مندرجات کا رخ کریں

"اسماء بن خارجہ فزاری" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 28: سطر 28:
| تالیفات =
| تالیفات =
}}
}}
'''اسماء بن خارِجہ فزاری''' (متوفی 82 ہجری) کوفہ کے بااثر سیاسی لوگوں میں سے تھا، خاص کر واقعہ کربلا کے باعث بننے والے واقعات میں موثر تھا۔ وہ بنوفَزارہ قبیلہ کا بزرگ تھا۔ اسماء صفین کی جنگ میں امام علیؑ کے لشکر میں موجود تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ ہمیشہ کوفہ کے اموی حکمرانوں کے دار الحکومت میں رہا۔ وہ کوفہ کے تین حکمرانوں کا مشیر اور ان کی بیٹی کوفہ کے تین حکمرانوں (عبید اللہ بن زیاد، بُشر بن مَروان اور حَجاج بن یوسف ثقَفی) کی بیوی تھی۔
'''اسماء بن خارِجہ فزاری''' (متوفی 82 ہجری) [[کوفہ]] کے بااثر سیاسی لوگوں میں سے تھا، خاص کر [[واقعہ کربلا]] کے باعث بننے والے واقعات میں موثر تھا۔ وہ بنو فَزارہ قبیلہ کے بزرگ تھے۔ اسماء [[جنگ صفین|صفین کی جنگ]] میں [[امام علی علیہ السلام|امام علیؑ]] کے لشکر میں موجود تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ ہمیشہ کوفہ کے [[بنو امیہ|اموی حکمرانوں]] کے دار الحکومت میں رہا۔ وہ کوفہ کے تین حکمرانوں کا مشیر اور ان کی بیٹی کوفہ کے تین حکمرانوں ([[عبید اللہ بن زیاد]]، [[بُشر بن مَروان]] اور [[حجاج بن یوسف ثقفی|حَجاج بن یوسف ثقَفی]]) کی بیوی تھی۔
اسماء نے ہانی بن عروہ کو دار الخلافت میں بلانے اور مسلم بن عقیل کی شہادت میں ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا اور کربلا میں حسن مثنی کو ان کی رشتہ داری کی وجہ سے بچا لیا۔
اسماء نے [[ہانی بن عروہ]] کو دار الخلافت میں بلانے اور [[مسلم بن عقیل]] کی [[شہادت]] میں ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا اور [[واقعہ کربلا|کربلا]] میں [[حسن مثنی]] کو ان سے رشتہ داری کی وجہ سے بچا لیا۔
اس نے عثمان بن عفان کے خلاف بغاوت کرنے والے بعض باغی اور کمیل بن زیاد جیسے برجستہ شیعوں کو حجاج سے متعارف کرایا۔
اس نے عثمان بن عفان کے خلاف [[بغاوت]] کرنے والے بعض باغی اور [[کمیل بن زیاد نخعی|کمیل بن زیاد]] جیسے برجستہ [[شیعہ|شیعوں]] کے بارے میں حجاج کو آگاہ کیا۔


==صدر اسلام کے حوادث میں اسماء کا کردار==
==صدر اسلام کے حوادث میں اسماء کا کردار==
اسماء بن خارجۃ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعین<ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵.</ref> میں سے کوفہ کے قبیلہ بنوفزارہ کے بزرگ تھے۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۱۷۳؛ ابن‌حزم اندلسی، جمہرة أنساب العرب، ۱۳۶۲ش، ص۲۵۷.</ref> صدر اسلام کے مختلف واقعات میں اس کا کردار رہا ہے۔
اسماء بن خارجۃ [[صحابہ|اصحاب رسول اللہؐ]] کے [[تابعین]]<ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵.</ref> میں سے کوفہ کے قبیلہ بنوفزارہ کے بزرگ تھے۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۱۷۳؛ ابن‌حزم اندلسی، جمہرة أنساب العرب، ۱۳۶۲ش، ص۲۵۷.</ref> [[صدر اسلام]] کے مختلف واقعات میں اس کا کردار رہا ہے۔


اسماء کی بیٹی ہند نے کوفہ کے تین حکمرانوں یعنی عبید اللہ بن زیاد،<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۲۳.</ref> بُشر بن مروان بن حکم اور حجاج بن یوسف ثقفی سے شادی کی۔<ref>ابن‌حبیب، المحبر، دار الافاق الجدیدہ، ص۴۴۳.</ref> البتہ ابن زیاد (اپنے سابق شوہر) سے اظہارِ محبت کی وجہ سے حجاج نے اسے طلاق دے دی۔<ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۹۶-۹۷.</ref> ان کے بیٹوں کے ناموں کی وجہ سے اسماء کو ابوحَسّان،<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳ ص۱۷۳.</ref> ابومحمد<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref> اور ابو ہند بھی کہا جاتا تھا۔<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref>  
اسماء کی بیٹی ہند نے کوفہ کے تین حکمرانوں یعنی عبید اللہ بن زیاد،<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۲۳.</ref> بُشر بن مروان بن حکم اور حجاج بن یوسف ثقفی سے شادی کی۔<ref>ابن‌حبیب، المحبر، دار الافاق الجدیدہ، ص۴۴۳.</ref> البتہ ابن زیاد (اپنے سابق شوہر) سے اظہارِ محبت کی وجہ سے حجاج نے اسے طلاق دیا۔<ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۹۶-۹۷.</ref> ان کے بیٹوں کے ناموں کی وجہ سے اسماء کو ابو حَسّان،<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳ ص۱۷۳.</ref> ابو محمد<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref> اور ابو ہند بھی کہا جاتا تھا۔<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref>  


اسماء محدثین میں سے تھا<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref> اور ان کے بیٹے مالک اور علی بن ربیعہ جیسے لوگوں نے اس سے حدیثیں نقل کی ہیں۔<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref>  
اسماء [[محدث|محدثین]] میں سے تھا<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref> اور ان کا بیٹا مالک اور علی بن ربیعہ جیسے لوگوں نے اس سے حدیثیں نقل کی ہیں۔<ref>ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.</ref>  


اسماء کی تاریخ وفات کے بارے میں مختلف اطلاعات ہیں۔ ان کی وفات کے وقت کے حوالے سے سنہ 60،<ref>ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.</ref> ۶۵،<ref>سمعانی، الانساب، ۱۳۸۲ق، ج۱۰، ص۲۱۳؛ ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۵۰.</ref> ۶۶ <ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵، ج۲، ص۲۹۳.</ref> اور ۸۲ھ<ref>ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۹، ص۴۳.</ref> بیان ہوئے ہیں۔
اسماء کی تاریخ وفات کے بارے میں مختلف اطلاعات ہیں۔ ان کی وفات کے وقت کے حوالے سے سنہ 60،<ref>ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.</ref> ۶۵،<ref>سمعانی، الانساب، ۱۳۸۲ق، ج۱۰، ص۲۱۳؛ ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۵۰.</ref> ۶۶ <ref>زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵، ج۲، ص۲۹۳.</ref> اور ۸۲ھ<ref>ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۹، ص۴۳.</ref> بیان ہوئے ہیں۔


صحابہ کے حالات زندگی لکھنے والے [[ابن‌حجر عسقلانی|ابن‌حجر عَسقلانی]] (متوفی: ۸۵۲ھ) نے ان کی وفات 80 سال کی عمر میں ہونے کی بناپر تاریخ وفات سنہ 60 ہجری اور پیدائش کو بعثت سے پہلے قرار دیا ہے۔<ref>ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.</ref>  
صحابہ کے حالات زندگی لکھنے والے [[ابن‌حجر عسقلانی|ابن‌حجر عَسقلانی]] (متوفی: ۸۵۲ھ) نے ان کی وفات 80 سال کی عمر میں ہونے کی بنا پر تاریخ وفات [[سنہ 60 ہجری]] اور پیدائش کو [[بعثت]] سے پہلے قرار دیا ہے۔<ref>ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.</ref>  


==حجر بن عدی کے خلاف گواہی ==
==حجر بن عدی کے خلاف گواہی==
اسماء صفین کی جنگ میں امام علی کی فوج میں شامل تھا۔<ref>مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۷۰.</ref> البتہ وہ بعد میں ان لوگوں میں شامل ہوا جنہوں نے ابن زیاد کی درخواست پر امام علیؑ کے صحابی حجر بن عدی (شہادت: 51 ہجری) کے خلاف گواہی دی<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۲۵۴.</ref> جس کے نتیجے میں حُجر کو گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا۔<ref>یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۳۱.</ref>بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں اس پر نادم اور پشیمان ہوا۔<ref>طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۲۷۰.</ref>
اسماء [[جنگ صفین|صفین کی جنگ]] میں [[امام علی علیہ السلام|امام علیؑ]] کی فوج میں شامل تھا۔<ref>مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۷۰.</ref> البتہ وہ بعد میں ان لوگوں میں شامل ہوا جنہوں نے ابن زیاد کی درخواست پر امام علیؑ کے صحابی حجر بن عدی (شہادت: 51 ہجری) کے خلاف گواہی دی<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۲۵۴.</ref> جس کے نتیجے میں حُجر کو گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا۔<ref>یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۳۱.</ref>بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں اس پر نادم اور پشیمان ہوا۔<ref>طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۲۷۰.</ref>
==واقعہ کربلا میں اسماء کا کردار==
==واقعہ کربلا میں اسماء کا کردار==
تاریخی ذرائع کے مطابق اسماء بن خارجہ کا [[واقعہ کربلا]] میں کردار رہا ہے:
تاریخی ذرائع کے مطابق اسماء بن خارجہ کا [[واقعہ کربلا]] میں کردار رہا ہے:
===مسلم بن عقیل کے گرد سے لوگوں کو منتشر کرنا===
===مسلم بن عقیل کے گرد سے لوگوں کو منتشر کرنا===


60 ہجری میں جب عبید اللہ بن زیاد کوفہ کا امیر بنا تو اسماء نے اپنی بیٹی کی اس سے شادی کی۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.</ref> وہ دار الخلافہ میں پہنچ گیا اور ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.</ref> عبید اللہ نے اسماء اور کثیر بن شہاب حارثی، محمد بن اشعث بن قیس اور قعقاع بن سوید بن منقری کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا اور شہر کو کنٹرول سنبھالنے میں ان کی مدد لی۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.</ref> عبیداللہ نے ان لوگوں کو کوفہ کے لوگوں میں پھیل جانے اور لوگوں کو اس کی اطاعت اور کوفہ میں امام حسینؑ کے سفیر مسلم بن عقیل کے کی حمایت اور کوفہ میں بغاوت کرنے سے ڈرائیں۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.</ref>
60 ہجری میں جب عبید اللہ بن زیاد کوفہ کا امیر بنا تو اسماء نے اپنی بیٹی کی اس سے شادی کی۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.</ref> وہ دار الخلافہ میں پہنچ گیا اور ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.</ref> عبید اللہ نے اسماء اور [[کثیر بن شہاب حارثی]]، [[محمد بن اشعث بن قیس]] اور قعقاع بن سوید بن منقری کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا اور شہر کو کنٹرول سنبھالنے میں ان کی مدد لی۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.</ref> عبیداللہ نے ان لوگوں کو کوفہ کے لوگوں میں پھیل جانے اور لوگوں کو اس کی اطاعت اور کوفہ میں امام حسینؑ کے سفیر مسلم بن عقیل کے کی حمایت اور کوفہ میں بغاوت کرنے سے ڈرائیں۔<ref>بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.</ref>
===ہانی بن عروہ کی گرفتاری میں تعاون===
===ہانی بن عروہ کی گرفتاری میں تعاون===
جب عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو دار الخلافت میں بلانے اور اس سے مسلم بن عقیل کا مطالبہ کرنے اور انکار کرنے پر اسے شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تو اسماء بن خارجہ اور محمد بن اشعث کو اس کے پیچھے بھیج دیا۔<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج‏۲، ص۸۰.</ref> بعض منابع میں اس عمل میں عمرو بن حجاج زبیدی اور حسان ولد اسماء کے نام بھی مذکور ہیں۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق،  ج۵، صص۴۴، ۴۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.</ref>  
جب عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو دار الخلافت میں بلانے اور اس سے مسلم بن عقیل کا مطالبہ کرنے اور انکار کرنے پر اسے شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تو اسماء بن خارجہ اور محمد بن اشعث کو اس کے پیچھے بھیج دیا۔<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج‏۲، ص۸۰.</ref> بعض منابع میں اس عمل میں عمرو بن حجاج زبیدی اور حسان ولد اسماء کے نام بھی مذکور ہیں۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق،  ج۵، صص۴۴، ۴۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.</ref>  


ابن قتیبہ اور طبری نے ایک روایت ذکر کی ہے کہ اسماء بن خارجہ عبید اللہ بن زیاد کے ارادے سے بے خبر تھا۔ref>دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۳۷-۲۳۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.</ref> پہلے تو اس نے ہانی کو عبیداللہ سے امان لینے کی کوشش کی<ref>طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۰.</ref> اور ہانی کو عبیداللہ کی طرف سے مار پیٹ اور قید ہوتے دیکھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا اور خود بھی گرفتار ہوگیا۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۸؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۷.</ref> علی نمازی شاہرودی جیسے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبید اللہ بن زیاد پر اعتراض کرنے والا بے خبر شخص اسماء کا بیٹا حسان تھا۔<ref>نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، حیدری، ج۲، ص۳۲۹.</ref>
ابن قتیبہ اور طبری نے ایک روایت ذکر کی ہے کہ اسماء بن خارجہ عبید اللہ بن زیاد کے ارادے سے بے خبر تھا۔ref>دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۳۷-۲۳۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.<nowiki></ref></nowiki> پہلے تو اس نے ہانی کو عبیداللہ سے امان لینے کی کوشش کی<ref>طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۰.</ref> اور ہانی کو عبیداللہ کی طرف سے مار پیٹ اور قید ہوتے دیکھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا اور خود بھی گرفتار ہوگیا۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۸؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۷.</ref> علی نمازی شاہرودی جیسے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبید اللہ بن زیاد پر اعتراض کرنے والا بے خبر شخص اسماء کا بیٹا حسان تھا۔<ref>نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، حیدری، ج۲، ص۳۲۹.</ref>
===حسن مُثَنّیٰ کو روز عاشورا نجات===
===حسن مُثَنّیٰ کو روز عاشورا نجات===
شیخ مفید اور محمد تقی ششتری کے مطابق، اسماء بن خارجہ نے عمر بن سعد کی فوج میں امام حسینؑ کے خلاف جنگ نہیں کی تھی اور جنگ کے خاتمے کے بعد عاشورہ کے دن کربلا میں حاضر ہوئے اور حسن مثنی کو زخمی حالت میں دیکھا تو ان کی ماں کا ان کے قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے ان کی جان بچائی۔<ref>مفید، الارشاد، ۱۴۱۴، ج۲، ص۲۵؛ تستری، قاموس الرجال، ۱۴۲۲ق، ج۱۱، ص۳۹.</ref>
شیخ مفید اور محمد تقی ششتری کے مطابق، اسماء بن خارجہ نے عمر بن سعد کی فوج میں امام حسینؑ کے خلاف جنگ نہیں کی تھی اور جنگ کے خاتمے کے بعد [[عاشورہ]] کے دن کربلا میں حاضر ہوئے اور حسن مثنی کو زخمی حالت میں دیکھا تو ان کی ماں کا ان کے قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے ان کی جان بچائی۔<ref>مفید، الارشاد، ۱۴۱۴، ج۲، ص۲۵؛ تستری، قاموس الرجال، ۱۴۲۲ق، ج۱۱، ص۳۹.</ref>
===مختار کے انتقام کی فہرست میں اسماء===
===مختار کے انتقام کی فہرست میں اسماء===
جب عبیداللہ نے مختار بن ابی عبید ثقفی کو قید کیا اور قسم کھائی کہ وہ اسے قتل کر دے گا تو اسماء بن خارجہ اور عروۃ بن مغیرہ زندان میں مختار سے ملنے گئے اور انہیں عبیداللہ بن زیاد کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے خبردار کیا۔<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۰۰ق، ج‏۵، ص۳۸۵.</ref> تاہم کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد مختار نے واقعہ کربلا کے مجرموں سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہوئے اسماء کا نام بھی بتایا اور اسے دھمکی دی۔ اسی لئے اسماء کوفہ سے بھاگ گیا<ref>.بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج‏۶، ص۴۱۰-۴۱۱.</ref> اور مختار کی شکست تک کوفہ واپس نہیں آیا۔<ref>دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۳۰۳.</ref> مختار نے اسماء اور اس کے چچازاد بھائیوں کا گھر تباہ کر دیا۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۲۵۴.</ref>
جب عبیداللہ نے مختار بن ابی عبید ثقفی کو قید کیا اور قسم کھائی کہ وہ اسے قتل کر دے گا تو اسماء بن خارجہ اور عروۃ بن مغیرہ زندان میں مختار سے ملنے گئے اور انہیں عبیداللہ بن زیاد کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے خبردار کیا۔<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۰۰ق، ج‏۵، ص۳۸۵.</ref> تاہم کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد مختار نے واقعہ کربلا کے مجرموں سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہوئے اسماء کا نام بھی بتایا اور اسے دھمکی دی۔ اسی لئے اسماء کوفہ سے بھاگ گیا<ref>.بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج‏۶، ص۴۱۰-۴۱۱.</ref> اور مختار کی شکست تک کوفہ واپس نہیں آیا۔<ref>دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۳۰۳.</ref> [[مختار بن ابی عبید ثقفی|مختار]] نے اسماء اور اس کے چچازاد بھائیوں کا گھر تباہ کر دیا۔<ref>ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۲۵۴.</ref>


==شیعوں کی معرفی میں کوفی حکمرانی کی مدد==
==شیعوں کی معرفی میں کوفی حکمرانی کی مدد==

نسخہ بمطابق 14:46، 15 ستمبر 2024ء

اَسماء بن خارجہ
کوائف
مکمل ناماسماء بن خارجۃ بن حِصن بن حُذیفۃ بن بَدر فَزاری کوفی
کنیتابو حَسّان، ابو محمد، ابو ہند
محل زندگیکوفہ
مہاجر/انصارتابعی
نسب/قبیلہبنوفزارۃ
اقاربداماد: عُبیداللہ بن زیاد، بُشر بن مَروان، حَجاج بن یوسف. اہم اولاد: حَسّان، مالِک، ہِند. نوادگان مہم: ابو اسحاق فزاری، محمد ذو الشامَہ.
دینی معلومات
وجہ شہرتواقعہ کربلا میں ابن زیاد کی حمایت
نمایاں کارنامےمشاور حاکمان کوفہ
دیگر فعالیتیںشہادت دادن علیہ حُجر بن عَدی، راضی کردن ہانی بن عُروہ دار الخلافہ جانے کے لئے حجاج بن یوسف کو امام علیؑ کے بعض شیعوں کی معرفی


اسماء بن خارِجہ فزاری (متوفی 82 ہجری) کوفہ کے بااثر سیاسی لوگوں میں سے تھا، خاص کر واقعہ کربلا کے باعث بننے والے واقعات میں موثر تھا۔ وہ بنو فَزارہ قبیلہ کے بزرگ تھے۔ اسماء صفین کی جنگ میں امام علیؑ کے لشکر میں موجود تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ ہمیشہ کوفہ کے اموی حکمرانوں کے دار الحکومت میں رہا۔ وہ کوفہ کے تین حکمرانوں کا مشیر اور ان کی بیٹی کوفہ کے تین حکمرانوں (عبید اللہ بن زیاد، بُشر بن مَروان اور حَجاج بن یوسف ثقَفی) کی بیوی تھی۔ اسماء نے ہانی بن عروہ کو دار الخلافت میں بلانے اور مسلم بن عقیل کی شہادت میں ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا اور کربلا میں حسن مثنی کو ان سے رشتہ داری کی وجہ سے بچا لیا۔ اس نے عثمان بن عفان کے خلاف بغاوت کرنے والے بعض باغی اور کمیل بن زیاد جیسے برجستہ شیعوں کے بارے میں حجاج کو آگاہ کیا۔

صدر اسلام کے حوادث میں اسماء کا کردار

اسماء بن خارجۃ اصحاب رسول اللہؐ کے تابعین[1] میں سے کوفہ کے قبیلہ بنوفزارہ کے بزرگ تھے۔[2] صدر اسلام کے مختلف واقعات میں اس کا کردار رہا ہے۔

اسماء کی بیٹی ہند نے کوفہ کے تین حکمرانوں یعنی عبید اللہ بن زیاد،[3] بُشر بن مروان بن حکم اور حجاج بن یوسف ثقفی سے شادی کی۔[4] البتہ ابن زیاد (اپنے سابق شوہر) سے اظہارِ محبت کی وجہ سے حجاج نے اسے طلاق دیا۔[5] ان کے بیٹوں کے ناموں کی وجہ سے اسماء کو ابو حَسّان،[6] ابو محمد[7] اور ابو ہند بھی کہا جاتا تھا۔[8]

اسماء محدثین میں سے تھا[9] اور ان کا بیٹا مالک اور علی بن ربیعہ جیسے لوگوں نے اس سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[10]

اسماء کی تاریخ وفات کے بارے میں مختلف اطلاعات ہیں۔ ان کی وفات کے وقت کے حوالے سے سنہ 60،[11] ۶۵،[12] ۶۶ [13] اور ۸۲ھ[14] بیان ہوئے ہیں۔

صحابہ کے حالات زندگی لکھنے والے ابن‌حجر عَسقلانی (متوفی: ۸۵۲ھ) نے ان کی وفات 80 سال کی عمر میں ہونے کی بنا پر تاریخ وفات سنہ 60 ہجری اور پیدائش کو بعثت سے پہلے قرار دیا ہے۔[15]

حجر بن عدی کے خلاف گواہی

اسماء صفین کی جنگ میں امام علیؑ کی فوج میں شامل تھا۔[16] البتہ وہ بعد میں ان لوگوں میں شامل ہوا جنہوں نے ابن زیاد کی درخواست پر امام علیؑ کے صحابی حجر بن عدی (شہادت: 51 ہجری) کے خلاف گواہی دی[17] جس کے نتیجے میں حُجر کو گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا۔[18]بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں اس پر نادم اور پشیمان ہوا۔[19]

واقعہ کربلا میں اسماء کا کردار

تاریخی ذرائع کے مطابق اسماء بن خارجہ کا واقعہ کربلا میں کردار رہا ہے:

مسلم بن عقیل کے گرد سے لوگوں کو منتشر کرنا

60 ہجری میں جب عبید اللہ بن زیاد کوفہ کا امیر بنا تو اسماء نے اپنی بیٹی کی اس سے شادی کی۔[20] وہ دار الخلافہ میں پہنچ گیا اور ابن زیاد کے ساتھ تعاون کیا۔[21] عبید اللہ نے اسماء اور کثیر بن شہاب حارثی، محمد بن اشعث بن قیس اور قعقاع بن سوید بن منقری کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا اور شہر کو کنٹرول سنبھالنے میں ان کی مدد لی۔[22] عبیداللہ نے ان لوگوں کو کوفہ کے لوگوں میں پھیل جانے اور لوگوں کو اس کی اطاعت اور کوفہ میں امام حسینؑ کے سفیر مسلم بن عقیل کے کی حمایت اور کوفہ میں بغاوت کرنے سے ڈرائیں۔[23]

ہانی بن عروہ کی گرفتاری میں تعاون

جب عبید اللہ بن زیاد نے ہانی بن عروہ کو دار الخلافت میں بلانے اور اس سے مسلم بن عقیل کا مطالبہ کرنے اور انکار کرنے پر اسے شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تو اسماء بن خارجہ اور محمد بن اشعث کو اس کے پیچھے بھیج دیا۔[24] بعض منابع میں اس عمل میں عمرو بن حجاج زبیدی اور حسان ولد اسماء کے نام بھی مذکور ہیں۔[25]

ابن قتیبہ اور طبری نے ایک روایت ذکر کی ہے کہ اسماء بن خارجہ عبید اللہ بن زیاد کے ارادے سے بے خبر تھا۔ref>دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۳۷-۲۳۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.</ref> پہلے تو اس نے ہانی کو عبیداللہ سے امان لینے کی کوشش کی[26] اور ہانی کو عبیداللہ کی طرف سے مار پیٹ اور قید ہوتے دیکھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا اور خود بھی گرفتار ہوگیا۔[27] علی نمازی شاہرودی جیسے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبید اللہ بن زیاد پر اعتراض کرنے والا بے خبر شخص اسماء کا بیٹا حسان تھا۔[28]

حسن مُثَنّیٰ کو روز عاشورا نجات

شیخ مفید اور محمد تقی ششتری کے مطابق، اسماء بن خارجہ نے عمر بن سعد کی فوج میں امام حسینؑ کے خلاف جنگ نہیں کی تھی اور جنگ کے خاتمے کے بعد عاشورہ کے دن کربلا میں حاضر ہوئے اور حسن مثنی کو زخمی حالت میں دیکھا تو ان کی ماں کا ان کے قبیلہ سے ہونے کی وجہ سے ان کی جان بچائی۔[29]

مختار کے انتقام کی فہرست میں اسماء

جب عبیداللہ نے مختار بن ابی عبید ثقفی کو قید کیا اور قسم کھائی کہ وہ اسے قتل کر دے گا تو اسماء بن خارجہ اور عروۃ بن مغیرہ زندان میں مختار سے ملنے گئے اور انہیں عبیداللہ بن زیاد کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے خبردار کیا۔[30] تاہم کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد مختار نے واقعہ کربلا کے مجرموں سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہوئے اسماء کا نام بھی بتایا اور اسے دھمکی دی۔ اسی لئے اسماء کوفہ سے بھاگ گیا[31] اور مختار کی شکست تک کوفہ واپس نہیں آیا۔[32] مختار نے اسماء اور اس کے چچازاد بھائیوں کا گھر تباہ کر دیا۔[33]

شیعوں کی معرفی میں کوفی حکمرانی کی مدد

کوفہ پر حجاج بن یوسف ثقفی کی امارت کے آغاز (75ھ) کے بعد اسماء نئے حکمران کا سسر بن گیا۔[34] اور دار الخلافہ آنے جانے لگا۔[35] جب عبداللہ بن زبیر (وفات: 73 ہجری) کی طرف سے عبداللہ بن مطیع کوفہ میں حاکم تھا تو اس وقت بھی اسماء بن خارجہ دار الخلافہ میں موجود تھے اور اس وقت کے امیر کے مشیر تھے۔[36] طبری لکھتے ہیں کہ جب حجاج عثمان بن عفان کے خلاف باغیوں اور امام علیؑ کے شیعوں کو پکڑ کر شہید کر رہا تھا تو اسماء نے بعض باغیوں اور کمیل بن زیاد جیسے بعض نامور شیعوں کے نام حجاج کے سامنے پیش کیا۔[37]

نیز عبد الملک بن مروان کے دور خلافت (دور حکومت: 66-86 ہجری) میں جب عبد الملک کا بھائی بُشر بن مروان کوفہ کا حاکم بنا تو اس نے اپنی بیٹی کی شادی بُشر سے کر دی[38] اور ازرقی خوارج سے جنگ لڑنے کے لئے مہلب بن ابی صفرہ کو منتخب کرنے پر اس سے مشورہ ہوا۔[39]

اسماء بن خارجہ کی نسل

اسماء بن خارجہ کی اولاد میں سے بعض محدث تھے۔ اسماء بن خارجہ کی بیٹی ام حبیب کا بیٹا محمد،[40] ابراہیم بن محمد بن حارث بن اسماء بن خارجہ، جو ابو اسحاق فزاری کے نام سے مشہور ہیں،[41] اور ابراہیم کے چچا زاد بھائی ابو عبداللہ مروان بن معاویہ بن حارث بن اسماء[42] ان کی نسل سے ہیں جو اہل سنت کے محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔

اسی طرح مسلمہ بن عبدالملک (102ھ) کی طرف سے منتخب شدہ کوفہ کا امیر محمد ذوالشامہ کی ماں بھی اسماء بن خارجہ کی بیٹیوں میں سے ایک تھی۔[43]

حوالہ جات

  1. زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵.
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۱۷۳؛ ابن‌حزم اندلسی، جمہرة أنساب العرب، ۱۳۶۲ش، ص۲۵۷.
  3. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۲۳.
  4. ابن‌حبیب، المحبر، دار الافاق الجدیدہ، ص۴۴۳.
  5. زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۹۶-۹۷.
  6. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱۳ ص۱۷۳.
  7. ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.
  8. ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.
  9. ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.
  10. ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۲.
  11. ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.
  12. سمعانی، الانساب، ۱۳۸۲ق، ج۱۰، ص۲۱۳؛ ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ۱۴۱۳ق، ج۵، ص۵۰.
  13. زرکلی، الأعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۰۵، ج۲، ص۲۹۳.
  14. ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۹، ص۴۳.
  15. ابن‌حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۹.
  16. مدنی، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، ص۲۷۰.
  17. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۲۵۴.
  18. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۳۱.
  19. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۲۷۰.
  20. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.
  21. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۰۰ق، ج۵، ص۳۸۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۲، ص۲۳.
  22. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.
  23. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۸.
  24. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۳۹۴ق، ج‏۲، ص۸۰.
  25. ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، صص۴۴، ۴۶؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۵.
  26. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۰.
  27. ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۴۸؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۳۶۷.
  28. نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، حیدری، ج۲، ص۳۲۹.
  29. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴، ج۲، ص۲۵؛ تستری، قاموس الرجال، ۱۴۲۲ق، ج۱۱، ص۳۹.
  30. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۰۰ق، ج‏۵، ص۳۸۵.
  31. .بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج‏۶، ص۴۱۰-۴۱۱.
  32. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۳۰۳.
  33. ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۲۵۴.
  34. ابن‌حبیب، المحبر، دار الافاق الجدیدہ، ص۴۴۳.
  35. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج‏۷، ص۸۲.
  36. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷، ج۶، ص۳۱.
  37. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق، ج‏۴، ص۴۰۴.
  38. ابن حبیب، المحبر، دار الافاق الجدیدہ، ص۴۴۳.
  39. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۴۲۱؛ ابن‌اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۶، ص۳۶۶؛ ابن‌قتیبہ، الإمامة و السیاسة، ۱۴۱۰ق، ج‏۲، ص۱۰۹.
  40. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۵، ص۱۲۵.
  41. شبستری، الفائق فی رواة و اصحاب الامام الصادق(ع)، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۶۰.
  42. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۷، ص۲۳۸؛ ابن‌حزم اندلسی، جمہرة أنساب العرب، ۱۳۶۲ش، ص۲۵۷-۲۵۸.
  43. بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج‏۹، ص۳۴۶.

مآخذ

  • ابن‌حبیب ہاشمی بغدادی، محمد بن امیہ، المحبر، تحقیق ایلزہ لیختن شتیتر، بیروت، دار الآفاق الجدیدہ، بی‌تا.
  • ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابة فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.
  • ابن‌حزم اندلسی، علی بن احمد، جمہرۀ انساب العرب، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ق/۱۳۶۲ش/۱۹۸۳م.
  • ابن‌سعد ہاشمی بصری، محمد، الطبقات الکبری الطبقة الخامسہ، تحقیق محمد بن صامل السلمی، الطائف، مکتبة الصدیق، ۱۴۱۴ق/۱۹۹۳م.
  • ابن‌سعد ہاشمی بصری، محمد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.
  • ابن‌قتیبة دینوری، عبداللہ بن مسلم، الإمامة و السیاسة المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.
  • ابن‌کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایة و النہایہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۷ق/ ۱۹۸۶م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الأشراف، ج۲، تحقیق محمدباقر محمودی، بیروت، مؤسسة الأعلمی، ۱۳۹۴ق/۱۹۷۴م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الأشراف، ج۳، تحقیق محمدباقر محمودی، بیروت، دار التعارف، ۱۳۹۷ق/۱۹۷۷م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الأشراف، ج۵، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمعیة المستشرقین الألمانیہ، ۱۴۰۰ق/۱۹۷۹م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الأشراف، ج۶-۱۳، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م.
  • تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، موسسہ نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۲۲ق.
  • دینوری، احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر و مراجعہ جمال‌الدین شیال، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش‏.
  • ذہبی، شمس‌الدین محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق/۱۹۹۳م.
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دار العلم للملایین، چاپ ہشتم، ۱۹۸۹م.
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد بن منصور تمیمی، الأنساب، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدرآباد، مجلس دائرةالمعارف العثمانیہ، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲م.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک معروف بہ تاریخ طبری، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • مدنی، سیدعلی خان، الدرجات الرفیعہ فی طبقات الشیعہ، تحقیق سید محمدصادق بحرالعلوم، قم، منشورات مکتبہ بصیرتی، ۱۳۹۷.
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دار الہجرہ، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق.
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد، بیروت، دار المفید للطباعة والنشر والتوزیع، ۱۴۱۴ق.
  • نمازی شاہرودی، علی، مستدرکات علم رجال الحدیث، تہران، حیدری، بی‌تا.
  • یعقوبی، احمد بن أبى‌يعقوب بن جعفر بن وہب واضح الكاتب العباسى المعروف باليعقوبى، تاریخ الیعقوبی، بيروت، دار صادر، بى‌تا.


ردہ:اہالی کوفہ قرن ۱ (قمری) ردہ:لشکریان عمر بن سعد ردہ:عاملان واقعہ کربلا ردہ:مقالہ‌ہای با درجہ اہمیت ج