سید روح‌الله موسوی خمینی

ویکی شیعہ سے
(سید روح اللہ خمینی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام خمینی
امام خمینی.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام سید روح اللہ موسوی خمینی
نسب سید موسوی
تاریخ ولادت یکم مہر 1281 ھ ش، 20 جمادی الثانی 1320 ھ‍ ق، 24 ستمبر 1902 ع‍
آبائی شہر خمین
تاریخ وفات 14 خرداد 1368ھ‍ ش، 29 شوال 1409 ھ‌ ق، 4 جون 1989ء
مدفن تہران
جانشین آیت اللہ خامنہ ای
علمی معلومات
اساتذہ حائری یزدی، محمد رضا مسجد شاہی اصفہانی، میرزا محمد علی شاہ آبادی، سید ابوالحسن رفیعی قزوینی، میرزا جواد ملکی تبریزی، سید علی یثربی کاشانی، سید محمد تقی خوانساری، میرزا علی اکبر حکمی یزدی، میرزا محمد علی ادیب تہرانی۔
شاگرد شہید مطہری، سید محمد حسینی بہشتی، محمد فاضل لنکرانی، محمد ہادی معرفت، جعفر سبحانی تبریزی، مصطفی خمینی، حسین علی منتظری، سید علی خامنہ ای، سید محمود ہاشمی شاہرودی، سید عباس خاتم یزدی، حسین راستی کاشانی، محمد علی گرامی۔
تالیفات تحریر الوسیلہ، چہل حدیث، مصباح الہدایہ الی الخلافہ والولایہ، کتاب البیع، ولایت فقیہ، صحیفہ نور، جنود عقل و جہل، آداب الصلاۃ، سر الصلاۃ، تفسیر سورہ حمد، وصیت نامہ و غیرہ۔
سیاسی-سماجی فعالیت
سیاسی انقلاب اسلامی ایران کے بانی
سماجی مرجع تقلید شیعیان حہان
دستخط امضای امام خمینی.jpg
ویب سائٹ www.imam-khomeini.ir

سید روح‌ اللہ موسوی خمینی (24 ستمبر، 1902ء- 3 جون، 1989ء) جو امام خمینی کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں، ان کا شمار چودہویں صدی ہجری کے عظیم شیعہ مرجع تقلید میں ہوتا ہے۔ آپ ایران کے اسلامی انقلاب کے رہبر و قائد بھی تھے جو سنہ 1979 میں ایران میں وقوع پذیر ہوا۔ آپ نے ایران میں شاہی نظام کو ختم کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ڈالی۔

آپ کو دو مرتبہ پہلوی شاہی حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا اور دوسری مرتبہ، ہمیشہ کے لئے ایران سے جلا وطن کر دیا گیا۔ آپ کچھ عرصہ ترکیہ میں رہے اور پھر نجف (عراق) چلے گئے۔ آپ نجف میں تیرہ سال کے عرصے میں دینی و حوزوی دروس کی تدریس و تالیف کے ساتھ ساتھ انقلابی گروہوں کی قیادت بھی کرتے رہے۔ آپ جب سنہ 1979 میں عراق کو چھوڑنے پر مجبور کیے گئے تو فرانس کے شہر پیرس تشریف لے گئے۔

امام خمینی کی تحریک اور ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے پوری دنیا کو متأثر کیا اور دینی و اسلامی مبانی کے ساتھ سیاسی تحریکوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔

آپ کا سب سے اہم سیاسی نظریہ، "ولایت مطلقہ فقیہ" کا نظریہ ہے جو تشیع کے اعتقادات پر مبنی نظریہ ہے۔ آپ نے کوشش کی کہ اسلامی جمہوریہ کی حکومت اور اس کا آئین اسی نظریے کے مطابق تشکیل پائے۔

آپ علم فقہ میں اس وقت کے حوزہ علمیہ میں رایج اجتہاد کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔ آپ کی نظر میں تمام فقہ کا عملی فلسفہ حکومت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ فقہ پر اس حکومتی نگاہ کے باعث آپ ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ روایتی اور جواہری فقہ کو حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اجتہاد میں ترقی و توسیع اور جدت بھی آنی چاہئے۔ اجتہاد میں زمان اور مکان کی تاثیر کا نظریہ اور آپ کے بعض دیگر مؤثر فتاوا اسی نقطہ نظر کا نتیجہ تھا۔

تمام مسلمان اور خاص طور پر شیعہ، آپ کو والہانہ طور پر چاہتے تھے۔ آپ کے جنازے کی تشییع میں ایک کروڑ افراد نے شرکت کی جو اب تک پوری دنیا میں پر جمعیت ترین تشییع جنازہ تھا۔

آپ فقہ اور اصول جن کا شمار حوزہ علمیہ کی رایج علوم میں ہوتا ہے، کے علاوہ اسلامی فلسفہ اور عرفان نظری میں بھی صاحب نظر تھے اور تالیفات بھی رکھتے تھے۔

امام خمینی، کا شمار علمائے اخلاق میں بھی ہوتا تھا۔ اپنے تدریسی دور میں قم کے مدرسہ فیضیہ میں درس اخلاق دیا کرتے تھے۔ آپ نے پوری عمر بہت سادگی اور زاہدانہ زندگی گزاری۔ مرجعیت کے دور میں جب آپ نجف میں سکونت پذیر تھے اور اسی طرح اپنی عمر کے آخری دس سال جب آپ اسلامی جمہوریہ ایران کے قائد اور لیڈر تھے تب بھی آپ نے تہران کے ایک محلے جماران میں ایک بہت ہی معمولی اور محقر گھر میں زندگی بسر کی۔

زندگی نامہ

20 جمادی الثانی سنہ 1320ھ ق، 1 مہر سنہ 1281 ھ ش، 24 ستمبر سنہ1902 ع، کو ایران کے مرکزی شہر خمین میں اس دنیا میں آنکھ کھولی. آپ کے والد گرامی سید مصطفی موسوی جو کہ آیت اللہ میرزا شیرازی کے معاصر تھے اور آپ نے نجف میں علم حاصل کیا. اور آپ خمین میں دینی امور کے مرجع تھے، اور سید روح اللہ کی ولادت کے پانچ ماہ بعد محلے کے حاکموں سے جنگ کے دوران شہادت کے مقام پر فائز ہوئے. اور 15 سال تک اپنی مادر گرامی حاجرہ اور اپنی پھوپھی صاحبہ کی سرپرستی میں رہے.[1]

زوجہ اور اولاد

سنہ 1308ش، میں محترمہ خدیجہ ثقفی سے شادی کی.

اور آپکے فرزند: دو بیٹے مصطفی اور احمد اور تین بیٹیاں زہراء، فریدہ اور صدیقہ.

وفات اور تشییع امام خمینی

آپ کی تدفین کا منظر

13 خرداد سنہ 1368ھ ش کی شام کو کینسر کی وجہ سے شہید رجائی ہارٹ ہاسپیٹل، تہران میں اس دنیا سے چل بسے. 15 خرداد کو تہران کے ایک بڑے مقام پر آپ کی تشیع جنازہ ہوئی. آیت اللہ سید محمد رضا گلپایگانی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور 16 خرداد کو تقریباً 10 ملین عزاداروں کی عزاداری اور تشییع سے آپ کو بہشت زہراء میں دفنایا گیا. اب تک تاریخ میں کسی اور شخص کے جنازے میں اتنی تعداد میں لوگوں کی تعداد کی شرکت نوٹ نہیں کی گئی ہے جتنی آپ کے جنازے میں تھی. آپ کی رحلت کی وجہ سے ایران میں حکومت کی طرف سے چھٹی کا اعلان کیا گیا اور اسی مناسبت سے مختلف مجالس کا انعقاد کیا گیا. اور آپ کی قبر مطہر پر ملک کے بزرگان اور لوگوں کے ہمراہ پروگرام منعقد کیا گیا. اور ہمیشہ جمہوری اسلامی کے رہبر ہی تقریر کرتے.

علمی زندگی

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم جیسے معارف، مقدماتی علوم اور حوزہ علمیہ کی سطح، جیسے عربی ادبیات، منطق، فقہ اور اصول کو خمین کے علماء اور استاد (جیسے آقا میرزا محمو افتخار العلماء، مرحوم میرزا رضا نجفی خمینی، آقا شیخ علی محمد بروجردی، مرحوم آقا شیخ محمد گلپایگانی اور مرحوم آقا عباس اراکی اور سب سے زیادہ اپنے بڑے بھائی آیت اللہ سید مرتضی پسندیدہ) سے حاصل کی.[2]

اراک اور قم میں علم حاصل کرنا

سنہ 1298ھ ش میں اراک کے حوزہ علمیہ کی طرف روانہ ہوئے. اور حاج شیخ عبد الکریم حائری یزدی (سنہ 1301ھ ش/ رجب سنہ1340ھ ق) کی ہجرت کے بعد آپ بھی اپنے استاد کی خاطر آپ کے کچھ شاگرد کے ہمراہ قم آ گئے.[3] حوزہ علمیہ قم میں، مختلف مباحث کے متعلق کتابوں (علم معانی اور بیان) کے مطالعہ کے علاوہ، دوسرے علوم جیسے خارج فقہ اور اصول کو بھی مکمل کر لیا. اور اسی دوران دوسرے علوم جیسے ریاضیات، ہئیت اور فلسفہ کی شروعات بھی کر لیں اور اور عرفان نظری کی سخت ترین سطح کو چھ ماہ کی مدت میں مرحوم آیت اللہ آقا میرزا محمد علی شاہ آبادی سے حاصل کیا. امام خمینی، حاج میرزا جواد ملکی تبریزی سے کافی مانوس تھے اور آپکو اچھائی سے یاد کرتے تھے. علم اور فقہ کے موضوع پر حوزہ قم میں آپ کے اصلی استاد حاج عبد الکریم حائری یزدی تھے.[4] حاج شیخ عبد الکریم حائری یزدی کی رحلت کے بعد امام خمینی اور کچھ اور مجتہدین کی کوشش سے آیت اللہ بروجردی نے قم کے حوزہ علمیہ میں زعیم کے عنوان سے قدم رکھا. اس زمانے میں، امام خمینی فقہ، اصول، فلسفہ، عرفان اور اخلاق میں ایک استاد اور مجتہد کے عنوان سے پہنچانے جاتے تھے.[5]

اساتید

  • شیخ عبدالکریم حائری یزدی مؤسس حوزہ علمیہ قم
  • محمد رضا مسجد شاہی اصفہانی صاحب وقایة الاذہان
  • میرزا محمد علی شاہ آبادی
  • سید ابوالحسن رفیعی قزوینی
  • میرزا جواد ملکی تبریزی
  • سید علی یثربی کاشانی
  • سید محمد تقی خوانساری
  • میرزا علی اکبر حکمی یزدی
  • میرزا محمد علی ادیب تہرانی

تدریس

آیت اللہ خمینی نے کئی سال تک حوزہ علمیہ قم میں فقہ، اصول، فلسفہ، عرفان، اور اخلاق اسلامی کی مدرسہ فیضیہ، مسجد اعظم، مسجد محمدیہ، مسجد حاج ملا صادق، مسجد سلماسی و.... میں تدریس کی، اور حوزہ علمیہ نجف میں بھی تقریباً تیرہ سال کے قریب مسجد شیخ اعظم انصاری میں معارف اہل بیت اور فقہ کی اعلیٰ ترین سطح کی تدریس کی اور پہلی بار نجف میں ولایت فقیہ کی حیثیت سے تدریس کا آغاز کیا.

آپ کے شاگردوں کے بقول امام خمینی کے دروس کا شمار حوزہ کے بہترین درسوں میں ہوتا تھا اور کسی زمانے میں قم میں آپ کے شاگردوں کی تعداد 1200 نفر تک بتائی جاتی ہے جن میں بہت سے افراد کا شمار اس زمانے کے مجتہدین میں سے ہوتا ہے.[6]

آپ کے مشہور شاگرد

تالیفات

  • کشف اسرار
  • تحریر الوسیلہ
  • چہل حدیث
  • مصباح الہدایۃ الی الخلافۃ و الولایہ
  • کتاب البیع (۵ جلد)
  • کتاب الطہارہ (۴ جلد)
  • ولایت فقیہ
  • مناہج الوصول الی علم الاصول (۲ جلد)
  • انوار الہدایۃ فی التعلیقۃ علی الکفایۃ (۲ جلد)
  • صحیفہ امام (صحیفۃ نور) ۲۲ جلد
  • شرح حدیث جنود عقل و جہل
  • آداب الصلاۃ
  • سر الصلاۃ
  • تفسیر سورہ حمد
  • جہاد اکبر
  • شرح دعای سحر
  • سیاسی الہی وصیت نامہ
  • طلب و ارادہ
  • رسائل (علم اصول میں کئی مقالے جیسے: لاضرر و لا ضرار، استصحاب، تعادل و تراجیح، اجتہاد و تقلید، اور تقیہ)
  • تعلیقات علی شرح فصوص الحکم ومصباح الانس
  • رسالہ توضیح المسائل
  • مناسک حج
  • استفتائات (۳ جلد)

پہلوی حکومت کے خلاف اعتراضات کی قیادت

ایران پر حاکم نظام مشروطہ سلطنتی نظام تھا، البتہ دونوں پہلوی باپ بیٹے کی کارستانیوں کی وجہ سے مطلق العنان سلطنتی نظام میں بدل چکا تھا. کبھی کبھی حکومت کے پروگرام دین اسلام اور مذہب تشیع کے مطابق نہیں ہوا کرتے تھے. اور یہي مسئلہ متدین افراد اور خاص طور پر دینی علماء کے طرف سے اعتراضات کا موجب بنتا تھا.

پہلی حرکت

امام خمینی نے سلطنتی حکومت کے ساتھ کھلی اور رسمی مخالفت سنہ 1341 کو شروع کی. ایالتی اور ولایتی انجمن کو لاعمل لانے سے پہلے، 16مہر سنہ1341 کو امام خمینی نے تمام مراجع قم کے ہمراہ ایک جلسے کا انعقاد کیا. کہ اس کے باعث امام خمینی اور تمام علماء کی جانب سے اعلانیہ طور پر یہ قانون نافذ ہوا.[7] 11آذر سنہ1341 میں امام خمینی کی تصویب کی گئی صوبائی اور بلدیاتی انجمن کو لغو کیا گیا. آپ نے اس تصویب کو ختم کرنے کا پیغام دیا.

اعتراضات

  • 2 بہمن سنہ 1341 کو امام خمینی کی جانب سے شاہ کے غیر قانونی ریفرینڈم کو حرام قرار دیا گیا.
  • 2 فرور دین سنہ 1342، شاہ کی حکومت کے ہاتھوں مدرسہ فیضیہ قم میں ایک خونی حادثہ پیش آیا.[8]
  • 15 خرداد سنہ 1342، امام خمینی کو قید کیا گیا اور لوگوں نے آپکو قید کرنے پر اعتراض کرنے کے لئے قیام کیا.
  • 4 تیر سنہ 1342، امام کو پادگان قصر سے نکال کر عشرت آباد منتقل کیا گیا.
  • 21 فروردین سنہ1343، آپ کے قید سے آزادی کے بعد قم کی مسجد اعظم میں پہلی تاریخی تقریر.
  • 4 آبان سنہ1343 میں کیپٹلیزم کے خلاف سخت اعتراضی خطاب
  • 13آبان سنہ 1343، کو امام کو قید کرکے ترکی بھیجا گیا.
  • 21 آبان سنہ 1343، ترکی کے شہر آنکارا سے ترکی کے دیہات میں منتقل کیا گیا.
  • نجف میں جلاوطنی۔
  • 13 مہر سنہ1344، کو امام خمینی کو ترکی سے بغداد کی جانب منتقل کیا گیا. 16 مہر سنہ1344، کو سامرا سے کربلا کی جانب حرکت کی اور 23 مہر سنہ1344، کو نجف میں داخل ہوئے وہاں پر علماء اور مراجع کی جانب سے ملاقات کے بعد 16 مہر سنہ1344، کو اپنے حوزے کا درس شروع کیا.
  • 12 اردیبہشت سنہ1356، شہدای قم کے چہلم کی مناسبت سے آپکا پیغام.
  • 2 مہر سنہ1357، عراق کی فوج نے امام کے گھر کو اپنی نگرانی میں لے لیا.
  • 10 مہر سنہ 1357، عراق سے کویت کی جانب حرکت.
  • 13 مہر1357، عراق سے فراںس کی جانب حرکت.
  • 12 بہمن سنہ1357، کو 15 سال کی قید کے بعد ایران میں واپسی.

اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت

سنہ 1357ھ ش، ایران کے لوگوں کا انقلاب کامیاب ہوا. امام خمینی اسی سال کی 12 تاریخ کو ایران میں واپس آئے اور 22 بہمن کو سلطنتی حکومت کو شکست ہوئی اور کچھ مہینوں کے بعد 1358 ھ ش کے پہلے مہینے میں جمہوری اسلامی کا نظام نافذ ہوا اور کچھ عرصے قانون اساسی کو جاری کرنے اور اپنا رہبر انتخاب کرنے کے لئے لوگوں نے ووٹ ڈالے. اور اس نظام کو اجراء کرنے کے لئے امام خمینی جمہوری اسلامی کے رہبر کے طور پر انتخاب کئے گئے. آپ خرداد سنہ 1368، یعنی اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس نظام کی رہبری آپ کے کندھوں پر رہی. نظام اسلامی جمہوریہ ایران کی تثبیت، قانون اساسی کی شروعات، داخلی مشکلات سے مقابلہ، ایران اور عراق کی آٹھ سال جنگ کی فرماندہی، عراق کی جانب سے صلح کو قبول کرنا، قانون اساسی کی اصلاح.... امام کی دس سال حکومت کے اہم ترین کاموں میں سے تھے.

یوم قدس

انقلاب کی کامیابی کے کچھ مہینوں بعد، مراد سنہ 1358ھ ش، ماہ رمضان سنہ 1399ھ ق، کو امام خمینی نے ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو روز قدس کا عنوان دیا اور اعلان کیا کہ دنیا کے تمام مسلمان لوگوں کے قانونی حقوق کی خاطر اجلاس کریں. ایران کی سالانہ ڈائری میں اس دن کا نام محفوظ ہے. اس دن کے بعد ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو، ایران اور دوسرے مختلف ممالک میں یہ دن منایا جاتا ہے.

سویت یونین کے صدر گورباچف کے نام خط

سنہ 1989ء کی پہلی تاریخ، 11دی سنہ 1367ھ ش، امام خمینی نے سویت یونین کے صدر میخائیل گورباچف کو خط ارسال کیا. یہ خط آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی اور ڈاکٹر محمد جواد لاریجانی اور خانم مرضیہ حدیدچی کے ذریعہ سے گوریاچف تک پہنچایا گیا.

یہ خط ایسے شرائط میں سابقہ سویت یونین کے صدر کو لکھا گیا جب سیاسی تجزیہ نگار کیمونیزم دنیا میں تبدیلی اور تحول کا نظارہ کر رہے تھے. اسلامی انقلاب کے قائد نے سویت یونین کے نظام کے پاش پاش ہونے کی پیشین گوئی کرتے ہوئے یوں مرقوم فرمایا تھا: اب کے بعد کیمونیزم کو دنیا کے سیاسی میوزم میں تلاش کرنا پڑے گا.

اسی طرح اس خط میں مادی طرز فکر پر بھی تنقید کی گئی تھے اور کیمونیسٹ حاکموں کو دین کی طرف دعوت دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ دینی حقائق سے آگاہی کے لئے اپنے دانشوروں کو قم بھیجا جائے.

مشرکین سے بیزاری

حج کے سفر کے دوران ایرانی حاجیوں کی جانب سے مشرکین سے برائت کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کیا گیا. جس میں آمریکا کے خلاف تقریر اور جلوس نکالنا، صہیونست اور دوسری حکومت جو کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مخالفت کرتی ہیں ان کے خلاف اقدام کرنا، کہ ہر سال 7 ذی الحجہ کو مکہ میں یہ پروگرام کیا جاتا.

سلمان رشدی کے قتل کا فتوی

سنہ 1988ع/1367ش، آیات شیطانی کے نام سے کتاب نشر ہوئی اکثر مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق اس کتاب میں پیغمبر اسلام (ص) کی توہین کی گئی. بہمن1367، کو امام خمینی نے اس کتاب کے مولف کو پیامبر اسلام(ص) کی توہین کرنے کی وجہ سے سزائے موت کا حکم دیا.[9] کچھ عرصے کے بعد کسی نے کہا کہ اگر اس کتاب کا مولف توبہ کرے تو اس کے قتل کا حکم ختم کر دیا جائے گا لیکن آیت اللہ خمینی نے اس جواب میں کہا کہ سلمان رشدی (کتاب کا مولف) حتی اگر توبہ بھی کر لے اور اپنے زمانے کے پرہیزگاروں میں سے بھی ہو جائے تب بھی اس کا حکم تبدیل نہ ہو گا.[10]

مجمع تشخیص اور مصلحت نظام کی ابتداء

اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کے مطابق، مجلس شورای کوئی ایسا حکم نہیں کر سکتی جو شرع اور قانون کے مخالف ہو. اور اس کی تشخیص شورای نگہبان کی ذمہ داری ہے. مجلس اور شورای نگہبان کی نظرات مختلف ہونے کی وجہ سے امام خمینی کو مجبوراً اس کام کے لئے کوئی چارہ کرنا پڑا. انہوں نے اعلان کیا کہ اگر تین برابر نمایندے ایک قانون کو تصویب کر لیں ان کی نظر شورای نگہبان کی نظر پر مقدم ہے. کچھ مدت کے بعد بہمن ماہ سنہ1366ش میں ایک گروہ، درست نظام کی تشخیص کی لئے منتخب کیا گیا.[11] یہ گروہ شورای نگہبان اور مجلس شورای اسلامی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو دور کرتا ہے اور کبھی ایسے قانون جو کہ ممکن ہیں شرع اور اصلی قانون کے خلاف ہوں ان کی تصویب کی جائے اور ان کو قانون میں تبدیل کیا جائے.[12]

نظریات اور افکار

ولایت فقیہ

امام خمینی نے نظریہ ولایت فقیہ کو پہلی بار نجف میں تدریس (وہ درس جو بعد میں حکومت اسلامی کے نام سے مشہور ہوئے) کے دوران بیان کیا.[13] اس نظریے کا اصلی مقصد یہ ہے کہ شیعی حکومت ایک مجتہد جامع الشرایط کے زیر نظر ہونی چاہیے. ایران کا انقلاب کامیاب ہونے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران میں اس نظریے پر عمل کیا گیا اور جمہوری اسلامی کی بنیاد اسی نظریہ پر رکھی گئی.

امام خمینی کے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ولایت فقیہ کے نظریے کو بیان فرمایا اور فقیہ کے اختیارات کو پیغمبر اسلام(ص) اور ائمہ (ع) کے اختیارات کے معادل قرار دیا. اس نظریے کے مطابق فقیہ مصلحت کی بناء پر حکم شرعی کو وقتی طور پر روک سکتا ہے.[14]

اجتہاد میں زمان و مکان کا کردار

امام خمینی نے اسفند ماہ سنہ1367ش، حوزہ علمیہ کے لئے ایک پیغام صادر کیا جو منشور روحانیت کے نام سے مشہور ہوا.[15] آپ نے اس پیغام میں حوزہ علمیہ کو ایک جامعہ کے کنٹرول کے لئے ناکافی سمجھا اور تاکید کی کہ زمان اور مکان اجتہاد کے اصلی عنصر ہیں. زمان اور مکان ایک مجتہد کی نظر کو تبدیل کر سکتے ہیں اور اس کے باعث ایک حکم تبدیل ہو سکتا ہے.[16] آپ نے اس خط میں سب سے زیادہ تاکید اجتہاد مصطلح کا حوزہ علمیہ کے لئے ناکافی ہونے پر کی.

مصالح کو فقہ میں دخالت دینا

شطرنج کا جائز قرار دینا

شطرنج اہل تشیع کے اکثر علماء کی نظر میں حرام ہے. امام خمینی نے سنہ 1367ش نے ایک سوال کے جواب میں کہ اگر اس میں شرط نہ رکھی گئی ہو تو شطرنج جائز ہے.[17] یہ فتوا نیا ہونے کی وجہ سے اس پر کافی بحث کی گئی. امام خمینی کے ایک شاگرد نے اعتراض کے طور پر امام کو خط لکھا. امام خمینی نے اس کے جواب میں، ایک تو اپنے فتویٰ پر تاکید کی اور دوسرا یہ کہ دوسرے فقہاء کے فتویٰ پر اعتراض کیا.[18]

دیوان شعر

پہلی بار امام خمینی کی رحلت کے ایک ہفتے بعد آپ کے کچھ اشعار نشرہوئے. یہ شعر جن کا مضمون عرفان تھا بہت تیزی سے لوگوں کے درمیان مشہور ہو گئے.

من بہ خال لبت‌ای دوست گرفتار شدم چشم بیمار تو را دِیدم و بیمار شدم
فارغ از خود شدم و کوس انا الحق بزدم ہمچو منصور خریدار سر دار شدم
غم دلدار فکندہ است بہ جانم، شرری کہ بہ جان آمدم و شہرہ بازار شدم
در میخانہ گشایید بہ رویم شب و روز کہ من از مسجد و از مدرسہ بیزار شدم
جامہ زہد و ریا کندم و بر تن کردم خرقہ پیر خراباتی و ہشیار شدم
واعظ شہر کہ از پند خود آزارم داد از دم رند می‌آلودہ مددکار شدم
بگذارید کہ از بتکدہ یادی بکنم من کہ با دست بت میکدہ بیدار شدم


کچھ عرصے کے بعد امام خمینی کے اشعار پر ایک کتاب چاپ کی گئی جس کا نام دیوان امام رکھا گیا. دیوان شعر امام ایسی کتاب ہے کہ اس کے 6 باب غزلیں، رباعیاں، قصیدے، مسمط، بند، اور اشعار جو کہ مختلف جگہ سے جمع آوری کی گئی اور پہلی بار موسسہ تنظیم کی جانب سے نشر امام خمینی کے نام سے 438 صفحوں پر مشتمل ایک دیوان لکھا گیا.

اس دیوان میں غزل اور رباعیوں کے علاوہ کچھ اشعار امام خمینی کی بہو (سید احمد خمینی کی بیوی) کے لئے پڑھے گئے تھے ان کا ذکر کیا گیا ہے. عصر حاضر کے کچھ شاعر جیسے حمید سبزواری، جواد محقق، عبد الجبار کاکایی، رحیم زریان، محمد علی بہمنی، کامران شرفشاہی، سعید بیابانکی، صابر امامی، عباس چشامی اور امیر مر زبان نے اس دیوان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا.

ترجمہ کے علاوہ، ایک کتاب فرھنگ موضوعی اور شرح اور تفسیر دیوان امام خمینی کے عنوان سے نشر ہوئی ہے. اس کتاب کا مولف قادر فاضلی ہے.

حوالہ جات

  1. انصاری، ص۱۴-۱۵
  2. انصاری، حدیث بیداری، ص۱۶
  3. انصاری، حدیث بیداری، ص۱۶
  4. انصاری، حدیث بیداری، ص۱۷-۱۸
  5. انصاری، حدیث بیداری، ص۱۸
  6. انصاری، حدیث بیداری، ص۱۹-۲۰
  7. رجبی، محمد حسن، زندگی نامہ سیاسی امام خمینی ره، ص۲۲۹
  8. رجبی، محمد حسن، زندگی نامہ سیاسی امام خمینی ره، ص ۲۵۰
  9. صحیفہ امام،‌ ج۲۱، ص۲۶۳
  10. صحیفہ امام،‌ ج۲۱، ص۲۶۸
  11. صحیفہ امام، ج ۱۷، ص ۳۲۱
  12. صحیفہ امام، ج۲۰، ص۴۶۴
  13. رک: امام خمینی، ولایت فقیہ
  14. صحیفہ امام، ج۲۰، ص۴۵۲
  15. صحیفہ امام،‌ ج۲۱، ص۲۹۱
  16. صحیفہ امام، ج۲۱،‌ ص۲۸۹
  17. صحیفہ امام، ج۲۱، ص۱۲۹
  18. صحیفہ امام، ج۲۱، ص۱۵۱


مآخذ

  • انصاری، حمید، حدیث بیداری، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تہران، ۱۳۷۸ش.
  • خمینی، سید روح الله (امام)، صحیفہ امام، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی.
  • خمینی، سید روح الله (امام)، ولایت فقیہ.
  • رجبی، محمدحسن، زندگینامہ سیاسی امام خمینی: از آغاز تا تبعید، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۷۸ش.
  • حافظیان، ابوالفضل، اجازات حسبیہ امام خمینی، فصلنامہ حکومت اسلامی، ۱۳۷۸، شمارہ۱۲.
  • فصلنامہ حضور، شمارہ ۳۴، زمستان ۱۳۷۹ش.