مسودہ:صلوات ضراب اصفہانی
صلوات ضرّاب اصفہانی کا مخملی کتیبہ | |
| کوائف | |
|---|---|
| موضوع: | حضرت محمدؐ اور اہل بیت پیغمبر پر صلوات و درود اور دعا برائے تعجیل فرج |
| مأثور/غیرمأثور: | مأثور |
| صادرہ از: | امام مہدی عجل الله تعالی فرجہ |
| راوی: | ابو الحسن ضرّاب |
| شیعہ منابع: | مصباح المتہجد، جمال الاسبوع، المزار الکبیر |
| مکان: | مکہ |
| مشہور دعائیں اور زیارات | |
| دعائے توسل • دعائے کمیل • دعائے ندبہ • دعائے سمات • دعائے فرج • دعائے عہد • دعائے ابوحمزہ ثمالی • زیارت عاشورا • زیارت جامعہ کبیرہ • زیارت وارث • زیارت امیناللہ • زیارت اربعین | |
صلواتِ ضرّاب اصفہانی یا صلواتِ ابو الحسن ضرّاب ان دعاؤں میں سے ہے جو امام مہدیؑ کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ یہ شیعہ دعائیہ مصادر، مثلاً مصباح المتہجّد،[1] جمال الاُسبوع،[2] المزار الکبیر ابن مشہدی[3] اور البلد الامین کفعمی[4] میں نقل ہوئی ہے۔ اسی طرح کتاب مکیال المکارم میں اسے کتاب الغیبہ شیخ طوسی کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔[5]
مفاتیح الجنان میں سید ابن طاووس کے حوالے سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے جمعہ کے دن کی تعقیبات نہ پڑھ سکے تو وہ اس صلوات کو ترک نہ کرے کیونکہ اسے خصوصی فضیلت حاصل ہے۔[6]
یہ صلوات ابو الحسن یعقوب بن یوسف سے منسوب ہے، جو ضرّاب اصفہانی کے نام سے معروف ہیں اور شیعہ راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔[7] منقول روایات کے مطابق ابو الحسن ضرّاب اہلِ فارس میں سے تھے۔ زمانہ غیبت صغری میں حج کے سفر کے دوران ان کی ایک نامعلوم شخص سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ صلوات اس شخص سے حاصل کی۔[8]
کتاب الغیبۃ شیخ طوسی کی روایت کے مطابق، ضرّاب حج سے واپسی پر بیان کرتے ہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں اہل بیتؑ کے ایک محب کے گھر مقیم تھے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک نورانی شخص سے ہوئی جس کی پیشانی پر سجدے کے آثار نمایاں تھے۔ اس شخص نے انہیں یہ صلوات تعلیم دی۔ متعدد ملاقاتوں اور مختلف نشانیوں کے مشاہدے کے بعد ضرّاب اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ شخص امام مہدیؑ تھے۔[9]
اس صلوات کے مضامین کو تین بنیادی محوروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- رسول اکرمؐ اور اہل بیتؑ پر درود و ثنا اور ان کے فضائل کا بیان
- امام مہدیؑ کے لیے دعا، فرج میں تعجیل، عزت و نصرت اور دشمنوں سے ان کی حفاظت کی دعا
- دین کے قیام اور دنیا میں حاکمیتِ الٰہی کے تحقق کے لیے دعا۔[10]
بعض محققین کے مطابق اس صلوات میں امام مہدیؑ کی متعدد صفات بھی بیان ہوئی ہیں، مثلاً لوگوں کے اعمال پر گواہ ہونا، ہدایت کرنا، مخلوقات پر حجتِ خدا ہونا، زمین پر حاکمیت قائم کرنا، دینی سنتوں کو زندہ کرنا اور گذشتہ انبیاء کی میراث کا وارث ہونا۔[11]
صلوات اور ترجمہ
|
صلوات ضراب اصفہانی
|
ترجمہ
|
|---|---|
|
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ سَیِّدِ الْمُرْسَلِینَ، وَ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، الْمُنْتَجَبِ فِی الْمِیثَاقِ، الْمُصْطَفی فِی الظِّلالِ، الْمُطَهَّرِ مِنْ کُلِّ آفَةٍ، الْبَرِیءِ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ، الْمُؤَمَّلِ لِلنَّجَاةِ، الْمُرْتَجَی لِلشَّفاعَةِ، الْمُفَوَّضِ إِلَیْهِ دِینُ اللَّهِ؛ اللَّهُمَّ شَرِّفْ بُنْیَانَهُ، وَ عَظِّمْ بُرْهَانَهُ، وَ أَفْلِجْ حُجَّتَهُ، وَ ارْفَعْ دَرَجَتَهُ، وَ أَضِئْ نُورَهُ، وَ بَیِّضْ وَجْهَهُ، وَ أَعْطِهِ الْفَضْلَ وَ الْفَضِیلَةَ، وَ الْمَنْزِلَةَ وَ الْوَسِیلَةَ، وَ الدَّرَجَةَ الرَّفِیعَةَ، وَ ابْعَثْهُ مَقَاماً مَحْمُوداً یَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ؛ وَ صَلِّ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَوَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ قَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ، وَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، و وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ؛ وَ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ؛ وَ صَلِّ عَلی جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی مُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ؛ وَ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُوسی إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ؛ وَ صَلِّ عَلَی عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ، وَ صَلِّ عَلَی الْخَلَفِ الْهادِی الْمَهْدِیِّ إِمَامِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ وَارِثِ الْمُرْسَلِینَ، وَ حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمِینَ؛ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَیْتِهِ الْأَئِمَّةِ الْهَادِینَ، الْعُلَماءِ الصَّادِقِینَ، الْأَبْرَارِ الْمُتَّقِینَ، دَعَائِمِ دِینِکَ، وَ أَرْکَانِ تَوْحِیدِکَ، وَ تَراجِمَةِ وَحْیِکَ، وَ حُجَجِکَ عَلَی خَلْقِکَ، وَ خُلَفَائِکَ فِی أَرْضِکَ، الَّذِینَ اخْتَرْتَهُمْ لِنَفْسِکَ، وَ اصْطَفَیْتَهُمْ عَلَی عِبَادِکَ؛ وَ ارْتَضَیْتَهُمْ لِدِینِکَ، وَ خَصَصْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِکَ، وَ جَلَّلْتَهُمْ بِکَرَامَتِکَ، وَ غَشَّیْتَهُمْ بِرَحْمَتِکَ، وَ رَبَّیْتَهُمْ بِنِعْمَتِکَ، وَ غَذَّیْتَهُمْ بِحِکْمَتِکَ، وَ أَلْبَسْتَهُمْ نُورَکَ، وَ رَفَعْتَهُمْ فِی مَلَکُوتِکَ، وَ حَفَفْتَهُمْ بِملائِکَتِکَ، وَ شَرَّفْتَهُمْ بِنَبِیِّکَ، صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ؛ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلَیْهِمْ صَلَاةً زَاکِیَةً نَامِیَةً کَثِیرَةً دَائِمَةً طَیِّبَةً، لَایُحِیطُ بِهَا إِلّا أَ نْتَ، وَلَا یَسَعُهَا إِلّا عِلْمُکَ، وَلَا یُحْصِیهَا أَحَدٌ غَیْرُکَ، اللَّهُمَّ وَ صَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ الُمحْیِی سُنَّتَکَ، الْقَائِمِ بِأَمْرِکَ، الدَّاعِی إِلَیْکَ، الدَّلِیلِ عَلَیْکَ، حُجَّتِکَ عَلَی خَلْقِکَ، وَ خَلِیفَتِکَ فِی أَرْضِکَ، وَ شَاهِدِکَ عَلَی عِبَادِکَ. اللَّهُمَّ أَعِزَّ نَصْرَهُ، وَ مُدَّ فِی عُمْرِهِ، وَ زَیِّنِ الْأَرْضَ بِطُولِ بَقائِهِ؛ اللَّهُمَّ أَکْفِهِ بَغْیَ الْحَاسِدِینَ، وَ أَعِذْهُ مِنْ شَرِّ الْکَائِدِینَ، وَ ازْجُرْ عَنْهُ إِرَادَةَ الظَّالِمِینَ، وَ خَلِّصْهُ مِنْ أَیْدِی الْجَبَّارِینَ. اللَّهُمَّ أَعْطِهِ فِی نَفْسِهِ وَ ذُرِّیَّتِهِ وَ شِیعَتِهِ وَ رَعِیَّتِهِ وَ خَاصَّتِهِ وَ عَامَّتِهِ وَ عَدُوِّهِ وَ جَمِیعِ أَهْلِ الدُّنْیا مَا تُقِرُّ بِهِ عَیْنَهُ، وَ تَسُرُّ بِهِ نَفْسَهُ؛ وَ بَلِّغْهُ أَ فْضَلَ مَا أَمَّلَهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَةِ، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ؛ اللَّهُمَّ جَدِّدْ بِهِ مَا امْتَحی مِنْ دِینِکَ، وَ أَحْیِ بِهِ مَا بُدِّلَ مِنْ کِتَابِکَ، وَ أَظْهِرْ بِهِ مَا غُیِّرَ مِنْ حُکْمِکَ، حَتَّی یَعُودَ دِینُکَ بِهِ وَعَلَی یَدَیْهِ غَضّاً جَدِیداً خَالِصاً مُخْلَصاً، لَاشَکَّ فِیهِ، وَ لَا شُبْهَةَ مَعَهُ، وَ لَا بَاطِلَ عِنْدَهُ، وَ لَا بِدْعَةَ لَدَیْهِ. اللَّهُمَّ نَوِّرْ بِنُورِهِ کُلَّ ظُلْمَةٍ، وَ هُدَّ بِرُکْنِهِ کُلَّ بِدْعَةٍ، وَ اهْدِمْ بِعِزِّهِ کُلَّ ضَلالَةٍ، وَ اقْصِمْ بِهِ کُلَّ جَبَّارٍ، وَ أَخْمِدْ بِسَیْفِهِ کُلَّ نارٍ، وَ أَهْلِکْ بِعَدْلِهِ جَوْرَ کُلِّ جَائِرٍ، وَ أَجْرِ حُکْمَهُ عَلَی کُلِّ حُکْمٍ، وَ أَذِلَّ بِسُلْطانِهِ کُلَّ سُلْطَانٍ؛ اللَّهُمَّ أَذِلَّ کُلَّ مَنْ نَاوَاهُ، وَ أَهْلِکْ کُلَّ مَنْ عَادَاهُ، وَ امْکُرْ بِمَنْ کَادَهُ، وَ اسْتَأْصِلْ مَنْ جَحَدَهُ حَقَّهُ، وَ اسْتَهَانَ بِأَمْرِهِ، وَ سَعَی فِی إِطْفَاءِ نُورِهِ، وَ أَرَادَ إِخْمَادَ ذِکْرِهِ؛ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفی، وَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی، وَ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ، وَ الْحَسَنِ الرِّضا، وَ الْحُسَیْنِ الْمُصَفَّی، وَ جَمِیعِ الْأَوْصِیَاءِ مَصَابِیحِ الدُّجَی، وَ أَعْلامِ الْهُدَی، وَ مَنَارِ التُّقَی، وَ الْعُرْوَةِ الْوُثْقَی، وَ الْحَبْلِ الْمَتِینِ، و الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ؛ وَ صَلِّ عَلَی وَ لِیِّکَ وَ وُلَاةِ عَهْدِکَ، وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ وُلْدِهِ، وَ مُدَّ فِی أَعْمارِهِمْ، وَ زِدْ فِی آجالِهِمْ، وَ بَلِّغْهُمْ أَقْصَی آمالِهِمْ دِیناً وَ دُنْیا وَآخِرَةً، إِنَّکَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ. |
اے معبود! حضرت محمدؐ پر رحمت فرما جو رسولوں کے سردار اور آخری نبی ہیں اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں وہی جو روز میثاق میں برگزیدہ، عالم اشباح میں منتخب، ہر آفت سے دور، ہر عیب سے پاک نجات کے لیے امیدگاہ، شفاعت کا سہارا، کہ اللہ کا دین انہی کے سپرد ہوا ہے اے معبود! محمدؐ کی ذات کو بلندی، ان کی برہان کو عظمت، ان کی حجت کو کامیابی، ان کے درجے کو رفعت عطا فرما ان کے نور کو چمک اور ان کے چہرے کو روشنی دے۔ ان کو فضیلت، بزرگی، وسیلہ اور بلند درجہ عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر فائز فرما کہ ان پر اگلے اور پچھلے سبھی رشک کریں اور امیر المومنینؑ پر رحمت فرما جو رسولوں کے وارث، روشن چہرے والوں کے رہنما، وصیّوں کے سردار اور عالمین کے پالنے والے کی حجت ہیں اور حسنؑ ابن علیؑ پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا، رسولوں کے وارث، اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور حسینؑ بن علیؑ پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا، رسولوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور علیؑ بن الحسینؑ پر رحمت فرما۔ جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور محمدؑ بن علیؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا اور مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور جعفرؑ بن محمدؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، نبیوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور موسیٰؑ بن جعفرؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور علیؑ بن موسیٰؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور محمدؑ بن علیؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور علیؑ بن محمدؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور حسنؑ بن علیؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، مرسلین کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اور خلف ہادی و مہدیؑ پر رحمت فرما جو مومنوں کے پیشوا، نبیوں کے وارث اور عالمین کے رب کی حجت ہیں اے معبود! حضرت محمدؐ اور ان کے اہلبیت پر رحمت فرما جو ہدایت کرنے والے امامؑ، حق گو علماء، نیکوکار، پرہیزگار، تیرے دین کے ستون تیری توحید کے ارکان، تیری وحی کے ترجمان، تیری مخلوق پر تیری حجت اور زمین پر تیرے نائب ہیں جن کو تو نے اپنی ذات کے لیے چنا، اپنے بندوں پر انہیں بزرگی دی، اپنے دین کے لیے انہیں پسند کیا اپنی معرفت میں انہیں خصوصیت بخشی، اپنے کرم سے ان کو بزرگ بنایا، ان کو اپنی رحمت کے سایہ میں ڈھانپ لیا اپنی نعمت سے ان کی تربیت کی، اپنی حکمت کی غذا دی اور انہیں اپنے نور کا لباس پہنایا اپنے ملکوت میں بلند کیا اور انہیں اپنے فرشتوں سے گھیرے رکھا اور اپنے نبی کے ذریعے انہیں عزت دی، محمدؐ پر اور ان کی آلؑ پر تیری رحمت ہو اے معبود! محمدؐ پر اور ائمہؑ پر رحمت فرما وہ رحمت جو پاکیزہ، بڑھنے والی، کثیر، دائمی اور پسندیدہ ہو اور سوائے تیرے کوئی اس کا احاطہ نہ کر سکے اور جو تیرے ہی علم میں سما سکے اور سوائے تیرے کوئی اس کا اندازہ نہ کر سکے اور اے معبود! اپنے ولی پر رحمت فرما جو تیرے امر کو قائم کرنے والا، تیری شریعت کو زندہ کرنے والا، تیری طرف بلانے والا، تیری طرف رہنمائی کرنے والا تیری مخلوق پر تیری حجت، تیری زمین پر تیرا خلیفہ اور تیرے بندوں پر تیرا گواہ ہے اے معبود! اس کی نصرت میں اضافہ اور اس کی عمر طولانی فرما اور اس کی طولانی بقا سے زمین کو زینت دے اے معبود! اسے حاسدوں کے ظلم سے بچا، مکاروں کے فریب سے محفوظ رکھ، اس کے بارے میں ظالموں کے ارادے کو ناکام بنا دے اور اسے جابروں کے ہاتھوں سے رہائی دے اے معبود! اپنے ولی کو وہ چیزیں دے اور اس کی اولاد، اس کے شیعوں، اس کی رعیت، اس کے خاص و عام ساتھیوں اور اس کے دشمنوں کو اور تمام دنیا والوں کو وہ چیزیں دے جن سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو چین ملے اور اس کی بہترین امیدوں کو دنیا و آخرت میں پورا فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اے معبود! اس کے ذریعے دین کی محو شدہ باتوں کو ظاہر فرما۔ اس کے ہاتھوں اپنی کتاب کے بدلے گئے احکام زندہ فرما تیرے احکام جو تبدیل ہو چکے ہیں اس کے ذریعے انہیں ظاہر فرما کہ تیرا دین تازہ ہو جائے اور اس ولی کے ہاتھوں دین نئی شان سے پاک و خالص ہو جائے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہ رہے، نہ اس میں باطل رہے اور نہ بدعت موجود ہو اے معبود! اپنے ولی کے نور سے تاریکیوں کو روشنی دے۔ اس کی قوت سے ہر بدعت کو مٹا دے اس کی عزت کے واسطے سے ہر گمراہی ختم کر دے، اس کے ذریعے ہر جابر کی کمر توڑ دے، اس کی تلوار سے ہر فتنے کی آگ بجھا دے اس کے عدل کے ذریعے ہر ظالم کے ظلم کو ختم کر دے، اس کے حکم کو ہر حکم سے بالاتر کر دے اور اس کی سلطنت کے ذریعے ہر سلطان کو پست کر دے اے معبود! اپنے ولی کے ہر مخالف کو ہیچ کر دے اور اس کے دشمنوں کو ہلاک کر دے، جو اسے دھوکہ دے اسے ناکام کر دے جو اس کے حق کا منکر ہو اس کی جڑ کاٹ دے اور اس کے حکم کو اہمیت نہ دے، جو کہ اس کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہو اور اس کے ذکر مٹانے کا ارادہ کرے اے معبود! محمد مصطفیٰؐ پر رحمت فرما اور علی مرتضیٰؑ فاطمہ زہراؑ، حسنؑ مجتبیٰؑ اور حسینؑ مصفّیٰ اور آنحضرتؐ کے تمام اوصیاء پر رحمت فرما جو روشن چراغ اور ہدایت کے نشان، تقویٰ کے مینار، مضبوط رسی، پائیدار ڈوری اور صراط مستقیم ہیں اور اپنے ولی علیؑ پر رحمت فرما اور ان کے جانشینوں پر جو ان کی اولاد میں سے امامؑ ہیں، ان کی عمریں دراز فرما، ان کی مدت میں اضافہ کر دے اور ان کی تمام امیدیں پوری فرما جو دنیا و آخرت سے متعلق ہیں، کہ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے |
حوالہ جات
- ↑ طوسى، مصباح المتہجّد، 1411ھ، ج1، ص406۔
- ↑ ابنطاووس، جمال الأسبوع، 1330ھ، ص495۔
- ↑ ابنمشہدى، المزار الكبير، 1419ھ، ص667۔
- ↑ كفعمى، البلد الأمين، 1418ھ، ص79۔
- ↑ موسوی اصفہانی، مکیال المکارم، 1398ھ، ج2، ص70۔
- ↑ مفاتیحالجنان، صلوات ابوالحسن ضراب اصفہانی، اعمال روز جمعہ، ص93۔
- ↑ طوسى، مصباح المتہجّد، 1411ھ، ج1، ص406؛ ابنطاووس، جمال الأسبوع، 1330ھ، ص495؛ ابنمشہدى، المزار الكبير، 1419ھ، ص667؛ كفعمى، البلد الأمين، 1418ھ، ص79۔
- ↑ طوسى، الغيبۃ، 1411ھ، ص277۔
- ↑ طوسى، الغيبۃ، 1411ھ، ص277۔
- ↑ «از صلوات ابوالحسن ضراب اصفہانی چہ میدانیم؟»، پایگاہ جامع اطلاعرسانی امام مہدی(عج)۔
- ↑ برمو، دالوند، «بیان برخی از ویژگیہای امام زمان(عج) در صلوات ابوالحسن ضراب اصفہانی»، ص41-50۔
مآخذ
- ابنطاووس، على بن موسى، جمال الأسبوع بكمال العمل المشروع، قم، دار الرضى، 1330ھ۔
- ابنطاووس، على بن موسى، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، محقق: جواد قيومى اصفہانى، قم، دفتر تبليغات اسلامى، 1376ہجری شمسی۔
- ابنمشہدى، محمد بن جعفر، المزار الكبير، مصحح جواد قيومى اصفہانى، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم، 1419ھ۔
- برمو، بہنام؛ دالوند، یاسر، «بیان برخی از ویژگیہای امام زمان(عج) در صلوات ابوالحسن ضراب اصفہانی»، سخن جامعہ، شمارہ9، سال پنجم، تابستان 1395ہجری شمسی۔
- طوسى، محمد بن حسن، الغيبۃ، مصحح عباداللہ تہرانى و علی احمد ناصح، قم، دار المعارف الإسلاميۃ، 1411ھ۔
- طوسى، محمد بن حسن، مصباح المتہجّد و سلاح المتعبّد، بیروت، مؤسسۃ فقہ الشيعۃ، 1411ھ۔
- كفعمى، ابراہيم بن على عاملى، البلد الأمين و الدرع الحصين، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، 1418ھ۔
- مفاتیح الجنان۔
- موسوی اصفہانی، محمدتقی، مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم عجل اللہ فرجہ الشریف، قم، المطبعہ العلمیہ، 1398ھ۔
- «از صلوات ابوالحسن ضراب اصفہانی چہ می دانیم؟»، پایگاہ جامع اطلاع رسانی امام مہدی(عج)، تاریخ درج: 17 مئی 2015ء، تاریخ مشاہدہ: 20 فروری 2026ء۔