مسودہ:بنی اسرائیل کی بہانہ جوئی
بنی اسرائیل کی بہانہ جوئی سے مراد حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں لیت و لعل سے کام لینا، بار بار سوالات اٹھانا اور غیر ضروری مطالبات پیش کرنا ہے۔[1] یہ طرزِ عمل حضرت موسیٰؑ کے ساتھ ان کی معیت کے دوران مختلف مواقع پر سامنے آیا۔[2] بعض مفسرین کے مطابق ان کی بعض بہانہ جوئیوں کا مقصد اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل سے گریز کرنا تھا، جس کے نتیجے میں وہ مزید مشکلات اور گمراہی سے دوچار ہوئے۔[3]
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کی بہانہ جوئی کی متعدد مثالیں بیان ہوئی ہیں۔[4] ان میں بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ نمایاں ہے۔[5] جب حضرت موسیٰؑ نے انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا،[6] تو انہوں نے اس گائے کی خصوصیات کے بارے میں بار بار سوالات کئے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں اس کی عمر اور جسمانی کیفیت سے متعلق مختلف خصوصیات بیان فرمائیں۔[7] پھر انہوں نے اس کے رنگ کے بارے میں سوال کیا،[8] تو اللہ تعالیٰ نے اسے گہری زرد رنگت والی گائے قرار دیا، جس کا رنگ دیکھنے والوں کو پسند آئے۔[9] اس کے بعد انہوں نے اس گائے کو دوسروں سے ممتاز کرنے والی خصوصیت کے بارے میں سوال کیا۔[10] اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ ایسی گائے ہو جو نہ زمین جوتنے کے کام میں لائی گئی ہو اور نہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہوئی ہو۔[11] بعض مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل ابتدا ہی میں کسی بھی گائے کو ذبح کرکے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر سکتے تھے، لیکن ان کے مسلسل سوالات نے اس حکم پر عمل کرنا دشوار بنا دیا۔[12]
بنی اسرائیل کی بہانہ جوئی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ انہوں نے مَنّ و سلویٰ (ایک قسم کا شہد اور ایک قسم کا پرندہ) کے بجائے دوسری غذا کا مطالبہ کیا،[13] اور اللہ تعالی کی طرف سے اس قسم کی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کے باوجود ان نعمتوں کی ناشکری اور کفران نعمت کے مرتکب ہوئے۔[14] اسی طرح حضرت موسیٰؑ کے متعدد معجزات دیکھنے کے باوجود انہوں نے اللہ تعالیٰ کو علانیہ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔[15] ایک بت پرست قوم کو دیکھنے کے بعد انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے ان کے لئے بھی ایک مجسم معبود مقرر کرنے کی درخواست کی۔[16]
حوالہ جات
- ↑ حریری، فرہنگ اصطلاحات قرآنی، ص85۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، ج5، ص209۔
- ↑ روحی، «بنی اسراییل»، ج6، ص113؛ ہاشمی رفسنجانی، فرہنگ قرآن، ج6، ص397۔
- ↑ مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، ج3، ص35۔
- ↑ روحی، «بنی اسراییل»، ج6، ص113۔
- ↑ حسینی شیرازی، تبیین القرآن، ص20۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، ج2، ص55۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج1، ص297۔
- ↑ بیآزار شیرازی، قرآن ناطق، ص309۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج2، ص161۔
- ↑ قرشی، تفسیر احسن الحدیث، ج1، ص160۔
- ↑ فضلاللہ، من وحی القرآن، ج2، ص86؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ج1، ص191۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج6، ص486–487۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، ج1، ص126؛ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، ج13، ص213۔
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، ج1، ص179۔
- ↑ الہامی، «بہانہجویی، سازوکار لجبازان»، پژوہشکدہ باقرالعلوم۔
مآخذ
- ابنکثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق: محمدحسین شمس الدین، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمدعلی بیضون، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- الہامی، «بہانہ جویی، سازو کار لجبازان» (بہانہ جوئی: ہٹ دھرم افراد کا حربہ)، باقر العلوم تحقیقی مرکز، تاریخ درج مطلب: 18 جنوری 2012ء، تاریخ مشاہدہ: 24 اکتوبر 2026ء۔
- بیآزار شيرازى، عبدالکریم، قرآن ناطق، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامى، 1377ہجری شمسی۔
- جعفری، یعقوب، کوثر، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، تنظیم: احمد قدسی، قم، نشر اسراء، 1398ہجری شمسی۔
- حریری، محمدیوسف، فرہنگ اصطلاحات قرآنی، قم، ہجرت، 1384ہجری شمسی۔
- حسینی شیرازی، سید محمد، تبیین القرآن، دار العلوم، بیروت، دوسری اشاعت، 1423ھ۔
- حسینی ہمدانی، سید محمدحسین، انوار درخشان، تحقیق: محمدباقر بہبودی، تہران، کتاب فروشی لطفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
- دشتی، محمد، فرہنگ سخنان پیامبران الاہی(ع)، قم، مؤسسہ فرہنگی تحقیقاتی امیرالمومنین (علیہ السلام)، 1390ش
- روحی، ابوالفضل، «بنی اسراییل»، دائرۃالمعارف قرآن کریم، قم، بوستان کتاب، 1383ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
- طالقانی، سید محمود، پرتوی از قرآن، تہران، شرکت سہامی انتشار، چوتھی اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
- طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، تہران، تہران یونیورسٹی پبلشرز، پہلی اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
- طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، اسلام پبلشرز، دوسری اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
- فضلاللہ، سید محمدحسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر، دوسری اشاعت، 1419ھ۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، قرآنی دروس کا ثقافتی مرکز، گیارہویں اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
- قرشی، سید علیاکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، تیسری اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
- مقاتل بن سلیمان بلخی، تفسیر مقاتل بن سلیمان، تحقیق: عبداللہ محمود شحاتہ، بیروت، دار إحیاء التراث، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، اخلاق در قرآن، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی طالب(ع)، 1385ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- ہاشمی رفسنجانی، اکبر، فرہنگ قرآن: کلید راہیابی بہ موضوعات و مفاہیم قرآن کریم، (قرآنی موضوعات اور مفاہیم تک رسائی کی کلید) قم، بوستان کتاب، 1383ہجری شمسی۔