مسودہ:سورہ عنکبوت آیت 69
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ عنکبوت |
| آیت نمبر | 69 (آخری آیت) |
| پارہ | 21 |
| مضمون | راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کی حمایت اور ہدایت |
| مربوط آیات | سورہ محمد آیت نمبر 17 |
سورۂ عنکبوت آیت نمبر 69 سورہ عنکبوت کی آخری آیت ہے جس میں خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی حمایت و رہنمائی اور نیکوکاروں کی مدد کا ذکر ملتا ہے۔ اس آیت میں جہاد کی ایسی وسیع تفسیر پیش کی گئی ہے جس کے تحت دشمن، شیطان اور نفس امارہ کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ دینی معارف کے حصول کی کوشش بھی جہاد میں شامل ہے۔ «راہ خدا» سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جو انسان کو قربِ خداوندی اور ہدایت کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔
بعض احادیث میں اس آیت کو اہل بیتؑ پر منطبق کیا گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آیت کا مفہوم صرف اسی دائرے تک محدود ہے۔
مفسرین نے اس آیت کی روشنی میں متعدد تفسیری نکات بیان کیے ہیں، جن میں جہاد اور اخلاص کے باہمی ربط کی اہمیت، مجاہدین پر نیکوکاروں کی فضیلت، نیز علم پر عمل کرنے سے علم میں اضافے کے اثرات شامل ہیں۔
تعارف
سورۂ عنکبوت آیت 69 کے مطابق خدا ان لوگوں کی ہدایت اور حمایت کرتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ تفسیر نمونہ کے مطابق خدا کے راستے پر چلنے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے حق و حقیقت کی معرفت، شیطان کے وسوسوں اور دشمنوں کی دشمنیوں کا مقابلہ کرنا۔[1] اس آیت کو سورہ عنکبوت کا خلاصہ[2] اور اس سورے کے ابتدائی حصوں میں بیان شدہ حقائق کی تکرار و یاددہانی بھی قرار دیا گیا ہے۔[3]
وَالَّذِينَ جَاہَدُوا فِينَا لَنَہْدِيَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
اور جو لوگ ہماری خاطر جدوجہد کرتے ہیں، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ خدا کا نیکوکاروں کے ساتھ ہونے کا مطلب اللہ کی طرف سے ان کی مدد و نصرت[4] یا ان پر اللہ کی خصوصی رحمت[5] و عنایت کا نزول ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق اس آیت میں دنیوی مدد و نصرت کے ساتھ ساتھ آخرت کا ثواب اور گناہوں کی بخشش بھی شامل ہے۔[6]
خدا کی راہ میں جہاد سے مراد
سورۂ عنکبوت آیت نمبر 69 میں جہاد کی تفسیر کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔[7] بعض مفسرین، جیسے شیخ طوسی[8] اور طبرسی[9] کے نزدیک، اس آیت میں جہاد سے مراد کافروں کے ساتھ جہاد بھی ہے اور نفس کے خلاف جہاد بھی۔ علامہ طباطبائی[10] اور ملافتحاللہ کاشانی[11] نے اس میں شیطان کے خلاف جہاد کو بھی شامل کیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت کی روشنی میں دینی معارف کے حصول اور نیک اعمال کی انجام دہی میں کی جانے والی کوششیں بھی جہاد میں شمار ہوتی ہیں۔[12] آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق یہاں جہاد سے مراد ہر وہ کوشش ہے جو خدا کی خاطر کی گئی ہو۔[13] علامہ طباطبائی کے نزدیک لفظ «فینا» (ہماری راہ میں) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عقیدہ اور عمل میں جو بھی کام خدا کے لیے ہو، وہ اس کے ذیل میں آتا ہے۔[14] تفسیر قمی میں آیا ہے کہ یہاں خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا اور رسول خداؐ کے ساتھ مل کر جہاد کا فریضہ انجام دیا۔[15]
عبارت «لَنَہْدِيَنَّہُمْ سُبُلَنا» (ہم انہیں اپنی راہیں دکھائیں گے) سے مراد ایسے راستے ہیں جو انسان کو خدا کے قریب کرتے ہیں اور خدا کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔[16] علامہ طباطبائی کے مطابق خدا کی راہ میں جہاد بذاتِ خود ہدایت ہے، اور جب اس پر مزید ہدایت ملتی ہے تو یہ دوہری ہدایت بن جاتی ہے۔ اسی بنا پر اس آیت کو سورہ محمد آیت نمبر 17 کے ساتھ بھی مربوط سمجھا جاتا ہے۔[17]
اہلِ بیتؑ پر آیت کا انطباق

بعض احادیث میں سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 69 کو اہل بیتؑ پر منطبق کیا گیا ہے۔ امام باقرؑ سے منقول ہے کہ یہ آیت اہل بیتؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[18] اسی طرح ایک روایت میں آپؑ سے منقول ہے کہ یہ آیت آل محمد اور ان کے شیعوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[19] امام علیؑ سے بھی منقول ہے کہ آپؑ نے ایک خطبے میں اپنے آپ کو اس آیت میں مذکور "محسنین" کا مصداق قرار دیا ہے۔[20] ان تمام باتوں کے باوجود مفسرین کہتے ہیں کہ یہ تطبیق صرف آیت کے کامل ترین مصداق بیان کرتی ہے اور آیت کے عمومی مفہوم کو محدود نہیں کرتی۔[21]
تفسیری نکات
مفسرین نے سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 69 کے ذیل میں درج ذیل تفسیری نکات بیان کیے ہیں:
- شکست عموماً جہاد میں کوتاہی یا اخلاص نہ ہونے کی بنا پر ہوتی ہے، جبکہ دونوں کا امتزاج کامیابی اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔[22]
- جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے، اللہ اس کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔[23]
- نیکوکاروں کا مرتبہ مجاہدین سے بلند ہے، کیونکہ وہ جہاد کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بھلائی بھی کرتے ہیں۔[24]
- خدا تک پہنچنے کے راستے متعدد ہیں۔[25]
- خدا کی اطاعت انسان کی توفیقات میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔[26]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص348۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص348۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص148؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص348۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج8، ص226۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص152۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372 شمسی، ج8، ص458؛ کاشانی، منہج الصادقين، 1336 شمسی، ج7، ص156۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص349۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج8، ص226۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372 شمسی، ج8، ص458۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص151۔
- ↑ کاشانی، منہج الصادقين، 1336 شمسی، ج7، ص155۔
- ↑ طیب، اطيب البيان، 1369 شمسی، ج10، ص356۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص349۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص349؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص151۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص151۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص151؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص349۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص151۔
- ↑ فرات کوفی، تفسیر فرات الکوفی، 1410ھ، ص320؛ حسکانی، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، 1411ھ، ج1، ص569۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص151۔
- ↑ شیخ صدوق، معانی الاخبار، 1403ھ، ص59۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص351۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص350۔
- ↑ کاشانی، منہج الصادقين، 1336 شمسی، ج7، ص155؛ شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنىعشرى، 1363 شمسی، ج10، ص265۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371 شمسی، ج16، ص352۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، 1388 شمسی، ج7، ص173۔
- ↑ شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنىعشرى، 1363 شمسی، ج10، ص265۔
مآخذ
- حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تصحیح محمدباقر محمودی، تہران، وزارتِ ثقافت و تبلیغاتِ اسلامی، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
- شاہعبدالعظیمی، حسین، تفسیر اثنىعشرى، تہران، میقات، پہلی اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الاخبار، تصحیح علیاکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم سے وابستہ اسلامی نشریاتی دفتر ، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح فضلاللہ یزدى طباطبایی و سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- طیب، عبدالحسین، اطيب البيان فى تفسير القرآن، تہران، اسلام، دوسری اشاعت، 1369ہجری شمسی۔
- فرات کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، تصحیح محمد کاظم، تہران، وزارتِ ثقافت و تبلیغاتِ اسلامی، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگى درسہایى از قرآن، پہلی اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوى جزائرى، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- کاشانی، ملافتحاللہ، منہج الصادقين فى إلزام المخالفين، تہران، محمد حسن علمی بک شاپ اینڈ پبلیشر، 1336ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔