مسودہ:الازہر
| کوائف | |
|---|---|
| تأسیس | 361ھ |
| بانی | مصر میں فاطمیوں کی حکومت |
| رجحان | اعتدال پسند اہل سنت |
| دائرہ کار | مدارس اور جامعہ الازہر کے تحت تعلیم، اسلامی تحقیقات، صدور فتوا |
| فعالیت | شیخ شلتوت کے دور میں فقہ مقارن شعبے کا قیام |
| سربراہ | احمد طیب |
| دیگر معلومات | |
| زبان | عربی |
| متعلقہ ادارے | جامعہ الازہر، اسلامی تحقیقاتی مرکز، مدارس الازہر |
| ویب سائٹ | www.azhar.eg |
الازہر، الازہر الشریف کے نام سے مشہور ایک قدیم اسلامی تعلیمی اور علمی ادارہ ہے جسے فاطمیوں نے چوتھی صدی ہجری میں قاہرہ میں قائم کیا۔ یہ ادارہ تقریباً دو صدیوں تک شیعہ فقہ اور دیگر علوم کی تدریس کا مرکز رہا۔ بعد ازاں سلطنت فاطمیہ کے زوال کے بعد الازہر اہل سنت کے تعلیمی مرکز میں تبدیل ہوگیا۔
الازہر مصر کے اہم ترین دینی ادارے کی حیثیت سے اس ملک کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ ادارہ پورے عالمِ اسلام میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور طویل عرصے تک اہل سنت کے اسلامی فکر و نظریات کا نمائندہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
بیسویں صدی عیسوی کے بعض ادوار میں الازہر تقریب مذاہب اسلامی اور مسلمانوں کے اتحاد کی فکری تحریک کا ایک اہم مرکز بھی رہا۔ الازہر کے بعض علماء جو شیخ الازہر کے منصب پر فائز رہے، وحدتِ اسلامی اور تقریبِ مذاہب کے حامی تھے۔ انہوں نے شیعہ علماء کے تعاون سے اس فکر کو مضبوط بنانے اور فروغ دینے کے لئے متعدد اقدامات انجام دئے۔ مذہبِ امامیہ کو اسلامی مذاہب میں سے ایک معتبر مذہب تسلیم کرنے کے حق میں بیانات، مقالات اور فتاویٰ کا اجراء، جامعۂ الازہر میں فقہ امامیہ کی تدریس اور دار التقریب بین المذاہب الاسلامیۃ کے قیام جیسے اقدامات اسی سلسلے کی نمایاں مثالیں ہیں۔
الازہر مختلف اداروں اور شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں ہیئت کبار العلماء، المجلس الاعلیٰ للالازہر، جامعۃ الازہر، پرائمری سے جامعات تک کے مدارس، کتب خانہ اور دیگر تعلیمی و تحقیقی مراکز شامل ہیں۔
اس ادارے کا سب سے معروف ذیلی ادارہ جامعۂ الازہر ہے، جس میں تقریباً پانچ لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ جامعۂ الازہر میں اسلامی علوم کے علاوہ جدید سائنسی علوم، مثلاً طب، انجینئرنگ اور دیگر عصری علوم کے مختلف شعبے موجود ہیں، جبکہ اس کی شاخیں متعدد ممالک میں قائم ہیں۔
تاسیس
جامع الازہر پہلی مسجد تھی جسے فاطمیوں نے مصر پر اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد قاہرہ شہر میں تعمیر کیا۔ مصر میں فاطمی خلفاء کا کمانڈر جوہر الصقلی نے اس مسجد کی تعمیر جمادی الاولی سنہ 359ھ میں شروع کی اور رمضان سنہ 361ھ میں اسے مکمل کیا۔ ایک سال بعد عید الفطر سنہ 362ھ کو سلطنت فاطمیہ کے خلیفہ وقت معز لدین اللہ (وفات 365ھ) نے اس مسجد کا افتتاح کیا۔[1]
نام
اس مسجد کو جامع قاہرہ کہا جاتا تھا۔ بعد میں اسے "الازہر" بھی کہا گیا۔ یہ دونوں نام مصری مورخ اور جغرافیا دان مقریزی کے زمانے یعنی نویں صدی کے آغاز تک رائج تھے۔[2] کہا جاتا ہے کہ الازہر کا نام حضرت زہراء کے نام سے ماخوذ ہے۔ لفظ الازہر کا مطلب روشن ترین ہے۔ یہ منقول ہے کہ عید کی راتوں میں اس مسجد کی روشنی اتنی شاندار ہوتی تھی کہ فاطمیون کے خلیفہ نے اسے دیکھنے کے لئے اپنے محل کی دیوار پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا۔ اسی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ اس مسجد کا نام الازہر رکھا گیا کیونکہ یہ قاہرہ کی دیگر مساجد سے زیادہ درخشان تھی۔ بعض کا کہنا ہے کہ الازہر کا نام اس مسجد کے قریبی محلوں سے ماخوذ ہے جنہیں "قصور الزاہرہ" کہا جاتا تھا۔[3]
تاریخ
جامع الازہر شروع میں صرف مسجد تھی لیکن چند سالوں میں یہ ایک شیعہ تعلیمی مرکز بن گیا۔ جامع الازہر میں شیعہ فقہ کا پہلا درس سنہ 365ھ میں دیا گیا، یعنی مسجد کی تعمیر کے چار سال بعد۔ اس سے پہلے شیعہ فقہ کے اسباق شاہی محل کے اندر دیئے جاتے تھے اور اہل سنت کے فقہی اسباق مقامی مساجد میں منعقد ہوتے تھے۔ جامع الازہر میں پڑھائی جانے والی پہلی کتابوں میں سے ایک قاضی نعمان مغربی کی تصنیف دعائم الاسلام تھی اور دوسری یعقوب ابن کلس کی کتاب الرسالۃ الوزیریۃ فی الفقہ الشیعہ تھی۔[4] فاطمیوں کے دور حکومت میں "الازہر" کو سلطنت فاطمیہ کے خلفاء کی سرپرستی حاصل رہی اور اس کے اخراجات کے لئے باقاعدہ اوقاف مختص کئے گئے تھے۔[5]
الازہر فاطمیوں کے بعد
سلطنت فاطمیہ کے زوال کے بعد ایوبیوں (569-650ھ) کے دور میں مصر میں سنی مذہب کو دوبارہ رسمی حیثیت دی گئی جس سے الازہر کی عظمت میں بھی کمی آگئی۔ صلاح الدین ایوبی (564-589ھ) کے دور میں جامع الازہر میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاتی تھی۔[6] لیکن ممالیک (648-923ھ) کے دور میں الازہر نے دوبارہ اپنی سابقہ حیثیت حاصل کر لی۔ بیبرس (658-676ھ) سلطان مملوکی وہ شخص تھا جس نے الازہر کو دوبارہ احیاء کیا۔ اس کے ایک کمانڈر نے مسجد کی تعمیر نو کی اور سنہ 665ھ میں جامع الازہر میں دوبارہ نماز جمعہ قائم ہوئی۔[7]
عثمانیوں کے دور میں
مصر سنہ 923ھ میں عثمانی سلاطین کے قبضے میں آ گیا اور سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔ عثمانی حکومت الازہر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھی اور الازہر بھی اپنی معاشی استقلال کی وجہ سے جو اوقاف پر مبنی تھی، اس حکومت کا محتاج نہیں تھا۔[8] عثمانی سلاطین الازہر اور اس کے مشائخ کا احترام کرتے تھے۔[9]
شیخ الازہر
کہا جاتا ہے کہ شیخ الازہر کا عہدہ پہلی بار عثمانیوں کے دور میں قائم ہوا اور بظاہر پہلا شخص جسے یہ عہدہ ملا وہ محمد بن عبداللہ الخرشی (1101ھ) تھا۔[10] بعض محققین کا خیال ہے کہ الخرشی سے سو سال پہلے بھی الازہر کے بعض علماء کو یہ مقام حاصل تھا۔[11] بعض تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ الازہر کا انتخاب الازہر کے علماء اور طلباء کی رضامندی سے کیا جاتا تھا اور اسے مصر کے والی کی طرف سے توثیق ملتی تھی۔[12]
الازہر کے مشائخ سنہ 1137ھ میں ابراہیم فیومی کے انتقال تک مالکی مذہب کے پیرو تھے۔ لیکن اس کے بعد شافعی مذہب کے علماء اس عہدے پر فائز ہوئے۔[13]
مشائخ الازہر اور نپولین کا مصر پر حملہ
سنہ 1213 سے 1216ھ تک مصر پر فرانس کے قبضے کے دوران الازہر کے مشائخ نے عوام اور غیر ملکی فوجی حکمرانوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔[14] نپولین جب مصر آیا (1798ء) تو اس نے مصر کی انتظامیہ کے لئے ایک دیوان تشکیل دیا اور الازہر کے دس علماء کو اس میں شامل کیا۔[15]
اگرچہ بعض مورخین الازہر کو فرانسیسیوں کے خلاف جدوجہد کا علم بردار قرار دیتے ہیں[16]، تاہم دیگر تجزیے الازہر کے ممتاز علماء کی نپولین کی حمایت کی حکایت کرتے ہیں۔[17] اگرچہ الازہر کے طلباء اور متوسط درجے کے علماء نے قاہرہ میں فرانسیسیوں کے خلاف دو بغاوتوں میں حصہ لیا، لیکن الازہر کے بلند پایہ علماء نے باغیوں کا ساتھ نہیں دیا۔[18] شرقاوی کی سربراہی میں دوسری بغاوت کے بعد الازہر کو تقریباً ایک سال کے لئے بند رکھا گیا تاکہ یہ ادارہ سیاسی ہنگاموں سے دور رہے۔[19]
محمد علی پاشا کے دور میں
الازہر کے مشائخ نے سنہ 1220ھ میں استنبول کی طرف سے مقرر کردہ گورنر کے خلاف مزاحمت کی اور مصر میں محمد علی پاشا کی حکومت کی حمایت کی۔ لیکن محمد علی پاشا نے اقتدار میں آنے کے بعد الازہر کی طاقت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے الازہر کے مذہبی اوقاف کو ضبط کر لیا اور شیخ الازہر کے انتخاب میں مداخلت کی۔[20]
الازہر میں جدیدیت
الازہر میں جدیدیت کا آغاز انیسویں صدی عیسوی سے ہوا جب مغربی علوم اور جامعات سے آشنائی ہوئی۔ محمد علی پاشا نے الازہر میں نئے علوم کی منتقلی کا خیر مقدم کیا۔[21] سنہ 1872 سے 1961ء تک تدریسی اسلوب و ضوابط، تعلیمی دورانیہ، نصاب اور الازہر کے ڈھانچے میں اصلاح کے لئے چھ بار قوانین جاری کئے گئے۔[22] محمد عبدہ اور مصطفی مراغی ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے الازہر کی جدیدیت میں کردار ادا کیا۔[23] جمال عبد الناصر کی صدارت میں جب محمود شلتوت شیخ الازہر کے منصب پر فائز ہوئے تو انہوں نے الازہر میں اصلاحات کے مزید اقدامات اٹھائے اور مروجہ علوم جیسے طب اور انجینئرنگ کی فیکلٹیاں اور خواتین کے لئے اسلامی فیکلٹی جامعہ الازہر میں شامل کی گئیں۔[24]
الازہر کا ڈھانچہ
سنہ 1961ء میں منظور شدہ قانون کے مطابق اب بھی شیخ الازہر اور اس کے وکیل کا تقرر مصر کے صدر کرتے ہیں۔[25] الازہر کے اہم ترین حصے درج ذیل ہیں:
- مجلس الاعلی للازہر۔ اس مجلس میں شیخ الازہر، وکیل الازہر، جامعہ الازہر کے سربراہ، الازہر کی فیکلٹیوں کے سربراہ، مجمع بحوث الاسلامیہ کے 4 ارکان اور کچھ دیگر سرکاری اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔[26]
- مجمع بحوث الاسلامیہ۔ یہ ایک تحقیقاتی ادارہ اور دارالافتاء ہے۔ اس کی بارہ کمیٹیاں (لجنۃ) ہیں۔ مذہبی تبلیغ اور دوسرے ممالک کے علماء سے رابطے کا کام بھی اسی مجمع کے ذمہ ہیں۔ ادارہ "الثقافۃ و البعوث الاسلامیہ" اس مجمع کا ذیلی ادارہ ہے۔[27]
- جامعہ الازہر۔ سنہ 1961ء کے قانون کے مطابق جامعہ الازہر اسلامی علوم، عربی علوم، انتظامیہ، انجینئرنگ، زراعت اور طب کی فیکلٹیوں پر مشتمل تھی۔[28] فیکلٹی برائے خواتین جو خواتین کی تعلیم کے لئے مخصوص ہے، سنہ 1962ء میں قائم ہوئی۔[29] اس جامعہ میں دنیا کے 107 ممالک سے تقریباً 5 لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں۔[30]
- معاہد الازہریہ۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پرائمری سے لے کر سکنڈری تک کے تعلیمی مراکز کا انتظام کرتا ہے۔[31]
سیاسی اور مذہبی موقف

تجزیہ کاروں کے مطابق الازہر کا سیاسی اور مذہبی موقف اسلام کی معتدل تفسیر پر مبنی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ الازہر ایسا معتدل موقف اختیار کر کے عالم اسلام میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے اور مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔[32] مصر کی حکومتیں بھی اس طرز عمل کی حمایت کرتی ہیں تاکہ ایک طرف اسلامی شدت پسند عناصر کے خلاف ایک معتدل اتحادی میسر ہو اور دوسری طرف عالم اسلام میں مصر کے مقام و مرتبے کو مستحکم کر سکیں۔[33] الازہر اور اس کے مشائخ کا تصوف کے ساتھ چہ بسا نہایت دوستانہ تعلق رہا ہے جسے الازہر کی اسلام سے متعلق انتہا پسندانہ خصوصاً وہابی مکتب فکر کی پیش کردہ تعبیر کی مخالفت کے عوامل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔[34]
حکومت کے ساتھ تعاون
الازہر کی خصوصیات میں سے ایک مصر کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کو شمار کیا گیا ہے، خاص طور پر بیسویں صدی میں جمال عبد الناصر کے دور میں اس ادارے کے بنیادی ڈھانچوں میں لانے والی تبدیلیوں نے اس ادارے کو حکومت سے مزید وابستہ کر دیا۔[35] کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف الازہر کا موقف مصر کی سرکاری پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔[36] اسی طرح مختلف ادوار میں مصری حکومتوں نے کمیونزم[37] یا اخوان المسلمین کے خلاف اپنی جدوجہد میں الازہر کی حمایت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔[38]
الازہر کے علماء اخوان المسلمین کے مزاحمتی طرز عمل کے مخالف ہیں، اس کے برعکس اخوان المسلمین الازہر کے علماء پر اسلام کی خاموش اور مصالحت آمیز قراءت کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔[39] کہا جاتا ہے کہ الازہر نے 2011ء کے مصر کے انقلاب میں بھی کسی حد تک کنارہ کشی اختیار کی اور انقلاب کے بعد محمد مرسی کی حکومت (اخوان المسلمین سے منسوب صدر) کے خلاف فوجی بغاوت کی بھی حمایت کی۔[40]
الازہر اور شیعوں کے ساتھ گفتگو
انیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور بیسویں صدی عیسوی میں اتحاد بین المسلمین کا نظریہ جامعہ الازہر کے بعض اساتذہ اور فارغ التحصیلوں میں مقبول ہوا۔ ان میں سے بعض افراد بعد میں شیخ الازہر کے عہدے تک پہنچے جنہوں نے اپنے عہدے کے دوران شیعہ علماء اور علمائے الازہر کے درمیان شیعہ اور اہل سنت مذہب کے پیروکاروں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے مختلف مکالمات منعقد ہوئے۔
شیخ سَلیم بِشری اور عبد الحسین شرف الدین
شیعہ سنی مکالمے کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک جس کا مقصد فریقین کے نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور اختلافات کو دور کرنا تھا، علامہ عبد الحسین شرف الدین اور شیخ الازہر سَلیم بِشری کے درمیان سنہ 1329ھ میں ہونے والی گفتگو تھی۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بعد میں المراجعات کے نام سے شایع ہونے والی کتاب ان دونوں علماء کے درمیان ہونے والی انہی گفتگو یا خط و کتابت پر مشتمل تھی۔[41]
مصطفی مراغی اور عبد الکریم زنجانی
اسلامی مذاہب کے درمیان قربت اور ہم آہنگی کے امکان اور ضرورت کے قائلین میں سے ایک مصطفی مراغی (1945ء) تھے، جو الازہر دو بار شیخ الازہر کے عہدے پر رہے پہلی بار سنہ 1928 سے 1929ء اور دوسری بار 1934 سے 1945ء تک۔[42] شیعہ اور اہل سنت کے اتحاد کے بارے میں مصطفی مراغی کے ساتھ گفتگو کا آغاز عبدالکریم زنجانی (1304 تا 1388ھ)، جو نجف میں مقیم شیعہ فقیہ تھے، نے کیا۔ زنجانی، جو اسلامی ممالک کا سفر کرتے تھے، سنہ 1936ء میں مصر گئے[43] اور مصطفی مراغی سے بھی ملاقات کی۔[44]
مصطفی مراغی نے المغنی اور الشرح الکبیر کی کتابیں عبدالکریم زنجانی کو تحفہ دے کر ان سے پانچ اسلامی مذاہب کی فقہ پر ایک جامع کتاب لکھنے کی درخواست کی۔ مصطفی مراغی نے سنہ 1356 اور 1357ھ میں عبدالکریم زنجانی کو خطوط میں اعلیٰ اسلامی مجلس (جو تمام اسلامی گروہوں کے نمائندوں پر مشتمل ہو) کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ اس نے اس مجلس کے اہداف کو عالم اسلام کے درمیان بھائی چارے کو مضبوط کرنا، تعلیمی اداروں کا اسلامی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے تعاون، مذہبی قواعد کو آسان بنانا اور اسے عام مسلمانوں کے لیے قابل فہم بنانا اور مختلف اسلامی فرقوں کے نظریات کو قریب کرنے کے لیے عمل کرنا قرار دیا۔[45] یہ منصوبہ دوسری عالمی جنگ کے شروع ہونے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا۔
جمعیت تقریب بین المذاہب الاسلامیہ
محمدتقی قمی ایک اور شیعہ عالم تھے جنہوں نے الازہر کے علماء سے اسلامی مذاہب کو قریب کرنے کے مقصد سے رابطہ کیا۔ قمی سنہ 1938ء سے قاہرہ گئے اور الازہر کے علماء خصوصاً مصطفی مراغی سے ملاقات کی۔ ان کی کوششوں اور الازہر کے بعض علماء کی مدد سے جمعۃ التقریب بین المذاہب الاسلامیہ سنہ 1974ھ میں اس وقت قائم ہوئی جب مصطفی عبدالرزاق الازہر کے شیخ تھے۔[46] اس جمعیت کا ایک مرکز ہے جسے دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیہ کہتے ہیں۔[47]
مصطفی عبدالرزاق، عبد المجید سلیم اور محمود شلتوت نے اس ادارے کے قیام اور بقا میں اہم کردار ادا کیا[48] یہ تینوں افراد شیخ الازہر کے عہدے پر رہے ہیں جس دوران انہوں نے دارالتقریب کی سرگرمیوں کی حمایت کرتے رہے۔[49]
دارالتقریب کے قیام کے دو سال بعد اس ادارے نے رسالۃ الاسلام کے نام سے ایک مجلہ شائع کیا جس میں الازہر کے بعض علماء بھی مضامین تحریر کرتے تھے منجملہ ان میں شیخ محمود شلتوت کے تفسیر قرآن پر سلسلہ وار مضامین شامل ہیں جو اس مجلے میں شایع ہوتے تھے۔[50]
شیخ محمود شلتوت
شلتوت الازہر کے ان مشائخ میں سے تھے (سنہ 1958 - 1963ء) جو تقریب بین مذاہب اسلامی اور اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے۔ انہوں نے سنہ 1960ء میں ایک فتویٰ صادر کیا جس میں فقہ امامیہ اور فقہ زیدیہ کی پیروی کو جائز قرار دیا جو بہت مشہور ہوا۔ شلتوت نے واضح کیا کہ دین اسلام نے مسلمانوں کو کسی خاص مکتب کی پیروی کا پابند نہیں کیا ہے۔[51]
الازہر کا ایران سے تعلق
الازہر کے علماء میں سے عبد المجید سلیم اور شیخ محمود شلتوت، جو جمعیت تقریب مذاہب سے وابستہ تھے، محمد تقی قمی کے ذریعے آیت اللہ بروجردی سے خط و کتابت کرتے تھے۔[52]
سنہ 1971ء میں محمد فحام (جو سنہ 1969 سے 1973ء تک شیخ الازہر رہ چکے ہیں) نے ادارہ اوقاف ایران کی دعوت پر ایران کا سفر کیا[53] اور تہران میں بعض علماء سے ملاقات کی۔ اس اجلاس میں جس میں محمد تقی قمی اور محمد تقی فلسفی نے خطاب کیا، تقریب مذاہب کے بارے میں بحث ہوئی۔[54]
شیعہ مخالف نظریات
ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور مصر کے درمیان سیاسی اختلافات نے الازہر اور شیعہ علماء کے درمیان تقریبی گفتگو پر اثر ڈالا اور اس میں سستی آگئی۔ سنہ 1979ء اور 1980ء میں مجلہ الازہر میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف مضامین شائع ہوئے۔ سنہ 1984ء میں جب اس وقت کے شیخ الازہر جاد الحق سے دار التقریب بین المذاہب الاسلامیہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس ادارے کو سیاسی وجوہات کی بنا پر منحل قرار دیا اور کہا کہ الازہر اب ایسے کسی ادارے میں شامل نہیں ہوگا۔[55] سنہ 1997ء میں جب تقریباً 50 افراد (جنہیں حسن شحاتہ کے پیروکار بتایا گیا) کو مصر میں شیعہ کتابوں اور عقائد کی اشاعت کے ذریعے امن عامہ کو خراب کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تو مصر میں شیعوں کی آزادی محدود ہوگئی اور الازہر نے بھی اس واقعے میں شیعوں اور شحاتہ کے خلاف موقف اختیار کیا۔[56]
عام طور پر بعض محققین الازہر میں تشیع کے موافق اور مخالف دو رجحانات کی موجودگی کا عندیہ دیتے ہیں جبکہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ الازہر کے علماء کا موقف عمومی طور پر شیعہ مخالف ہی رہا ہے۔[57] نیز کہا گیا ہے کہ الازہر کی بعض شخصیات جیسے محمد حسین الذہبی، جاد الحق علی جاد الحق، محمد عرفہ، عبد المنعم النمر اور محمد الخشوعی نے شیعہ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔[58]
تازہ ترین نظریات
الازہر کے آخری دو مشائخ نے مذہب تشیع اور تقریب مذاہب کے بارے میں متضاد بیانات دیئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ محمد سید طنطاوی جو سنہ 1996 سے 2010ء تک شیخ الازہر رہ چکے ہیں، نے شیعہ عقائد کے خلاف منفی موقف اختیار کیا ہے۔[59] لیکن دیگر اطلاعات کے مطابق طنطاوی نے شیعوں کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیا ہے۔[60]
احمد طیب
احمد الطیب (پیدائش 1946ء) جو سنہ 2010ء سے شیخ الازہر کے منصب پر فائز ہیں، اب تک مذہب تشیع اور شیعوں کے بارے میں مختلف نظریات کا اظہار کر چکے ہیں، یہاں تک کہ اس سلسلے میں ان کے اقوال کو ایک دوسرے کا متضاد قرار دیا گیا ہے۔[61] انہوں نے ماہ رمضان سنہ 2010ء میں مصر میں تشیع کے پھیلاؤ کے خطرے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے[62] اس سے نمٹنے کے لئے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات بھی جاری کی۔[63] لیکن دیگر مواقع پر انہوں نے شیعہ سنی اختلافات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے اسے اہل سنت مذاہب اربعہ کے درمیان موجود اختلافات کے مشابہ قرار دیا۔ اسی انہوں نے مذہب تبدیل کرکے شیعہ مذہب اختیار کرنے کو بھی جائز قرار دیا اور اسے اہل سنت مذاہب میں سے ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں منتقل ہونے کی طرح قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے ابوبکر اور عمر کی خلافت کو ایک تاریخی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر اعتقاد رکھنا اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل نہیں ہے۔[64] اسی طرح احمد الطیب نے 22 ستمبر 2022ء کو بحرین میں منعقدہ ’’بحرین ڈائیلاگ فورم: مشرق و مغرب انسانی بقائے باہمی کے لئے‘‘ کے اجلاس میں مسلمان علماء کو اختلافات کو پس پشت ڈالنے اور باہمی مکالمے کو فروغ دینے کی دعوت دی۔[65]
غزہ میں تعمیر نو اور غذائی امداد کے لئے زکات کی اجازت
اسرائیل اور فلسطین کی جنگ بندی (19 جنوری 2025ء) کے بعد الازہر نے ایک فتویٰ میں غزہ کی تعمیر نو، رہائشی امکانات کی فراہمی اور تمام غذائی اور طبی سہولیات کی ترسیل کے لئے زکات کی ادائیگی کو جائز قرار دیا۔[66]
جنگ رمضان میں ایران کی فوجی کارروائیوں کی مذمت میں بیان
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے دوران الازہر نے ایران کی امارات، سعودی عرب، اردن، قطر، بحرین اور کویت میں امریکی اور صہیونی حکومت کے اہداف اور مفادات کے خلاف فوجی کارروائیوں کو الازہر نے "عرب ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی" قرار دے کر اس کی مذمت کی۔[67] حالانکہ ان تنازعات کے پیش آنے سے قبل ایران نے مغربی ایشیائی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل ان ممالک کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرے تو ان ممالک میں موجود دشمن کے اڈے اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران اپنی کاروائیوں کو "حق دفاع مشروع" (اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51) کے دائرے میں قرار دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ نے ان ممالک میں موجود اڈوں کو ایران کے خلاف معاندانہ کاروائیوں کے لئے استعمال کیا ہے جن میں سیاسی اور مذہبی شخصیات کا قتل جیسے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا قتل، بنیادی ڈھانچوں کی تباہی اور شہریوں کا قتل عام جیسے شجرہ طیبہ اسکول میناب پر حملہ شامل ہیں۔[68]
الازہر کے اس بیان پر وسیع ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، علی رضا اعرافی (ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ) اور ایران کی اہل سنت علماء کی انجمن نے اس پر تنقید اور مذمت کی ہے۔ اعرافی نے شیخ الازہر احمد الطیب کے نام ایک خط میں اس بیان پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے ایران کے عوام کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے جرائم کو نظر انداز کرنا انصاف اور شرعی اصولوں کی نفی قرار دیا۔ ایران کے اہل سنت علماء کے بیان میں مذہبی تعلیمات اور دفاع مشروع کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی کاروائیوں کو دشمن کے حملوں کے خلاف ایک منطقی دفاع قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے اہل سنت علماء کے بیان کا ایک حصہ یہ ہے:
«اسلامی جمہوریہ ایران کی سربلند قوم اور معزز اسلامی مزاحمت ہمسایہ مسلم ممالک کی خودمختاری اور عوام کا احترام کرتے ہوئے آیت کریمہ “وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ” کے مفاد، دشمن عناصر کے ساتھ تعاون نہ کرنے، دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور ایران پر حملے میں ملوث ذرائع، مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے پہلے سے دی گئی وارننگ کے مطابق کسی بھی حوالے سے اسلامی امت کے جان و مال اور مسلم حکومتوں کی خودمختاری کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ پہنچائیں گے۔»
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ مقریزی، المواعظ و الإعتبار، 1418ھ، ج4، ص51-52۔
- ↑ مقریزی، المواعظ و الإعتبار، 1418ھ، ج2، ص205۔
- ↑ داج، دانشگاہ الازہر، 1367شمسی، ص5-6۔
- ↑ خفاجی، الازہر فی الف عام، 1408ھ، ج2، ص169۔
- ↑ مقریزی، المواعظ و الإعتبار، 1418ھ، ج4، ص51-52۔
- ↑ مقریزی، المواعظ و الإعتبار، 1418ھ، ج4، ص55۔
- ↑ مقریزی، المواعظ و الإعتبار، 1418ھ، ج4، ص55۔
- ↑ الشناوی، الازہر جامعا و جامعۃ، 1983ء، ص163-166۔
- ↑ الشناوی، الازہر جامعا و جامعۃ، 1983ء، ص181-185۔
- ↑ نک: الشناوی، الازہر جامعا و جامعۃ، 1983ء، ص187-190؛ النمنم، الازہر الشیخ و المشیخۃ، 2012ء، ص31-32۔
- ↑ صابر اسماعیل، مجتمع علماء الازہر، 2016ء، ص237، 242۔
- ↑ نک: النمنم، الازہر الشیخ و المشیخۃ، 2012ء، ص37-42۔
- ↑ النمنم، الازہر الشیخ و المشیخۃ، 2012ء، ص45۔
- ↑ داج، دانشگاہ الازہر، 1367شمسی، ص110-111۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص59۔
- ↑ میرعلی، «الازہر اور مصر کی سیاسی و سماجی تبدیلیوں میں اس کا کردار»، ص103۔
- ↑ النمنم، الشیخ و المشیخۃ، 2012ء، ص96۔
- ↑ النمنم، الازہر الشیخ و المشیخۃ، 2012ء، ص97-102۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص66-67۔
- ↑ داج، دانشگاہ الازہر، 1367شمسی، ص115-116؛ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص67۔
- ↑ داج، دانشگاہ الازہر، 1367شمسی، ص117۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص234-235۔
- ↑ نک: خفاجی و علی صبح، الازہر فی الف عام، 1408ھ، ج1، ص186-187، 194-198؛ اسپوزیتو، دایرہ المعارف جہان نوین اسلام، ج1، ص300-301۔
- ↑ اسپوزیتو، دایرہ المعارف جہان نوین اسلام، ج1، ص301۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص467۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص468۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص468۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص486۔
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص522۔
- ↑ نبذۃ تعریفیۃ بجامعۃ الأزہر
- ↑ بہی، الازہر تاریخہ و تطورہ، 1964ء، ص473۔
- ↑ بانو، «پشتیبان اسلام الوسطیۃ، دانشگاہ الازہر»، ص96۔
- ↑ بانو، «پشتیبان اسلام الوسطیۃ، دانشگاہ الازہر»، ص99۔
- ↑ نک: زمانی، «الازہر اور نئے شیخ الازہر کے بارے میں تمام چیزیں»، ص49؛ نصیری و دیگران، «مناسبات تصوف و الازہر با وہابیت در مصر»، ص261
- ↑ مطلبی، «25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر کی سیاست میں الازہر کا کردار»، ص196-198۔
- ↑ «الازہر اور مصر کی سیاسی - اجتماعی تحولات میں اس کا کردار، ص111۔»
- ↑ مطلبی، «25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر کی سیاست میں الازہر کا کردار»، ص200۔
- ↑ الازہر اور مصر کی سیاسی - اجتماعی تحولات میں اس کا کردار، ص115۔
- ↑ «الازہر اور مصر کی سیاسی - اجتماعی تحولات میں اس کا کردار»،ص113-114۔
- ↑ مطلبی، «25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر کی سیاست میں الازہر کا کردار»، ص204، 207۔
- ↑ نک:خسروشاہی، «الشیخ سلیم البشری و العلامۃ شرف الدین»، ص211-212۔
- ↑ خفاجی، الازہر فی الف عام، 1408ھ، ج1، ص264۔
- ↑ الدفتر، صفحۃ من رحلۃ الامام الزنجانی و خطبہ، 1996ء، ج1، ص259۔
- ↑ الدفتر، صفحۃ من رحلۃ الامام الزنجانی و خطبہ، 1996ء، ج1، ص33۔
- ↑ الدفتر، صفحۃ من رحلۃ الامام الزنجانی و خطبہ، 1996ء، ج1، ص51، 53-54۔
- ↑ قمی، سرگذشت تقریب، 1389شمسی، ص32-33۔
- ↑ بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی، 1377شمسی، ص125۔
- ↑ القمی، «رجال صدقوا»، ص189-191؛ شلتوت، «مقدمۃ قصۃ التقریب»، ص198-199۔
- ↑ بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی، 1377شمسی، ص66-68۔
- ↑ بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی، 1377شمسی، ص41۔
- ↑ مجلہ رسالہ الاسلام سال 11، شمارہ 3، محرم 1379ھ، ص228۔
- ↑ بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی، 1377شمسی، ص310-317۔
- ↑ عکس دکتر محمد فحام رئیس جامع الازہر، ص503
- ↑ بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی، 1377شمسی، ص371-385۔
- ↑ برانر، التقریب بین المذاہب الاسلامیہ فی القرن العشرین، 2015ء، ص573۔
- ↑ برانر، التقریب بین المذاہب الاسلامیہ فی القرن العشرین، 2015ء، ص581-582۔
- ↑ نک: علیزادہ موسوی، الازہر و تشیع، ص71-72۔
- ↑ علیزادہ موسوی، الازہر و التشیع، ص72۔
- ↑ برانر، التقریب بین المذاہب الاسلامیہ فی القرن العشرین، 2015ء، ص579-580۔
- ↑ خسروشاہی، کودتا در مصر، 1395شمسی، ص61، 214۔
- ↑ علیزادہ موسوی، الازہر و تشیع، ص74۔
- ↑ سبحانی، مع شیخ الازہر فی محاضراتہ الرمضانیۃ، 1437ھ، ص9۔
- ↑ علیزادہ موسوی، الازہر و تشیع، ص77۔
- ↑ أقوال الإمام عن الأخوۃ الإنسانیۃ، پایگاہ اینترنتی الامام الطیب۔
- ↑ ابوالحسن نواب بہ شیخ الازہر در پی اظہارات اخیر احمد طیب، شیعہ نیوز۔
- ↑ «غزہ کی تعمیر نو پر زکات صرف کرنا جائز ہونے کے بارے میں الازہر کا فتوا»،وبگاہ حوزہ نمایندگی ولی فقیہ در امور حج و زیارت۔
- ↑ «الأزہر يطالب إيران بوقف فوري وغير مشروط لاعتداءاتہا على دول عربيۃ وإسلاميۃ»، الجزیرہ۔
- ↑ «ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کی فوری مذمت کا مطالبہ کیا»، شبکہ العالم۔
مآخذ
- بہی، محمد، الازہر، تاریخہ و تطورہ، قاہرہ، وزارۃ الاوقاف و شئون الازہر، 1964ء۔
- الدفتر، محمدہادی، صفحۃ من رحلۃ الامام الزنجانی و خطبہ فی الاقطار العربیہ و العواصم الاسلامیہ، تحقیق حسن الشیخ ابراہیم الکتبی، بیروت، موسسہ النعمان، 1996ء۔
- اسپوزیتو، جان ل.، دایرۃ المعارف جہان نوین اسلام، ترجمہ حسن طارمی، محمد دشتی، مہدی دشتی، تہران، کنگرہ و کتاب مرجع، 1388
- بانو، مسعودہ، "جامعہ الازہر قاہرہ، 'اسلام وسطی' کا محافظ: بین الاقوامی میدان میں مذہبی و معرفتی جریانات کی شناخت"، شمارہ 13، خزاں 2016ء۔
- برانر، راینر، التقریب بین المذاہب الاسلامیہ فی القرن العشرین، ترجمہ بتون عاصی و فاطمہ زراقط، بیروت، مرکز الحضارۃ للتنمیۃ الفکر الاسلامی، 2015ء۔
- بی آزار شیرازی، ہمبستگی مذاہب اسلامی (مقالات دارالتقریب)، تہران، سازمان فرہنگ و ارتباطات اسلامی، 1377ہجری شمسی۔
- خسروشاہی، سید ہادی، «الشیخ سلیم البشری و العلامہ شرف الدین»، رسالۃ التقریب، شمارہ 61، جمادی الاول و جمادی الثانی 1428ھ۔
- خسروشاہی، سید ہادی، کودتا در مصر، قم، کلبہ شروق، 1395ہجری شمسی۔
- خفاجی، محمد عبدالمنعم، الازہر فی الف عام، بیروت، عالم الکتب، 1408ھ۔
- زمانی، «الازہر اور نئے شیخ الازہر کے بارے میں تمام چیزیں»، درسہایی از مکتب اسلام، شمارہ 592، اگست ۔ ستمبر 2010ء۔
- داج، بایارد، دانشگاہ الازہر، تاریخ ہزار سالہ تعلیمات عالی اسلامی، ترجمہ آذرمیدخت مشایخ فریدنی، تہران، مرکز نشر دانشگاہی، 1367ہجری شمسی۔
- «جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر محمد فحام کی تصویر»، مجلہ وحید، شمارہ 91، جولائی 1971ء۔
- علیزادہ موسوی، «الازہر و التشیع»، فصلنامہ علمی معرفت شیعہ، شمارہ2، سرما 2021ء–2022ء۔
- سبحانی، جعفر، مع شیخ الازہر فی محاضراتہ الرمضانیہ، قم، موسسہ امام صادق، 1437ھ۔
- شلتوت، محمود، «مقدمۃ قصۃ التقریب»، رسالۃ الاسلام، شمارہ 3 و 4، رجب 1383ھ۔
- الشناوی، عبدالعزیز محمد، الازہر جامعا و جامعۃُ قاہرہُ مکتبۃ الانجلو المصریۃ، 1983ء۔
- صابر اسماعیل، عبدالجواد، مجتمع علماء الازہر ابان الحکم العثمانی، قاہرہ،دار الکتب و الوثائق القومیۃ، 2016ء۔
- «غزہ کی تعمیر نو پر زکات صرف کرنا جائز ہونے کے بارے میں الازہر کا فتوا»، وبگاہ حوزہ نمایندگی ولی فقیہ در امور حج و زیارت، تاریخ درج مطلب: 18 فروری 2025ء، تاریخ اخذ: 19 فروری 2025ء۔
- قمی، محمد تقی، سرگذشت تقریب، مقدمہ و ملحقات ہادی خسروشاہی، ترجمہ محمد مقدس، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، 1389ہجری شمسی۔
- مطلبی، مسعود، «25 جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد مصر کی سیاست میں الازہر کا کردار»، فصلنامہ علوم سیاسی، شمارہ 39، گرما 2017ء۔
- مقریزی، احمد بن علی، المواعظ و الإعتبار فی ذکر الخطط و الآثار، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1418ھ۔
- میر علی، محمد علی، «الازہر اور مصر کی سیاسی - اجتماعی تحولات میں اس کا کردار»، فصلنامہ عالم اسلام کی سیاسی تحقیقات، سال 4، شماہرہ اول، بہار 2014ء۔
- النمنم، حلمی، الازہر الشیخ و المشیخۃ، قاہرۃ، مکتبۃ المدبولی، 2012ء۔
- نصیری، محمد و دیگران، مصر میں وہابیت کے ساتھ الازہر اور تصوف کے تعاملات (مطالعہ موردی: عبد الحلیم محمود کا نقطہ نظر)، ادیان و عرفان، سال 49، شمارہ 2، خزاں 2016ء۔