عصام العماد
| یمنی مستبصرعالم دین | |
|---|---|
| کوائف | |
| مکمل نام | عصام علی یحیی العماد |
| تاریخ ولادت | سنہ 1968ء |
| آبائی شہر | یمن |
| نامور اقرباء | علی یحیی العماد، عبد الرحمن العماد |
| علمی معلومات | |
| مادر علمی | یمن، سعودی عرب، ایران |
| اساتذہ | محمد اسماعیل العمرانی، احمد سلامہ، عبد الرزاق الشاحذی، مقبل الوادعی |
| تالیفات | رحلتی من الوہابیۃ إلی الاثنی عشریۃ، تجربتی مع الإمام محمد بن الحسن العسکری، تقابل اہل سنت و وہابیت، المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین، روشی نو و صحیح در گفتگو با وہابیت، نقد الشیخ محمد عبد الوہاب من الداخل |
| خدمات | |
| سماجی | عالمی اہل بیتؑ اسمبلی کی رکنیت |
| متفرقات | عثمان الخمیس کے ساتھ مناظرہ |
عصام العماد (پیدائش: ۱۹۶۸ء) یمن کے ایک مستبصر اور محقق ہیں جو شیعہ اثنا عشری مذہب اختیار کرنے سے پہلے زیدی مذھب تھے اور وھابیت سے متاثر تھے۔ انہوں نے یمن اور سعودی عرب میں دینی تعلیم حاصل کی اور سن ۱۹۸۹ء میں ایران ہجرت کی اور حوزه علمیہ قم میں تعلیم حاصل کی۔ ان کی تصانیف میں "میرا سفر وھابیّت سے اثنا عشریّت تک" اور "نیا اور درست طریقہ وھابیوں کے ساتھ مکالمہ میں" شامل ہیں۔ ان کی مناظرہ جات، خاص طور پر کویت کے وھابی رہنما عثمان الخمیس کے ساتھ، تشیع کے فروغ میں معاون ثابت ہوئے۔
عماد عالمی مجلس اہل بیت (ع) کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں۔
عِصام العِماد (پیدائش: 1968ء) ایک یمنی محقق اور مستبصر ہیں جو شیعہ مذہب قبول کرنے سے پہلے زیدی مذہب کے پیروکار اور وہابی عقائد سے متاثر تھے۔ انہوں نے یمن اور سعودی عرب میں دینی تعلیم حاصل کی، بعدازآں سنہ 1989ء میں ایران ہجرت کی اور حوزۂ علمیہ قم میں تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ «رحلتی مِنَ الوَهّابیة إلی الاِثنی عَشَریة» اور «المَنهَجُ الجَدید و الصّحیح فِی الحِوار مَعَ الوَهّابیین» نامی دو کتابیں ان کے قلمی آثار میں شمار ہوتی ہیں۔ عصام العماد نے کویت کے وہابی رہنما عثمان الخمیس کے ساتھ کئی مناظرے کیے۔ ان مناظروں نے شیعہ عقائد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ اہل بیتؑ عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن ہیں۔
اہمیت اور سوانح حیات
عصام علی یحی العماد شیعہ محقق اور مستبصر ہیں جو شیعیت قبول کرنے سے پہلے زیدی مذہب کے پیروکار تھے اور وہابی عقائد سے متاثر تھے۔[1] اُن کے مذہب کی تبدیلی کی داستان اور شیعہ کے عقائد کی ترویج میں ان کی کوششوں نے بہت سے مسلمانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔[2] عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کی رُکنیت بھی ان کے نمایاں کارناموں میں شامل ہے۔[3]
سوانح حیات
عصام العماد سنہ 1968ء میں یمن کے صوبہ "اِب" کے ایک گاؤں العماد میں پیدا ہوئے۔[4] ان کے والد علی یحیی العماد اور چچا عبد الرحمن العماد، دونوں معروف سلفی اور وهابی علما میں سے تھے۔ ان کا خاندان یمن میں وہابیت کی تبلیغ میں پیش پیش رہا۔ ان کی دو بہنیں بھی یمن کی وہابی جامعات میں معروف اساتذہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔[5]
عصام العماد کا چھے سال کی عمر میں وہابی مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے داخلہ ہوا۔ کچھ عرصے تک وہ یمن میں وہابیت کے علمی رہنما محمد اسماعیل العمرانی کے شاگرد رہے۔ احمد سلامہ، عبد الرزاق الشاحذی اور مقبل الوادعی ان کے دیگر اساتذہ میں شامل ہیں۔ عصام العماد نے سعودی عرب میں واقع امام محمد بن عبد الوہاب یونیورسٹی کے اصولِ دین فیکلٹی سے حدیث کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔[6]
تشیع اختیار کرنا
عصام العماد یمن کے دارالحکومت صنعاء کی ایک بڑی مسجد کے امام جماعت اور وہابیت کے فعال مبلغ تھے۔ انہوں نے شیعہ مذہب کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا عنوان تھا: «الصلة بین الاثنی عشریه و فرق الغلاة» (اثناعشری شیعوں اور غالی فرقوں کے درمیان تعلق)۔[7] تاہم انہوں نے اپنی دینی تحقیقات کے دوران جب امام علیؑ اور امام حسینؑ کے سلسلہ میں شیخ مفید اور سید قطب کے اثار کا مطالعہ کیا تو ان کے گذشتہ عقیدہ پر سوال اٹھنے لگا اور ان تحقیقات نے اہل بیتؑ کے بارے میں ان کی سوچ اور فکر بدل دی اور انہیں شیعہ اثناعشری عقائد سے متعلق کتابوں کے مطالعہ کی جانب راغب کیا۔ تحقیقات کے نتیجے میں، عصام العماد اس نتیجے پر پہنچے کہ مذہب تشیع ہی اسلام کے اصل اور حقیقی مفہوم سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ ان کے مطابق، امام علیؑ پر لگائے گئے بہت سے الزامات دراصل دوسروں کی صفائی کے لئے تھے۔[8]
عصام العماد نے سنہ 1989ء میں ایران کی طرف ہجرت کی اور حوزہ علمیہ قم میں دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔[9]

عثمان الخمیس سے مناظرے
عصام العماد کے مشہور مناظروں میں سے ایک کویت میں وہابیت کے دینی رہنما عثمان الخمیس کے ساتھ تھا۔ یہ مناظرے تقریباً ایک سال تک مختلف سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے جاری رہا اور عرب نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا اورعرب میڈیا نے ان مناظروں کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔[10] مصر کے "صوت آل البیت" ( اہلبیت کی اواز) نامی ایک علمی مجلے نے اپنے ایک مضمون میں اس مناظرے کو"هزیمة فاضحة لشیخ الوهابیة فی الکویت" یعنی "کویت کے وہابی شیخ کی رسوا کن شکست" کے عنوان سے شائع کیا۔[11]
یہ مناظرے بعد میں "کتاب الزلزال" میں قلم بند کئے گئے۔[12] جس کا فارسی ترجمہ "زلزال: مناظرهای که در اعتقادات وهابیان اضطراب و تزلزل ایجاد نمود"(ایک مناظرہ جس نے وہابیوں کے اعتقادات میں اضطراب اور تزلزل ایجاد کیا) کے نام سے شائع ہوا۔[13] کہا جاتا ہے کہ اس مناظرہ پندرہ لاکھ سے زائد افراد کے شیعہ ہونے کا باعث بنا ہے۔[14]
قلمی آثار
عصام العماد کی مختلف موضوعات پر کئی تصنیفات شائع ہو چکی ہیں:
- «رحلتی من الوہابیۃ إلی الاثنی عشریۃ»: یہ کتاب ان کے اس سفر کی تفصیل بیان کرتی ہے جو انہوں نے وہابیت سے اثناعشری تشیع کی طرف کیا۔[15]
- «تجربتی مع الإمام محمد بن الحسن العسکری»: عربی زبان میں ایک کتاب ہے جو مہدویت اور امام مہدی (علیہ السلام) کے موضوع پر عصام العماد کی تحقیقات پر مشتمل ہے۔[16]
- «تقابل اہل سنت و وہابیت»: یہ کتاب قم میں واقع مرکز تخصصی ائمہ اطہار(ع) میں سلفیت پر ہونے والی علمی نشستوں کے سلسلے سے مرتب کی گئی ہے۔[17]
- «المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین»: یہ کتاب نیدرلینڈ کے اسلامی فکر نامی ادارے نے شائع کی ہے۔[18] اس کا فارسی ترجمہ «روشی نو و صحیح در گفتگو با وہابیت» کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔[19]
- «نقد الشیخ محمد عبد الوہاب من الداخل»: اس کتاب میں عصام العماد نے وہابیت پر داخلی تنقیدی نقطۂ نظر سے بحث کی ہے۔[20]
عصام العماد نے مختلف خطبات،[21] ٹیلی ویژن پروگراموں[22] اور علمی نشستوں[23] میں شیعہ عقائد کا دفاع کیا ہے اور مخالفین کی جانب سے اٹھائے گئے شبہات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔
حوالہ جات
- ↑ العماد، وگو با دکتر عصام العماد»، پایگاه اطلاعرسانی حوزه؛ پناهنده، «دکتری وهابی که شیعه شد!»، سایت تبیان۔
- ↑ العماد، «لقاء عبر النافذة: مع الدکتور عصام العماد فی رحلته إلی الحق»، ص10-11؛ «دکتر عصام العماد»، سایت پرسمان دانشگاهیان۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: «عصام العماد: شیعیان یمن رهبری در انقلاب یمن مشارکت اساسی دارند»، سایت مجمع جهانی اهل بیت(ع)۔
- ↑ العماد، «گفت وگو با دکتر عصام العماد»، پایگاه اطلاعرسانی حوزه۔
- ↑ «دکتر عصام العماد»، مجمع جهانی شیعهشناسی۔
- ↑ «دکتر عصام العماد»، مجمع جهانی شیعهشناسی۔
- ↑ «رشد روزافزون گرایش وهابیون به دین اسلام»، خبرگزاری مهر۔
- ↑ العماد، «گفت وگو با دکتر عصام العماد»، پایگاه اطلاعرسانی حوزه؛ ««عصام العماد» درباره ماجرای شیعه شدنش گفت:»، سایت بنیاد بینالمللی استبصار۔
- ↑ العماد، «گفت وگو با دکتر عصام العماد»، پایگاه اطلاعرسانی حوزه۔
- ↑ «دکتر عصام العماد»، سایت پرسمان دانشگاهیان۔
- ↑ جبوری، الزلزال، 1428ھ، ص4۔
- ↑ جبوری، الزلزال، 1428ھ، شناسنامه کتاب۔
- ↑ جبوری، زلزال، 1401شمسی، شناسنامه کتاب۔
- ↑ جبوری، زلزال، 1401شمسی، ص4۔
- ↑ العماد، رحلتی من الوہابیۃ إلی الاثنی عشریۃ، 1998ء، ص5۔
- ↑ العماد، تجربتی مع الإمام محمد بن الحسن العسکری، 1435ھ، ص8۔
- ↑ العماد، تقابل اہل سنت و وہابیت، 1395شمسی، ص7۔
- ↑ العماد، المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین، 2002م، شناسنامہ کتاب۔
- ↑ العماد، روشی نو و صحیح در گفتگو با وہابیت، 1386ش، شناسنامہ کتاب۔
- ↑ العماد، نقد الشیخ محمد عبد الوہاب من الداخل، 1429ھ، ص6-7۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: «سخنرانی دانشمند رہ یافتہ بہ تشیع دکتر عصام العماد»، سایت آپارات؛ «سخنرانی دکتر عصام العماد در اجتماع مستبصرین»، سایت آپارات۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: «رہ یافتگان سخنرانی دکتر عصام العماد»، سایت شیعہ کوئست؛ «مصاحبہ شبکہ سلام با دکتر عصام العماد»، سایت موسسہ تحقیقاتی حضرت ولی عصر(عج)۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: «گزارش شفقنا از نشست علمی تقابل اہل سنت با وہابیت»، خبرگزاری شفقنا؛ «سخنرانی کامل استاد عصام العماد در نشست معرفی فرہنگ قرآنی یمن»، سایت آپارات۔
مآخذ
- پناہندہ، مریم، «دکتری وہابی کہ شیعہ شد!»، سایت تبیان، تاریخ درج مطلب: 1 مرداد 1393شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- جبوری، عبداللہ، الزلزال: انتصار الحق، قم، الاجتہاد، 1428ھ۔
- جبوری، عبداللہ، زلزال: مناظرہای کہ در اعتقادات وہابیان اضطراب و تزلزل ایجاد نمود، ترجمہ علی لنگرودی، قم، مرکز نشر کتاب، 1401ہجری شمسی۔
- «دکتر عصام العماد»، سایت پرسمان دانشگاہیان، تاریخ درج مطلب: 18 آبان 1389شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «دکتر عصام العماد»، سایت مجمع جہانی شیعہشناسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «رشد روزافزون گرایش وہابیون بہ دین اسلام»، خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: 16 اسفند 1388شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «رہ یافتگان سخنرانی دکتر عصام العماد»، سایت شیعہ کوئست، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «سخنرانی دانشمند رہ یافتہ بہ تشیع دکتر عصام العماد»، سایت آپارات، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «سخنرانی دکتر عصام العماد در اجتماع مستبصرین»، سایت آپارات، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «سخنرانی کامل استاد عصام العماد در نشست معرفی فرہنگ قرآنی یمن»، سایت آپارات، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «سلسلة مناظرات عصام العماد وعثمان الخمیس»، سایت کست باکس، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- ««عصام العماد» دربارہ ماجرای شیعہ شدنش گفت:»، سایت بنیاد بینالمللی استبصار، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «عصام العماد: شیعیان یمن رہبری در انقلاب یمن مشارکت اساسی دارند»، سایت مجمع جہانی اہل بیت(ع)، تاریخ درج مطلب: 20 شہریور 1390شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- العماد، عصام، تجربتی مع الإمام محمد بن الحسن العسکری، بیجا، نشر الرافد، 1435ھ۔
- العماد، عصام، تقابل اہل سنت و وہابیت، قم، برگ فردوس، 1395ہجری شمسی۔
- العماد، عصام، رحلتی من الوہابیة إلی الاثنی عشریة، بلژیک، مؤسسة التوحید، 1998ء۔
- العماد، عصام، روشی نو و صحیح در گفتگو با وہابیت، ترجمہ حمیدرضا غریبرضا، قم، دہکدہ جہانی آل محمد(ص)، 1386ہجری شمسی۔
- العماد، عصام، «گفتوگو با دکتر عصام العماد»، مجلہ پژوہہ، شمارہ 24، خرداد و تیر 1386شمسی، پایگاہ اطلاعرسانی حوزہ، تاریخ درج مطلب: 8 آبان 1390شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- العماد، عصام، «لقاء عبر النافذة: مع الدکتور عصام العماد فی رحلتہ إلی الحق»، مجلة النافذة، عدد 20، ذولحجة 1420ھ۔
- العماد، عصام، المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین، ہلند، موسسة الفکر الاسلامی، 2002ء۔
- العماد، عصام، نقد الشیخ محمد عبد الوہاب من الداخل، قم، الاجتہاد، 1429ھ۔
- «گزارش شفقنا از نشست علمی تقابل اہل سنت با وہابیت»، خبرگزاری شفقنا، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔
- «مصاحبہ شبکہ سلام با دکتر عصام العماد»، سایت موسسہ تحقیقاتی حضرت ولی عصر(عج)، تاریخ درج مطلب: 4 مہر 1387شمسی، تاریخ بازدید: 4 بہمن 1403ہجری شمسی۔