کتاب الغیبۃ (شیخ طوسی)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کتاب الغیبۃ (شیخ طوسی)
کتاب غیبت طوسی.jpg
مؤلف: شیخ الطائفہ محمد بن حسن (متوفا 460 ھ)
زبان: عربی
موضوع: مہدویت، آخر الزمان، امام زمان، علائم ظہور
تعداد مجلد: 1 جلد
اشاعت: 1411 ھ
ناشر: دار المعارف الاسلامیہ قم (ایران)


کتابُ الغیبۃ، شیعوں کے بارھویں امام حضرت امام مہدیؑ کی غیبت کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب شیخ طوسی کی تصنیف ہے جو شیخ الطائفہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ کتاب امام مہدیؑ کی شناخت اور ان کی غیبت سے متعلق اہم منابع میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں امام مہدیؑ سے متعلق شیعوں کے اعتقادات کو بیان کرتے ہوئے آپؑ کی غیبت پر وارد ہونے والے اعتراضات اور شبہات کا قرآنی، روائی اور عقلی دلائل پر مشتمل جوابات دئے گئے ہیں۔

مصنف

تفصیلی مضمون: شیخ طوسی

محمد بن حسن بن علی بن حسن (385۔460 ھ)، شیخ الطائفہ (بزرگ قوم/بزرگ شیعہ) و شیخ طوسی کے نام سے معروف، شیعوں کی کتب اربعہ میں سے دو کتابوں کے مولف، بزرگ ترین متکلم، محدث، مفسر، اور فقہائے شیعہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ 23 سال کی عمر میں خراسان سے عراق گئے اور وہاں شیخ مفید اور سید مرتضی جیسے شیعہ علما سے علم حاصل کیا۔ تاتاریوں کے حملے میں کتابخانۂ شاپور کے جلانے جانے اور نجف منتقل ہوکر نجف میں حوزۂ علمیہ کی بنیاد رکھنے سے پہلے تک خلیفۂ عباسی کی جانب سے بغداد میں علم کلام کی صدارت کا عہدہ آپ کے پاس رہا۔

سید مرتضی کی وفات کے بعد مذہب جعفری کی زعامت شیخ طوسی کے سپرد ہوئی۔ آپ کے زیر سایہ ہزاوں شاگردوں کی تربیت ہوئی نیز دسیوں آثار مذہب شیعہ کی خدمت میں لکھے جن میں سے ان کی دو کتابیں کتب اربعہ کا حصہ ہیں۔[1] شیخ طوسی کی ان خدمات کے عوض میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی زحمتوں نے شیعہ اجتہاد کو کمال بخشا اور فقہ و اصول کے ابواب میں نہایت کامل کتابوں کی تصنیف نے شیعہ اجتہاد کو اہل سنت اور خاص طور پر ہر ایک مسلک کے سامنے استقلال بخشا۔[2]

کتاب کا تعارف

کتاب الغیبۃ کے نام سے دسیوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے قدیمی ترین کا تعین کرنا مشکل ہے لیکن دوسری صدی کے بعد تراجم کی کتب میں اس عنوان سے لکھی جانے والی کتابوں کا ایک مجموعہ ثبت ہوا ہے۔ اس مجموعے میں شیخ طوسی کی تصنیف سے پہلے نعمانی (متوفا 360 ہجری) ،شیخ مفید (متوفا 413 ہجری) اور سید مرتضی (متوفی 436 ھ) کی الغیبت کے نام سے کتابوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

کتاب کا نام خود مؤلف نے اختیار نہیں کیا بلکہ آقا بزرگ تہرانی نے اس کتاب کا نام الغیبت رکھا ہے۔[3] وہ اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں: شیخ طوسی کی کتاب غیبت وجود امام زمانہ کے متعلق قوی اور محکم ترین عقلی و نقلی دلائل اور علائم ظہور پر مشتمل ہے۔[4]

تاریخ تصنیف

شیخ طوسی نے اسے اپنی وفات سے تقریبا تیرہ سال پہلے یعنی 447 ہجری میں تصنیف کیا۔[5]

کتاب کے خدوخال

یہ کتاب درج ذیل آٹھ فصلوں پر مشتمل ہے:

  1. الکلام فی الغیبۃ: اس فصل میں غائب امام کی امامت کے اثبات کو بیان کرتے ہیں اور وہ یقینی طور پر بارھویں امام ہیں۔ اس بحث کے اثبات کیلئے ابتدائی طور پر ہر زمانے میں وجود وجوب امام، وجوب عصمت امام اور لوگوں کے درمیان امام کے ہونے جیسی ابحاث کا اثبات کیا ہے نیز کیسانیہ، ناووسیہ، واقفیہ، محمدیہ، فطحیہ اور دیگر مذاہب کو رد کیا ہے۔ اس کے بعد غیبت کے اعتقاد سے متعلق پیش آنے والے شبہات کا جواب دیا اور پھر صاحب الزمان کی غیبت کے ادلہ اور ان کے امام حسین (ع) کی ذریت سے ہونے کو بیان کیا اور مخالفین کے دلائل رد کئے ہیں۔
  2. دلائل اور روایات کے ذریعے ولادت حضرت حجت بن الحسن العسکری اور اثبات ولادت کا بیان۔
  3. جن افراد نے امام مہدی (عج) کو دیکھا تھا۔
  4. چند معجزات اور توقیعات۔
  5. ظہور حضرت کے موانع۔
  6. سفراء اور حضرت کے ممدوح اور مذموم وکلاء کا ان کے ناموں کے ساتھ تذکرہ اور بعض جھوٹے مدعیان نیابت کا ذکر۔
  7. حضرت کی عمر اور فوت سے متعلق روایات کی توجیہ، وقت ظہور اور ظہور کا مشخص وقت بیان کرنے والی روایات کی توجیہ، علائم ظہور کا بیان
  8. امام کی سیرت، خصائص اور صفات کا بیان۔[6]

خصوصیات

  • غیبت کے موضوع میں منبع ہونا: مؤلف اور اپنے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہ کتاب نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اطمینان کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص بھی مہدویت کے بارے میں کتاب لکھنا چاہے وہ خواہ نخواہ اس کتاب کا محتاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے سے علما اور محققین اس اثر پر خاص توجہ رکھتے ہیں۔
  • حدود کا نفاذ حضور معصوم (ع) سے مخصوص ہونا: نفاذ حدود کی بحث اثبات غیبت حضرت حجت (عج) پر موقوف ہے۔ اس سلسلے میں شیخ طوسی اس بات کے قائل تھے کہ قتل و دیت جیسے مسائل میں صرف معصوم حد جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس لحاظ سے حدود منسوخ ہو چکی ہیں۔
  • مدعیان نیابت: غیبت صغری کے زمانے میں علما کے درمیان ہونے والی ابحاث میں سے ایک بحث بعض افراد کی جانب سے امام مہدی کی نیابت خاص کا جھوٹا دعوی کرنا تھا۔ شیخ طوسی نے اس کتاب میں چند افراد کا نام ذکر کیا ہے جنہوں نے ایسی امام مہدی کی نیابت خاص کا دعوا کیا۔ ان میں سے ایک حسین بن منصور حلاج ہے۔
شیخ طوسی نے ابو سہل نوبختی اور شیخ صدوق کی دو داستانوں کے حوالے سے منصور حلاج کے جھوٹے دعوائے نیابت خاص کو ذکر کیا ہے۔ لیکن انصاف یہی ہے کہ ان میں کوئی ایک داستان بھی منصور حلاج کے ادعائے نیابت خاص کے دعوے کو ثابت نہیں کرتی ہے۔
  • حیات حضرت حجت (عج): شیعوں کے عمومی اعتقادات کے مطابق امام مہدی امامت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد لوگوں کی نظروں سے غائب اور مخفی ہوئے اور اس زمانے کو غیبت صغری کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور اس زمانے کے امام سے رابطے کا تنہا ذریعہ نواب اربعہ تھے کہ جن کے ذریعے لوگ امام سے مرتبط رہتے تھے۔ اس نواب اربعہ کے بعد غیبت کبری کا زمانہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔[7]

اہمیت کتاب

شیخ طوسی کی کتاب مہدویت کے نہایت اہم منابع میں سے ہے چونکہ شیخ طوسی کے پاس احادیث پر مشتمل متعدد قدیمی ترین منابع و مصادر موجود تھے اسی وجہ سے وہ مہدویت اور اس سے مربوط مسائل کے بارے میں ایک نہایت اہم اور اصلی منبع کی حیثیت سے ایک ارزشمند کتاب کی تدوین قدرت رکھتے تھے اور اس بات پر قادر تھے کہ ان پر وارد ہونے والے شبہات و اعتراضات کا جواب دے سکیں ۔[8]

مصادر و منابع

اس کتاب کی تدوین میں میں شیخ نے جن منابع سے استفادہ کیا انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

کتاب کے نسخے اور طباعت

اس کتاب کے بعض خطی نسخے موجود ہیں:

  • اس کتاب کے دو خطی نسخے کتب خانہ آستان قدس رضوی میں موجود ہیں جن کی کتابت کی تاریخ 1074 ھ و 1089 ھ ہے۔
  • اس کا ایک نسخہ کتب خانہ مدرسہ فیضیہ میں ہے۔ اسے خلف بن یوسف بن نجم نجفی نے سنہ 1085 میں تحریر کیا ہے۔
  • اس کا ایک نسخہ کتب خانہ آیت ‌الله مرعشی میں ملا عباس قلی شمس‌ العلماء کے خط کے ساتھ موجود ہے۔[10]
  1. یہ کتاب پہلی مرتبہ 1323 ه‍ میں تبریز سے کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان کے ساتھ سنگی صورت میں چھپی۔
  2. 1385 ه‍ میں نجف اشرف عراق سے مطبعۃ النعمان نے آقا بزرگ طہرانی کے مقدمے کے ساتھ 292 صفحات پر مشتمل طبع کی اور اسی سال مکتبہ نینوی الحدیثہ تہران نے اسے آفسٹ صورت میں چھاپا۔
  3. 1409 ه‍ مکتبہ بصیرتی کے توسط سے 308 صفحات میں چھپی۔
  4. 1411 ه‍ میں عباد الله سرشار طہرانی اور علی احمد ناصح کے مقدمے کے ہمراہ 570 صفحات پر مؤسسۃ المعارف الاسلامیہ قم کے ذریعے طبع ہوئی۔ یہ نسخہ فہرست آیات قرآن، اسامی انبیاء، ملائکہ اور چہارده معصوم، روات و اعلام، مبہمات، قبائل اور فرقہ جات، مکان‌ و زمان‌، کتب اور مصادر تحقیق اور فہرست موضوعی کی فہرستوں کی خصوصیات کے ساتھ زیور طبع سے آراستہ ہو کر چھپی۔[11]

حوالہ جات

  1. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا،ص۱۸۳.
  2. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ص۱۸۱.
  3. تہرانی، الذریعہ، ج ۱۳،ص۷۹. طوسی، مقدمہ کتاب،ص۲۴.
  4. طوسی، کتاب الغیبۃ،۱۴۱۱ ق، ص۹.
  5. تہرانی، الذریعہ، ج ۱۶،ص ۷۹.
  6. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ ق، فہرست کتاب.
  7. کتاب‌ شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
  8. کتاب‌شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور
  9. محمد مسعودی، بازشناسی مصادر کتاب الغیبہ طوسی، ۱۳۸۸ش.
  10. احمدی، تاریخ حدیث شیعہ، ۱۳۸۹ش، ص۲۸۵.
  11. طوسی، کتاب الغیبۃ، ۱۴۱۱ ق، ص۱۰ و ۱۱.


منابع

  • احمدی، مهدی، تاریخ حدیث شیعہ در سده‌های چهارم تا هفتم هجری، قم، دار الحدیث، ۱۳۸۹ش.
  • تهرانی، آقا بزرگ، الذریعة، بیروت، دار الاضواء.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبة، قم، مؤسسة المعارف الاسلامیة، ۱۴۱۱ ق.
  • کتاب‌ شناخت سیره معصومان، مرکز تحقیقات کامپیوتری علوم اسلامی نور.
  • گرجی، ابو القاسم، تاریخ فقہ و فقها، تهران، انتشارات سمت.
  • مسعودی، محمد، باز شناسی مصادر کتاب الغیبه طوسی، انتظار بهار ۱۳۸۸ش، شماره ۲۸.