صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
(صحیفہ سجادیہ 42 سے رجوع مکرر)
صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعا
کوائف
موضوع:ختم قرآن کے وقت کی دعا، قرآن کے مطابق عمل کرنے کے نتائج اور پیغمبر اسلامؐ کی خصوصیات
مأثور/غیرمأثور:مأثور
صادرہ از:امام سجادؑ
راوی:متوکل بن ہارون
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین


صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعا، امام سجادؑ کی ماثورہ دعاوں میں سے ایک ہے جس کو آپ ختم قرآن کے وقت پڑھا کرتے تھے۔ اس دعاء میں قرآن کریم کی خصوصیات اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرنے کے آثار و نتائج پہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ امام سجادؑ نے اس دعاء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کی راہ میں جو مصیبتیں آپ نے برداشت کی ہیں ان کا بھی تذکرہ اس دعا میں کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آپ نے ان کے لئے قیامت میں علو درجات کی بھی دعا کی ہے۔اسی طرح سے اس دعا میں آئمّہ معصومین کا تعارف مفسرین قرآن اور قرآن کے محافظین کے عنوان سے کرایا گیا ہے۔

امام زین العابدینؑ خدا وند کریم سے درخواست کرتے ہیں کہ قرآن کے وسیلہ سے انسانوں کے گناہوں کو بخش دے اور انھیں موت کے وقت ہونے والی سختیوں سے نجات عطا فرمائے اور اسی طرح سے امام قیامت کے خوف و حزن سے امان پانے کی دعا کرتے ہیں اور قرآن کریم کو اپنا شفیع قرار دینے کی بھی درخواست کرتے ہیں۔ صحیفہ سجادیہ کی اس بیالیسویں دعا کی بھی متعدد شرحیں ہیں جو مختلف زبانوں میں لکھی گئیں ہیں جیسے دیار عاشقان جو حسین انصاریان کی شرح ہے اور شہود و شناخت جو حسن ممدوحی کرمانشاہی کی تالیف ہے یہ شرحیں فارسی زبان میں ہیں اور اسی طرح سے ریاض السالکین تالیف سید علی خان مدنی کی شرح ہے جو عربی زبان میں ہے۔

دعا و مناجات

تعلیمات

صحیفہ سجادیہ کی یہ بیالیسویں دعاء ختم قرآن کے موقع پہ پڑھی جاتی ہے۔ اس دعا میں امام سجادؑ قرآن کریم کی خصوصیات اور دنیا و آخرت میں انسانی وجود پر مرتب ہونے والے قرآنی نقوش و اثرات کو بیان کرتے ہیں جہاں آپ علیہ السلام خاص طور سے قرآن کے اہمترین اثر، قرب الہی پر بھرپور روشنی ڈالتے ہیں۔[1]

اس دعاء کی تعلیمات مندرجہ ذیل ہیں:

  • قرآن نور کی صورت خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے
  • قرآن دو راہی اور شکوک و شبہات سے نجات انسانی کا راستہ ہے
  • قرآن ہر کلام سے بالاتر اور تمام آسمانی کتابوں کا محافظ اور گواہ ہے
  • قرآن حق و باطل کے درمیان فرقان ہے
  • قرآن عدل کی میزان ہے
  • قرآن ہر گمراہی کا بیانگر اور ان سے پناہ کا راستہ ہے
  • قرآن وحی الہی اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل ہونے والی کتاب ہے
  • قرآن کی روشنی میں ہر گمراہی سے نجات ممکن ہے
  • قرآن سے مستفیض ہونے کے شرائط میں سے ہے: قرآنی دلیل و براہین پہ توجہ رکھنا، اس میں غور و فکر کرنا اور قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اس کو خاموشی کے ساتھ سنناہے صراط مستقیم تک پہچنے کی نیت سے قرآن کی تلاوت کرنا
  • حق قرآن کریم کی بجاآوری کے لئے دعا
  • لفظ و معنی میں قرآن کی فصاحت
  • فہم قرآن تفسیر معصومین سے وابستہ ہے
  • اہل بیت قرآن کے خزانوں کے محافظ ہیں
  • فہم قرآن کے سلسلہ میں لوگوں کی ظرفیت میں فرق ہے
  • قرآن کی رسی کو محکم تھامنے کی تلقین
  • متشابہات قرآن کو اس کے محکمات کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے
  • قرآن و اہل بیت میں جدائی نا ممکن
  • قرآن کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے کی دعا
  • قرآن کریم کے وسیلہ سے گناہوں کی بخشش
  • قرآن کریم اپنے پیروکاروں کے لئے: رات کے اندھیروں میں مونس، گناہوں سے بچانے والا، شیطان کے وسوسوں سے محافظت کرنے والا، زبان کی لغزشوں سے محفوظ رکھنے والا، انسانوں کو غفلت سے دور رکھنے والا، فقر و تنگدستی سے نجات دینے والا، زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے والا اور کفر آمیز تعلیمات سے بچانے والا ہے۔
  • قرآن کریم روز قیامت امن و امان کی اساس ہے
  • قرآن قیامت میں کرامت اور نجات کے والا ترین مرتبہ تک پہچنے کا ذریعہ ہے
  • قرآن کے ذریعہ بری اور پست خصلتوں سے نجات
  • قرآن کے سبب سکرات موت میں آسانیاں
  • موت کے بعد کی مشکلوں کے حل کے لئے دعا
  • قرآن کریم قیامت کے روز خوف اور رنج و غم سے نجات کا سبب ہے
  • قیامت میں ستمگاروں کے چہرے سیاہ ہیں
  • بندگی خدا حصول کمال انسانی کی اساس ہے
  • قرآن سے قربت، اس پر عمل کے سائے میں ممکن ہے بغیر عمل کے قرآن سے قربت خیال خام ہے۔
  • احکام الہی کے تبلیغ کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام
  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خداکے نزدیک پیغمبروں میں سب سے مقرب پیغمبر ہیں
  • رسالت کے تمام مراحل میں پیغمبر کی عصمت
  • تبلیغ اسلام کی راہ میں پیغمبر اکرم کا شرح صدر اور وسعت قلبی
  • روز قیامت علو درجات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا
  • آئین پیغمبر اسلام پہ موت اور ان کے ساتھ محشور ہونے کی دعا
  • پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خیر کی دعا
  • پیغمبر اسلام کے لئے ملک مقرّب اور انبیاء و مرسلین سے بڑھ اجر عظیم ملنے کی دعا۔[2]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ کی جو شرحیں لکھی گئی ہیں ان میں اس بیالیسویں دعا کی بھی شرح کی گئی ہے۔ صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں دیار عاشقان تالیف حسین انصاریان،[3] شہود و شناخت تالیف محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی[4] اور شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ تالیف سید احمد فہری[5] فارسی زبان میں ہیں۔ صحیفہ سجادیہ کی بیالیسویں دعاء کے آئینے میں اوصاف و اسامی قرآن کے حوالہ سے مقالات بھی فارسی زبان میں تحریر کئے گئے ہیں۔[6]

اسی طرح سے اس دعاء کی عربی شرحیں بھی موجود ہیں ریاض السالکین تالیف سید علی‌ خان مدنی،[7]، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ تالیف محمد جواد مغنیہ،[8] ریاض العارفین تألیف محمد بن محمد دارابی[9] اور آفاق الروح تالیف سید محمد حسین فضل‌ اللہ[10] اس دعاء کی عربی شرحیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس دعا کے الفاظ کی توضیح، فیض کاشانی کی کتاب تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ میں [11] اور عزالدین جزائری کی کتاب شرح الصحیفہ السجادیہ[12] میں دی گئی ہیں۔

متن اور ترجمہ

متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌ السلام عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ

اللهم إنك اعنتني علي ختم كتابك الذي انزلته نورا، و جعلته مهيمنا علي كل كتاب انزلته، و فضلته علي كل حديث قصصته.

و فرقانا فرقت به بين حلالك و حرامك، و قرآنا اعربت به عن شرائع احكامك، و كتابا فصلته لعبادك تفصيلا، و وحيا انزلته علي نبيك محمد - صلواتك عليه و آله - تنزيلا.

و جعلته نورا نهتدي من ظلم الضلالة و الجهالة باتباعه، و شفاء لمن انصت بفهم التصديق الي استماعه، و ميزان قسط لا يحيف عن الحق لسانه، و نور هدي لا يطفأ عن الشاهدين برهانه، و علم نجاة لا يضل من أم قصد سنته، و لا تنال ايدي الهلكات من تعلق بعروة عصمته.

اللهم فإذ افدتنا المعونة علي تلاوته، و سهلت جواسي السنتنا بحسن عبارته، فاجعلنا ممن يرعاه حق رعايته، و يدين لك باعتقاد التسليم المحكم اياته، و يفزع الي الاقرار بمبشابهه و موضحات بيناته.

اللهم إنك انزلته علي نبيك محمد - صلي الله عليه و آله - مجملا، و الهمته علم عجائبه مكملا، و ورثتنا علمه مفسرا، و فضلتنا علي من جهل علمه، و قويتنا عليه لترفعنا فوق من لم يطق حمله.

اللهم فكما جعلت قلوبنا له حملة، و عرفتنا برحمتك شرفه و فضله، فصل علي محمد الخطيب به، و علي آله الخزان له، و اجعلنا ممن يعترف بأنه من عندك حتي لا يعارضنا الشك في تصديقه، و لا يختلجنا الزيغ عن قصد طريقه.

اللهم صل علي محمد و آله، و اجعلنا ممن يعتصم بحبله، و يأوي من المتشابهات الي حرز معقله، و يسكن في ظل جناحه، و يهتدي بضوء صباحه، و يقتدي بتبلج اسفاره، و يستصبح بمصباحه، و لا يلتمس الهدي في غيره.

اللهم و كما نصبت به محمدا علما للدلالة عليك، و انهجت باله سبل الرضا اليك، فصل علي محمد و آله، و اجعل القرآن وسيلة لنا الي اشرف منازل الكرامة، و سلما نعرج فيه الي محل السلامة، و سببا نجزي به النجاة في عرصة القيمة، و ذريعة نقدم بها علي نعيم دار المقامة.

اللهم صل علي محمد و آله، و احطط بالقرآن عنا ثقل الاوزار، و هب لنا حسن شمائل الابرار، واقف بنا اثار الذين قاموا لك به اناء الليل و اطراف النهار حتي تطهرنا من كل دنس بتطهيره، و تقفو بنا آثار الذين استضاؤا بنوره، و لم يلههم الامل عن العمل فيقطعهم بخدع غروره.

اللهم صل علي محمد و آله، و اجعل القرآن لنا في ظلم الليالي مونسا، و من نزغات الشيطان و خطرات الوساوس حارسا، و لاقدامنا عن نقلها الي المعاصي حابسا، و لالسنتنا عن الخوض في الباطل من غير ما آفة مخرسا، و لجوارحنا عن اقتراف الاثام زاجرا، و لما طوت الغفلة عنا من تصفح الاعتبار ناشرا، حتي توصل الي قلوبنا فهم عجائبه، و زواجر امثاله التي ضعفت الجبال الرواسي علي صلابتها عن احتماله.

اللهم صل علي محمد و آله، وادم بالقرآن صلاح ظاهرن، و احجب به خطرات الوساوس عن صحة ضمائرنا، و اغسل به درن قلوبنا و علائق اوزارنا، و اجمع به منتشر امورنا، و ارو به في موقف العرض عليك ظما هواجرنا، و اكسنا به حلل الامان يوم الفزع الاكبر في نشورنا.

اللهم صل علي محمد و آله، و اجبر بالقرآن خلتنا من عدم الاملاق، و سق الينا به رغد العيش و خصب سعة الارزاق، و جنبنا به الضرائب المذمومة و مداني الاخلاق، و اعصمنا به من هوة الكفر و دواعي النفاق حتي يكون لنا في القيمة الي رضوانك و جنانك قائدا، و لنا في الدنيا عن سخطك و تعدي حدودك ذائدا، و لما عندك بتحليل حلاله و تحريم حرامه شاهدا.

اللهم صل علي محمد و آله، و هون بالقرآن عند الموت علي انفسنا كرب السياق، و جهد الانين، و ترادف الحشارج إذا بلغت النفوس التراقي، و قيل من راق؟ و تجلي ملك الموت لقبضها من حجب الغيوب، و رماها عن قوس المنايا باسهم وحشة الفراق، و داف لها من ذعاف الموت كأسا مسمومة المذاق، و دنا منا الي الاخرة رحيل و انطلاق، و صارت الاعمال قلائد في الاعناق، و كانت القبور هي المأوي الي ميقات يوم التلاق.

اللهم صل علي محمد و آله، و بارك لنا في حول دار البلي، و طول المقامة بين اطباق الثري، و اجعل القبور بعد فراق الدنيا خير منازلنا، و افسح لنا برحمتك في ضيق ملاحدنا، و لا تفضحنا في حاضري القيمة بموبقات اثامنا.

و ارحم بالقرآن في موقف العرض عليك ذل مقامنا، و ثبت به عند اضطراب جسر جهنم يوم المجاز عليها زلل اقدامنا، و نور به قبل البعث سدف قبورنا، و نجنا به من كل كرب يوم القيمة و شدائد اهوال يوم الطامة.

و بيض وجوهنا يوم تسود وجوه الظلمة في يوم الحسرة و الندامة، و اجعل لنا في صدور المؤمنين ودا، و لا تجعل الحيوة علينا نكدا.

اللهم صل علي محمد عبدك و رسولك كما بلغ رسالتك، و صدع بامرك، و نصح لعبادك.

اللهم اجعل نبينا - صلواتك عليه و علي آله - يوم القيمة اقرب النبيين منك مجلسا، و امكنهم منك شفاعة، و اجلهم عندك قدرا، و اوجههم عندك جاها.

اللهم صل علي محمد و آل محمد، و شرف بنيانه، و عظم برهانه، و ثقل ميزانه، و تقبل شفاعته، و قرب وسيلته، و بيض وجهه، و اتم نوره، و ارفع درجته.

و احينا علي سنته، و توفنا علي ملته و خذ بنا منهاجه، و اسلك بنا سبيله، و اجعلنا من اهل طاعته، و احشرنا في زمرته، و اوردنا حوضه، و اسقنا بكأسه.

و صل اللهم علي محمد و آله، صلوة تبلغه بها افضل ما يأمل من خيرك و فضلك و كرامتك، إنك ذو رحمة واسعة، و فضل كريم.

اللهم اجزه بما بلغ من رسالاتك، و ادي من اياتك، و نصح لعبادك، و جاهد في سبيلك، أفضل ما جزيت احدا من ملائكتك المقربين، و أنبيائك المرسلين المصطفين، و السلام عليه و علي آله الطيبين الطاهرين و رحمة الله و بركاته.

ختم قرآن کے وقت حضرت کی دعا

بار الہا! تو نے اپنی کتاب کے ختم کرنے پر میری مدد فرمائی۔ وہ کتاب جسے تو نے نور بنا کر اتارا اور تمام کتب سماویہ پر اسے گواہ بنایا اور ہر اس کلام پر جسے تو نے بیان فرمایا اسے فوقیت بخشی اور (حق و باطل میں) حد فاصل قرار دیا۔ جس کے ذریعہ حلال و حرام الگ الگ کر دیا۔ وہ قرآن جس کے ذریعہ شریعت کے احکام واضح کئے۔

وہ کتاب جسے تو نے اپنے بندوں کے لیے شرح وتفصیل سے بیان کیا اوروہ وحی (آسمانی ) جسے اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل فرمایا جسے وہ نور بنایا جس کی پیروی سے ہم گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرتے ہیں اور اس شخص کے لیے اسے شفا قرار دیا جو اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اسے سمجھنا چاہے اور خاموشی کے ساتھ اسے سنے اور وہ عدل و انصاف کا ترازو بنایا جس کا کانٹا حق سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اور وہ نور ہدایت قرار دیا جس کی دلیل و برہان کی روشنی (توحید و نبوت کی) گواہی دینے والوں کے لیے بجھتی نہیں اور وہ نجات کا نشان بنایا کہ جو اس کے سیدھے طریقہ پر چلنے کا ارادہ کرے۔

وہ گمراہ نہیں ہوتا اور جو اس کی ریسمان کے بندھن سے وابستہ ہو وہ (خوف فقر و عذاب کی) ہلاکتوں سے دسترس سے باہر ہو جاتا ہے۔ بار الہا! جب کہ تو نے اس کی تلاوت کے سلسلہ میں ہمیں مدد پہنچائی اور اس کی حسن ادائیگی کے لیے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیں تو پھر ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی پوری طرح حفاظت و نگہداشت کرتے ہوں اوراس کی محکم آیتوں کے اعتراف و تسلیم کی پختگی کے ساتھ تیری اطاعت کرتے ہوں اور متشابہ آیتوں اور روشن وواضح دلیلوں کے اقرار کے سایہ میں پناہ لیتے ہوں۔

اے اللہ ! تو نے اسے اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجمال کے طور پر اتارا اور اس کے عجائب و اسرار کا پورا پورا علم انہیں القا کیا اور اس کے علم تفصیلی کا ہمیں وارث قرار دیا۔ اور جو اس کا علم نہیں رکھتے ان پر ہمیں فضیلت دی اور اس کے مقتضیات پر عمل کرنے کی قوت بخشی تا کہ جو اس کے حقائق کے متحمل نہیں ہو سکتے ان پر ہماری فوقیت و برتری ثابت کر دے۔

اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمارے دلوں کو قرآن کا حامل بنایا اور اپنی رحمت سے اس کے فضل و شرف سے آگاہ کیا یوں ہی محمد پر جو قرآن کے خطبہ خواں، اور ان کی آل پر جو قرآن کے خزینہ دار ہیں رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ تیری جانب سے ہے تاکہ اس کی تصدیق میں ہمیں شک و شبہ لاحق نہ ہو اور اس کے سیدھے راستہ سے رو گردانی کا خیال بھی نہ آنے پائے۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی ریسمان سے وابستہ اور مشتبہ امور میں اس کی محکم پناہ گاہ کا سہارا لیتے اور اس کے پروں کے زیر سایہ منزل کرتے اس کی صبح درخشاں کی روشنی سے ہدایت پاتے اور اس کے نور کی درخشندگی کی پیروی کرتے اور اس کے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔

بار الہا! جس طرح تو نے اس قرآن کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی رہنمائی کا نشان بنایا ہے اوران کی آل کے ذریعہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہیں آشکارا کی ہیں یونہی محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمارے لیے قرآن کو عزت و بزرگی کی بلند پایہ منزلوں تک پہنچنے کا وسیلہ اور سلامتی کے مقام تک بلند ہونے کا زینہ اور میان حشر میں نجات کو جزا میں پانے کا سبب اور محل قیام (جنت) کی نعمتوں تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دے۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ گناہوں کا بھاری بوجھ ہمارے سر سے اتار دے اور نیکوکاروں کے اچھے خصائل و عادات ہمیں مرحمت فرما اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلا جو تیرے لیے رات کے لمحوں اور صبح و شام (کی ساعتوں) میں اسے اپنا دستور العمل بناتے ہیں تا کہ اس کی تطہیر کے وسیلہ سے تو ہمیں ہر آلودگی سے پاک کر دے اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلائے جنہوں نے اس کے نور سے روشنی حاصل کی ہے اور امیدوں نے انہیں عمل سے غافل نہیں ہونے دیا کہ انہیں اپنے فریب کی نیرنگیوں سے تباہ کردیں۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کو رات کی تاریکیوں میں ہمارا مونس اور شیطان کے مفسدوں اور دل میں گزرنے والے وسوسوں سے نگہبانی کرنے اور ہمارے قدموں کو نافرمانیوں کی طرف بڑھنے سے روک دینے والا اور ہماری زبانوں کو باطل پیمائیوں سے بغیر کسی مرض کے کنگ کر دینے والا اور ہمارے اعضاء کو ارتکاب گناہ سے باز رکھنے والا اور ہماری غفلت و مدہوشی نے جس دفتر عبرت و پند اندوزی کو تہہ کر رکھا ہے اسے پھیلانے والا قراردے تا کہ اس کے عجائب و رموز کی حقیقتوں اور اس کی متنبہ کرنے والی مثالوں کو کہ جنہیں اٹھانے سے پہاڑ اپنے استحکام کے باوجود عاجز آچکے ہیں ہمارے دلوں میں اتار دے ۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ ہمارے ظاہر کو ہمیشہ صلاح و رشد سے آراستہ رکھ اور ہمارے ضمیر کی فطری سلامتی سے غلط تصورات کی دخل دراندازی کو رو ک دے اور ہمارے دلوں کی کثافتوں اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دے اور اس کے ذریعہ ہمارے پراگندہ امور کی شیرازہ بندی کر اور میدان حشر میں ہماری جھلسی ہوئی دوپہروں کی تپش و تشنگی بجھا دے اور سخت خوف و ہراس کے دن جب قبروں سے اٹھیں تو ہمیں امن و عافیت کے جامے پہنا دے ۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ فقر و احتیاج کی وجہ سے ہماری خستگی و بدحالی کا تدارک فرما اور زندگی کی کشائش اور فراخ روزی کی آسودگی کا رخ ہماری جانب پھیر دے، بری عادات اور پست اخلاق سے ہمیں دور کر دے اور کفر کے گڑھے (میں گرنے) اور نفاق انگیز چیزوں سے بچا لے تاکہ وہ ہمیں قیامت میں تیری خوشنودی و جنت کی طرف بڑھانے والا اور دنیا میں تیری ناراضگی اور حدود شکنی سے روکنے والا ہو اوراس امر پر گواہ ہو کہ جو چیز تیرے نزدیک حلال تھی اسے حلال جانا اور جو حرام تھی اسے حرام سمجھا۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اس قرآن کے وسیلہ سے موت کے ہنگام نزع کی اذیتوں، کراہنے کی سختیوں اور جان کنی کی لگاتار ہچکیوں کو ہم پر آسان فرما جب کہ جان گلے تک پہنچ جائے اور کہا جائے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے (جو کچھ تدارک کرے) اور ملک الموت غیب کے پردے چیر کر قبض روح کے لیے سامنے آئے اور موت کی گمان میں فراق کی دہشت کے تیر جوڑ کر اپنے نشانہ کی زد پر رکھ لے اور موت کے زہریلے جام میں زہر ہلاہل گھول دے اور آخرت کی طرف ہمارا چل چلاؤ اور کوچ قریب ہو اورہمارے اعمال ہماری گردن کا طوق بن جائیں اور قبریں روز حشر کی ساعت تک آرام گاہ قرار پائیں۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور کہنگی و بوسیدگی کے گھر میں اترنے اورمٹی کی تہوں میں مدت تک پڑے رہنے کو ہمارے لیے مبارک کرنا اور دنیا سے منہ موڑنے کے بعد قبروں کو ہمارا اچھا گھر بنانا اور اپنی رحمت سے ہمارے لیے گور کی تنگی کو کشادہ کر دینا اور حشر کے عام اجتماع کے سامنے ہمارے مہلک گناہوں کی وجہ سے ہمیں رسوا نہ کرنا۔ اور اعمال کے پیش ہونے کے مقام پر ہماری ذلت وخواری کی وضع پر رحم فرمانا۔ اور جس دن جہنم کے پل پر سے گززنا ہو گا تو اس کے لڑکھڑانے کے وقت ہمارے ڈگمگاتے ہوۓ قدموں کو جما دینا اور قیامت کے دن ہمیں اس کے ذریعہ ہر اندوہ اور روز حشر کی سخت ہولناکیوں سے نجات دینا۔ اور جبکہ حسرت و ندامت کے دن ظالموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ہمارے چہروں کو نورانی کرنا اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کردے اور زندگی کو ہمارے لیے دشوار گزار نہ بنا۔

اے اللہ ! محمد جو تیرے خاص بندے اور رسول ہیں ان پر رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے تیرا پیغام پہنچایا۔ تیری شریعت کو واضع طور سے پیش کیا اور تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی۔ اے اللہ ! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے دن تمام نبیوں سے منزلت کے لحاظ سے مقرب تر، شفاعت کے لحاظ سے بر تر قدر و منزلت کے اعتبار سے بزرگ تر اور جاہ و مرتبت کے اعتبار سے ممتاز تر قرار دے۔

اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اوران کے ایوان (عز و شرف) کو بلند، ان کی دلیل و برہان کو عظیم اور ان کے میزان (عمل کے پلہ) کو بھاری کر دے۔ ان کی شفاعت کو قبول فرما اور ان کی منزلت کو اپنے سے قریب کر ان کے چہرے کو روشن، ان کے نور کو کامل اور ان کے درجہ کوبلند فرما، اور ہمیں انہی کے آئین پرزندہ رکھ اور انہی کے دین پر موت دے اور انہی کی شاہراہ پر گامزن کر اور انہی کے راستہ پر چلا اور ہمیں ان کے فرمانبرداروں میں سے قراردے اور ان کی جماعت میں محشور کر اور ان کے حوض پر اتار اور ان کے ساغر سے سیراب فرما۔

اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعہ انہیں بہترین نیکی، فضل اور عزت تک پہنچا دے جس کے وہ امید وار ہیں اس لیے کہ تو وسیع رحمت اور عظیم فضل و احسان کا مالک ہے۔ اے اللہ ! انہو ں نے تیرے پیغامات کی تبلیغ کی۔ تیری آیتوں کو پہنچایا۔ تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی اور تیری راہ میں جہاد کیا، ان سب کی انہیں جزا دے جو ہر اس جزا سے بہتر ہو جو تو نے مقرب فرشتوں اور بزگزیدہ مرسل نبیوں کو عطا کی ہو ان پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آل پر سلام ہو اور اللہ تعالی ٰ کی رحمتیں اور برکتیں ان کے شامل حال ہوں۔


حوالہ جات

  1. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ شمسی ہجری، ج۳، ص۳۱۵.
  2. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳شمسی ہجری، ج۷، ص۳۳۱-۳۸۰؛ ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸شمسی ہجری، ج۳، ص۳۱۵-۳۷۰؛ عرفان سائٹ پر بیالیسویں دعاء کے فراز کی شرح .
  3. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳شمسی ہجری، ج۷، ص۳۲۳-۳۸۰.
  4. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸شمسی ہجری، ج۳، ص۳۰۹-۳۷۰.
  5. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ شمسی ہجری، ج۳، ص۱۷۳-۲۰۱.
  6. غایی، «اسامی و اوصاف قرآن در نیایش ختم قرآن صحیفہ سجادیہ»؛ پویا، «فرازمندی قرآن در دعای ختم قرآن امام سجاد(ع)».
  7. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ھ، ج۵، ص۳۸۳-۴۹۸.
  8. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ھ، ص۴۶۷-۴۹۱.
  9. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ شمسی ہجری، ص۴۹۷-۵۱۳.
  10. فضل‌ اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ھ، ج۲، ص۳۱۳-۳۴۸.
  11. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ھ، ص۷۷-۸۰.
  12. جزایری، شرح الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۲، ص۲۰۴-۲۱۲.

مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۲ شمسی ہجری۔
  • پویا، حسن، «فرازمندی قرآن در دعای ختم قرآن امام سجاد(ع)» در نشریہ بینات، شمارہ ۶۸، ۱۳۸۹ شمسی ہجری۔
  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ شمسی ہجری۔
  • فضل‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ شمسی ہجری۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • غایی، احمد رضا، «اسامی و اوصاف قرآن در نیایش ختم قرآن صحیفہ سجادیہ»، در نشریہ سفینہ، شمارہ ۹، ۱۳۸۴ شمسی ہجری۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ شمسی ہجری۔

بیرونی روابط