منطقہ فراغ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

منطقہ فراغ فقہ شیعہ میں ایک نظریہ ہے جو بعض ایسے موضوعات کی نشاندہی کرتا ہے جن کے بارے میں دین میں کوئی حکم شرعی موجود نہیں ہے۔ اس نظریہ کو سید محمد باقر صدر (1313-1359 ہجری شمسی) نے کتاب اقتصادنا میں پیش کیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق دین نے حاکم اسلامی کو قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ہر دور کی ضروریات کے مطابق کچھ سماجی مسائل میں احکام اور قوانین بنانے کی اجازت دی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس نظریہ کی اصل شہید صدر سے پہلے کے فقہاء بالخصوص محمد حسین نائینی کے یہاں موجود تھی۔

نظریہ اور اس کا موجد

منطقہ فراغ کا مطلب دین کا ایسا دائرہ ہے جس میں کوئی خاص شرعی قانون نہیں ہے۔ منطقہ فراغ کے اصول کے مطابق، دین نے کچھ سماجی مسائل پر کوئی خاص حکم جاری نہیں کیا ہے اور حاکم اسلامی کو معیار اور وقت کی ضروریات کے مطابق احکام اور قوانین بنانے کی اجازت دی ہے۔[1]

اس نظریہ کو شیعہ فقیہ و متفکر سید محمد باقر صدر نے اپنی کتاب اقتصادنا میں پیش کیا ہے۔[2] انہوں نے فقہ، اصول، فلسفہ اور اقتصاد جسیے موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں اور صاحب نظریہ بھی ہیں۔[3]

نظریہ کی وضاحت

سید محمد باقر صدر نے کتاب اقتصادنا میں مکتب اقتصاد اسلامی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:

  • اسلام کا وہ حصہ جس میں وضاحت کے ساتھ تمام احکام و قوانین کو وضع کیا کہ جس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی اور تغیر کی جگہ نہیں ہے۔
  • اسلام کا وہ حصہ جس میں قانون سازی کا کام حکومت اسلامی کو سونپا گیا ہے اور اسلامی حاکموں کو وقت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک حکم اور قانون جاری کرنا ہوگا۔[4] صدر نے احکام کے اس حصہ کو منطقہ فراغ کا نام قرار دیا اور کہا کہ پیغمبر اکرمؐ نے بھی اسے استعمال کیا اور معاشرے کے حکمران کے طور پر (نہ کہ بطور پیغمبری) کچھ قانون سازی کی۔ ان کے بقول پیغمبر (ص) کی اس قسم کی قانون سازی مستقل نہیں ہے اور اسے اسلام کے معاشی و اقتصادی مکتب کا ایک مقررہ حصہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔[5]

وجود منطقہ فراغ کی اہمیت

محمد باقر صدر نے دین اسلام میں وجود منطقہ فراغ کی ضرورت پر تأکید کرتے ہوئے اپنی کتاب اقتصادنا میں تحریر کرتے ہیں: مکتب اقتصاد اسلامی کی مکمل تشخیص بغیر منطقہ فراغ پر غور کئے ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق ، اسلام میں کسی اصول کے بغیر خطے کو نظر انداز کرنے کا مطلب اسلامی معاشیات کے اسکول کے عناصر کے ایک اہم حصے کو نظر انداز کرنا ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں کسی حکم کے بغیر خطے کو نظر انداز کرنے کا مطلب مکتب اقتصاد اسلامی کے عناصر کے ایک اہم حصے کو نظر انداز کرنا ہے۔[6]

شہید صدر کے شاگرد سید کاظم حائری مختلف زمان و مکان پر معاشی ترقیات اور اسلامی اصولوں کی آفاقیت کو اس نظریہ کے دفاع کے لئے صدر کی دلیل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ وقت کے ساتھ، ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے انسان کا فطرت کے ساتھ تعلق بدلتا رہتا ہے۔ چونکہ اسلام ان کے لئے مناسب حل فراہم کرتا ہے اس لئے حاکم اسلامی کے لئے منطقہ فراغ کا ہونا ضروری ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر قانون سازی کرے کہ جو اسلامی اقتصاد کے اہداف پر مبنی ہو۔[7]

تاریخ

منطقہ فراغ کا نظریہ پیش کرنا اور اس کا دفاع کرنا سید محمد باقر صدر کی پہل ہے۔ جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ اس نظریہ کی بنیاد علمائے مسلمان کے ذہن میں موجود تھی اور اس کا مقائسہ فقہ اہلسنت کے مَصالِح مُرسَلہ سے کرتے ہیں۔[8]

کہا جاتا ہے کہ کچھ شیعہ فقہاء جیسے شیخ انصاری کی تحریروں میں منطقہ فراغ کے نظریہ کے اشارے موجود ہیں۔[9] لیکن سب سے زیادہ محمد حسین نائینی نے اپنے نظریات میں منطقہ فراغ کے نظریہ کے بہت سے عناصر کو متعارف کرایا ہے۔ نائینی نے اپنی کتاب تنبیہ الامہ و تنزیہ الملہ میں احکام شرعی کے سلسلہ میں بیان فرماتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلہ (منطقہ فراغ) میں کوئی بھی آیت یا روایت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے آگے لکھا کہ غیبت امام کے زمانہ میں اس کے احکام کو وضع کرنے کی ذمہ داری فقہاء پر ہے۔[10]

تنقید

نظریہ منطقہ فراغ کے سلسلہ میں بہت سی علمی تحریریں وجود میں لائی گئی ہیں نیز دفاع اور نقد بھی کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس نظریہ نے روایات حکومتی اور غیر حکومتی کے سلسلہ میں بہت سے مطالب بیان کئے ہیں، لیکن ان دونوں کے الگ الگ ہونے میں کوئی معیار و ملاک نہیں پیش کیا گیا۔[11] صدر نے یہ بھی اشکال کیا ہے کہ منطقہ فراغ دین کے غیر ضروری احکام کے لئے مخصوص ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ اگر دین میں منطقہ فراغ کا وجود ثابت ہو جائے تو اس کے غیر لازمی احکام کے دائرے تک محدود رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔[12]

دوسرا نقد یہ ہے کہ منطقہ فراغ کے نظریہ کی آیات اور احادیث سے مطابقت نہ رکھنے کا دعویٰ، دین اسلام کی تکمیل اور جامعیت کو ظاہر کرتا ہے۔[13] البتہ صدر نے خود ان مسائل پر توجہ دی ہے اور جواب میں کہا ہے کہ ایسے علاقہ کا وجود جس کا کوئی حکم نہ ہو، قانون سازی میں کوئی نقص یا عیب نہیں ہے اس لئے کہ شریعت نے اس علاقہ کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کے لئے کچھ احکام بھی مقرر کئے ہیں اور حاکم اسلامی کو اس بات کی اجازت دی ہے مقتضائے حال کے مطابق حکم جاری کرے۔ لہذا یہ نظریہ مختلف شرائط اور صورت حال میں دین کی طاقت کو بیان کرتا ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۴۴۳۔
  2. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۴۴۳
  3. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۰
  4. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۴۴۳۔
  5. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۴۴۴۔
  6. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۴۴۴۔
  7. حسینی حائری، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ص۲۹۔
  8. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۱۔
  9. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۲۔
  10. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۲۔
  11. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۶۔
  12. حسینی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، ص۹۴۔
  13. قائدی، «تحلیل و ارزیابی نقدہای موجود بر نظریہ منطقۃ‌الفراغ شہید صدر»، ص۱۴۸۔
  14. صدر، اقتصادنا، ۱۴۲۴ھ، ص۸۰۳، ۸۰۴۔


مآخذ

  • حسینی حائری، سید کاظم، «اقتصاد اسلامی و روش کشف آن از دیدگاہ شہید صدر رحمہ اللہ»، ترجمہ احمد علی یوسفی، در اقتصاد اسلامی، شمارہ ۱، ۱۳۸۰ ہجری شمسی۔۔
  • حسینی، سید علی، «بازشناسی، تحلیل و نقد نظریہ منطقہ الفراغ»، در اندیشہ صادھ، شمارہ ۶و۷، ۱۳۸۱ ہجری شمسی۔۔
  • صدر، سید محمد باقر، اقتصادنا، تحقیق المؤتمر العالمی للامام الشہید الصدر، قم، پژوہشگاہ علمی‌ تخصصصی شہید صدر، ۱۴۲۴ھ۔
  • قائدی، عبدالمجید، «تحلیل و ارزیابی نقدہای موجود بر نظریہ منطقۃ‌الفراغ شہید صدر» در حکمت اسلامی، شمارہ ۷۰، ۱۳۹۲ہجری شمسی۔