مسودہ:سورہ آل عمران آیت نمبر 140
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | آل عمران |
| آیت نمبر | 140 |
| پارہ | 4 |
| شان نزول | جنگ احد |
| مضمون | مسلمانوں کی دلجوئی کرنا اور انہیں شکستوں اور زمانے کے نشیب و فراز میں مایوسی سے بچنے کی تلقین کرنا |
| مربوط آیات | سورہ آل عمران آیت نمبر 139، سورہ آل عمران آیت نمبر 141، سورہ نساء آیت نمبر 104 |
سورہ آل عمران کی آیت 140 جنگ احد میں مشرکین کے مقابلے میں مسلمانوں کو پیش آنے والی شکست کے ازالہ کے لیے مسلمانوں کو تسلی دینے اور ان کے حوصلے بلند کرنے سے متعلق بحث کرتی ہے۔ اس آیت میں جنگ اُحد میں مسلمانوں کو پہنچنے والے نقصان کا جنگ بدر میں مشرکین کو پہنچنے والے نقصان سے تقابل کرتے ہوئے اہل ایمان کو تسلی دیا گیا ہے اور انہیں کمزوری، غم اور مایوسی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ آیت ایک اہم سنت الہی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جس کے مطابق دنیا کی زندگی نشیب و فراز، تلخی اور خوشی، شکست اور کامیابی سے عبارت ہے۔ مفسرین کے مطابق اس سنت الٰہی کا ایک اثر یہ ہے کہ مسلمان دنیا کی عارضی نعمتوں کے اسیر نہ بنیں، بلکہ ان کا ایمان اخلاص اور پختہ یقین پر قائم ہو۔ آیت کے ایک اور حصے میں بتایا گیا ہے کہ زمانے کے ان اتار چڑھاؤ کے ذریعے سچے مؤمن غیر مؤمن سے ممتاز ہو جاتے ہیں۔
جنگ اُحد کے بعد مسلمانوں کو تسکین و تشفی
مفسرین کے نزدیک سورۂ آلِ عمران کی آیت 140 مسلمانوں کو تسکین و تشفی دینے[1] اور جنگ احد میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد ان کے حوصلے بلند کرنے کے لیے نازل ہوئی۔[2] علامہ محمد حسین طباطبائی کا کہنا ہے کہ یہ آیت اس ہدایت کی علت بیان کرتی ہے جو اس سے پہلے والی آیت میں دی گئی کہ "کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو"۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے مؤمنین اور ان کے دشمنوں کے حالات اور گردش دوراں کی حکمتیں بیان کر کے مسلمانوں کو سستی اور مایوسی سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔[3]
شیعہ مفسر ابو الفتوح رازی کے مطابق جنگ اُحد میں ستر یا پچھتر مسلمان شہید ہوئے اور ستر افراد زخمی ہوئے، جبکہ جنگِ بدر میں ستر مشرک مارے گئے تھے اور ستر قیدی بنائے گئے تھے۔[4] اسی لیے اس آیت میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی کہ وہ مایوس نہ ہوں بلکہ اپنی شکست کی تلافی کے لیے کوشش کریں۔[5]
إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ﴿١٤٠﴾
اگر تمہیں زخم لگا ہے تو اس جیسا زخم ان لوگوں (کافروں) کو بھی (جنگ بدر میں) لگ چکا ہے۔ یہ تو ایام (زمانہ کے اتفاقات اور نشیب و فراز) ہیں جنہیں ہم لوگوں میں باری باری ادلتے بدلتے رہتے ہیں (تمہیں یہ چوٹ اس لئے لگی) کہ خدا (خالص) ایمان والوں کو جان لے۔ اور بعض کو (چھانٹ کر) شہید (گواہ) بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
سورہ آل عمران آیت نمبر 140
"اگر تمہیں کوئی زخم پہنچا ہے تو اس قوم کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ان لوگوں کو نمایاں کر دے جو ایمان لائے ہیں، اور تم میں سے بعض کو شہادت (یا گواہی) کا مقام عطا کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۂ آلِ عمران، آیت 140)
روایت میں آیا ہے کہ جب رسول اکرمؐ جنگ اُحد سے واپس تشریف لائے تو آپؐ نے عورتوں اور بچوں کو اپنے شہداء پر نوحہ و فغاں کرتے دیکھا۔ اس موقع پر آپؐ نے درگاہ الہی میں عرض کیا: "اے اللہ! تیرے نبی کے ساتھ یہ کیسا سلوک کیا جارہا ہے!" اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔[6]
زندگی کے نشیب و فراز اور سنت الہی
آیت کے ایک حصے میں بیان کیا گیا ہے کہ کامیابی اور ناکامی کے دن لوگوں کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں۔[7] بعض مفسرین کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کی ایک دائمی سنت کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی زندگی ہمیشہ نشیب و فراز، تلخ و شیریں واقعات، شکست اور کامیابی سے عبارت ہے اور کامیابی ہمیشہ ایک ہی گروہ کے حصے میں نہیں آتی۔[8] چونکہ زندگی کے یہ اتار چڑھاؤ دائمی نہیں ہوتے، اس لیے جنگ میں پیش آنے والی شکست کو بھی دائمی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کے اسباب کا جائزہ لے کر آئندہ کامیابی کی راہیں تلاش کرنی چاہیے۔[9] یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کبھی گردش دوراں کے باعث ظالم یا مشرک اہلِ ایمان پر غالب آ جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ انہیں پسند کرتا ہے یا ان کی مدد کرتا ہے، بلکہ اس میں مختلف مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، جن میں مومنین کے گناہوں کی بخشش بھی شامل ہے۔[10]
اللہ کا مؤمنین کے بارے میں علم
آیت کے جملے «وَلِيَعْلَمَ اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا» میں اللہ تعالیٰ کا مؤمنین کے بارے میں مکمل علم و آگاہی کا ذکر آیا ہے[11] اور کہا گیا ہے کہ زمانے کے حالات کے ذریعے سچے مؤمن، غیر مؤمن سے ممتاز ہوجاتے ہیں۔[12] علامہ طباطبایی کے مطابق اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو پہلے علم نہیں تھا، کیونکہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مؤمنین کا وہ ایمان جو پوشیدہ تھا، عملی میدان میں ظاہر ہوجائے۔ ان کے نزدیک اللہ کی سنت یہی ہے کہ انسانوں کی حقیقت مختلف واقعات اور اسباب کے ذریعے آشکار ہوتی ہے۔[13] بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں اللہ کے علم کو ثابت کرنا مقصود نہیں، بلکہ معلوم (یعنی مؤمنین کے ایمان) کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔[14] بعض دوسرے مفسرین کے مطابق اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اولیاء سچے مومنین کو پہچان لیں، نہ یہ کہ خود اللہ ان کو پہچانے، کیونکہ اللہ تو پہلے ہی سب کچھ جانتا ہے۔ اس نسبت کا مقصد اولیائے الٰہی کو مومنین پہچنوا کر ان کی عظمت کو بیان کرنا ہے۔[15]
آیت میں "شہداء" سے مراد
آیت کے الفاظ «وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُہَدَاءَ» کو جنگ احد کی شکست کے اہم نتائج میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔[16] شیخ طوسی اور ناصر مکارم شیرازی جیسے مفسرین کے نزدیک یہاں "شہداء" سے مراد وہ لوگ ہیں جو راہِ خدا میں شہید ہوئے ہیں۔[17] مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ اس شکست کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ مسلمانوں نے اسلام کی راہ میں شہداء پیش کیے ہیں، لہٰذا انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ اسلام انہیں آسانی سے نہیں ملا تاکہ وہ اسے آسانی سے کھو دیں۔[18] اس کے برعکس علامہ طباطبائی کا کہنا ہے کہ قرآنِ مجید میں لفظ "شہید" جنگ میں قتل ہونے والے شخص کے معنی میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ یہ بعد کے اسلامی معاشرے میں رائج ہونے والی اصطلاح ہے۔[19] اسی بنا پر انہوں نے؛ اور ان کی طرح بعض دیگر مفسرین مثلاً ابو الفتوح رازی نے، یہاں "شہداء" کے معنی گواہ اور شاہد کیا ہے۔[20] اس تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان کے بلند مقام کی وجہ سے لوگوں کے اعمال اور گناہوں پر گواہ بنایا ہے،[21] یا یہ کہ اللہ چاہتا تھا کہ جنگ اُحد کے ذریعے ایسے گواہ قائم ہوں جو بعض مسلمانوں کی نافرمانی پر بعد والوں کے لیے بھی حجت بن جائیں۔[22]
حوالہ جات
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج2، ص600۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص107۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص27۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، 1408ھ، ج5، ص84؛ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008ء، ج2، ص133۔
- ↑ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج2، ص345؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص108۔
- ↑ واحدی، اسباب نزول القرآن، 1411ھ، ص128؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، 1408ھ، ج5، ص84۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص28؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص28؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص845؛ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج2، ص346؛ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008ء، ج2، ص134۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، 1408ھ، ج5، ص85۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص844؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص28و29۔
- ↑ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج2، ص347۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص844؛ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج2، ص347۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج2، ص602؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109؛ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008ء، ج2، ص134۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص29۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، 1408ھ، ج5، ص86؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص29؛ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج2، ص347۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص845۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص109و110۔
مآخذ
- ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تصحیح محمدمہدی ناصح و محمدجعفر یاحقی، مشہد، بنیاد پژوہشہاى اسلامى آستان قدس رضوى، 1408ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، بیتا۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
- طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر؛ تفسیر القرآن العظیم، اردن-اربد، دار الکتاب الثقافی، پہلی اشاعت، 2008ء۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح فضلاللہ یزدى طباطبایی و سید ہاشم رسولى محلاتی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- کاشانی، ملا فتحاللہ، منہج الصادقین فی الزام المخالفین، تہران، کتابفروشی و چاپخانہ محمدحسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق کمال بسیونى زغلول، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمد علی بیضون، پہلی اشاعت، 1411ھ۔