سید عبدالحسین شرف الدین عاملی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید عبد الحسین
شرف الدین عاملی.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام سید عبد الحسین
نسب موسوی
تاریخ ولادت 1290ق
آبائی شہر عامل
تاریخ وفات ۸ جمادی‌الثانی ۱۳۷۷ ه‍.ق
مدفن روضۂ امام علی (ع) ،نجف
علمی معلومات
اساتذہ آخوند خراسانی، شیخ الشریعہ اصفہانی، سید محمد کاظم طباطبائی یزدی و میرزا حسین نوری
تالیفات مراجعات،النص و الاجتهاد (کتاب)
سیاسی-سماجی فعالیت
سیاسی تحریک استقلال لبنان کے رہنما
سماجی مدافع تقریب مذاہبی اسلامی

سید عبدالحسین شرف الدین موسوی عاملی (ولادت سنہ 1290 وفات 1377ہجری قمری) شیعہ مجتہدین اور تقریب مذاہب (یا اتحاد بین المسلمین) کے مدافع تھے جنہوں نے شیعہ اور سنی کے اتحاد اور ان کے درمیان موجودہ اختلافات کے حل کے لئے وسیع اور طویل کوششیں کیں۔ وہ لبنان کی تحریک آزادی کے راہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

شیعہ مکتب کی حقانیت کے سلسلے میں ان کی دو کتابیں المراجعات اور النص و الاجتہاد عالمانہ اسلوب اور توہین سے پاک لب و لہجے، میں تالیف ہوئی ہیں اور ان کی اہم ترین تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان دو کتابوں کے تراجم مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں اور بہت سے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے ہاں لائق توجہ ٹھہری ہیں۔

ان کے بعض مشہور ترین اساتذہ میں آخوند خراسانی، شیخ الشریعہ اصفہانی، سید محمد کاظم طباطبائی یزدی اور میرزا حسین نوری شامل ہیں۔

زندگی نامہ

شیعہ فقیہ، اصولی، ادیب، محدث اور مجتہد سنہ 1290ہجری قمری میں عراق کے شہر کاظمین میں پیدا ہوئے۔ به دنیا آمد.[1]۔[2]۔[3] ان کے والد "سید یوسف شرف الدین" اور مشہور دینی عالم اور صاحب کتاب تأسیس الشیعۃ لعلوم الاسلام سید حسن صدر کی بہن "زہرا صدر" بنت "آیۃ اللہ سید ہادی صدر" ہیں۔ ان کا نسب ابراہیم المرتضی بن امام کاظم(ع) تک پہنچتا ہے۔

ہجرت عراق اور تعلیم

سید عبدالحسین ایک سالہ تھے جب ان کے والد حصول تعلیم کے لئے نجف ہجرت کرگئے اور چھ سال کی عمر میں انہیں تعلیم کے لئے مکتب خانے میں داخل کرایا۔ آٹھ سالہ تھے جب اپنے والدین کے ہمراہ اپنے آبائی علاقے جَبَل عامِل واپس چلے گئے۔ آٹھ سال کی عمر میں اپنے والد سے علم دین حاصل کرنا شروع کیا اور عربی ادب سیکھنے کا آغاز کیا۔ 17 سال کی عمر میں اپنے چچا کی بیٹی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے اور مقدمات علوم دین اپنے والد سے حاصل کرنے کے بعد 20 سال کی عمر میں نجف چلے آئے۔ سنہ 1310ہجری قمری میں اپنے نانا سید ہادی صدر کی ہدایت پر سامرا چلے گئے اور شیخ حسن کربلائی (متوفی سنہ 1322ہجری قمری) اور شیخ باقر حیدر (متوفی سنہ 1333ہجری قمری) کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا۔[4]۔[5] وہ سامرا میں ہر جمعہ کی صبح کو حکیم الہی آیت اللہ شیخ فتح علی سلطان آبادی کے درس اخلاق میں شریک کرتے تھے۔ سامرا میں سید شرف الدین کے قیام کا ایک سال ابھی پورا ہی ہوا تھا کہ بزرگ شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ میرزائے شیرازی سامرا کو ترک کرکے نجف میں سکونت اختیار کی اور حوزہ علمیہ سامرا یکبارگی سے بند ہوا اور وہاں کے اساتذہ اور طلبہ سب نجف اشرف چلے آئے چنانچہ سید عبدالحسین شرف الدین بھی دیگر علماء کے ہمراہ واپس نجف واپس آئے۔ انھوں نے فقہ اور اصول میں سنجیدہ مطالعات سرانجام دیئے اور شیعہ اور سنی منابع حدیث نیز تاریخ اسلام اور علم کلام میں تحقیقات کے ساتھ ساتھ ادبیات میں بھی تحقیق و مطالعے کا سلسلہ جاری رکھا اور فن تصنیف و تالیف میں مہارت حاصل کی۔[6] اور 32 سال کی عمر میں درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

لبنان واپسی

وہ 12 سال تک حصول تعلیم میں 12 سال تک محنت کرنے کے بعد 9 ربیع الاول سنہ 1322ہجری قمری کو اپنے کنبے کے ہمراہ نجف سے اپنے آبائی ملک [[لبنان روانہ ہوئے اور دمشق کے راستے جبل عامل کی طرف عزیمت کی اور تین سال تک شہر شحور میں قیام کیا۔[7]۔[8]۔[9] تین سال کے بعد شہر صور کے عوام کی دعوت پر اس شہر کی طرف عزیمت کی اور وہاں ایک حسینیہ کی بنیاد رکھی۔[10] اور اس کو متنوع دینی اور سماجی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کیا۔

مصر کا دورہ اور کتاب المراجعات

سید عبدالحسین شرف الدین نے سنہ 1329ہجری قمری میں علماء، دانشوروں، مفکرین اور مصنفین سے متعارف ہونے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قیام کی غرض سے مصر کا دورہ کیا اور جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ سلیم البشری المالکی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں ان دو علماء کے درمیان پیغمبر اکرم(ص) کی جانشینی کے موضوع پر 112 مراسلات کا تبادلہ ہوا جس میں ادب و احترام کے تمام مراتب کو ملحوظ رکھا گیا اور انھوں نے محض علمی انداز میں مکاتبہ کیا۔ مکاتیب کا یہ مجموعہ 25 سال بعد کتاب المراجعات کی صورت میں شائع ہوا۔

مذکورہ مکاتیب میں خلافت اور امامت پر شیعہ نقطۂ نگاہ کو موضوع بحث قرار دیا گیا ہے اور اس نقطہ نظر کے اثبات کے لئے آیات قرآن سے رجوع کیا گیا ہے اور اہل سنت اور شیعہ کے ہاں قابل قبول منابع میں دیئے گئے استدلالات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

سیاسی جدوجہد

اس زمانے میں دوسری اسلامی سرزمینوں کی طرح لبنان کے عوام بھی عثمانی سلطنت کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے درپے تھے۔ شرف الدین لبنانی عوام کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد اور سماجی تنازعات کے میدان میں اتر گئے۔ عثمانی سلطنت کو شکست ہوئی تو لبنان کو فرانس کی سرپرستی میں دیا گیا جس پر علماء نے شدید رد عمل ظاہر کیا اور سید عبدالحسین شرف الدین نے بھی فرانسیسیوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔[11]

فرانسیسیوں نے انہیں گرفتار کرنے کے لئے ان کا تعاقب شروع کیا تو وہ ابتداء میں جبل عامل چلے گئے اور وہاں سے دمشق کی طرف ہجرت کی۔ [بظاہر تہذیب یافتہ] فرانسیسی قابضین نے ان کے کتب خانے کو نذر آتش کیا اور دیگر کتب کے ساتھ ساتھ ان کے قلم سے تالیف شدہ کئی کاوشیں بھی جل کر راکھ ہوگئیں۔ ایک سال بعد شہر صور پلٹنے کے لئے حالات سازگار ہوئے اور وہ صور چلے گئے اور اپنی جدوجہد سنہ 1366ہجری قمری میں لبنان کی آزادی تک جاری رہی۔

اس زمانے میں عالمی یہودیوں کی فلسطین ہجرت کو اس ملک کے مستقبل کے لئے خطرناک سمجھتے تھے اور فلسطین کو درپیش یہودی خطرے کے سلسلے میں خبردار کیا کرتے تھے۔[12]

شرف الدین ملک حسین کی درخواست پر سنہ 1340ہجری قمری کو حج بجا لانے کے لئے حجاز مشرف ہوئے اور مسجد الحرام میں نماز جماعت کی امامت کی اور شیعہ اور سنی حجاج اور مقامی لوگوں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی۔[13]

1355 ہجری قمری کو مشاہد مشرفہ کی زیارت کی غرض سے عراق چلے آئے اور سنہ 1356 ہجری قمری میں ایران آئے اور قم اور مشہد میں مقامات مقدسہ کی زیارت کے ساتھ ساتھ حوزہ علمیہ قم سے مزید متعارف ہوئے۔

انھوں نے سنہ 1361ہجری قمری میں خواتین کے لئے مدرسہ الزہرا کی بنیاد رکھی لیکن مخالفین نے یہ مدرسہ حکومت کے دباؤ سے بند کرایا چنانچہ اس سال سید نے اپنے گھر میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ایک سال بعد مدرسہ دوبارہ کھل گیا۔[14] انھوں نے بعد میں جعفریہ کالج کی بنیاد رکھی۔[15]

انھوں نے سنہ 1365ہجری قمری میں محتاجوں کی امداد کے لئے ایک خیراتی ادارے کی بنیاد رکھی اور اپنی عمر کے اواخر میں کتاب النص و الاجتہاد تالیف کی۔

انھوں نے النص والاجتہاد میں نصّ (= آیات اور احادیث) کے مقابلے میںصحابہ کے اجتہاد[16] کے ایک سو سے قریب مستند حوالے دیئے ہیں جو انھوں نے رسول اللہ(ص) کے زمانے میں یا آپ(ص) کے وصال کے بعد کیا تھا۔ اس کتاب میں نص کے مقابلے میں اجتہاد کے تمام نمونے اہل سنت کے معتبر مآخذ سے اخذ کئے گئے ہیں اور ان اجتہادات کے بارے میں علمی اور تحقیقی آراء نیزي اپنی تنقیدی آراء پیش کی ہیں۔[17]

داعی وحدت

انھوں نے ایک بار پھر سنہ 1338ہجری قمری میں بھیس بدل کر مصر کا دورہ کیا اور شیعہ سنی اتحاد کے لئے کوششیں کیں۔[18]۔[19] سید نے سنہ 1329ہجری قمری میں بھی مصری علماء، دانشوروں، مفکرین اور مصنفین سے متعارف ہونے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قائم کرنے کی غرض سے مصر کا دورہ کیا تھا اور جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ سلیم البشری المالکی سے ملاقاتیں کی تھیں؛ جس کی طرف مندرجہ بالا سطور میں اشارہ کیا گیا۔ اس کتاب کا فارسی ترجمہ "در راہ تفاہم" (مفاہمت کی راہ میں) کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔

انھوں نے امت اسلامی کے اتحاد کے سلسلے میں کتاب الفصول المہمۃ فی تألیف الامۃ لکھی جس کو منشور وحدت کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔[20]

وہ خود کتاب کے سرآغاز میں لکھتے ہیں:

"صرف اور صرف اسلامی وحدت کی صورت میں ترقیاتی اقدامات ہمآہنگ ہوسکتے ہیں، ترقی کے وسائل فراہم ہوسکتے ہیں، تہذیب کی روح جلوہ گر ہوتی ہے، زندگی کے آفاق میں آسائش کی روشنی جھلکتی ہے اور غلامی کی زنجیریں سب کی گردن سے اٹھائی جاسکتی ہیں"۔[21]

وحدت بخش تقاریر

یہ عالم ربانی زبردست خطیب تھے اور مختلف ممالک اور شہروں میں معمول کے دینے مواعظ کے علاوہ، مسلمانوں کے اتحاد کے لئے کوششوں میں مصروف رہتے تھے اور ان کی یہ کوششیں علمائے اہل سنت کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر دیتی تھیں۔ وہ مسلمانوں سے چاہتے تھے کہ معمول کے جماعتی اور مذہبی تعصبات کو ترک کریں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے اختلافات کی جڑوں کو توجہ دیں۔ اس سلسلے میں ان کے بعض اقوال سیاسی ادب (= Political Literature) میں یادگار کے طور پر آج تک باقی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے دو اقوال درج ذیل ہیں:

فَرَّقَتْهُما السِّیاسَةُ فَلْتَجمَعْهُما السِّیاسَة۔
ترجمہ: شیعہ اور سنی مسلمانوں کو ابتداء ہی سے سیاست نے ایک دوسرے سے دور کردیا چنانچہ مسلمانوں کی سیاست کے تحت ان کے مفادات کو مد نظر رکھ کر انہیں متحد بھی کرنا چاہئے۔
لاینْتَشِرُ الْهُدی الاَّ مِنْ حَیثُ اِنْتَشَرَ الضَّلال۔
ترجمہ: ہدایت فروغ نہیں پاسکتی مگر یہ کہ اس کو اسی طرح پھیلا دیا جائے جس طرح کہ گمراہی کو فروغ دیا گیا۔

سعودی بادشاہ کے ساتھ مناظرہ

سید عبدالحسین شرف الدین فریضۂ حج کی انجام دہی کے لئے حجاز مشرف ہوئے تو سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ ملک عبدالعزیز سے ملنے گئے اور انہیں کلام اللہ مجید کا تحفہ دیا جس کی کھال بکری کی کھال سے بنی ہوئی تھی۔ عبدالعزیز تحفہ وصول کرکے چھوما۔ شرف الدین نے کہا: آپ کس طرح اس جلد کو چھومتے ہیں اور اس کی تعظیم کرتے ہیں جبکہ یہ بکری کی کھال کے سوا کچھ بھی نہیں ہے!

عبدالعزیز نے جواب دیا: میرا مقصد جلد کی تعظیم نہیں بلکہ اس قرآن کا احترام ہے جو اس جلد کے بیچ میں ہے۔ شرف الدین نے کہا: احسنت! ہم بھی جب رسول اللہ(ص) کے گھر کا کمرہ یا اس کا دروازہ یا کھڑکی یا ائمہ(ع) کی ضریح کو چھومتے ہیں، جانتے ہیں کہ لوہے اور لکڑی میں کوئی کرامت نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد وہ بزرگ ہیں جو ان لکڑیوں اور لوہوں کے اس پر ہیں۔ ہم رسول اللہ(ص) کی تعظیم و احترام کرنا چاہتے ہیں۔

حاضرین نے تکبیر کا نعرہ لگایا اور ان کی تصدیق و تائید کی۔

اس واقعے کے بعد عبدالعزیز نے مجبور ہو کر حجاج کو رسول اللہ(ص) کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کی اجازت دی؛ تاہم ان کے بعد آنے والے سعودی حکمران نے اس عمل پر قدغن لگا دی۔[22]۔[23]۔[24]

وفات

سید عبدالحسین شرف الدین دو شنبہ 8 جمادی الثانی سنہ 1377ہجری قمری کو 87 سال کی عمر میں لبنان میں وفات پاگئے اور ان کی میت نجف منتقل ہوئی اور انہیں حرم امیرالمؤمنین(ع) میں سپرد خاک کیا گیا۔ [25]۔[26]

شرف الدین کے اساتذہ

المراجعات

سید کے بعض مشہور اساتذہ کے نام حسب ذیل ہیں:

کتاب الکلمة الغراء

آثار

  1. الفصول المہمہ؛ اس کتاب کا فارسی ترجمہ بھی "در راہ تفاہم" (مفاہمت کی راہ میں) کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔
  2. الکلمة الغراء فی تفضیل الزہراء، یہ کتاب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں ہے۔
  3. المراجعات، اس کتاب کا سنہ 1365ہجری قمری میں ـ جبکہ مؤلف بقید حیات تھے ـ حیدر قلی سردار کابلی کے قلم سے فارسی میں ترجمہ ہوکر تہران سے شائع ہوا۔
  4. النص و الاجتہاد، اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ علی دوانی کے قلم سے ہوا ہے اور اس کی اشاعت "اجتہاد در مقابل نص" کے عنوان سے انجام پائی ہے۔ اس کتاب میں روایات نبویہ کے مقابلے میں بعض صحابہ کے ایک سو سے زیادہ اجتہادات اور ذاتی آراء کے حوالے اہل سنت کے مآخذ سے دیئے گئے ہیں۔
  5. ابو ہریرہ، یہ ابو ہریرہ کے بارے میں ایک تحقیقی کتاب ہے۔
  6. المجالس الفاخرۃ فی مأتم العترۃ الطاہرہ، یہ اسی نام سے تالیف شدہ 4 مجلدات پر مشتمل کتاب کا دیباچہ تھا جو فرانسیسیوں کے ہاتھوں ان کے کتب خانے کے نذر آتش ہونے کے واقع میں تلف ہوئی تھی اور اس کا کتاب کا صرف یہی دیباچہ باقی ہے۔
  7. فلسفۃ المیثاق والولایہ، ازلی الہی میثاق کے بارے میں ایک بحث کا عنوان ہے۔
  8. اجوبۃ مسائل جاراللہ، یہ "موسی جار اللہ" کی طرف سے شیعہ علماء سے پوچھے گئے 20 سوالات کا مستند اور مدلل علمی جواب ہے۔
  9. مسائل فقہیہ، یہ اسلامی مذاہب کی فقہ کی بنیاد پر مرتب کردہ مسائل کا مجموعہ ہے۔
  10. کلمۃ حول الرؤیہ، اعتقادی اور کلامی مسائل کے بارے میں۔
  11. الی المجمع العلمی العربی بدمشق، یہ کتاب ان دنوں "مجمع علمی دمشق" کی طرف سے تشیع پر کی گئی بہتان تراشیوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔
  12. ثبتُ الاَثبات فی سلسلۃ الرواۃ، یہ ایک رسالہ ہے جس میں مختلف اسلامی مذاہب میں مؤلف کے اساتذہ و مشائخ کا تذکرہ ہے۔
  13. مؤلفوا الشیعۃ فی صدر الاسلام، یہ کتاب عصر رسالت(ص) سے لے کر عصر امام ہادی(ع) تک کے شیعہ مؤلفین و مصنفین کے بارے میں ہے۔
  14. زینب الکبری
  15. بُغیۃ الراغبین فی احوال آل شرف الدین، یہ ادبی، تاریخی اور رجالی کتاب ہے جو خاندان شرف الدین اور خاندان صدر کے علماء کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔[28]۔[29]

حوالہ جات

  1. شیخ آقا بزرگ تهرانی، نقباءالبشر، ج 3، ص 1080۔
  2. شیخ احمد قبیسی، حیاة الامام شرف الدین فی سطور، ص 31۔۔
  3. شیخ عبدالحمید الحر، الامام السید عبدالحسین شرف الدین قائد فکر وعلم و نضال، ص 13۔
  4. القبیسی، حیاة الامام شرف الدین فی سطور، ص32۔
  5. شیخ عبدالحمید الحر، الامام السید عبدالحسین شرف الدین، ص 89۔
  6. حیاة الامام شرف الدین فی سطور، ص 33۔
  7. آقا بزرگ تهرانی، نقباءالبشر، ج3، ص1081.
  8. القبیسی، حیاة الامام شرف‌الدین، ص80.
  9. الامام‌السید عبدالحسین شرف‌الدین، قائد فکر و علم و نضال، ص 88.
  10. القبیسی، وہی ماخذ، ص 85.
  11. شرف الدین، النص والاجتهاد، ص14 و 15۔
  12. محمدرضا حکیمی، شرف الدین، ص226ـ228۔
  13. شرف الدین، المراجعات، مقدمه شیخ مرتضی آل یاسین، ص19۔
  14. محمدرضا حکیمی، شرف الدین، ص225۔
  15. القبیسی، حیاة الامام شرف الدین، ص91۔
  16. یعنی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر ذاتی رائے قائم کرنا۔
  17. شرف‌الدین، النص و الاجتهاد، ص 132 ـ 137۔
  18. شرف الدین، النص والاجتهاد، ص14۔
  19. شرف الدین، وہی ماخذ، ص175۔
  20. آقا بزرگ تهرانی، نقباء البشر، ص1082۔
  21. محمدرضا حکیمی، شرف‌الدین، ص 123.
  22. عبدالله حسن، مناظرات فی العقائد و الاحکام ج 2 ص160۔
  23. سماوی تیجانی، ثم اهتدیت ص68۔
  24. منصوری، حکایات و مناظرات، ص375
  25. آقا بزرگ تهرانی، نقباءالبشر، ج 3، ص 1085 و 1086۔
  26. شرف الدین، النص و الاجتهاد، ص 39۔
  27. شرف الدین، محمدرضا حکیمی، ص53۔
  28. محمد رضا حکیمی، شرف‌الدین، ص 103 ـ 139۔
  29. شرف الدین، النص و الاجتهاد، مقدمه۔


مآخذ

  • عبدالله حسن، مناظرات فی العقائد و الاحکام والامامه، دلیل ما۔
  • محمد تیجانی، ثم اهتدیت، انتشارات انصاریان، قم۔
  • محمد رضا حکیمی، شرف الدین، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، تهران، 1361هجری شمسی۔
  • آقا بزرگ طهرانی، نقباءالبشر فی القرن الرابع عشر، مرکز اسناد مجلس شورای اسلامی۔
  • سید عبدالحسین شرف الدین، النص و الاجتهاد، مقدمه سید محمدصادق صدر، دفتر انتشارات اسلامی۔
  • وہی مؤلف، المراجعات، مقدمه شیخ مرتضی آل یاسین۔
  • قبیسی، حسن، حیاة الامام شرف الدین فی سطور، بیروت، دارالتوجیه الاسلامی. تاریخ نشر: 1400هجری قمری۔
  • منصوری، محمدرضا، حکایات و مناظرات، كتابخانه مجتمع آموزش عالي امام خميني(ره)، 1364هجری شمسی۔