ آیت نمبر 21 میں آیا ہے۔ [5] اس سرزمین کے باشندوں کو حضرت موسیٰ کے زمانے میں قوم عمالقہ[یادداشت 1]قرار دیا گیا ہے۔[6]

اس سرزمین کے مقام کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض مفسرین نے اسے فلسطین، بعض نے بیت المقدس، بعض نے طور سینا اور بعض نے شام کا علاقہ قرار دیا ہے۔[7]

آیت میں لفظ «رَبُّكَ» ظاہری معنی کے اعتبار سے «تمہارا پروردگار» کے معنی میں ہے۔[8] تاہم بعض مفسرین نے اس لفظ کے معنی «سردار» یا «آقا» بھی بیان کئے ہیں اور حضرت ہارون کے حضرت موسیٰ سے بڑے ہونے کی بنا پر انہیں اس عنوان کا مصداق قرار دیا ہے۔[9]

تاریخی روایات کے مطابق غزوہ بدر سے پہلے مقداد بن عمرو نے اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے مقابلے میں رسول اللہؐ کے ساتھ مسلمانوں کی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔[10] بعض تفاسیر نے اس واقعے کو بنی اسرائیل کی کمزوری، بزدلی اور دشمن کے مقابلے میں ان کی ناتوانی کی مثال قرار دیا ہے۔[11] کچھ مفسرین کے نزدیک یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انبیائے الٰہی اور دینی قیادت کی کامیابی عوام کی ذمہ داری، تعاون اور معاشرے کی اصلاح میں ان کی عملی شراکت بھی ضروری ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. فیض الاسلام، ترجمہ و تفسیر قرآن، 1378شمسی، ج1، ص222۔
  2. فیض الاسلام، ترجمہ و تفسیر قرآن، 1378شمسی، ج1، ص222۔
  3. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج2، ص25؛ طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص292؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص342۔
  4. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص292؛ طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج4، ص339۔
  5. سید قطب، فی ظلال القرآن، 1408ھ، ج2، ص870-871۔
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص339۔
  7. عیاشی، التفسیر، 1380ھ، ج1، ص305؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج2، ص25؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص337۔
  8. قرآن کریم (ترجمۂ مکارم)، 1389شمسی، ص112۔
  9. عاملی، تفسیر عاملی، 1359شمسی، ج3، ص253-254؛ شاہ عبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، 1363ھ، ج3، ص58۔
  10. واقدی، کتاب المغازی، 1409ھ، ج1، ص48۔
  11. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج2، ص394؛ قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج2، ص379۔
  12. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج2، ص379۔

نوٹ

  1. عمالقہ سامی نسل کی ایک قوم تھی جو جزیرۃ العرب کے شمالی میں صحرائے سینا کے قریب آباد تھی۔ انہوں نے مصر پر حملہ کیا اور ایک مدت تک وہاں حکومت کی۔ ان کی حکومت تقریباً پانچ سو سال تک قائم رہی۔(طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص291۔)

مآخذ

  • قرآن کريم، ترجمہ: مکارم شیرازی، ناصر، قم، انتشارات امام علی بن ابی طالب(ع)، تیسری اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، دارالشروق، پندرہویں اشاعت، 1408ھ۔
  • شاہ‌عبدالعظیمی، حسین، تفسیر إثنی عشری، تہران، نشر میقات، پہلی اشاعت، 1363ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پانچویں اشاعت‏، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی‏، مصحح: فضل‌اللہ یزدی طباطبایی و ہاشم رسولی، بیروت، دارالمعرفۃ، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
  • طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، دوسری اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • عاملی، ابراہیم، تفسیر عاملی، مصحح: علی‌اکبر غفاری، تہران، کتابفروشیصدوق، پہلی اشاعت، 1359ہجری شمسی۔
  • عیاشی، محمد بن مسعود، التفسیر، محقق و مصحح: ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: حسین اعلمی، تہران، انتشارات الصدر، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
  • فیض‌الاسلام اصفہانی، علی‌نقی، ترجمہ و تفسیر قرآن عظیم، تہران، نشر فقیہ، پہلی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن،گیارہویں اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
  • مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین(ع)، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، تیسری اشاعت، 1409ھ۔