مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:الاہلیلجہ (کتاب)

ویکی شیعہ سے
الاَہلیلَجَہ
مشخصات
دوسرے اسامیالاہلیلج • الہلیلجہ
مصنفامام جعفر صادقؑ
سنہ تصنیفدوسری صدی ہجری
موضوعتوحید
زبانعربی
تعداد جلد1
طباعت اور اشاعت
ناشردلیل ما
مقام اشاعتقم
سنہ اشاعت2010ء
اردو ترجمہ
نام کتابتوحید اہلیلجہ
مترجمسید محمد موسوی
مشخصات نشرحضرت معصومہ (س) پبلیشرز


الاِہلیلَجَہ امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک کتاب ہے جو وجود باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کے اثبات کے موضوع پر ہے۔ یہ کتاب مُفَضَّل بن عُمَر کے نام ایک خط کی شکل میں ہے اور اس میں توحید خداوندی کے سلسلے میں اٹھائے گئے شکوک و شبہات کے جوابات درج ہیں۔ اس کتاب کے مندرجات امام جعفر صادقؑ اور ایک ہندی طبیب کے درمیان خدا کے وجود، اس کی یکتائی اور بعض صفات الہی کے اثبات پر ہونے والے مناظرے کی روایت پر مشتمل ہیں۔

اس کتاب کے بعض قلمی نسخے وٹیکن لائبریری اور پرنسٹن یونیورسٹی میں محفوظ ہیں اور بعض شیعہ علماء نے اس کے مطالعہ کی سفارش کی ہے۔

وضاحت اور اہمیت

"الاِہلیلَجَہ" عربی زبان میں تحریر ایک کتاب ہے جو امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ہے۔[1] یہ کتاب مُفَضَّل بن عُمَر جُعفی کے ایک خط کے جواب میں لکھی گئی ہے۔[2] مفضل نے امام جعفر صادقؑ سے معاشرے میں رائج کفریہ شکوک و شبہات کے جوابات طلب کیے تھے۔[3] امام جعفر صادقؑ نے اس کتاب میں ایک ہندی طبیب[4] کے ساتھ خالق یکتا کے وجود کے دلائل[5] پر اپنے مناظرے کا بیان پیش کیا ہے۔

ابن طاووس کے مطابق، یہ کتاب، وجود خدا کے اثبات اور اس کی معرفت کے طریقوں پر مشتمل ہے۔[6] انہوں نے اپنے بیٹے کو اس کتاب کے مطالعہ اور اس کے مضامین سے استفادہ کی تلقین کی ہے[7] اور سفر میں اسے ساتھ رکھنے پر زور دیا ہے۔[8]

امام جعفر صادقؑ کی طرف نسبت

کتاب کی امام جعفر صادقؑ کی طرف نسبت کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ کتاب موضوع کے لحاظ سے توحید مفضل (جو امام جعفر صادقؑ ہی کی طرف منسوب ہے) کےساتھ ہم نام ہونے کی وجہ سے بعض محققین نے خیال کیا ہے کہ شاید یہ دونوں کتابیں درحقیقت ایک ہی ہیں۔[9] اس کے برعکس، بعض دیگر محققین کا خیال ہے کہ یہ کتاب امامؑ کی مفضل کے ساتھ گفتگو کا مجموعہ ہے، اس لیے اسے مفضل کی تالیف شمار کرتے ہیں۔[10] علامہ مجلسی بحارالانوار میں نقل کرتے ہیں کہ اہل سنت کے بعض علماء نے بھی اس کتاب کی نسبت امام جعفر صادقؑ کی طرف دی ہے۔[11] مجلسی "توحید مفضل" اور "الاہلیلجہ" کے اسلوب نگارش کی مشابہت کو اس نسبت کی ایک دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔[12]

اس کتاب کے متن میں "اہلیلجہ" (ہلیلہ) نامی پودے کا بار بار ذکر اسی نام کی وجہ بن گیا ہے۔[13] ابن ندیم نے اس کا ذکر "الہلیلجہ" کے نام سے کیا ہے۔ وہ اس کتاب کو امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب کرنے کو نہیں مانتے۔[14] مذکورہ کتاب کے سلسلے میں یہ تاریخی روایت اس کتاب کی قدیم ترین اشارات میں سے ہے۔[15]

بعض نے کتاب کی نسبت امام علی رضاؑ کے صحابی اسماعیل بن مِہران، امام موسی کاظمؑ اور امام رضاؑ کے صحابی حَمدان بن مُعافا[16] اور امام صادقؑ، امام موسی کاظمؑ اور امام رضاؑ کے صحابی داوود بن کثیر رَقی جیسے افراد کی طرف بھی دی ہے۔[17] بعض محققین نےیہ احتمال پیش کیا ہے کہ یہ افراد کتاب "الاہلیلجہ" کے راوی ہوں گے اور کتاب کی ان کی طرف نسبت تسامح کے ساتھ دی گئی ہے۔[18]

مندرجات

اس کتاب میں پیش کیے گئے موضوعات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • وجود باری تعالیٰ کا اثبات: کتاب کے اس حصے میں طب اور نجوم کے علوم پیش کیے گئے ہیں اور حقائق کو سمجھنے میں عقل کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔ نیز تسلسل کے باطل ہونے اور اشیاء کے خود بخود وجود میں آنے کے امکان نہ ہونے کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے اور بعض علوم جیسے طب اور نجوم کے سرچشمے کو انبیاء کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
  • خالق کائنات کی وحدانیت کا اثبات
  • صفات الہی کا بیان۔[19]

بعض محققین نے اس کتاب میں بیان کردہ تفصیلات کو عقل و روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ شاید متن میں کچھ اضافے کیے گئے ہوں اور اس کتاب کے مختلف نسخوں کے وجود کو اسی احتمال کی تائید میں پیش کیا ہے۔[20] تاہم، دوسرے محققین نے اس نقطہ نظر پر نقد پیش کرتے ہوئے اسے رد کیا ہے۔[21]

نسخے، اشاعت اور ترجمے

کتاب "الاہلیلجہ" کے متن کی ایک تصویر، جسے 'حدیث الاہلیلج' کہا جاتا ہے اور کسی دوسری کتاب کے ضمن میں قلمی صورت میں لکھا گیا ہے۔

کتاب "الاہلیلجہ" کے قدیم ترین معلوم نسخے کے بارے میں قیس عطار نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ یہ نسخہ کتابخانہ آیت اللہ گلپایگانی میں موجود ہے جوخط نسخ میں لکھا گیا ہے۔ یہ نسخہ سنہ 712ھ میں تحریر کردہ ایک متن کی نقل سمجھا جاتا ہے۔[22] علامہ مجلسی نے اس کتاب کے ایک حصے کو بحارالانوار کے باب توحید میں نقل کیا ہے اور اس بیان کی تشریح کی ہے۔[23] تاریخی نقل کے مطابق اس کتاب کے دو نسخے ویٹیکن لائبریری میں اور ایک نسخہ پرنسٹن یونیورسٹی لائبریری میں محفوظ ہیں۔[24]

اس کتاب کی اشاعتوں میں سے "دلیل ما" نامی پبلشرز کا قیس عطار کی تحقیق اور علامہ مجلسی کی شرح کے ساتھ شائع کردہ نسخہ قابل ذکر ہے۔[25] اس کتاب کا فارسی ترجمہ سید محمد موسوی نے کیا ہے جسے قم میں حضرت معصومہ (س) پبلیشرز نے "کتاب اہلیلجہ" کے نام سے شائع کیا ہے۔[26] اس کتاب کے دیگر تراجم و حواشی میں مندرجہ ذیل ہیں:

  • جامع المعارف، طباعت: تبریز، سنہ 1922ء (سنگی طباعت)
  • الدلائل الجلیلہ، فارسی ترجمہ و شرح، تالیف میر آقا بن کاظم آقازاہدی
  • حدیث اہلیلجہ، از قلم: زین العابدین بن حسین کاظمی خلخالی (1911-1986ء)
  • گل جعفری، از قلم: محمد طوسی مشہدی (1257)
  • محمدرضا کلباسی اصفہانی کا ترجمہ۔[27]

حوالہ جات

  1. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج2، ص484۔
  2. احمدی میانجی، مکاتیب‌الائمہ، 1426ھ، ج4، ص27-28۔
  3. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج2، ص484۔
  4. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج2، ص484۔
  5. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج3، ص55۔
  6. ابن‌طاووس، امان الاخطار، 1409ھ، ص91۔
  7. ابن‌طاووس، کشف المحجہ لثمرة المہجہ، 1375شمسی، ص51۔
  8. ابن‌طاووس، امان الاخطار، 1409ھ، ص91۔
  9. حاج‌منوچہری، «ارزیابی از آثار منتسب بہ امام صادق(1)»(امام صادقؑ سےمنسوب آثار کا تحقیقی جائزہ)، افق اندیشہ ویبسائٹ۔
  10. مظفر، «مقدمہ»، در توحید مفضل، ص5۔
  11. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج1، ص32۔
  12. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج1، ص32۔
  13. حاج‌منوچہری، «ارزیابی از آثار منتسب بہ امام صادق(1)»(امام صادقؑ سےمنسوب آثار کا تحقیقی جائزہ)، افق اندیشہ ویبسائٹ۔
  14. ابن‌الندیم، الفہرست، 1417ھ، ص386۔
  15. حاج‌منوچہری، «ارزیابی از آثار منتسب بہ امام صادق(1)»(امام صادقؑ سےمنسوب آثار کا تحقیقی جائزہ)، افق اندیشہ ویبسائٹ۔
  16. عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، ص41۔
  17. عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، ص42۔
  18. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج1، ص32؛ عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، ص43۔
  19. عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، 1385شمسی، ص43۔
  20. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج3، ص56۔
  21. عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، 1385شمسی، ص48-51۔
  22. عطار، «مقدمہ»، در کتاب الاہلیلجہ، ص55۔
  23. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج2، ص484۔
  24. مرکز ملک‌فیصل، خزانة التراث، ریاض، ج83، ص235۔
  25. امام صادق(ع)، الاہلیلجہ، 1385شمسی، ص4۔
  26. «سلسلہ مباحثات اعتقادی1- توحید اہلیلجہ»(سلسلہ وار عقیدتی مباحث1)، دلیل ما پبلیشرز ویبسائٹ۔
  27. مردی، «الاہلیلجہ»، حدیث‌نت ویب سائٹ۔

مآخذ

  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، الامان من اخطار الاسفار و الازمان، تحقیق: آل‌البیت انسٹیٹیوٹ، قم، آل‌البیت انسٹیٹیوٹ، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، کشف المحجہ لثمرة المہجہ، تحقیق: محمد حسون، قم، بوستان کتاب، دوسری اشاعت، 1375ہجری شمسی۔
  • ابن‌ندیم، الفہرست، بیروت، دارالمعرفہ، دوسری اشاعت، 1417ھ۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب‌الائمہ، تحقیق: مجتبی فرجی، قم، دارالحدیث، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، 1403ھ۔
  • امام صادق(ع)، الاہلیلجہ، تحقیق: قیس عطار، قم، دلیل ما، پہلی اشاعت، 1385ہجری شمسی۔
  • حاج‌منوچہری، «ارزیابی از آثار منتسب بہ امام صادق(1)»(امام صادقؑ سے منسوب آثار کا تحقیقی جائزہ)، افق اندیشہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 13 مئی 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 3 جولائی 2024ء۔
  • «سلسلہ مباحثات اعتقادی1- توحید اہلیلجہ»(سلسلہ وار عقیدتی مباحث1)، دلیل ما پبلیشرز ویب سائٹ؛ تاریخ مشاہدہ: 9 جولائی 2024ء۔
  • عطار، قیس، «مقدمہ»، در الاہلیلجہ، قم، دلیل ما، پہلی اشاعت، 1358ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، تحقیق جمعی از محققان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • مردی، عباسعلی، «الاہلیلجہ»، حدیث‌نت ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 13 جولائی 2024ء۔
  • مرکز ملک‌فیصل، خزانة التراث، ریاض، مرکز الملک فیصل للبحوث و الدراسات الاسلامیہ بالتراث، بے تا۔
  • مظفر، کاظم، «مقدمہ»، در توحید المفضل، تألیف مفضل بن عمر، قم، داوری، تیسری اشاعت، بے تا۔