صفحۂ اول
منتخب مضمون

واقعہ کربلا یا واقعہ عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزیدی فوج کے ہاتھوں امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب شہید ہوگئے۔ واقعہ کربلا مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔ شیعہ حضرات اس دن وسیع پیمانے پر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔
امام حسینؑ نے چار ماہ کے قریب مکہ میں قیام فرمایا۔ اس دوران کوفیوں کی طرف سے آپ کو کوفہ آنے کے دعوت نامے ارسال کیے گئے اور دوسری طرف سے یزید کے کارندے آپؑ کو حج کے دوران مکہ میں شہید کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اس بناء پر آپؑ نے یزیدی سپاہیوں کے ہاتھوں قتل کے اندیشے اور اہل کوفہ کے دعوت ناموں کے پیش نظر 8 ذی الحجہ کو کوفہ کی جانب سفر اختیار کیا۔ کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی آپؑ کوفیوں کی عہد شکنی اور مسلم کی شہادت سے آگاہ ہو گئے کہ جنہیں آپ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے کوفہ روانہ کیا تھا۔ تاہم آپؑ نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ حر بن یزید نے آپ کا راستہ روکا تو آپ کربلا کی طرف چلے گئے جہاں کوفہ کے گورنر عبیدالله بن زیاد کی فوج سے آمنا سامنا ہوا۔ اس فوج کی قیادت عمر بن سعد کے ہاتھ میں تھی۔
10 محرم، روز عاشورا کو دونوں فوجوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں امام حسینؑ، ان کے بھائی عباس بن علی اور شیرخوار علی اصغر سمیت بنی ہاشم کے 17 افراد اور 50 سے زیادہ اصحاب شہید ہوئے۔ بعض مقتل نگار شمر بن ذی الجوشن کو امام حسینؑ کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ عمر بن سعد کے لشکر نے اپنے گھوڑوں کے سموں تلے شہیدوں کے اجساد کو پامال کیا۔ روز عاشور عصر کے وقت سپاه یزید نے امام حسینؑ کے خیموں پر حملہ کر کے انہیں نذر آتش کیا۔ شیعہ حضرات اس رات کو شام غریباں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام سجادؑ نے بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لیا لہذا آپؑ اس جنگ میں زندہ بچ گئے اور حضرت زینبؑ، اہل بیت کی خواتین اور بچوں کے ساتھ دشمن کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ عمر بن سعد کے سپاہیوں نے شہدا کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا اور اسیروں کو عبید اللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کیا اور وہاں سے انہیں یزید کے پاس شام بھیجا گیا۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ ...

- ... کہ انہدام حرم عسکریین (تصویر میں) سنہ 2006 اور 2007ء کو سامراء میں امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے حرم پر تکفیریوں کا حملہ ہوا جس سے حرم کا گنبد منہدم ہو گیا تھا۔؟
- ... کہ زیارت جامعۂ کبیرہ ائمہ معصومینؑ کی اہم ترین اور کامل ترین زیارت ہے جس کے ذریعے دور یا نزدیک سے تمام ائمہ کی زیارت کی جا سکتی ہے۔؟
- ... کہ اَیّامُ البیض (سفید ایام)، قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو کہا جاتا ہے۔ احادیث میں ان ایام میں روزہ رکھنے پر تاکید ہوئی ہے۔؟
- ... کہ اِعْتِکاف اسلام میں ایک مستحب عبادت ہے جس کے معنی ایک معینہ مدت (کم از کم 3 دن) کیلئے روزے کے ساتھ مسجد میں ٹھہرنے کے ہیں۔ اعتکاف کرنے والے کو "معتکف" کہا جاتا ہے۔؟
مجوزہ مضامین
- تحویل قبلہ «رجب سنہ 2 ہجری میں مسلمانوں کا قبلہ مسجد الاقصیٰ سے خانہ کعبہ (تصویر میں) کی طرف تبدیل ہوا۔»
- ماه رجب «، اسلامی تقویم کا ساتواں مہینہ، جسے حرمت والے مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس میں مخصوص عبادات کی سفارش کی گئی ہے۔»
- لیلۃ الرغائب «رجب کے مہینے کی پہلی جمعرات کی رات جو خاص اعمال و عبادات کی حامل ہے۔»
- امام محمد باقرؑ «شیعوں کے پانچویں امام، جن کا لقب باقر العلوم ہے، یکم رجب کو آپ کی ولادت ہوئی۔ علم و دانش میں آپ کی عظیم شہرت اور شیعہ تعلیمات کی توسیع میں آپ کا کردار تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔»
- معراج «پیغمبر اسلامؐ کا راتوں رات مکہ سے مسجد الاقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی طرف سفر۔»
- بعثت «پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کے آغاز کی علامت ہے جو 27 رجب، ہجرت سے 13 سال قبل مکہ کے قریب غار حرا میں پہلی وحی کے نزول کے ساتھ شروع ہوئی۔»
- عمرہ رجبیہ «ایک قسم کا عمره مفرده ہے جو رجب کے مہینے میں انجام پاتا ہے۔ اسے نہایت فضیلت والا عمرہ سمجھا جاتا ہے جس کا ثواب حج کے قریب ہے۔»
نئے مضامین
- واقعہ غدیر پر حلف
- اعمال کی قبولیت
- میقات موسی
- آیت شقاق
- جہاد المرأة حسن التبعل
- حضرت داؤدؑ کا دو بھائیوں کے درمیان فیصلہ
- شق الصدر
- راسخون فی العلم
- خیر الامور اوسطہا
- ادنی الحل
- نماز ظہر عاشورا (رسم)
- حضرت ابراہیم اور چار پرندے
- سورہ بقرہ آیت نمبر 9
- اسلام آباد میں شیعہ مسجد اور امام بارگاہ پر خودکش حملہ(2026ء)
- عبد العزیز بن مہتدی قمی
- سورہ فاطر آیت نمبر 11
- ارقم بن ابی ارقم کا گھر
- بولس سلامہ
- الاہلیلجہ (کتاب)
- تعرب بعد الہجرہ
آئینہ تاریخ
آج اتوار 9 اگست 2026، ۲۵ صفر1448ھ/18 مرداد 1405 شمسی
- 632ء: شہادت حضرت فاطمہ زہرا (س) (حسب روایت 75 روز بعد از رحلت رسول خداؐ) (13 جمادی الاول 11ھ)
- 656ء: وفات سلمان فارسی؛ پیغمبر خداؐ کے مشہور صحابی اور امام علیؑ کے قریبی مدد گار (8 صفر 36ھ)
- 686ء: عبید اللہ بن زیاد جنگ خزر میں ابراہیم بن مالک اشتر کے ہاتھوں قتل ہوا (10 محرم 67ھ)
- 1365ء: وفات قطب الدین رازی؛ منطق، الہیات اور فلسفہ میں ماہر اور اشراق سہروردی کے شارح تھے (13 ذی القعدہ 766ھ)
- 1985ء: وفات محمد ثقفی تہرانی؛ شیعہ فقیہ اور تفسیر روان جاوید کے مصنف (22 ذی القعدہ 1405ھ)
- سنہ 11 ہجری پیغمبر اکرمؐ کا وصیت لکھنے کیلئے قلم کاغذ مانگنا (حدیث قرطاس)
