مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:بعثت انبیاء

ویکی شیعہ سے

بعثت انبیاء سے مراد خداوندِ متعال کی جانب سے بعض انسانوں کو نبوت کے لئے منتخب کرنا ہے، تاکہ وہ وحی کو حاصل کرنے اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے ذریعے انسانوں کی ہدایت کریں۔ قرآن مجید کے مطابق بعثت کے اہم مقاصد میں توحید کی دعوت، الٰہی معارف کی تعلیم، تزکیہ، عدل کا قیام اور بندگانِ خدا پر اتمام حجت شامل ہیں۔ مسلمان متکلمین نے بعثت کی ضرورت کو انسان کی ہدایتِ الٰہی کی طرف محتاج ہونے، قاعدہ لطف اور حکمتِ الٰہی کی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمان فلاسفہ نے انسان کی اجتماعی زندگی، سماجی انصاف اور الٰہی قانون کی طرف محتاج ہونے کو بعثت کی وجوہات میں شمار کیا ہے، جب کہ عرفاء نے روحانی ارتقا اور حقائق کی معرفت کے لئے نبوت اور شریعت کو ضروری قرار دیا ہے۔

بعثت کی ماہیت کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ مسلمان متکلمین کے معروف نظریے کے مطابق، بعثت خداوندِ متعال کی جانب سے انبیاء کے انتخاب کو کہا جاتا ہے اور وحی وہ الٰہی پیغام ہے جسے انبیاء حاصل کرکے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض مسلمان روشن خیال مفکرین نے دینی تجربے کی بنیاد پر انبیاء کے باطنی تجربات اور روحانی ارتقا کے تناظر میں بعثت اور وحی کی تشریح کی ہے۔ اس نظریے کے ناقدین کے مطابق یہ تشریح وحی کے من جانب اللہ ہونے، خطا سے محفوظ ہونے اور انبیاء کا خدا کی طرف سے منتخب ہونے کے عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتی۔

تعریف اور اہمیت

بعثت انبیاء سے مراد خدا کی جانب سے بعض انسانوں کو منتخب کرنا ہے تاکہ وہ وحیِ الٰہی حاصل کریں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں۔[1] بعثت کا مقصد انسان کی ہدایت اور اس کے کمال تک پہنچنے کے لئے زمینہ فراہم کرنا ہے۔[2] علامہ محمد باقر مجلسی (وفات: ۱۱۱۰ھ) نے انبیاء کی بعثت سے متعلق روایات کو اپنی کتاب بحار الانوار میں «معنی النبوة و علة بعثة الأنبیاء...» کے عنوان کے تحت جمع کیا ہے۔[3]

بعثت کی ضرورت علمِ کلام کے مباحث میں سے ہے اور اسے افعالِ الٰہی، تکلیف اور نبوتِ عامہ کے مباحث میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔[4] مسلمان متکلمین نے بعثت کے امکان اور وجوب،[5] بعثت کا نیک اور مطلوب ہونے،[6] بعثت کے مقاصد[7] اور اس سے متعلق شبہات کے جوابات[8] کے ضمن میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے۔

انبیا کی بعثت کی ضرورت اور حکمت

مسلمان مفکرین نے مختلف پہلوؤں سے بعثت کی ضرورت کا جائزہ لیا ہے۔[9] قرآن میں توحید کی دعوت، الٰہی معارف کی تعلیم، تزکیہ، جہل اور گمراہی سے نجات، عدل کا قیام، اتمام حجت[10] اور معاشرتی اختلافات کا خاتمہ[11] پیغمبروں کی بعثت کے مقاصد یا اس کی وجوہات میں شمار ہوئے ہیں۔ مسلمان متکلمین، فلسفیوں اور عارفین نے بھی الٰہی ہدایت، معاشرتی عدل اور روحانی ارتقا کو بعثتِ انبیا کی وجوہات میں شمار کیا ہے۔

  • الٰہی ہدایت

مرتضیٰ مطہری کے مطابق، انسان کی الٰہی ہدایت کی ضرورت مسلمان متکلمین کے نزدیک بعثت کی ایک بنیادی دلیل ہے۔[12] ان کے نزدیک انسان اپنی عقل کے ذریعے بعض اچھائیوں، برائیوں اور زندگی کے راستوں کو پہچان سکتا ہے، لیکن سعادت اور نجات تک پہنچنے کے لیے درکار تمام معارف اور احکام تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔ اسی لیے اسے وحیِ الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے۔[13] متکلمین نے بعثت کو قاعدہ لطف کے مصادیق میں بھی شمار کیا ہے۔ اس قاعدے کے مطابق، خداوندِ متعال انسان کو اطاعت کے قریب کرنے اور گناہ سے دور رکھنے کے لیے ضروری اسباب فراہم کرتا ہے۔[14] علامہ حلی کا بھی عقیدہ ہے کہ حکمتِ الٰہی کے مطابق، چونکہ انسان کو کمال تک پہنچنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ضروری رہنمائی اسے فراہم کی جانی چاہیے۔[15] بعض روایات میں بھی پیغمبروں کی بعثت کو حکمتِ الٰہی اور انسان کی الٰہی رہنماؤں سے وابستگی کی ضرورت سے مربوط قرار دیا گیا ہے۔[16]

  • عدل اور شریعت

مسلمان فلسفیوں نے انسانی معاشرت اور قانون کی ضرورت کو بھی بعثت کی وجوہات میں شمار کیا ہے۔ فارابی کے مطابق، انسان کا کمال تک پہنچنا مدینہ فاضلہ میں زندگی گزارنے پر منحصر ہے اور اس کے رہبر کے لیے وحیانی ہدایت ضروری ہے۔[17] سہروردی معاشرتی زندگی کے لیے سنت اور عدل کو ضروری سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک نبی اور ولی کے بغیر اس کا قیام ممکن نہیں۔[18] ابن سینا انسان کو باہمی تعاون کا محتاج قرار دیتے ہیں اور تعاون کے تحقق کو عدل پر منحصر سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عدل کے لیے شریعت ضروری ہے، جب کہ شریعت ایسے الٰہی قانون ساز کی جانب سے آنی چاہیے جس کے پاس خدا سے اپنے ارتباط کو ثابت کرنے کے لیے معجزہ ہو۔[19] ملاصدرا کا بھی عقیدہ ہے کہ معاشرے کے رہبر کو احساس، تخیل اور تعقل کے مراتبِ کمال تک پہنچا ہوا ہونا چاہیے تاکہ وہ وحی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔[20]

  • روحانی ارتقا

مسلمان عارفین نے بھی انسان کے روحانی ارتقا کے لیے نبوت اور شریعت کو ضروری قرار دیا ہے۔ ابن عربی کے مطابق، شریعت کے بعض معارف ایسے امور میں سے ہیں جن تک انسان تنہا رسائی حاصل نہیں کرسکتا اور ان کے حصول کے لیے اسے پیغمبروں کی ضرورت ہوتی ہے۔[21] سید حیدر آملی شریعت کو ایک الٰہی امر قرار دیتے ہیں جس کے قیام کی ذمہ داری انبیا اور اولیا پر عائد ہوتی ہے۔[22] ان کے نزدیک شریعت کے بغیر باطنی حقائق تک پہنچنا ممکن نہیں۔[23] عبدالصمد ہمدانی بھی معنوی حقائق کی معرفت اور انسانی ارتقا کے لیے نبوت اور شریعت کو ضروری سمجھتے ہیں۔[24]

بعثت کی ماہیت

بعثت کی حقیقت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان نظریات کے درمیان بنیادی اختلاف بعثت کے سرچشمے اور وحی کے حصول میں پیغمبر کے کردار کی نوعیت سے متعلق ہے۔[25]

بعثت کا الٰہی سرچشمہ

مسلمان متکلمین کے معروف نظریے کے مطابق، پیغمبروں کی بعثت خداوندِ متعال کے انتخاب سے ہوتی ہے اور پیغمبر وحیِ الٰہی حاصل کرتا ہے۔[26] ان مفکرین کے مطابق، پیغمبر بعثت سے پہلے نفس کی پاکیزگی اور روحانی آمادگی کے ذریعے وحی حاصل کرنے کی اہلیت پیدا کرسکتا ہے؛ تاہم بعثت اور وحی کے حصول کے وقت وہ الٰہی پیغام وصول کرنے والا ہوتا ہے۔[27] اس نظریے کی رو سے، خداوندِ متعال حقائق کو اپنے منتخب بندے تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ انہیں لوگوں تک ابلاغ کرے، کیونکہ تمام انسان وحی حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔[28]

بعثت میں دینی تجربے کا کردار

اس کے برعکس، بعض مسلمان روشن خیال مفکرین نے دینی تجربے کے تصور کو بروئے کار لاتے ہوئے بعثت کی تشریح پیغمبر مرکز اور باطنی جوش و نمو پر مبنی نقطۂ نظر سے کی ہے۔ اس نظریے میں بعثت کو محض بیرونی پیغام کی ترسیل نہیں بلکہ پیغمبر کے روحانی ارتقا اور شخصیت کے پھیلاؤ کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔[29]

اقبال لاہوری (وفات: ۱۹۳۸ء) نے اپنی کتاب احیائے فکرِ دینی در اسلام میں عرفانی تجربے اور پیغمبرانہ تجربے کے فرق کی بنیاد پر بعثت کی حقیقت کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق، عارف عرفانی تجربے کے بعد مادی زندگی کی طرف واپس آنے کی خواہش نہیں رکھتا، جب کہ پیغمبر اس تجربے کے بعد لوگوں کے درمیان واپس آتا ہے اور معاشرے اور تاریخ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اقبال پیغمبر کی بعثت کو اس کی روحانی بیداری قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد ایک نئی دنیا کی تشکیل اور معاشرتی ڈھانچوں میں تبدیلی لانا ہے۔[30]

عبدالکریم سروش (پیدائش: ۱۳۲۴ش) نے بھی بسطِ تجربۂ نبوی اور رسولانہ خواب جیسے نظریات پیش کرکے بعثت کے عمل میں پیغمبر کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق، پیغمبر وحی کا محض غیر فعال وصول کنندہ نہیں بلکہ اس کی تشکیل اور صورت گری میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ سروش کے نزدیک، پیغمبر اپنے باطنی تجربے اور مجاہدے کے نتیجے میں حقائقِ الٰہی کا ادراک کرتا ہے اور انہیں اپنے زمانے کی زبان اور ثقافت کے قالب میں بیان کرتا ہے۔[31]

وحی کے تجربہ محور نظریے پر تنقید

دینی تجربے کو وحی کی بنیاد قرار دینے والے نظریے کے ناقدین بعثت کی تجربہ محور تشریح کو وحی کے الٰہی اور خطا سے محفوظ ہونے کے عقیدے کے منافی سمجھتے ہیں۔[32] ان کے مطابق، اگر بعثت کسی انسان کے دینی تجربے کا نتیجہ ہو تو پیغمبر اور دینی تجربہ رکھنے والے دوسرے افراد کے درمیان فرق واضح کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور نبوت کو ایک عام انسانی تجربہ سمجھا جاسکتا ہے۔[33]

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نظریے کے نتیجے میں پیغمبر کا مقام رسول اور الٰہی پیغام کے حامل سے گھٹ کر ایک ایسے عارف اور مصلح تک محدود ہوجاتا ہے جو معاشرے کی اصلاح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک، یہ نقطۂ نظر آسمانی کتابوں، بالخصوص قرآن، کے الٰہی ہونے کے عقیدے سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔[34]

حوالہ جات

  1. ↑ خطیبی کوشکک اور نگارش، فرہنگ شیعہ (کلام)، ص ۱۵۹۔
  2. ↑ خطیبی کوشکک اور نگارش، فرہنگ شیعہ (کلام)، ص ۱۵۹۔
  3. ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۱، ص ۱۔
  4. ↑ ربانی گلپایگانی، کلام تطبیقی، ج ۲، ص ۲۱۔
  5. ↑ مثلاً دیکھیے: سید مرتضیٰ، شرح جمل العلم و العمل، ص ۱۷۰؛ علامہ حلی، تسلک النفس، ص ۱۸۴۔
  6. ↑ مثلاً دیکھیے: علامہ حلی، کشف المراد، ص ۳۴۶؛ محقق حلی، المسلک فی اصول الدین، ص ۱۵۳؛ فاضل مقداد، ارشاد الطالبین، ص ۲۹۶؛ سرمایۂ ایمان، ص ۸۷۔
  7. ↑ مثلاً دیکھیے: ابوالصلاح حلبی، تقریب المعارف، ص ۱۵۳؛ ابن میثم بحرانی، قواعد المرام، ص ۱۲۲-۱۲۴۔
  8. ↑ مثلاً دیکھیے: حسینی علوی، علاقة التجرید، ج ۲، ص ۹۲۰؛ سبحانی تبریزی، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنة و العقل، ج ۳، ص ۵۹-۶۴۔
  9. ↑ خسروپناہ، کلام نوین اسلامی، ج ۲، ص ۵۱۔
  10. ↑ خسروپناہ، کلام نوین اسلامی، ج ۲، ص ۵۳-۵۶۔
  11. ↑ طباطبائی، المیزان، ج ۲، ص ۱۱۱۔
  12. ↑ مطہری، مجموعہ آثار استاد شہید مطہری، ج ۴، ص ۲۹۰-۲۹۳۔
  13. ↑ مثلاً دیکھیے: حمصی رازی، المنقذ من التقلید، ج ۱، ص ۳۷۳-۳۸۲؛ نصیرالدین طوسی، تلخیص المحصل، ص ۳۶۱-۳۶۴؛ لاہیجی، گوہر مراد، ص ۳۵۹۔
  14. ↑ مثلاً دیکھیے: شیخ مفید، النکت الاعتقادیة، ص ۳۵؛ سید مرتضیٰ، الذخیرة، ص ۳۲۳۔
  15. ↑ مثلاً دیکھیے: علامہ حلی، الباب الحادی عشر، ص ۳۴-۳۵۔
  16. ↑ کلینی، الکافی، ج ۱، ص ۱۶۸۔
  17. ↑ معلمی، تاریخ فلسفہ اسلامی، ص ۱۱۲۔
  18. ↑ سہروردی، مجموعہ مصنفات شیخ اشراق، ج ۳، ص ۴۵۳-۴۵۶۔
  19. ↑ ابن سینا، الاشارات و التنبیہات، ص ۳۵۶-۳۵۷۔
  20. ↑ صدرالدین شیرازی، المبدأ و المعاد، ص ۶۱۷-۶۱۸۔
  21. ↑ ابن عربی، الفتوحات المکیة، ج ۴، ص ۱۲۱۔
  22. ↑ آملی، جامع الاسرار و منبع الانوار، ص ۳۵۹۔
  23. ↑ آملی، انوار الحقیقة و اطوار الطریقة و اسرار الشریعة، ص ۱۷-۲۴۔
  24. ↑ ہمدانی، بحر المعارف، ج ۱، ص ۳۲۹-۳۳۱۔
  25. ↑ صادقی، درآمدی بر کلام جدید، ص ۱۸۷۔
  26. ↑ صادقی، درآمدی بر کلام جدید، ص ۱۹۱۔
  27. ↑ مثلاً دیکھیے: سہروردی، مجموعہ مصنفات، ج ۳، ص ۷۵۔
  28. ↑ مصباح یزدی، راہ و راہنما شناسی، ص ۱۱۹۔
  29. ↑ صمدپور، «ماہیت وحی»، ص ۵۶۵-۵۶۶۔
  30. ↑ اقبال لاہوری، احیائے فکرِ دینی در اسلام، ص ۱۳۵-۱۳۹۔
  31. ↑ سروش، بسطِ تجربۂ نبوی، ص ۳-۲۸۔
  32. ↑ مثلاً دیکھیے: قدردان قراملکی، پاسخ بہ شبہات کلامی، دفتر دوم، ص ۱۸۶-۱۸۷؛ صمدپور، «ماہیت وحی»، ص ۵۶۶۔
  33. ↑ عبداللہی، وحی در قرآن، ص ۱۳۰-۱۳۵۔
  34. ↑ قدردان قراملکی، پاسخ بہ شبہات کلامی، دفتر دوم، ص ۱۸۷؛ عبداللہی، وحی در قرآن، ص ۱۴۰-۱۴۱۔

مآخذ

  • ابن سینا، حسین بن عبداللہ، الاشارات و التنبیهات، قم، بوستان کتاب، ۱۴۲۳ ہجری۔
  • ابن عربی، محیی الدین، الفتوحات المکیة، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۴ء۔
  • ابن میثم بحرانی، میثم بن علی، قواعد المرام فی علم الکلام، قم، مکتبہ آیۃ اللہ العظمیٰ المرعشی النجفی (رہ)، ۱۴۰۶ ہجری۔
  • ابوالصلاح حلبی، تقی بن نجم، تقریب المعارف، بے جا، محقق، ۱۴۱۷ ہجری۔
  • آملی، سید حیدر، انوار الحقیقة و اطوار الطریقة و اسرار الشریعة، قم، نور علی نور، ۱۳۸۳ ہجری شمسی۔
  • آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، تہران، مرکز انتشارات علمی و فرهنگی وابستہ بہ وزارت فرهنگ و آموزش عالی، ۱۳۶۸ ہجری شمسی۔
  • حسینی علوی، محمد اشرف بن عبدالحسیب، علاقة التجرید، تہران، انجمن آثار و مفاخر فرهنگی، ۱۳۸۱ ہجری شمسی۔
  • حمصی رازی، محمود بن علی، المنقذ من التقلید، قم، جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۲ ہجری۔
  • خسروپناہ، عبدالحسین، کلام نوین اسلامی، قم، تعلیم و تربیت اسلامی، ۱۳۹۰ ہجری شمسی۔
  • خطیبی کوشکک، محمد اور حمید نگارش، فرهنگ شیعہ (کلام)، قم، زمزم ہدایت، ۱۳۸۶ ہجری شمسی۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، کلام تطبیقی، قم، مرکز بین المللی نشر المصطفی، ۱۴۰۲ ہجری شمسی۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنة و العقل، قم، مؤسسہ الامام الصادق علیہ السلام، ۱۴۱۳ ہجری۔
  • سروش، عبدالکریم، بسط تجربہ نبوی، تہران، موسسہ فرهنگی صراط، ۱۳۷۸ ہجری شمسی۔
  • سہروردی، یحیی بن حبش، مجموعہ مصنفات شیخ اشراق، تہران، پژوهشگاہ علوم انسانی و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۲ ہجری شمسی۔
  • سید مرتضیٰ، علی بن حسین، الذخیرة فی علم الکلام، قم، جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۱ ہجری۔
  • سید مرتضیٰ، علی بن حسین، شرح جمل العلم و العمل، تہران، منظمة الاوقاف و الشؤون الخیریة، دار الاسوة للطباعة و النشر، ۱۴۱۹ ہجری۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، النکت الاعتقادیة، قم، المؤتمر العالمی لالفیة الشیخ المفید، ۱۴۱۳ ہجری۔
  • صادقی، ہادی، درآمدی بر کلام جدید، قم، نشر کتاب طہ و نشر معارف، ۱۳۸۲ ہجری شمسی۔
  • صدرالدین شیرازی، محمد بن ابراہیم، المبدأ و المعاد، قم، بوستان کتاب، ۱۴۲۲ ہجری۔
  • صمدپور، محمد، «ماہیت وحی»، در فرهنگ نامہ کلام جدید، بہ کوشش حسن رضایی، قم، پژوهکدہ باقرالعلوم (ع)، ۱۴۰۳ ہجری شمسی۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، ۱۳۹۳ ہجری۔
  • عبداللہی، محمود، وحی در قرآن، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، الباب الحادی عشر، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۰ ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تسلیک النفس الی حظیرة القدس، قم، مؤسسہ الامام الصادق علیہ السلام، ۱۴۲۶ ہجری۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۳ ہجری۔
  • فاضل مقداد، مقداد بن عبداللہ، ارشاد الطالبین الی نهج المسترشدین، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی (رہ)، ۱۴۰۵ ہجری۔
  • قدردان قراملکی، محمدحسن، پاسخ بہ شبہات کلامی دفتر دوم دین و نبوت، تہران، پژوهشگاہ فرهنگ و اندیشہ اسلامی، ۱۳۸۷ ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیة، ۱۴۰۷ ہجری۔
  • لاہیجی، عبدالرزاق بن علی، گوہر مراد، تہران، نشر سایہ، ۱۳۸۳ ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث، ۱۴۰۳ ہجری۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، المسلک فی اصول الدین، مشہد، آستانة الرضویة المقدسة، مجمع البحوث الاسلامیة، ۱۴۱۴ ہجری۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، راہ و راہنماشناسی، قم، موسسہ آموزشی پژوهشی امام خمینی (رہ)، ۱۳۹۳ ہجری شمسی۔
  • مطہری، مرتضیٰ، مجموعہ آثار استاد شہید مطہری، تہران، صدرا، ۱۳۷۶ ہجری شمسی۔
  • معلمی، حسن، تاریخ فلسفہ اسلامی، قم، مرکز جہانی علوم اسلامی، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔
  • نصیرالدین طوسی، محمد بن محمد، تلخیص المحصل، تہران، دانشگاہ مک گیل، موسسہ مطالعات اسلامی، ۱۳۵۹ ہجری شمسی۔
  • ہمدانی، مولی عبدالصمد، بحر المعارف، تہران، حکمت، ۱۳۸۷ ہجری شمسی۔