مسودہ:سید جواد حسینی خامنہ ای
| شیعہ مجتہد | |
|---|---|
| کوائف | |
| مکمل نام | سید جواد حسینی خامنہ ای |
| نسب | سادات حسینی |
| تاریخ ولادت | 3 دسمبر سنہ 1895ء |
| تاریخ وفات | 5 جولائی سنہ 1986ء بمطابق 27 شوال سنہ 1406ھ |
| مدفن | مشہد، حرم امام رضاؑ |
| نامور اقرباء | سید علی حسینی خامنہ ای (بیٹا) • سید مجتبی حسینی خامنہ ای (پوتا) • سید ہاشم میردامادی نجف آبادی (سسر) • محمد واعظ زاده خراسانی (ہم زلف) |
| علمی معلومات | |
| مادر علمی | تبریز • مشہد • نجف |
| اساتذہ | آقا حسین قمی • میرزامحمد آقا زاده خراسانی • میرزا مہدی اصفہانی |
| اجازہ اجتہاد از | محمد حسین نائینی • سید ابو الحسن اصفہانی • آقا ضیاء الدین عراقی |
| خدمات | |
| متفرقات | تدریس • امامت مسجد صدیقیون بازار مشہد اور مسجد جامع گوہرشاد |
سید جواد حسینی خامنہ ای (1895-1986ء) شیعہ مجتہد، حوزہ علمیہ مشہد کے علماء میں تھے۔ سید جواد خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے والد تھے۔
انہوں نے اپنی حوزوی تعلیم تبریز، مشہد اور نجف میں حاصل کی اور نجف کے اساتذہ سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا۔ مشہد واپس آنے کے بعد انہوں نے حوزوی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک مشہد میں مقیم رہے۔ وہ مشہد میں مسجدِ آذربایجانیوں اور مسجد گوہرشاد کے امام جماعت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
علمی اور مذہبی فعالیتیں
سید جواد حسینی خامنہ ای مشہد میں مقیم شیعہ مجتہد تھے۔ وہ سنہ 1895ء میں نجف میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ تبریز واپس آگئے۔ ان کے والد سید حسین خامنہ ای دینی علوم کے حصول کے لیے نجف گئے تھے۔[1]
انہوں نے ابتدائی دینی علوم تبریز کے مدارس دینیہ میں حاصل کیے[2] اور سنہ 1336ھ میں مشہد چلے گئے، یہاں حوزہ علمیہ مشہد میں تقریباً 9 سال تک تعلیم حاصل کی۔[3] بعض ذرائع کے مطابق، تہران اور مشہد کے راستے میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث انہوں نے بادکوبہ، بحیرہ خزر اور عشق آباد کے راستے مشہد کا سفر کیا۔[4]
سید جواد حسینی خامنہ ای نے حوزہ علمیہ مشہد میں فقہ و اصول کی تعلیم آقا حسین قمی، میرزا محمد آقازادہ خراسانی (کفائی)، میرزا مہدی اصفہانی اور فاضل خراسانی سے حاصل کی، جبکہ فلسفہ آقا بزرگ حکیم شہیدی اور اسد اللہ یزدی سے پڑھا۔ سنہ 1345ھ میں وہ مزید تعلیم کے لیے نجف گئے، یہاں محمد حسین نائینی، سید ابو الحسن اصفہانی اور آقا ضیاء عراقی سے تعلیم حاصل کی اور ان سے اجازہ اجتہاد بھی حاصل کیا۔[5] نجف میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مشہد واپس آئے اور حوزوی علوم کی تدریس میں مشغول ہوگئے۔
وہ اپنے دور کے بعض دیگر علماء، مثلاً میرزا حسین عبائی، سید علی اکبر خوئی اور میرزا حبیب ملکی کے ساتھ روزانہ علمی مباحثے بھی کرتے تھے جو کئی سال تک جاری رہے۔[6]
فرائضِ امام جماعت کی ادائیگی
سید جواد خامنہ ای مشہد کے بازار میں واقع مسجدِ صدیقیوں، المعروف مسجدِ آذربایجانیوں میں امامتِ جماعت کے فرائض انجام دیتے تھے[7] ساتھ ہی جامع مسجد گوہرشاد میں بھی نماز جماعت کی امامت کرتے تھے۔[8] ان کی زندگی کے تذکروں میں ان کا تقویٰ، زہد اور دنیاوی امور سے بے رغبتی کا ذکر ملتا ہے۔[9] شریف رازی نے اپنی کتاب "گنجینہ دانشمندان" میں بھی انہیں ایک متقی، فاضل اور صاحبِ ورع عالم کے طور پر متعارف کرایا ہے۔[10]

خاندان
سید جواد خامنہ ای ساداتِ حسینی میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے ایران کے شہر تفرش میں مدفون سلطان سید محمد تک پہنچتا ہے اور ان کے ذریعے ان کا نسب امام زین العابدینؑ تک جا ملتا ہے۔[11]
شریک حیات اور اولاد
سید جواد حسینی خامنہ ای کی پہلی اہلیہ تقریباً چالیس سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اس اہلیہ سے ان کی تین بیٹیاں تھیں۔[12] اس کے بعد انہوں نے سید ہاشم میردامادی نجف آبادی کی بیٹی خدیجہ میردامادی سے شادی کی۔[13] دوسری اہلیہ سے ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے؛ بیٹوں کے نام سید محمد، سید علی، بدرالسادات، سید ہادی اور سید محمد حسن تھے۔ ان کے بیٹے سید علی خامنہ ای بعد میں جمہوری اسلامی ایران کے رہبر اعلیٰ بنے۔
وفات
سید جواد خامنہای 5 جولائی سنہ 1986ء بمطابق 27 شوال 1406ھ کو وفات پاگئے۔[14] مشہد کے اُس وقت کے امام جمعہ ابو الحسن شیرازی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ انہیں حرم امام رضاؑ میں ضریح امام رضاؑ کے پیچھے دارالفیض کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔[15] امام خمینی نے سید علی حسینی خامنہ ای کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں سید جواد خامنہ ای کو متقی اور باعمل عالم قرار دیا۔[16]

سید جواد خامنہ ای کے بارے میں لکھے گئے قلمی آثار
سنہ 2023ء میں جامع مسجد تبریز میں سید جواد حسینی خامنہ ای کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ جسے مہدی قزلی نامی مصنف نے تحریر کی ہے۔[17] اسی طرح سنہ 2025ء میں "روایت آقا" نامی کتاب کی اشاعت بھی ہوئی ہے جس میں سید علی حسینی خامنہ ای کی اپنے والد سید جواد حسینی خامنہ ای کے بارے میں بیان کردہ یادداشتیں شامل ہیں۔[18]
حوالہ جات
- ↑ «نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی شہید سیدعلی حسینی خامنہای»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ جلالی، «خامنہای-سید جواد»، ص176۔
- ↑ جلالی، «خامنہای-سید جواد»، ص176۔
- ↑ بہبودی، شرح اسم، 1391شمسی۔
- ↑ جلالی، «خامنہای-سید جواد»، ص176-177۔
- ↑ قلیزادہ علیاری، «خاندان خامنہای»، ص972۔
- ↑ بہبودی، شرح اسم، 1391شمسی، ص15۔
- ↑ جلالی، «خامنہای-سید جواد»، ص177۔
- ↑ قلیزادہ علیاری، «خاندان خامنہای»، ص972۔
- ↑ شریفرازی، گنجینہ دانشمندان، 1352شمسی، ج7، ص128۔
- ↑ «نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی شہید سیدعلی حسینی خامنہای»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ ««خصوصیات پدر ومادر حضرت آیت اللہ خامنہ ای»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «گذری بر زندگی آیتاللہ سید جواد خامنہای»، سایت مرکز اسناد انقلاب اسلامی۔
- ↑ حائری، روزشمار شمسی، 1386شمسی، ص254۔
- ↑ جلالی، «خامنہای- سید جواد»، ص177۔
- ↑ خمینی(امام)، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج20، ص71۔
- ↑ «رونمایی از کتاب زندگی اینجاست»، پایگلاہ خبری خبرآنلاین۔
- ↑ «کتاب روایت آقا رونمایی شد»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
مآخذ
- بہبودی، ہدایت اللہ، شرح اسم، تہران: موسسہ مطالعات و پژوہشہای سیاسی، 1391ہجری شمسی۔
- جلالی، غلامرضا، «خامنہای-سید جواد»، در مشاہیر مدفون در حرم رضوی، زیر نظر غلامرضا جلالی، مشہد، بنیاد پژوہشہای اسلامی، 1386ہجری شمسی۔
- حائری، علی، روزشمار شمسی، تہیہکننندہ: مرکز پژوہشہای صدا و سیما، قم، دفتر عقل، 1386ہجری شمسی۔
- خمینی(امام)، سید روحاللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ہجری شمسی۔
- رونمایی از کتاب زندگی اینجاست(زندگی اینجاست نامی کتاب کی تقریب رونمائی)۔ خبرآنلاین ایجنسی، تاریخ مشاہدہ: 6 مئی 2026ء۔
- شریفرازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، تہران، اسلامیہ، 1352ہجری شمسی۔
- قلیزادہ علیاری، مصطفی، «خاندان خامنہای»، در گلشن ابرار، جلد دوم، قم، نشر معروف، 1382ہجری شمسی۔
- «کتاب روایت آقا رو نمایی شد»(کتاب "روایت آقا" کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی)، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ مشاہدہ: 6 مئی 2026ء۔
- «نگاہی گذرا بہ زندگینامہی حضرت آیتاللہالعظمی شہید سیدعلی حسینی خامنہای»(حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای کی سوانح کا ایک سرسری جائزہ)، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، درج مطلب: 21 مارچ 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 9 اگست 2026ء۔
«گذری بر زندگی آیتاللہ سید جواد خامنہای»(سید جواد خامنہ ای کی سوانح کا ایک سرسری جائزہ)، سایت مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تاریخ درج مطلب: 6 جولائی 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 9 اگست 2026ء۔
- «[https://farsi.khamenei.ir/newspart-index?tid=4833 «خصوصیات پدر ومادر حضرت آیت اللہ خامنہ ای»(حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے والدین کی اخلاقی و فکری خصوصیات)، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 2 فروری 1998ء، تاریخ مشاہدہ: 9 اگست 2026ء۔