الاستبصار فی ما اختلف من الاخبار (کتاب)

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
غیر جامع
ویکی شیعہ سے
(استبصار سے رجوع مکرر)
الاستبصار فی ما اختلف من الاخبار
کتب اربعہ میں سے چوتھی کتاب
کتب اربعہ میں سے چوتھی کتاب
مشخصات
مصنفشیخ طوسی (460ھ )
موضوعحدیثی
زبانعربی
مذہبشیعہ
طباعت اور اشاعت
ناشرمتعدد
مقام اشاعتتہران، قم، لبنان


الاستبصار فی ما اختلف من الاخبار کتب اربعہ میں سے چوتھی کتاب ہے ۔ یہ کتاب شیخ طوسی (متوفی: 460ھ/1068ء) کی تالیف ہے جو شیخ الطائفہ کے نام سے بھی معروف ہیں ۔

مضامین

یہ کتاب فقہی احادیث پر مشتمل ہے اور تہذیب الاحکام کی بنسبت مختصر ہے۔اس کتاب کے ابواب کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ پہلا اور دوسرا حصہ عبادات سے متعلق ہے اور آخری یا تیسرا حصہ فقہ کے دوسرے ابواب سے ابواب جیسے عقود، ایقاعات، احکام تا حدود و دیات وغیرہ سے مخصوص ہے۔

خود مؤلف نے اس کتاب میں موجود احادیث کی تعداد 5511 ذکر کیا ہے۔[1] لیکن اس کتاب کا جو تحقیقی نسخہ منتشر ہوا ہے اس میں احادیث کی تعداد 5558 حدیث تک پہنچتی ہیں۔ اور یہ اختلاف ممکن ہے بعض احادیث کی گنتی کی نوعیت کی وجہ سے پیش آجائے۔[2]

شیخ طوسی نے پہلے دو حصوں میں احادیث کو انکی سندوں کے ساتھ مرقوم فرمایا ہے لیکن آخری حصے میں سندوں کو نہایت ہی اختصار سے ذکر کیا ہے اور زیادہ تر کتاب تہذیب الاحکام اور کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں شیخ صدوق کی روش سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔[3]

تألیف کا مقصد

شیخ طوسی کے بعض شاگرد اور دیگر علما نے شیخ صاحب سے کسی ایسی کتاب لکھنے کی درخواست کی جس میں متعارض اور مخالف احادیث اکھٹے کرکے انکے بارے میں تحقیق و بررسی کے ذریعے صحیح احادیث کو غیر صحیح احادیث سے جدا کیا جائے۔ شیخ طوسی نے اسی مقصد کی خاطر اس کتاب میں پہلے صحیح اور معتبر احادیث کو ذکر کیا ہے پھر مخالف روایات کو ذکر کرکے ان کی جانچ پڑتال کی ہے اس حوالے سے کوشش کرکے تمام احادیث کو حد الامکان جمع کیا ہے اور کسی حدیث کو نہیں چھوڑا ہے۔

شیوہ تألیف

شیخ طوسی نے اس کتاب میں جہاں ہر باب میں اس موضوع سے متعلق احادیث کو جمع کیا ہے وہاں انکی سند اور مضامین کے حوالے سے جانچ پڑتال کرکے ان احادیث کی ظاہری ناہمخوانی اور ٹکراؤ کو ختم کرنے یا بعض کو بعض پر ترجیح دینے کی تجویز دی ہے۔ احادیث کے ظاہری ٹکراؤ کو ختم کرنے کے حوالے سے فقہ میں شیخ طوسی کا طریقہ کار ایک ممتاز مقام رکھتا ہے اور اس کتاب میں یہ چیز بوضوع روشن اور آشکار ہے۔

اس بنا پر اس کتاب کو صرف احادیث کا مجموعہ شمار کرکے اس کی فقہی پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اس کتاب میں بھی دیگر کتب اربعہ کی طرح فقہ کے ابواب کو فقہ میں رائج طبقہ بندی کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔

اگرچہ شیخ طوسی نے اس کتاب کی تألیف میں کسی حد تک اپنی پہلی تألیف - تہذیب الاحکام - پر بھروسہ کیا ہے لیکن یہ کتاب اپنی تالیفی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ابواب کی ترتیب اور احادیث کی ترتیب دونوں حوالوں سے ایک خاص مقام کا حامل ہے اور ایک مستقل کتاب کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔

یہ استقلال خود مؤلف نے اس کتاب کی جو فہرست دی ہے، میں بھی اور ۔[4] انکے ہم عصر عالم دین نجاشی[5] کے کلام میں بھی سے بوضوح آشکار ہے۔

اس کتاب کی خصوصیات

  • یہ کتاب پہلی کتاب ہے جس میں مخالف احادیث کو جمع کرنے کی خاطر لکہی گئی ہے۔
  • کتاب استبصار، نہایت معتبر اور متند ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت جامع کتاب بھی ہے یہاں تک کہ سید ابن طاوؤس فرماتے ہیں: اگر کسی مورد میں کوئی مخالف حدیث موجود ہو تو وہ کتاب استبصار میں ضرور اس کی طرف اشارہ کی گئی ہوگی۔
  • ہر باب کے آغاز میں پہلے معتبر یا حد اقل مورد قبول احادیث کو ذکر کیا ہے اس کے بعد دوسری احادیث کو ذکر کیا ہے۔
  • یہ کتاب فقہ کے تمام ابواب پر مشتمل نہیں ہے بلکہ صرف ان ابواب کی طرف اشارہ کرتی ہے جن میں مخالف احادیث موجود ہوں لیکن اس میں موجود ابواب کی ترتیب فقہ میں رائج ترتیب کے مطابق طہارت سے شروع ہو کر دیات پر ختم ہوتی ہے۔

اس کتاب کی قدر و منزلت

کتاب شیعہ حدیثی کتابوں میں معتبرترین کتاب شمار کیا جاتا ہے اور ہر فقیہ اور مجتہد کیلئے احکام شرعی کی استنباط میں اس کی طرف مراجمعہ کرنا ایک لازمی امر سمجھا جاتا ہے۔

اس کتاب کی اہمیت اور قدر و منزلت کی بنا پر اس کا نام ہمیشہ شیعہ علماء اور فقہاء کی کتابوں میں اس کتاب کی احادیث ضرور مذکور نظر آتی ہیں۔

کتب حدیث سے موازنہ

اہم حدیثی کتب مصنف متوفی تعداد احادیث توضیحات
المحاسن احمد بن محمد برقی 274 ھ تقریباً 2604 مختف عناوین کا مجموعۂ احادیث
کافی محمد بن یعقوب کلینی 329 ھ تقریباً 16000 اعتقادی، اخلاقی آداب اور فقہی احادیث
من لا یحضر الفقیہ شیخ صدوق 381 ھ تقریباً 6000 فقہی
تہذیب الاحکام شیخ طوسی 460 ھ تقریباً 13600 فقہی احادیث
الاستبصار فیما اختلف من الاخبار شیخ طوسی 460 ھ تقریباً 5500 احادیث فقہی
الوافی فیض کاشانی 1091 ھ تقریباً 50000 حذف مکررات کے ساتھ کتب اربعہ کی احادیث کا مجموعہ اور بعض احادیث کی شرح
وسائل الشیعہ شیخ حر عاملی 1104 ھ 35850 کتب اربعہ اور اس کے علاوہ ستر دیگر حدیثی کتب سے احادیث جمع کی گئی ہیں
بحار الانوار علامہ مجلسی 1110 ھ تقریباً 85000 مختلف موضوعات سے متعلق اکثر معصومین کی روایات
مستدرک الوسائل مرزا حسین نوری 1320 ھ 23514 وسائل الشیعہ کی فقہی احادیث کی تکمیل
سفینہ البحار شیخ عباس قمی 1359ھ 10 جلد بحار الانوار کی احادیث کی الف ب کے مطابق موضوعی اعتبار سے احادیث مذکور ہیں
مستدرک سفینہ البحار شیخ علی نمازی 1405 ھ 10 جلد سفینۃ البحار کی تکمیل
جامع احادیث الشیعہ آیت اللہ بروجردی 1380 ھ 48342 شیعہ فقہ کی تمام روایات
میزان الحکمت محمدی ری شہری معاصر 23030 غیر فقہی 564 عناوین
الحیات محمد رضا حکیمی معاصر 12 جلد فکری اور عملی موضوعات کی 40 فصل

نشر و اشاعت

یہ کتاب انتشارات دارالکتب الاسلامیہ کے توسط سے تہران میں 4 جلدوں میں قطع وزیری میں سنہ 1390ق کو منتشر ہوئی ہے۔

الاستبصار ایک دفعہ 1307ق میں 3 جلدوں میں ہندوستان کے شہر لکھنو میں جبکہ سنہ 1315-1317ق کو تہران میں دوبارہ منتشر ہوئی ہے۔

اس کتاب کا تحقیقی نسخہ حسن موسوی کی کوششوں سے مشہد میں اور محمد آخوندی کے زیر نگرانی نجف اشرف میں (1375-1376ق 4 جلدوں (جزء سوم 2 مجلد میں) منتشر ہوئی ہے اور کئی بار تجدید چاپ ہوئی ہے۔

قدیمی نسخے

کتاب الاستبصار کے قدیمی نسخے کے حوالے سے سب سے پہلے ایک ناقص نسخے کا تذکرہ کرنا پڑیگا آقابزرگ تہرانی[6] کے بقول سیدہادی کاشف الغطاء نجف اشرف میس جعفر بن علی مشہدی کے قلم سے یہ نسخہ موجود ہے۔ انکے بقول یہ نسخہ شیخ طوسی کے دستخط سے مقایسہ کیا گیا ہے اور اس کی تاریخ کو573ق ذکر کیا گیا ہے۔

اس کے بعد آیت اللہ مرعشی کی لائبریری میں محفوظ نسخے کی نوبت آتی ہے جو آٹھویں صدی قمری میں تدوین ہوئی ہے[7]

شروحات و تعلیقات

کتاب استبصار پر شرح یا تعلیق کے عنوان سے دسویں صدی ہجری قمری کے اواخر سے کتابیں منظر عام پر آنی شروع ہوئی جن میں سے اہم ترین کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:


حوالہ جات

  1. طوسی، الاستبصار، ج4، ص342
  2. بجنوردی، ج8، ص3296، ذیل مدخل
  3. حلی ج1، ص276؛ دانش پژوه، ج3، ص1086-1087
  4. طوسی، الفہرست، ج1، ص240
  5. نجاشی، ج1، ص403
  6. آقابزرگ تہرانی، ج2، ص14 - 15
  7. کتابخانہ مرعشی، نسخ خطی، ج4، ص386-387
  8. آقابزرگ تہرانی، ج2، ص16
  9. افندی، ج1، ص232
  10. فاضل محمود، ج1، ص219-220
  11. آقابزرگ تہرانی، ج2، ص30-31
  12. کتابخانہ آستان قدس، فہرست، ج5، ص182
  13. آقابزرگ تہرانی، ج13، ص83
  14. ابن یوسف شیرازی، ج1، ص244؛ آقابزرگ تہرانی، ج13، ص83
  15. آقابزرگ تہرانی، ج5، ص37- 38
  16. آقابزرگ تہرانی، ج18، ص17
  17. دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ذیل واژہ الاستبصار

مآخذ

  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعۃ
  • ابن یوسف شیرازی، فہرست کتابخانہ مدرسہ عالی سپہ سالار، تہران
  • افندی عبداللہ، ریاض العلماء، بہ کوشش احمد حسینی، قم
  • دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی
  • دانش پژوہ، نشریہ کتابخانہ مرکزی دانشگاہ تہران
  • طوسی، الاستبصار، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف
  • طوسی، الفہرست، بہ کوشش محمدصادق بحرالعلوم، نجف
  • حلی، رجال، نجف.
  • فاضل محمود، فہرست نسخہ ہای خطی کتابخانہ جامع گوہرشاد، مشہد
  • کتابخانہ آستان قدس، فہرست
  • کتابخانہ آصفیہ، خطی
  • کتابخانہ مرعشی، نسخ خطی
  • نجاشی، الرجال، بہ کوشش موسی شبیری زنجانی، قم