مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:محمد حسین غروی نائینی

ویکی شیعہ سے
محمد حسین نائینی
کوائف
لقبمرزائے نائینی • محقق نائینی
تاریخ پیدائشسنہ 1276ھ
آبائی شہرنائین
تاریخ/مقام وفات26 جمادی‌ الاول سنہ سنہ 1355ھ، نجف، عراق
مدفنحرم امام علیؑ
سیاسی کوائف
علمی و دینی معلومات
اساتذہمحمد باقر آقا نجفی اصفہانیمرزائے شیرازیمحمد کاظم خراسانی
تالیفاتتنبیہ الامہ و تنزیہ الملہ • فواید الاصول

محمد حسین غروی نائینی (1276-1355ھ)، مرزائے نائینی اور محقق نائینی کے نام سے مشہور چودہویں صدی ہجری کے شیعہ فقہا اور مراجع تقلید نیز ایران میں تحریک مشروطہ کے حامی علماء میں سے تھے۔

مرزائے نائینی کی شہرت بنیادی طور پر ان کے فقہی و اصولی نظریات میں جدّت کی وجہ سے ہے؛ یہاں تک کہ انہیں علم اصول کا مجدّد (تجدید کرنے والا) کہا جاتا ہے۔ ان کے ممتاز شاگردوں میں محمد رضا مظفر، آیت اللہ خوئی اور سید جواد حسینی خامنہ ای کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان کی سب سے اہم تصنیف مشہور کتاب تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ ہے جو آمرانہ حکومت کے رد اور آئینی حکومت کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔

تحریک تنباکو میں مرزائے شیرازی اور تحریک مشروطہ میں آخوند خراسانی کے ساتھ تعاون اور عراق میں انگلستان کے خلاف جہاد کا اعلان مرزائے نائینی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں سے ہیں۔

سیرت عقلا کی حجیت، بدعت اور بدیع کے درمیان فرق اور احکام کو منصوص اور غیر منصوص میں تقسیم کرنا علم اصول فقہ میں مرزائے نائینی کے مبانی میں سے تھے۔ آئینی حکومت اور اس کے معیارات جیسے قانون سازی، مجلس شورائے ملی، آزادی اور مساوات کی دینی اہمیت پر یقین، تفکیک قوا اور اکثریتی رائے پر اعتقاد اور فقہا کی عام ولایت کا قائل ہونا ان کے سیاسی افکار میں شامل ہیں۔

مختصر تعارف اور مقام

محمد حسین غروی نائینی، المعروف مرزائے نائینی (1276ق-1355ھ) چودہویں صدی ہجری کے شیعہ فقہا اور مراجع تقلید میں سے تھے جو اصفہان کے شہر نائین میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے آباء و اجداد اصفہان میں شیخ الاسلام کے منصب پر فائز تھے۔[2]

کہا جاتا ہے کہ مرزائے نائینی کی شہرت بنیادی طور پر ان کے فقہی اور اصولی نظریات میں جدّت[3] اور مشہور کتاب تنبیہ الامۃ کی تالیف کی وجہ سے ہے جو شیعہ سیاسی فکر کے تحت تحریر کی گئی پہلی باقاعدہ تألیف سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب مشروطیت کے اصولوں کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔[4]

تعلیم

مرزائے نائینی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر نائین میں حاصل کی، سترہ سال کی عمر میں اصفہان چلے گئے اور محمد باقر آقا نجفی اصفہانی کی سرپرستی میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اصفہان میں فقہ، اصول فقہ، کلام اور حکمت میں ابو المعالی کلباسی اور جہانگیر خان قشقائی جیسے اساتذہ کی شاگردی اختیار کی۔ اسی طرح وہ فارسی اور عربی ادبیات نیز ریاضیات میں بھی مہارت رکھتے تھے۔[5]

مرزائے نائینی 1303ھ میں اعلی تعلیم کے لئے عراق چلے گئے جہاں انہوں نے حوزہ علمیہ سامرا میں داخلہ لیا۔[6] سامراء میں آپ تحریک تنباکو کے رہنما مرزائے شیرازی کے درس میں حاضر ہوتے تھے اور مرزائے شیرازی کی زندگی کے آخری ایام میں ان کے کاتب اور محرر نیز سیاسی اور سماجی امور میں اپنے استاد کے مشاور کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔[7]

مرزائے شیرازی کی وفات اور حوزہ علمیہ سامرا کے معطل ہونے کے بعد سنہ 1312ھ میں انہوں نے کربلا اور سنہ 1314ھ میں نجف کا رخ کیا اور آخوند خراسانی کی شاگردی اختیار کی۔[8] البتہ کہا جاتا ہے کہ مرزائے نائینی آخوند خراسانی کے عمومی درس میں حاضر نہیں ہوتے تھے، بلکہ مشکل مسائل کے حل کے لیے ان کے خصوصی درس میں شریک ہوتے تھے۔[9]

تدریس

مرزائے نائینی نے آخوند خراسانی کی زندگی میں ہی نجف میں تدریس شروع کی اور آخوند خراسانی کے تین سو سے زائد شاگرد ان کے درس میں بھی حاضر ہوتے تھے۔[10] کہا جاتا ہے کہ نائینی کی علمی شہرت بنیادی طور پر علم اصول فقہ میں تھی؛ یہاں تک کہ انہیں "مجدّد علم اصول" کہا جاتا ہے، لیکن دیگر شعبوں جیسے فقہ، کلام، حکمت، ریاضی، اخلاق اور عرفان میں بھی وہ صاحب نظر تھے۔[11]

آقا بزرگ تہرانی کے مطابق نائینی کے درس میں زیادہ تر صاحب نظر اور خواص حاضر ہوتے تھے، کیونکہ ان کا درس علمی پیچیدگیوں پر مشتمل تھا اور ہر کسی میں ان مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔[12]

شاگرد

محمد حسین نائینی اور ان کے شاگرد

اعیان الشیعہ اور طبقات اعلام الشیعہ جیسی کتابوں کے مطابق ان کے درس میں حاضر ہونے والے کچھ چیدہ افراد یہ ہیں:

حرم امام علیؑ میں مرزائے نائینی کا مزار

مرجعیت

میرزا محمد تقی شیرازی (1256-1338ھ) اور شیخ الشریعہ اصفہانی (1266-1339ھ) کی وفات کے بعد مرزائے نائینی نے سید ابوالحسن اصفہانی (1284-1365ھ) کے ساتھ مرجعیت سنبھالی۔[14] کہا جاتا ہے کہ نائینی کی مرجعیت علماء اور خواص کے درمیان جبکہ ابو الحسن اصفہانی کی مرجعیت زیادہ تر عوام کے درمیان شہرت رکھتی تھی۔[15]

وفات

مرزائے نائینی 26 جمادی الاول 1355ھ کو نجف میں وفات پاگئے اور انہیں حرم امام علیؑ میں سپرد خاک کئے گئے۔[16]

خصوصیات

مرزائے نائینی کے شاگردوں اور رجال کے محققین کے مطابق مرزائے نائینی کی انفرادی، علمی اور معنوی خصوصیات یہ ہیں:

  • سید محسن امین انہیں ایک عارف اور عابد عالم دین قرار دیتے ہیں جو فقہ اور اصول فقہ کے علاوہ کلام، فلسفہ اور فارسی ادب پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ انتہائی ذہین اور خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔[17] محسن امین کے مطابق مرزائے نائینی اپنے پچھلے بہت سے نظریات کو چھوڑ کر نئے نظریات اپناتے تھے۔[18]
  • مرزائے نائینی کے شاگردوں میں سے ایک سید محمد حسینی ہمدانی بھی تھے وہ کہتے ہیں کہ مرزائے نائینی کے ملا حسین قلی ہمدانی اور سید احمد کربلائی جیسے شیعہ عرفا سے قریبی تعلقات تھے جس کی وجہ سے ان میں خاص اخلاقی خصوصیات پیدا ہوئی تھیں؛ یہاں تک کہ سید احمد کربلائی نے انہیں اپنا وصی مقرر کیا تھا۔[19]
  • محمد علی مدرس تبریزی کے مطابق نائینی اپنی گہری تحقیھ، باریک بینی، فصاحتِ کلام اور خوبصورت خط و کتابت کے سبب شہرت رکھتے تھے۔[20]

آثار اور تالیفات

مرزائے نائینی سے منسوب آثار و تالیفات میں سے کچھ ان کے اپنے قلم سے لکھے گئے ہیں، اور کچھ ان کے دروس کی تقریریں ہیں جو ان کے شاگردوں نے تالیف کی ہیں۔

علمی آثار

  • تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ
  • وسیلۃ النجاۃ (رسالہ عملیہ)
  • حواشی علی العروۃ الوثقی
  • رسالۃ الصلوۃ فی اللباس المشکوک
  • رسالۃ فی احکام الخلل فی الصلوۃ
  • اجوبۃ مسائل المستفتین
  • رسالۃ فی نفی الضرر
  • رسالۃ فی التعبدی و التوصلی

تقریرات

سیاسی اور سماجی سرگرمیاں

مرزائے نائینی نے علمی سرگرمیوں کے علاوہ اپنے زمانے کے سیاسی اور سماجی واقعات میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ نائینی کی سیاسی اور سماجی شخصیت کی تشکیل میں تحریک تنباکو میں مرزائے شیرازی کے ساتھ ان کا رابطہ اور جوانی میں اصفہان میں سید جمال الدین اسدآبادی کے ساتھ ان کی دوستی مؤثر رہی ہے۔[22] اسی طرح تحریک مشروطہ میں آخوند خراسانی، ملا عبد اللہ مازندرانی اور حسین خلیلی تہرانی کے ساتھ تعاون[23] اور سید ابوالحسن اصفہانی کے ساتھ عراق کی اسلامی تحریک میں انگلستان کے خلاف جہاد کا اعلان[24] مرزائے تائینی کی دیگر سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

مشروطہ تحریک

کہا جاتا ہے کہ مرزائے نائینی ایران کے مشروطہ تحریک میں نجف کے تین مراجع تقلید (آخوند خراسانی، خلیلی تہرانی اور عبد اللہ مازندرانی) کے بیانات اور ٹیلی گراف کے لئے متن تیار کرتے تھے۔[25] اسی طرح ان کی کتاب تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ مشروطہ حکومت کے دفاع کی سب سے منظم فقہی اور اصولی تحریر سمجھی جاتی ہے اور سیاسی فقہ کے محقق داوود فیرحی کے مطابق فقہ مشروطہ کی بنیاد اسی کتاب پر رکھی گئی ہے۔[26] ایران کی طرف سفر کرنے کے قصد کے دوران آخوند خراسانی کی کربلا میں مشکوک وفات اور مجلس شورائے ملی پر محمد علی شاہ کے اعتراضاات کے بعد تحریک مشروطہ کی قیادت سنبھالنے والے علماء میں مرزائے نائینی کا نام سر فہرست آتا ہے۔ البتہ کہا جاتا ہے کہ نائینی نے مشروطہ تحریک کے ناخوشگوار واقعات کے بعد مشروطہ کے بارے میں بات نہیں کی اور اس تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔[27]

عراق کی اسلامی تحریک

ملک فیصل جنہں انگلستان کا کٹھ پتلی سمجھا جاتا تھا، کے اقتدار میں آکر کابینہ تشکیل دینے کے بعد جب عراق کے مجلس مؤسسان کے لئے عام انتخابات کا اعلان کیا گیا تو مرزائے نائینی نے سید ابوالحسن اصفہانی اور شیخ مہدی خالصی کے ساتھ اس کی مخالفت کی اور الیکشن سے بائیکاٹ کیا۔ خالصی کے حجاز جلاوطنی کے بعد نائینی اور اصفہانی نے بھی عراقی حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاجاً ایران ہجرت کی۔[28] ان کے ایران پہنچنے پر شیخ عبدالکریم حائری یزدی نے اپنے درس خارج کی کلاسیں مہاجر علماء کے حوالے کر دیا۔ البتہ نائینی اور اصفہانی کے ایران پہنچنے کے تقریباً ایک سال بعد عراقی حکومت کی طرف سے ایک وفد نے ان کی عراق واپسی کے لئے زمینہ ہموار کیا۔[29]

فقہی اور اصولی مبانی

فقہ سیاسی کے محققین مرزائے نائینی کے افکار کا جائزہ لینے کے بعد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے فقہی مبانی اور اسلوب اجتہاد فقہی و اصولی مباحث میں تبدیلی اور جدّت نیز فقہ مشروطہ کی تدوین کا باعث بنے ہیں؛[30] ان کے فقہی مبانی میں سیرہ عقلا کی حجیت، احکام کو منصوص اور غیر منصوص میں تقسیم کرنا اور بدعت اور بدیع کے درمیان فرق شامل ہیں۔

سیرہ عقلا کی حجیت

مرزائے نائینی اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے متعدد مقامات پر عقل اور سیرہ عقلا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔[31] مثال کے طور پر کتاب "تنبیہ الامۃ" کے بعض حصوں میں وہ اس بات کے قائل ہیں کہ حکیمانہ عقول تمدن اور سیاست کے اصول اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس بنا پر اصول و حکمت عملیوں تک پہنچنا صرف دین تک محدود نہیں ہے۔[32]

دینی احکام کو منصوص اور غیر منصوص میں تقسیم کرنا

نائینی نے شرعی احکام کے بارے میں ایک نئی تقسیم پیش کرتے ہوئے درپیش مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے؛ ایک حصے میں وہ احکام شامل ہیں جس میں شرعی طور پر نص اور تصریح موجود ہے جبکہ دوسرا حصہ مباح اور غیر منصوص امور کا دائرہ (منطقۃ الفراغ) جس میں فیصلہ سازی خود مکلف کے ذمے چھوڑ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق منصوص احکام میں مکلف کی ذمہ داری واضح ہے، لیکن غیر منصوص امور کے دائرے میں ذمہ داری کا تعین زمانے کے مصالح و تقاضوں کے تابع ہے اور اس دائرے میں قانون سازی اور ضرورت پڑنے پر قوانین کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔[33]

بدیع اور بدعت میں فرق

فقہ سیاسی کے محقق داوود فیرحی کے مطابق مرزائے نائینی کے افکار میں بدعت اور بدیع کے درمیان فرق نے فقہ میں ایک نئے راستے کی بنیاد رکھی جس نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کو جواز بخشا۔ یہ فرق نائینی نے شیخ فضل اللہ نوری کے افکار کے مقابلے میں پیش کیا جو قائل تھے کہ پارلیمنٹ میں ہر قسم کی قانون سازی بدعت اور حرام ہے۔[34] نائینی کا ماننا تھا کہ ہر نئی چیز کو بدعت اور حرام نہیں کہا جا سکتا بلکہ اگر کوئی قانون خدا کی طرف منسوب کیے بغیر بنایا جائے تو اس پر بدعت کا عنوان صدق نہیں آئے گا۔[35]

سیاسی افکار

تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ کا رسالہ نائینی کے سیاسی افکار پر مشتمل

مرزائے نائینی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں خاص طور پر ایران کی تحریک مشروطہ میں ان کی پر زور شرکت نے انہیں آئینی حکومت کے اصولوں کی وضاحت اور آمرانہ حکومت کی مخالفت میں کتاب تنبیہ الامۃ و تنزیہ الملۃ کی تدوین پر آمادہ کیا۔ یہ کتاب ان کے سیاسی افکار پر مشتمل ہے۔[36] مرزائے نائینی تحریک مشروطہ کے دیگر حامی علماء کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے تھے کہ تحریک مشروطہ کو دینی تعلیمات بشمول آیات، روایات اور فقہی و اصولی قواعد پر استوار کریں تاکہ لوگوں کے پاس اس کی حمایت کے لیے شرعی جواز ہو۔[37]

کتاب تنبیہ الامۃ کی بنیاد پر مرزائے نائینی کے سیاسی افکار کے کچھ عناصر یہ ہیں:

مشروطہ حکومت کی آمرانہ حکومت پر برتری

مرزائے نائینی بہت سے دیگر شیعہ فقہا خاص طور پر شیخ انصاری (1214-1281ھ) کے شاگردوں کی طرح اس بات کے متعقد تھے کہ زمانہ غیبت میں ہر قسم کی حکومت ناجائز ہے؛[38] تاہم ان کا خیال تھا کہ معاشرے کی ضروریات و تقاضے حکومت کے وجود کو ناگزیر بناتے ہیں۔ وہ مشروطہ اور آمرانہ حکومت کے درمیان مشروطہ حکومت کو ترجیح دیتے تھے؛ کیونکہ ان کے خیال میں اس قسم کی حکومت میں امام اور عوام کا حق کم غصب ہوتا ہے۔[39] نائینی کے اس نظریے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی نظر میں مشروطہ حکومت اس کے تمام تر خصوصیات بشمول سیاسی مشارکت، تفکیک قوا، آزادی اور مساوات کے ساتھ ذاتی برتری کی وجہ سے نہیں بلکہ آمرانہ حکومت کی بنسبت عوام اور خدا کے حق کے کم غصب ہونے اور کم مفسدہ والے کے ذریعے زیادہ مفسدہ والے کو دور کرنے کے باب میں بہتر ہے۔[40] اسی طرح مرزائے نائینی کے مطابق اہل سنت اور شیعہ علماء دونوں مشروطہ حکومت کو قابل قبول سمجھتے تھے۔[41]

حکومت پر نظارت کے لئے آئین کی ضرورت

کہا جاتا ہے کہ حکومت کو انتہا پسندی سے بچانا اور مشروطہ حکومت کو آمرانہ بادشاہت میں تبدیل ہونے سے روکنا مرزائے نائینی کا سب سے بڑا مقصد تھا۔ اسی لئے وہ حکومت پر نظارت اور نگرانی کے لئے ایک طریقہ کار وضع کرنے کے خواہاں تھے۔[42] ان کا ماننا تھا کہ معصومینؑ کے دور میں ائمہ کے مقام عصمت حکومت پر نظارت اور نگرانی کا سب سے بڑا عامل تھا، لیکن یہ امر زمانہ غیبت میں شہریوں کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور وہ بھی دو اہم کاموں پر موقوف ہے: آئین کی تدوین اور قومی پارلیمنٹ کا قیام۔[43]

آزادی اور مساوات کا دفاع

مرزائے نائینی مشروطہ حکومت کے مخالفین کے مقابلے میں نہ صرف آزادی اور مساوات کے بارے میں منفی سوچ نہیں رکھتے تھے، بلکہ ان دو لفظوں کو مبارک، مقدس اور تمام انسانی کمالات کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق آمرانہ بادشاہت کی بنیاد آزادی اور مساوات کی نفی پر رکھی جاتی ہے اور جبکہ اسلامی معاشروں کی ترقی کے ساتھ ان دو اصولوں کا براہ راست تعلق ہے۔[44] وہ آزادی اور مساوات کے دفاع میں اس قدر آگے بڑھے یہاں تک کہ وہ کہتے تھے کہ چونکہ ظالم حکمرانوں کی طرف سے عوام کو اس قدر اپنا اسیر بنا لیا تھا کہ انہیں ایسے جرائم کرنے پر مجبور کیا جو اولیا و اوصیا خاص طور پر امام حسین(ع) کے قتل کا باعث بنے۔[45]

فقہا کی عمومی ولایت

مرزائے نائینی اس بات کے معتقد تھے کہ حکومت ایک الہی منصب ہے، اس بنا پر پہلے درجے میں یہ منصب معصومؑ کے ساتھ مختص ہے۔ ان کے بعد دوسرے درجے میں عادل فقیہ حق حکمرانی کے لئے سزاوار ہیں۔ ان کے مطابق صرف منصوب حاکم تک دسترسی نہ ہونے کی صورت میں ہی تنصیب کے نظریے سے چشم پوشی کی جا سکتی ہے۔[46] وہ دیگر علماء دین کی طرح، قائل ہیں کہ فقہا امور حسبیہ میں ولایت رکھتے ہیں۔[47] نائینی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قوانین کے جواز کو پارلیمنٹ میں عادل مجتہدین کی موجودگی پر موقوف سمجھتے ہیں۔[48]

حوالہ جات

  1. ورعی، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نایینی، 1383شمسی، ص17۔
  2. امین، اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  3. ورعی، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نایینی، 1382شمسی، ص18۔
  4. طباطبایی، حکومت قانون در ایران، 1386شمسی، ص482؛ فیرحی، فقہ و سیاست، 1392شمسی، ج1، ص281 و 335۔
  5. امین، اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  6. امین، اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54-55۔
  7. شیرازی، «حماسہ فتوا»، ویژہ‌نامہ روزنامہ جمہوری اسلامی بہ مناسبت سدہ وفات میرزای شیرازی۔
  8. آقابزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعہ، 1430ھ، ج14، ص593۔
  9. اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  10. ورعی، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نایینی، 1382شمسی، ص18۔
  11. ورعی، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نایینی، 1382شمسی، ص18۔
  12. آقابزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعۃ، 1430ھ، ج14، ص594۔
  13. آقابزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعہ، 1430ھ، ج14، ص595؛ امین، اعیان الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص55۔
  14. اعیان الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  15. موسوعۃ‌ النجف الاشرف، 1418ھ، ج11، ص240۔
  16. امین، اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  17. امین، اعیان الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  18. امین، اعیان‌الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54۔
  19. «مصاحبہ با استاد آیت‌اللہ حسینی ہمدانی (نجفی)، در مجلہ حوزہ، ص35۔
  20. مدرس تبریزی، ریحانۃالادب، 1369شمسی، ج6، ص127۔
  21. امین، اعیان الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص55۔
  22. «مصاحبہ با استاد آیت‌اللہ حسینی ہمدانی (نجفی)»، در مجلہ حوزہ، ص41؛ شیرازی، «حماسہ فتوا»، ویژہ‌نامہ روزنامہ جمہوری اسلامی بہ مناسبت سدہ وفات میرزای شیرازی۔
  23. حائری، تشیع و مشروطیت...، 1364شمسی، ص156-157۔
  24. حائری، تشیع و مشروطیت...، 1364شمسی، ص175-178۔
  25. حائری، تشیع و مشروطیت...، 1364شمسی، ص156-157۔
  26. فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص14؛ فیرحی، فقہ و سیاست، 1392شمسی، ج1، ص281۔
  27. فراتی، روحانیت و تجدد، 1389شمسی، ص76۔
  28. حائری، تشیع و مشروطیت...، 1364شمسی، ص175-178۔
  29. موسوعۃ‌ النجف الاشرف، 1418ھ، ج11، ص240-241؛ امین، اعیان الشیعہ، 1406ھ، ج6، ص54-55۔
  30. فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص14؛ فیرحی، فقہ و سیاست، 1392شمسی، ج1، ص281۔
  31. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص69-70۔
  32. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص90-91؛ فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص36-38۔
  33. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص133-134؛ فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص438-442۔
  34. فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص323۔
  35. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص107۔
  36. فیرحی، آستانہ تجدد، 1394شمسی، ص14۔
  37. صالحی و ہمکاران، «بازتاب منازعہ مفہومی فقہای عصر مشروطہ...»، ص191۔
  38. فیرحی، نظام سیاسی و دولت در اسلام، 1382شمسی، ص211-212۔
  39. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص75-79۔
  40. صالحی و ہمکاران، «روحانیت، حکومت و توسعہ سیاسی در ایران معاصر»، ص13۔
  41. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص48-49۔
  42. صالحی و ہمکاران، «بازتاب منازعہ مفہومی فقہای عصر مشروطہ...»، ص193۔
  43. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص45-48 و 87-88۔
  44. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص49-50، 86۔
  45. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص141-142۔
  46. ورعی، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نائینی، 1382شمسی، ص52۔
  47. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص75-76۔
  48. نائینی، تنبیہ الامۃ، 1382شمسی، ص49۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، طبقات اعلام الشیعہ، بیروت، دار احیاء التراث، 1430ھ۔
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ھ۔
  • موسوعۃ النجف الاشرف، با اشراف لجنۃ من رجال الفکر والعلم والأدب، جمع‌آوری جعفر الدجیلی، بیروت، دار الاضواء، 1418ھ۔
  • حائری، عبدالہادی، تشیع و مشروطیت در ایران و نقش ایرانیان مقیم عراھ، تہران، انتشارات امیرکبیر، 1364ہجری شمسی۔
  • شیرازی، سید رضی، «حماسہ فتوا»، ویژہ‌نامہ روزنامہ جمہوری اسلامی بہ مناسبت سدہ وفات میرزای شیرازی، 1370ہجری شمسی۔
  • صالحی، علیرضا، و سید مصطفی ابطحی و ابوالقاسم طاہری، «بازتاب منازعہ مفہومی فقہای عصر مشروطہ دربارہ قانون بر فرآیند توسعہ سیاسی ایران معاصر»، در فصلنامہ سیاست متعالیہ، شمارہ 28، 1399ہجری شمسی۔
  • صالحی، علیرضا، و سید مصطفی ابطحی و سید ابوالقاسم طاہری، «روحانیت، حکومت و توسعہ در ایران معاصر»، در فصلنامہ جامعہ‌شناسی سیاسی انقلاب اسلامی، شمارہ 11، 1401ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید جواد، حکومت قانون در ایران، تبریز، نشر ستودہ، 1386ہجری شمسی۔
  • فراتی، عبدالوہاب، روحانیت و تجدد: با تأکید بر جریان‌ہای فکری-سیاسی حوزہ علمیہ قم، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، 1389ہجری شمسی۔
  • فیرحی، داوود، آستانہ تجدد، تہران، نشر نی، 1394ہجری شمسی۔
  • فیرحی، داوود، فقہ و سیاست در ایران معاصر، تہران، نشر نی، 1392ہجری شمسی۔
  • فیرحی، داوود، نظام سیاسی و دولت در اسلام، تہران، نشر سمت، 1382ہجری شمسی۔
  • «مصاحبہ با استاد آیت اللہ حسینی ہمدانی (نجفی)»، در مجلہ حوزہ، شمارہ 30، 1367ہجری شمسی۔
  • مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانۃ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیۃ او اللقب، تہران، کتاب‌فروشی خیام، 1369ہجری شمسی۔
  • نائینی، محمدحسین، تنبیہ الامۃ وتنزیہ الملۃ، تصحیح سید جواد ورعی، قم، بوستان کتاب، 1382ہجری شمسی۔
  • ورعی، سید جواد، پژوہشی در اندیشہ سیاسی نایینی، قم، دبیرخانہ مجلس خبرگان، 1382ہجری شمسی۔