"صحیفہ سجادیہ کی چھٹی دعا" کے نسخوں کے درمیان فرق
imported>E.musavi کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م ←تعلیمات |
||
سطر 29: | سطر 29: | ||
* رات اور دن، بندوں کو رزق کی فراہمی اور ان کی نشوونما اور پرورش کا ذریعہ ہیں۔ | * رات اور دن، بندوں کو رزق کی فراہمی اور ان کی نشوونما اور پرورش کا ذریعہ ہیں۔ | ||
* رات امن و سکون کا ذریعہ ہے اور انسانی جوش و جذبے اور توانائی کی تجدید اور خوشی کے حصول کا ایک سبب ہے۔ | * رات امن و سکون کا ذریعہ ہے اور انسانی جوش و جذبے اور توانائی کی تجدید اور خوشی کے حصول کا ایک سبب ہے۔ | ||
* دن، | * دن، بندگان الہی کو بصیرت عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ وہ فضل و احسان، رزق و روزی اور [[آخرت]] کے فوائد کو حاصل کرتے ہیں۔ | ||
* رات دن کے ذریعہ بندوں کی آزمائش کرنا۔ | * رات دن کے ذریعہ بندوں کی آزمائش کرنا۔ | ||
* وجود شب و روز کی بنا پر [[حمد الہی]] کرنا۔ | * وجود شب و روز کی بنا پر [[حمد الہی]] کرنا۔ | ||
سطر 35: | سطر 35: | ||
* خیر، عطائے خداوند عالم کے علاوہ کچھ نہیں | * خیر، عطائے خداوند عالم کے علاوہ کچھ نہیں | ||
*اعمال انسانی پر دن کی گواہی، بہترین دن گزرنے کی [[دعا]] اور تمام دن کے لمحات سے استفادہ کی دعا۔ | *اعمال انسانی پر دن کی گواہی، بہترین دن گزرنے کی [[دعا]] اور تمام دن کے لمحات سے استفادہ کی دعا۔ | ||
* [[ملائکہ]]، | * [[ملائکہ]]، اعمالِ انسانی لکھنے والے ہیں۔ | ||
* اپنے آپ کو نافرمانی الہی سے بچانے کی دعا۔ | * اپنے آپ کو نافرمانی الہی سے بچانے کی دعا۔ | ||
* دعا، اعمال خیر کو انجام دینے کے لئے، شرّ سے بچنے کے لئے، [[امر | * دعا، اعمال خیر کو انجام دینے کے لئے، شرّ سے بچنے کے لئے، [[امر بالمعروف و نہی از منکر]]، کو انجام دینا، [[اسلام]] کی نگہداری، گمراہوں کو راستہ دکھانا، کمزوروں کی مدد کرنا اور بے سر و سامان کو پناہ دینا۔ | ||
* [[قضا و قدرِ]] پروردگار پر راضی رہنا اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینا۔ | * [[قضا و قدرِ]] پروردگار پر راضی رہنا اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینا۔ | ||
*[[حضرت محمدؐ]] کی نبوت کی گواہی اور آنحضرتؐ کے لئے اجرِ عظیم کی درخواست کرنا۔ | *[[حضرت محمدؐ]] کی نبوت کی گواہی اور آنحضرتؐ کے لئے اجرِ عظیم کی درخواست کرنا۔ | ||
* پروردگار سے [[طلب مغفرت]] | * پروردگار سے [[طلب مغفرت]] کرنا۔<ref> انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۱ش،ج۴، ص۱۵-۱۰۱۔</ref>۔ | ||
{{خاتمہ}} | {{خاتمہ}} | ||
نسخہ بمطابق 12:18، 15 اپريل 2021ء
![]() | |
کوائف | |
---|---|
موضوع: | دعائے روز و شب، خلقتِ روز و شب اور انسانی زندگی پر ان کے اثرات |
مأثور/غیرمأثور: | مأثور |
صادرہ از: | امام سجادعلیہ السلام |
راوی: | متوکل بن هارون |
شیعہ منابع: | صحیفہ سجادیہ |
مشہور دعائیں اور زیارات | |
دعائے توسل • دعائے کمیل • دعائے ندبہ • دعائے سمات • دعائے فرج • دعائے عہد • دعائے ابوحمزہ ثمالی • زیارت عاشورا • زیارت جامعہ کبیرہ • زیارت وارث • زیارت امیناللہ • زیارت اربعین |
صحیفہ سجادیہ کی چھٹی دعا جو امام سجادؑ سے مأثور ہے اور ہر صبح و شب پڑھی جاتی ہے جس میں شب و روز کی خلقت اور انسان کی زندگی میں اس کے اثرات اور چوبیس گھنٹے میں جو مومنین کی ذمّہ داریاں ہیں اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسی طرح سے اس دعا میں امام سجادؑ نے شب و روز کے ذریعہ بندگان الہی کا امتحان، قدرت الہی کے زیر سایہ اس کی مخلوقات کے آداب و حرکات، اعمال نیک کے انجام کے لئے دعا و شکرگزاری کی توفیق، حضرت محمدؐ کی نبوت کی گواہی اور استغفار کو بیان کیا ہے۔
یہ چھٹی دعا جس کی متعدد شرحیں، مختلف زبانوں میں لکھی گئیں ہیں جیسے دیار عاشقان جو حسین انصاریان کی شرح فارسی زبان میں ہے اور اسی طرح ریاض السالکین جو سید علی خان مدنی کی عربی زبان میں شرح موجود ہے۔
دعا و مناجات |
![]() |
تعلیمات
صحیفۂ سجادیہ کی چھٹی دعا کا موضوع کہ جسے ہر صبح و شب پڑھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا وند عالم کی نعمتوں کا شمار کرنا جس میں شب و روز کی خلقت، ان کا نظم و ضبط اور انسانی زندگی میں ان کے فوائد، دن و رات میں مؤمن کے وظائف اور ذمہ داریاں، بارگاہ خداوندی میں شکرگزاری کی توفیق طلب کرنا اور محمدؐ و آل محمدؐ پر صلوات و سلام ہے۔[1] اس دعا کی تعلیمات مندرجہ ذیل ہیں:
- قدرتِ الہی کے ذریعہ شب و روز کی خلقت اور ان کا نظم و ضبط۔
- رات اور دن، بندوں کو رزق کی فراہمی اور ان کی نشوونما اور پرورش کا ذریعہ ہیں۔
- رات امن و سکون کا ذریعہ ہے اور انسانی جوش و جذبے اور توانائی کی تجدید اور خوشی کے حصول کا ایک سبب ہے۔
- دن، بندگان الہی کو بصیرت عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ وہ فضل و احسان، رزق و روزی اور آخرت کے فوائد کو حاصل کرتے ہیں۔
- رات دن کے ذریعہ بندوں کی آزمائش کرنا۔
- وجود شب و روز کی بنا پر حمد الہی کرنا۔
- تمام مخلوقات کا تدبیرِ پروردگار کے زیر سایہ اعمال کا انجام دینا۔
- خیر، عطائے خداوند عالم کے علاوہ کچھ نہیں
- اعمال انسانی پر دن کی گواہی، بہترین دن گزرنے کی دعا اور تمام دن کے لمحات سے استفادہ کی دعا۔
- ملائکہ، اعمالِ انسانی لکھنے والے ہیں۔
- اپنے آپ کو نافرمانی الہی سے بچانے کی دعا۔
- دعا، اعمال خیر کو انجام دینے کے لئے، شرّ سے بچنے کے لئے، امر بالمعروف و نہی از منکر، کو انجام دینا، اسلام کی نگہداری، گمراہوں کو راستہ دکھانا، کمزوروں کی مدد کرنا اور بے سر و سامان کو پناہ دینا۔
- قضا و قدرِ پروردگار پر راضی رہنا اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینا۔
- حضرت محمدؐ کی نبوت کی گواہی اور آنحضرتؐ کے لئے اجرِ عظیم کی درخواست کرنا۔
- پروردگار سے طلب مغفرت کرنا۔[2]۔
شروحات
صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں اس دعا کی بھی شرح کی گئی ہے۔ یہ دعا حسین انصاریان [3] کی کتاب دیار عاشقان میں، محمد حسن ممدوحی کرمانشاهی کی کتاب شہود و شناخت[4] میں، سید احمد فهری کی کتاب شرح و ترجمۂ صحیفہ سجادیہ[5] میں فارسی زبان میں شرح کی گئی ہے۔
اسی طرح یہ دعا بعض دوسری کتابوں میں جیسے، سید علی خان مدنی کی کتاب ریاض السالکین[6]، جواد مغنیہ کی فی ظلال الصحیفہ السجادیہ [7]، محمد بن محمد دارابی[8] کی ریاض العارفین اور سید محمد حسین فضل الله[9] کی کتاب آفاق الروح میں عربی زبان میں شرح لکھی گئی ہے۔
دعا کا متن اور ترجمہ
دعا
|
ترجمہ مفتی جعفر حسین
|
---|
- ↑ ممدوحی، شهود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۳۵۷۔
- ↑ انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۱ش،ج۴، ص۱۵-۱۰۱۔
- ↑ انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۱ش، ج۴، ص۱۵-۱۰۱۔
- ↑ ممدوحی، کتاب شهود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۳۵۷-۴۲۰۔
- ↑ فهری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۳۱۹-۳۹۰۔
- ↑ مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ھ، ج۲، ص۱۷۵-۳۰۰۔
- ↑ مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ھ، ص۱۱۹-۱۳۴۔
- ↑ دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۳-۱۱۸۔
- ↑ فضل الله، آفاق الروح، ۱۴۲۰ھ، ج۱، ص۱۳۳-۱۸۴۔