مسودہ:قیامت کے دن اعضائے بدن کی گواہی
قیامت کے دن اعضائے بدن کی گواہی یا اعضا و جوارح کی گواہی قیامت کے دن انسانوں کے نامہ اعمال کے حساب و کتاب کے ان مراحل و مواقف میں سے ہے جن کا قرآن میں ذکر ملتا ہے۔ مفسرین کے مطابق اعضائے بدن کی اس نوعیت کی گواہی تمام اعضائے بدن پر مشتمل ہے اور بندگانِ خدا پر حجت تمام کرنے کے لیے ایسا مرحلہ رکھا گیا ہے۔ حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق یہ گواہی خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے ہے جن پر اللہ کا عذاب حتمی ہو چکا ہو اور یہ مرحلہ مومنین کے لیے نہیں ہوگا۔ اعضائے بدن کی گواہی اس وقت ہوتی ہے جب مجرمین نامہ اعمال کا انکار کر دیں اور فرشتوں کی گواہی کو بھی رد کردیں۔
بعض مفسرین نے جلد (پوست) کی گواہی کو تمام اعضائے بدن پر شامل قرار دیا ہے جبکہ بعض نے اسے صرف شرمگاہوں تک محدود کیا ہے۔ قیامت میں اعضائے بدن کی گواہی کے طریقہ کار کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض نے اسے اُنہی اعمال کے ظاہر ہونے سے تعبیر کیا ہے جو انسان دنیا میں کرتا رہا ہے۔
علمائے اخلاق نے قیامت کے دن اعضا کی گواہی کی یاددہانی کو اللہ کی یاد اور یاد الہی میں مراقبہ نفس سے مربوط جانا ہے۔
اہمیت
قیامت کے دن اعضائے بدن کی گواہی مواقف و منازل آخرت میں سے ایک ہے۔[1] یہ گواہی یقینی طور پر واقع ہوگی اور اسے مجازی قرار دینا غلط سمجھا گیا ہے۔[2] اعضائے بدن کی گواہی مجرمین کے لیے باعثِ حیرت اور وحشت ہوگی[3] نیز وہ اپنی جلد (پوست) پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی ملامت کریں گے۔[4]
مفسرین قرآن نے سورہ فصلت کی آیت 20، سورہ نور کی آیت 24، سورہ یٰسین کی آیت 65 اور سورہ اسراء کی آیت 36 کو قیامت میں اعضائے بدن کی گواہی سے مربوط قرار دیا ہے۔[5] شیعہ مفسر قرآن علامہ محمد حسین طباطبائی کے مطابق قرآن میں ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان اور دل جیسے اعضاء کو انسانی اعمال کا گواہ قرار دیا گیا ہے۔[6] شیخ صدوق نے امام جعفر صادقؑ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ قرآن مجید کے بعض سورتوں کی پابندی کے ساتھ تلاوت کرنے سے قیامت کے دن انسان کے تمام اعضاء یعنی گوشت، خون، بال، اعصاب اور ہڈیاں بھی اس کے حق میں گواہی دیں گے۔[7]
علامہ طباطبائی کہتے ہیں کہ انسانی اعضاء کی گواہی تب بندوں پر حجت تمام کرتی ہے جب وہ اعضاء شعور اور ادراک رکھتے ہوں اور اپنے مالک کے اعمال کو مشاہدہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوں[8] مفسرین نے امام محمد باقرؑ کی ایک روایت[9] کی روشنی میں کہا ہے کہ اعضائے بدن کی گواہی خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے ہے جن پر اللہ کا عذاب حتمی ہو چکا ہو اور اُن مومنین کے لیے یہ سلسلہ نہیں ہوگا جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔[10]
علمائے اخلاق نے قیامت کے دن اعضاء کی گواہی کی یاددہانی کو اللہ سے تعلق قائم کرنے اور اس کی یاد میں مراقبہ نفس کے لیے ایک محرک قرار دیا ہے۔[11]
انسانی ہر عضو کا اپنے گناہوں کا اعتراف
شیعہ مفسر سید محمد حسین طباطبائی نے سورہ یٰسین کی آیت 65 کی تفسیر میں کہا ہے کہ ہر عضو اپنے خاص عمل کی گواہی دیتا ہے؛[12] زبان غیبت، جھوٹ اور چغلی جیسے گناہوں کی اور ہاتھ اور پاؤں چوری اور چغلی کے لیے اٹھائے گئے قدم جیسے گناہوں کی گواہی دیں گے۔[13] نیز سورہ فصلت کی آیت 20 کے تحت علامہ کا خیال ہے کہ ہر عضو دوسرے اعضاء کے گناہوں پر بھی گواہی دے گا۔[14]
جلد کی گواہی
مفسرین نے سورہ فصلت کی آیت 20 سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد کی گواہی میں ہاتھ اور پاؤں سمیت مختلف اعضاء کی جلد شامل ہے۔[15] بعض نے اسے صرف شرمگاہوں سے متعلق جانا ہے،[16] لیکن بعض مفسرین نے اس تفسیر کو بعض دیگر آیات کے ساتھ ناسازگار قرار دیتے ہوئے[17] اسے محض ایک مصداق کا بیان سمجھا ہے۔[18]
علامہ طباطبائی نے آیت وَ قَالُوا لِجُلُودِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا کی تفسیر میں کہا ہے کہ گنہگاروں کا اپنی جلد کی گواہی پر اعتراض کرنا اس لیے ہے کہ جلد صرف اُن گناہوں کی گواہی دیتی ہے جن میں اس کا خود کردار ہو، جبکہ آنکھیں اور کان اُن اعمال کی بھی گواہی دیتے ہیں جو دوسرے اعضاء نے کیے ہوں۔[19] سید عبد الحسین طیب نے اپنی کتاب اطیب البیان میں گنہگاروں کے جلد پر اعتراض کو بطور مثال قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرمین کا اعتراض دوسرے اعضاء پر بھی ہوگا۔[20]
اعضائے بدن کی گواہی کا مرحلہ
شیعہ راوی اور مفسر قرآن علی بن ابراہیم قمی نے ایک روایت کی روشنی میں لکھا ہے کہ اعضائے بدن کی گواہی نامہ اعمال کے انکار اور فرشتوں کی گواہی کو رد کرنے کی صورت میں ہوگی؛ پہلے زبان پر مہر لگا دی جاتی ہے پھر ترتیب سے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور شرمگاہ بطور گواہ بول اٹھیں گے، اس کے بعد زبان کھولی جاتی ہے اور وہ تعجب اور اعتراض کے ساتھ جلد کو اس کی گواہی پر ملامت کرے گی۔[21] سید محمد حسین حسینی تہرانی نے اپنی کتاب معاد شناسی میں لکھا ہے کہ قیامت میں پہلے انسان کے منہ پر مہر لگا دی جاتی ہے تاکہ دنیا میں جھوٹ بولنے کی عادت کی وجہ سے اعضا کی گواہی کے وقت انکار کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔[22]
اعضاء کی گواہی کا طریقہ
قیامت کے دن اعضائے بدن کے بولنے کے طریقہ کار کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ بعض علما کا خیال ہے کہ دنیا اور آخرت کے مابین فرق کی بنا پر اعضاء کے بولنے کا طریقہ انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے لہذا یہ قابل درک نہیں۔[23] بعض دوسرے علما اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ قیامت میں ہر ایک عضو کو زبان اور دماغ کی طرح ادراک، شعور اور بات کرنے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرمائے گا۔[24] نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے اعمال منصہ شہود میں آنے کے بعد ختم نہیں ہوتے، بلکہ ان کے آثار اعضائے بدن اور ارد گرد کے ماحول پر باقی رہ جاتے ہیں۔ قیامت کے دن یہ آثار اعضاء پر ظاہر ہو جائیں گے اور ان آثار کا ظہور ہی اعضائے بدن کی گواہی کے مترادف ہوگا۔[25]
علوم قرآن کے شیعہ محقق سید محمد حسین تہرانی کے مطابق قیامت میں ہاتھ کا بولنا اسی عمل کے ظہور کے معنی میں ہے جو ہاتھ نے دنیا میں انجام دیا تھا۔[26]
حوالہ جات
- ↑ رضایی، «منازل آخرت»، ص36۔
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، 1398شمسی، ج10، ص118۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج18، ص431۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص379۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372، ج9، ص12، طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص103 و 154؛ ابنعاشور، تفسیر التحریر و التنویر، 1420ھ، ج18، ص153۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص103۔
- ↑ صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، 1406ھ، ص123۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص378۔
- ↑ کلینی، کافی، 1407ھ، ج2، ص32۔
- ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ص419؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج18، ص433۔
- ↑ طبرسی، مکارم الاخلاق، 1370شمسی، ص457۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص103۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج15، ص94۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص378۔
- ↑ تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج20، ص249؛ سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص497۔
- ↑ ثَعلَبی، الکشف و البیان، 1422ھ، ج8، ص290؛ میبدی، کشف الاسرار و عدۃ الابرار، 1371شمسی، ج8، ص516۔
- ↑ سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص497۔
- ↑ تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج20، ص249۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص379۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1369شمسی، ج11، ص425۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1363شمسی، ج2، ص264۔
- ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج7، ص186۔
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، 1398شمسی، ج10، ص118۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1377شمسی، ج18، ص431۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1377شمسی، ج18، ص431۔
- ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی،1423ھ، ج7، ص187 - 192۔
مآخذ
- ابنعاشور، محمد طاہر، تفسیر التحریر والتنویر، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- ثَعلَبی، احمد بن محمد، الکَشفُ و البَیان المَعُروف تفسیر الثَعلَبی، تحقیق، ابیمحمد ابنعاشور، بیروت، دار احیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، ہجرت، 1398ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، معاد در قرآن، قم، اسراء، گیارہویں اشاعت، 1395ہجری شمسی۔
- حسینی طہرانی، محمدحسین، معادشناسی، مشہد، نور ملکوت قرآن، 1427ھ۔
- سبحانی تبریزی، جعفر، منشور جاوید، قم، موسسہ امام صادق(ع)، 1390ہجری شمسی۔
- رضایی، غلامرضا، دانشنامہ کلام اسلامی، قم، موسسہ امام صادق(ع)، 1387ہجری شمسی۔
- صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، دارالشریف الرضی، 1406ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضلاللہ یزدی طباطبایی و ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، 1370ہجری شمسی۔
- طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، نشر اسلام، دوسری اشاعت، 1369ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق: سید طیب موسوی جزایری، قم، دارالکتاب، 1363ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علیاکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- میبدی، احمد بن محمد، کشف الاسرار و عدۃ الابرار (معروف بہ تفسیر خواجہ عبداللہ انصاری)، تحقیق: علیاصغر حکمت، تہران، امیر کبیر، پانچویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔